دینی جماعتیں اور انتخابی سیاست

مولانا عبد الغفار حسن

بزرگ عالم دین مولانا عبد الغفار حسن کی یہ تحریر ’الشریعہ‘ کے ستمبر ۱۹۹۳ء کے شمارے میں اس وقت کے حالات کے تناظر میں شائع ہوئی تھی لیکن اس میں مولانا نے جن اصولی نکات کی طرف توجہ دلائی ہے‘ ان کی اہمیت موجودہ حالات میں بھی برقرار ہے چنانچہ یہ تحریر قارئین کی خدمت میں دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔ (مدیر)


اس وقت ملک شدید سیاسی واخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ان حالات میں یہ ایک اہم سوال ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ دینی جماعتوں کا مستقبل کیا ہے؟ وہ کس طرح قرآن وسنت کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کر سکتی ہیں؟ کیا ان کا انتخابی سیاست میں براہ راست حصہ لینا ملک وملت کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس طرح نفاذ شریعت کی تحریک کام یابی سے ہم کنار ہو سکتی ہے؟

یہ بات عیاں ہے کہ دینی جماعتوں کے رہنما پچھلے انتخابی تجربات سے کوئی خا ص سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور ایک دفعہ پھر انتخابی دنگل میں کودنے کے لیے بے تاب ہیں۔ دینی جماعتوں میں سب سے زیادہ فعال اور منظم جماعت اسلامی ہے لیکن انتخابی سیاست کے کارزار میں دشت پیمائی کا حاصل اب تک یہ رہا ہے کہ ۱۹۵۱ء میں جماعت اسلامی نے پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا‘ جماعت صرف ایک سیٹ لے سکی اور وہ بھی ضلع قصور کی‘ جہاں مولانا محی الدین لکھوی اہل حدیث حلقہ اثر کی بنا پر کامیاب ہوئے تھے۔ بعد کے انتخابات میں جماعت نے چار، اور زیادہ سے زیادہ آٹھ سیٹوں پر اپنے آدمی کام یاب کرائے۔ دوسری دینی جماعتوں میں مفتی محمود صاحب مرحوم کی جمعیت علماے اسلام دو صوبائی وزارتیں تک بنانے میں کام یاب ہو گئی‘ لیکن وہ بھی مغربی سیاست کی شاطرانہ چالوں کے سامنے جلد ہی ناکام ہو گئے۔

کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہمارے دینی رہنما اور علما وصلحا اس پامال شدہ جدوجہد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں اور مستقبل کے لیے ایسا لائحہ عمل وضع کریں جو ملک وملت کے لیے مفید ہو؟

ہمارے خیال میں دینی جماعتوں کو اپنی عملی ونظریاتی سیاست پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ چند ناصحانہ مشورے پیش خدمت ہیں :

۱۔ چالیس سال سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی انتخابی سیاست اسلام کو ایک تنفیذی قوت کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکیمانہ قول پیش نظر رہنا چاہیے: لا یلدغ المومن من جحر مرتین۔ ’’ایک مومن ایک ہی بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی جماعتوں کا اصل فریضہ داعیانہ ہے اور وہ اپنے فریضہ میں اسی وقت کام یاب ہو سکتی ہیں جبکہ ان کی دعوت یکساں طریق پر اپنے مخاطبین تک پہنچ سکے اور یہ تبھی ہے جبکہ داعیان حق اقتدار کے نہ حلیف ہوں اور نہ حریف۔ الدین النصیحۃ کے تحت وہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو اللہ کا پیغام پہنچا سکیں‘ لیکن اقتدار کی دوڑ میں خود شریک ہو کر وہ مخالف پارٹی کے لیے ایک مقابل کی حیثیت سے ابھرتے ہیں اور پھر ان کی حق بات مخالف کے لیے صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے۔ انتخابی سیاست کی تلخیاں ایک دوسرے کی بات سننے کے راستے بند کر دیتی ہیں۔

۲۔ عملی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ان کے لیے نشان راہ ہو کہ: 

وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی البر والاثم والعدوان

’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ وزیادتی کے کاموں پر تعاون نہ کرو۔‘‘

سیاسی جماعتوں کے وہ امیدوار جو دیانت‘ تقویٰ اور راست بازی میں مشہور ہوں‘ تعاون کے مستحق ہیں‘ برخلاف ان امیدواروں کے جنہوں نے منافقت کا نام ہی سیاست گردانا ہوا ہے۔

۳۔ مجدد الف ثانی ؒ کے طرز پرناصحانہ رویہ کو اپنانا چاہیے۔ مجدد الف ثانی‘ جہانگیر کے وزرا اور امرا کو برابر خطوط لکھتے رہے جن میں انہیں شریعت کی پاس داری اور منکرات سے اجتناب کی دعوت دی جاتی تھی۔ ان کی یہ روش بالآخر عالمگیرؒ جیسے انصاف پسند اور پابند شریعت حکمران کے دور حکومت کو برپا کرنے کا باعث ہوئی جو کہ مسلم ہندوستان کی تاریخ کا ایک زریں باب ہے۔

۴۔ دینی دعوت کا خاصہ ہے کہ وہ اہل تقویٰ اور اہل دانش کے طبقہ خواص سے شروع ہو کر عوام الناس تک پھیلتی ہے اور امت کے ذہین طبقہ میں اس کی جڑیں مضبوط اور توانا ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس دعوت کو پختگی اور پائیداری نصیب ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہوتی ہے جس کی جڑیں گہری اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچ رہی ہوتی ہیں‘ برخلاف ان عوامی تحریکات کے جن میں چند خوش نما نعروں کی بنا پر عوام کو بھڑکایا جاتا ہے اور ان کی ایک بھیڑ اکٹھی کر لی جاتی ہے لیکن ٹھوس بنیادوں کے فقدان کی بنا پر یہ تحریکات جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ ماضی قریب میں ذو الفقار علی بھٹو کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعروں پر چلائی گئی عوامی تحریک اور پھر الطاف حسین کی مہاجروں کے حقوق کی تحریک اور ان کا انجام ہر کسی کے سامنے ہے۔ ایسی تحریکات میں منفی اور جذباتی پہلو ہمیشہ غالب رہتا ہے جو وقتی طور پر ہیجان تو پیدا کر سکتا ہے‘ لیکن دائمی اثرات کا حامل نہیں ہوتا۔

پاکستان بننے سے قبل مسلم لیگ اپنی مقبولیت کی معراج پر تھی۔ غالباً ۴۶ء یا ۴۷ء میں مولانا مودودی مرحوم سے مدراس کے ایک جلسہ عام میں مسلم لیگ کی اس مقبولیت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے جنگ میں سیلاب آجائے۔ ایسی صورت میں جنگل کے تمام جانور‘ چاہے وہ شکاری ہوں یا شکاریوں کے تر نوالے‘ سب کے سب ٹیلے کی طرف دوڑتے ہیں۔ سب سیلاب سے بچنا چاہتے ہیں اس لیے ایک دوسرے سے تعرض نہیں کرتے لیکن جیسے ہی وہ ٹیلے پر پہنچ جاتے ہیں‘ ہر شکاری اپنے شکار پر وار کرنے کے لیے بے قرار ہو جاتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اب بھی یہی صورت حال ہے۔ ہندو سامراج کے سیلاب کا اندیشہ ہے‘ اس سے بچنے کے لیے پاکستان کا ٹیلہ سامنے رکھا گیا ہے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد یہ ساری جمعیت منتشر ہو جائے گی اور خود غرض افراد کی اکثریت بندر بانٹ کرے گی۔

۵۔ اس سے قبل تذکرہ ہو چکا ہے کہ داعیانہ تحریکات پہلے خواص کو اپیل کرتی ہیں۔ اس ضمن میں قرآن کی یہ آیات پیش نظر رہیں:

نبی ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے: 

وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء)

’’اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ۔‘ ‘

ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کے قبیلے کے لوگ قریش کے گل سرسبد تھے اور مکہ میں رہنمائی کے مقام پرفائز تھے۔ ان لوگوں کا حلقہ بگوش اسلام ہونا تمام اہل عرب کے لیے باعث کشش ہوتا۔

اور ایسے ہی یہ آیت ہے: 

ولتنذر ام القری ومن حولہا (الانعام)

’’تاکہ آپ ام القریٰ (یعنی مکہ مکرمہ) اور جو لوگ 


اس کے چاروں طرف ہیں‘ ان کو ڈرائیں۔‘ ‘

یہاں نہ صرف قریش بلکہ دوسرے قبائل کی طرف بھی اشارہ ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں انتہائی بااثر تھے۔

نبی ﷺ ایک موقع پر اللہ کے حضور یہ دعا کرتے ہیں: اللہم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب و بعمرو بن ہشام۔ ’’اے اللہ اس اسلام کو غالب کر عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام (ابو جہل) کے ذریعے سے۔‘‘ نبی ﷺ کی خواہش اس بات کی آئینہ دار تھی کہ قریش کے بہترین دماغ اس دعوت کو قبول کر لیں تو بہت بڑی قوت فراہم ہو جائے گی۔

آنحضور ﷺ کی یہ حدیث ہے: خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام اذا فقہوا (بخاری) ’’تم میں سے جو دور جاہلیت میں بہتر تھے‘ وہ حالت اسلام میں بھی تم میں سب سے بہتر ہیں‘ بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں۔‘‘ ظاہر ہے کہ جاہلیت میں بہترین لوگ وہی سمجھے جاتے تھے جو کردار‘ شجاعت‘ سخاوت اور دوسرے اعلیٰ اوصاف کے حامل تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کے حسن میں اور اضافہ ہو گیا اس لیے وہ حالت اسلام میں بھی معزز قرار پائے۔

۶۔ اصلاح احوال کے لیے اگر متذکرہ بالا صورت اختیار نہ کی جائے بلکہ مصنوعی سہاروں کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی جائے تو نتیجہ صفر رہتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس امر پر خلیفہ عمر بن عبد العزیزؒ کے مختصر دور حکومت کو شاہد ٹھہرایا ہے۔ عمر بن عبد العزیزؒ ایک موروثی طریقہ خلافت میں اپنے مورث کی وصیت کی بنا پر حسن اتفاق سے مسند خلافت پر مامور کر دیے گئے تھے۔ جب انہوں نے حکومت کے ذریعہ اصلاح احوال کی کوشش کی اور مظلوموں کی داد رسی کا سلسلہ شروع کیا تو وقت کی بیورو کریسی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور انہیں دو سال کی قلیل مدت میں زہر کھلا کر حکومت سے ہٹا دیا گیا۔

ہندوستان کی تاریخ میں سید احمد شہیدؒ اور اسماعیل شہیدؒ کی تحریک کی ناکامی کے اسباب میں اس بات کا بڑا دخل تھا کہ ایک غیر صالح معاشرے نے ان کے انتہائی مفید اور کارآمد اقدامات کو بے اثر کرنے میں پورا کردار ادا کیا۔ پشاور کی فتح کے بعد شہیدین نے سرحد کے علاقے میں قاضی مقرر کیے جو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے مجاز تھے۔ جب ان قاضیوں نے خوانین کے خلاف فیصلے کیے تو راتوں رات کئی قاضیوں کو شہید کر دیا گیا۔ خود معاشرہ اس حد تک خوانین کے زیر اثر تھا کہ اس حادثہ فاجعہ پر عوام میں کوئی ہلچل نہ مچی اور نہ ہی کوئی احتجاج کی آواز بلند ہوئی۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مولانا مودودیؒ کامقالہ بعنوان ’’اسلامی حکومت کیسے قائم ہوتی ہے؟‘‘ اس مقالے میں مندرجہ بالا موضوع کی وضاحت اس عنوان کے تحت کی گئی ہے: ’’اسلامی انقلاب کی واحد سبیل‘‘ (کتاب کے موجودہ نسخوں میں ’واحد‘ کا لفظ اڑا دیا گیا ہے جو کہ مولانا مرحوم کی زندگی تک محو نہیں کیا گیا تھا) مولانا نے اپنی دو اورتصنیفات ’’اسلام کا نظریہ سیاسی‘‘ اور ’’تجدید واحیاے دین‘‘ میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے اور جویان حق کے لیے وہاں اچھا خاصا مواد مل سکتا ہے۔

مولانا کے ا س نظریے کی تائید میں نہ صرف پاکستان کے حالات بلکہ الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی الیکشن میں کام یابی اور پھر فوج کی طرف سے انہیں زمام حکومت سے دور رکھنا بلکہ عملی سیاست میں ان کے نفوذ کے تمام راستے بند کرنا پیش کیے جا سکتے ہیں۔ الجزائر کی سی ملتی جلتی صورت مصر اور دیگر عرب ممالک کی ہے جہاں فوج پر لادین عناصر کا غلبہ ہے اور وہ دینی جماعتوں کی الیکشن میں کام یابی کو بھی ناکامی میں بدل دینے پر قادر ہیں۔

۷۔ یہاں پر ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر دینی جماعتوں کا کام صرف دعوت وتبلیغ ہی ہے تو یہ کام تو تبلیغی جماعت بڑے احسن طریقے سے کر رہی ہے۔ جواباً عرض ہے کہ تبلیغی جماعت نے اپنے دائرۂ عمل کو چھ اصولوں تک محدود کیا ہوا ہے۔ دعوت دین کا ہمہ گیر کام ’’بلاغ مبین‘‘ چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

قل اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فان تولوا فانما علیہ ما حمل وعلیکم ماحملتم وان تطیعوہ تہتدوا وما علی الرسول الا البلاغ المبین (النور)

’ ’ان سے کہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ پھر اگر تم اطاعت سے رو گردانی کرو گے تو (خوب سمجھ لو کہ تبلیغ رسالت کی) جو ذمہ داری رسول پر ہے‘ اس کا جواب دہ وہ ہے اور (اطاعت کی) جو ذمہ داری تم پر ہے‘ اس کے جواب دہ تم ہو اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمے تو صرف (خدا کا حکم) صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔‘‘

ایک صحیح اسلامی دعوت کے لیے جہاں امر بالمعروف کا حکم ہے‘ وہاں نہی عن المنکر کا بار گراں بھی ہے۔ جہاں کلمہ اور نماز روزہ کی تلقین ہے‘ وہاں رزق حلال کمانے اور کاروبار کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کی مہم بھی شامل ہے۔ صحیح اسلامی دعوت گروہی اور مذہبی تعصبات سے مبرا ہوتی ہے۔ عقلی اور فکری محاذ پر اسلام کے خلاف جو بھی حملے کیے جائیں‘ وہ اس کا بھرپور جواب دیتی ہے۔ میدان سیاست میں وہ رہنمائی دینے کے قابل ہے‘ مگر سیاست پر منافقت کی چھاپ لگنے کی بنا پر وہ اس کا ایک حصہ نہیں بنتی ہے۔ صحافت اور ذرائع ابلاغ اس کے لیے شجر ممنوعہ نہیں۔ وہ نہ صرف مساجد بلکہ عوامی اجتماعات‘ مدارس‘ کالجوں‘یونیورسٹیوں اور تمام اعلیٰ Forums کے ذریعے دعوت حق کا پرچار کرتی ہے۔

۸۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نفاذ شریعت ایک اہم اور پاک مقصد ہے کہ جس کا ذریعہ بھی پاک ہونا چاہیے: ان اللہ طیب لا یقبل الا طیبا۔ ’’اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک چیزوں ہی کو پسند کرتے ہیں۔‘‘ سودی طرز معیشت کی اصلاح خود سودی کاروبار سے نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت جو کہ خود ایک غیر اسلامی تصور ہے‘ اسلام لانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ جمہوریت عوام کی اکثریت پر بنا رکھتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ محض کثرت کو کسی درجے میں مستند نہیں روا رکھتے۔ فرمایا: 

قل لا یستوی الخبیث والطیب ولو اعجبک کثرۃ الخبیث فاتقوا اللہ یا اولی الالباب لعلکم تفلحون (المائدہ)

’ ’کہہ دیجیے کہ خبیث وطیب برابر نہیں ہو سکتے‘ چاہے تمہیں ناپاک کی بہتات بھلی ہی کیوں نہ لگے۔ پس اے عقل والو‘ اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

اس آیت سے چند راہنما اصول متعین ہوتے ہیں:

(الف) محض عوام کے غلبے کے سہارے سیاسی انقلاب نہیں آ سکتا اور نہ فلاح کی صورت پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ عوام کی اکثریت غیر طیب ہے لہٰذا ان کا سہارا بھی کمزور ہے۔

(ب) اے عقل والو! اللہ کی نافرمانی سے ڈرو۔ اس حکم میں تمام غیر اسلامی طریقوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں حاکمیت جمہور کے نعرے پر استوار ہونے والی جمہوریت بھی شامل ہے۔

۹۔ نفاذ شریعت کے سلسلے میں سورہ شوریٰ کی آیت : ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو) سے اکثر استناد کیا گیا ہے۔ یہاں قرآن فہمی کی ایک بنیادی غلطی کی گئی ہے۔ ’’الدین‘‘ سے مراد عقائد دین کہ جن کا سرتاج عقیدہ توحید ہے‘ مراد ہیں اور تفرقہ بازی سے مشرکین کے وہ عقائد مراد ہیں جو مسلمانوں کو جادۂ توحید سے ہٹانے کے لیے ہر زمانے میں وضع کیے جاتے رہے ہیں۔ گو دین عقائد‘ عبادات اور معاملات سب پر حاوی ہے لیکن اس آیت میں ’’الدین‘‘ سے تمام انبیا کی وہ مشترکہ دعوت مقصود ہے جو سوائے عقیدہ توحید کے اور کچھ نہ تھی۔ آیت کا سیاق وسباق ملاحظہ ہو:

شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم وموسی وعیسی ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ کبر علی المشرکین ما تدعوہم الیہ 

’’(لوگو) اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کو (اے پیغمبر) ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کیا اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی دیا تھا (اس تاکید کے ساتھ) کہ اس دین کو قائم کرنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا ۔ یہی بات مشرکین پر شاق گزرتی ہے‘ جس کی طرف (اے پیغمبر) تم انہیں بلاتے ہو۔‘‘

’’نفاذ شریعت‘‘ کا نعرہ بلند کر کے دین کی ہمہ گیر دعوت کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا شرک جلی کی روک تھام حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر رکھی جا رہی ہے۔ بفحوائے آیت سورۃ النور : وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہمحکومت ایک وعدہ الٰہی ہے جو بطور انعام ملتی ہے۔ کار خاص وہی ’’البلاغ المبین‘‘ ہے کہ جس کا تذکرہ اس آیت سے قبل کیا گیا ہے یعنی فکری اور عقائد کے لحاظ سے جب تک ’’البلاغ المبین‘‘ نہ ہو جائے‘ وعدہ الٰہی متحقق نہ ہوگا۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ یہ وعدہ امت مسلمہ سے بحیثیت ’’الجماعۃ‘‘ کیا گیا ہے اور بقول امام ابن تیمیہؒ ’’الجماعت‘‘ سے ساری امت مسلمہ مراد ہے‘ اسی لیے اجماع امت کی خلاف ورزی جائز نہیں۔

تنظیمی اعتبار سے جماعت سازی ایک تدبیر کا حکم رکھتی ہے اور ایسی کسی جماعت کو یہ زعم نہ ہونا چاہیے کہ وہی ’’الجماعۃ‘‘ ہے۔ وہ اس لیے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ید اللہ علی الجماعۃ نہ کہ علی الجماعات (اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے‘ یہ نہیں فرمایا کہ مختلف جماعتوں پر ہے)

آخر میں اسلامی انقلاب کے حصول کے لیے پچھلے مباحث کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے:

۱۔ قرآن نے لفظ انقلاب کے بجائے اصلاح کا لفظ استعمال کیا ہے: ان ارید الا الاصلاح ما استطعت۔ ’’میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں۔‘‘ اس لیے دینی جماعتوں کا محور بھی یہی اصلاح ہو۔ انقلاب ایک اشتراکی اصطلاح ہے اور مراد ہے ایک نظام کو پلٹ کر اس کی جگہ دوسرا نظام کھڑاکرنا۔ اسلام نے اسی اصلاح کے تصور سے جاہلی معاشرے کی تطہیر کی‘ اچھی خصال کو باقی رہنے دیا اور بری خصال پر پابندیاں لگائیں۔

۲۔ دینی جماعتوں کے لیے فکری اور عقائدی محاذ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک قوم کے ذہین طبقہ کی ذہنی تبدیلی یا اصلاح نہ ہوگی‘ اسلامی نظام کا نفاذ ناقابل تصور رہے گا۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف خارجی محاذ پر تمام فتنوں کا مقابلہ کیا جائے بلکہ داخلی محاذ پر بھی نوجوانوں کی صحیح تعلیم وتربیت پر زور دیا جائے تاکہ وہ اصلاح کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔

۳۔ موجودہ حالات میں براہ راست الیکشن میں حصہ نہ لیا جائے بلکہ جو لوگ اس میدان کے شاہ سوار ہیں‘ انہیں اپنی دعوت کا نشانہ بنایا جائے اور جو کام آپ خود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ انہیں ان کی مقتدرانہ حیثیت کا احساس دلاتے ہوئے وہی کام کروانے پر آمادہ کیا جائے یعنی ایسے مصلحانہ اقدامات جو اسلام کی ترویج کا باعث ہوں۔

۴۔ عملی طور پر بھی دینی جماعتوں کا انتخابی سیاست میں ملوث ہونا مفید نہ ہوگا بلکہ مضر ہوگا۔ اسباب یہ ہیں:

(الف) اس وقت اکثر دینی جماعتیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاست میں حصہ لے رہی ہیں اور ہر جماعت کے کئی کئی دھڑے ہیں۔

(ب) سیاسی طور پر ان میں آپس میں رسہ کشی پائی جاتی ہے۔ کوئی صدر پاکستان کی حامی ہے اور کوئی معزول وزیر اعظم کی طرف دار ہے۔ کسی کے نزدیک دونوں سے بے زاری ضروری ہے اور کہیں خاندانی‘ لسانی یا علاقائی عصبیت کار فرما ہے۔

ظاہر ہے کہ اس طرح دینی جماعتوں کے ووٹ تقسیم ہو جائیں گے اور لا دین عناصر کو تقویت حاصل ہوگی اور اگر بالفرض تمام دینی جماعتیں متحد ہو جائیں تو دس پندرہ سیٹوں سے زیادہ کام یابی مشکل ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ موجودہ انتخابی نظام کے ماتحت زیادہ تر وہی لوگ کام یاب ہوتے ہیں جن کے پاس دھن‘ دھونس‘ دھاندلی کی تین دالیں ہوتی ہیں ورنہ دال نہیں گلتی بلکہ جوتیوں میں دال بٹتی رہتی ہے۔

جمہوریت سے متعلق علامہ اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے


اسلام اور سیاست