ستمبر ۲۰۰۲ء

دینی مدارس اور آج کے سوالات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یہ جلسہ ایک دینی درس گاہ کا سالانہ جلسہ ہے، دینی درس گاہ کی چار دیواری میں ہو رہا ہے اور اس کا موضوع بھی ’’عظمت مدارس دینیہ‘‘ تجویز کیا گیا ہے۔ اصل خطاب تو ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم کا ہوگا۔ ان سے قبل برادر محترم مولانا اشرف علی کے حکم پر آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں اور دینی مدارس کی عظمت اور ان کی ضرورت واہمیت کے حوالے سے کچھ گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں اور دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تبارک وتعالیٰ...

ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ دشمن

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

کہتے ہیں جب بہت بڑا خطرہ سامنے ہو تو دو شدید دشمن بھی، باہمی دشمنی بھلا کر اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً سیلاب کے بہت بڑے ریلے میں بہتا ہوا درخت، سانپ، نیولے اور بندر وغیرہ کے لیے یکساں حفاظت کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن مختلف جانور سیلاب تھمنے تک ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ برصغیر پاکستان وہند میں ایک نہیں کئی بڑے مشترکہ خطرات موجود ہیں مثلاً غربت، افلاس، پس ماندگی، مغربی ممالک کی اجارہ داری وغیرہ لیکن یہ دونوں ممالک مشترکہ مہیب خطرات کے باوجود ایک دوسرے پر غرا رہے ہیں۔ بھارت کا طرز عمل دیکھتے ہوئے...

موجودہ نظام تعلیم کا ایک جائزہ

― حافظ سید عزیز الرحمن

ہمارا موجودہ نظام تعلیم مختلف جہتیں رکھتا ہے لیکن اس کے دو پہلو نمایاں ہیں: ۱۔ دینی تعلیم ، ۲۔ عصری تعلیم جس میں عصری علوم وفنون کے تمام ادارے شامل ہیں۔ ذیل میں ان کی خصوصیات ونقائص کا مختصر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ (۱) یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی دینی مدارس میں اسلامیات کا جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، یونیورسٹی میں ایم اے کی سطح پر پڑھایا جانے والا نصاب اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ (۲) دینی مدارس میں آج کے گئے گزرے دور میں بھی استاد وشاگرد کے باہمی تعلق واحترام کی روایت موجود ہے۔ (۳) ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسکول وکالج کے مقابلے میں ان مدارس کے اخراجات...

مطالعہ تاریخ کی اہمیت اور تقاضے

― ڈاکٹر لائٹز

کچھ عرصہ قبل ایک دینی مدرسہ میں طلبہ کا امتحان لیتے ہوئے ایک منتہی طالب علم سے میں نے سوال کیا کہ خلافت راشدہ کے جس تیس سالہ دور کا حدیث نبوی میں تذکرہ کیا گیا ہے‘ اس کی واقعاتی تفصیل کیا ہے اور حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے کتنا کتنا عرصہ حکومت کی ہے؟ وہ طالب علم اس سوال کا جواب نہ دے سکا جس کا مجھے بے حد دکھ ہوا اور ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ عالم، تاریخ اسلام حتیٰ کہ سیرت نبوی اور سیرت خلفائے راشدین تک کے بارے میں پائی جانے والی بے اعتنائی اور عدم توجہ کا احساس مزید گہرا اور کرب انگیز ہوتا گیا۔ گزشتہ روز ایک...

اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۴)

― ڈاکٹر یوسف القرضاوی

یہ نکتہ بھی تحریک اسلامی کی اہم کمزوریوں میں سے ایک ہے کہ اجتہاد سے ڈرتی ہے، حالات اور وقت کی مناسبت سے دین کے دائرے کے اندر تجدیدی عمل کو پسند نہیں کرتی اور عمل وفکر کے اعتبار سے انقلابی راہیں اختیار کرنے پر مائل نہیں ہوتی۔ فقہی معاملات میں کسی قدر اجتہاد کی قائل ہوتے ہوئے بھی یہ تحریک فکر وحرکت وعمل میں تقلیدی رجحان ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ہر قدم کو بحالہ قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ اس نے بعض وسائل واشکال کو گلے سے لگا رکھا ہے، خواہ یہ وسائل واشکال اس کی دعوت کے فروغ ووسعت کی راہ میں ایسا پتھر ثابت ہوں جن سے مسلسل ٹھوکر لگ رہی ہو، نیز ان...

دینی جماعتیں اور انتخابی سیاست

― مولانا عبد الغفار حسن

اس وقت ملک شدید سیاسی واخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ان حالات میں یہ ایک اہم سوال ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ دینی جماعتوں کا مستقبل کیا ہے؟ وہ کس طرح قرآن وسنت کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کر سکتی ہیں؟ کیا ان کا انتخابی سیاست میں براہ راست حصہ لینا ملک وملت کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس طرح نفاذ شریعت کی تحریک کام یابی سے ہم کنار ہو سکتی ہے؟ یہ بات عیاں ہے کہ دینی جماعتوں کے رہنما پچھلے انتخابی تجربات سے کوئی خا ص سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور ایک دفعہ پھر انتخابی دنگل میں کودنے کے لیے بے تاب ہیں۔ دینی جماعتوں میں سب سے زیادہ فعال اور منظم...

وفاقی شرعی عدالت کے قیام کا پس منظر اور ضروریات

― جسٹس (ر) تنزیل الرحمن

روزنامہ جنگ لاہور ۲۳۔ اگست ۲۰۰۲ کی خبر کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا اعجاز احمد خان نے لاہور میں اقلیتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ انہوں نے وفاقی وزارت قانون کو لکھ کر بھیج دیا ہے کہ ہائی کورٹ کے ہوتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دیا جائے۔ صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت تعصب کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے اس لیے اسے باقی رکھنا ضروری نہیں ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں ایک عرصے سے بین الاقوامی حلقوں اور پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ چونکہ...

احیائے امت کے چند بنیادی تقاضے

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

معاصر اسلامی دنیا بیدار ہو چکی ہے۔ اپنے حقوق اور تشخص کی بازیافت کے لیے ہر مسلمان کسی نہ کسی محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ اس صورت حال میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے موجودہ سفر کے راستے کا تعین کریں اور اس سفر کے تقاضوں سے کماحقہ واقف ہوں۔ ذیل میں اس حوالے سے ایک طالب علمانہ کاوش کی گئی ہے۔ اگر ہم کائناتی تناظر میں زندگی پر غور وفکر کریں تو اس کی بے ثباتی عیاں ہو جاتی ہے۔ فانی دنیا ہے اور فانی انسان۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تگ ودو اور دوڑ دھوپ کس لیے ہے کیونکہ ہماری اپنی زندگی تو نہایت محدود ہے کہ سانس کا کیا بھروسہ! ہماری محدود زندگی کی ’’تحدید‘‘...

دار العلوم دیوبند اور دہشت گردی

― مولانا حبیب الرحمن قاسمی

دار العلوم دیوبند محض ایک دینی مدرسہ اور تعلیمی وتربیتی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی‘ علمی اور اصلاحی تحریک کا عنوان ہے جس نے ملت اسلامیہ کو فکر ونظر کی طہارت وپاکیزگی‘ قلب وجگر کو عزم واستقامت اور جسم وجان کو تازگی وتوانائی بخشنے میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اقامت دین اور حریت فکر کی یہی ہمہ گیر تحریک آج ’’دیوبندیت‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔یہ دیوبندیت کوئی جدید مذہب یا فرقہ نہیں بلکہ سلف صالحین سے متوارث قدیم مسلک اہل سنت والجماعت کا ایک متوازن وجامع مرقع ہے جس میں اہل سنت والجماعت کی تمام شاخیں مربوط اور ہم آہنگ ہو گئی...

الشریعہ اکادمی میں چالیس روزہ کورس کی اختتامی تقریب

― ادارہ

۲۴۔ اگست ۲۰۰۲ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ ’’خصوصی مطالعاتی کورس‘‘ کی اختتامی تقریب اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں ناظم سٹی تحصیل گوجرانوالہ الحاج بابو جاوید احمد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ’’تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے چند ضروری تقاضے‘‘ کے موضوع پر کورس کے شرکا کو لیکچر دیا۔ تقریب میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور معززین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مولانا چنیوٹی کی دعا پر تقریب اختتام پذیر...