مطالعہ تاریخ کی اہمیت اور تقاضے

ڈاکٹر لائٹز

کچھ عرصہ قبل ایک دینی مدرسہ میں طلبہ کا امتحان لیتے ہوئے ایک منتہی طالب علم سے میں نے سوال کیا کہ خلافت راشدہ کے جس تیس سالہ دور کا حدیث نبوی میں تذکرہ کیا گیا ہے‘ اس کی واقعاتی تفصیل کیا ہے اور حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے کتنا کتنا عرصہ حکومت کی ہے؟ وہ طالب علم اس سوال کا جواب نہ دے سکا جس کا مجھے بے حد دکھ ہوا اور ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ عالم، تاریخ اسلام حتیٰ کہ سیرت نبوی اور سیرت خلفائے راشدین تک کے بارے میں پائی جانے والی بے اعتنائی اور عدم توجہ کا احساس مزید گہرا اور کرب انگیز ہوتا گیا۔

گزشتہ روز ایک دوست کے پاس انجمن حمایت اسلام لاہور کی شائع کردہ ’’سنین الاسلام‘‘ دیکھنے کا موقع ملا جو مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر لائٹنر نے اب سے کوئی سوا سو برس قبل لکھی تھی تو اس کے دیباچے نے اس کرب اور احساس کو پھر سے تازہ کر دیا۔

ڈاکٹر لائٹنر ۱۸۵۷ء کے بعد برصغیر پاک وہند میں تعلیمی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب اردو میں لکھی ہے۔ اس میں تاریخ اسلام کا مرحلہ وار خلاصہ ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے اور دیباچے میں یہی شکایت کی ہے کہ ہمارے علماء کرام تاریخ بالخصوص عرب دنیا اور خلفائے اسلام کی تاریخ سے عام طور پر بے بہرہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے فائدہ کی خاطر یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ ان کا لہجہ اور انداز بیان یقیناًبہت سے دوستوں کو نامانوس محسوس ہوگا مگر اس کے باوجود صرف یہ احساس دلانے کے لیے یہ مضمون شائع کیا جا رہا ہے کہ آج کے دور میں تاریخ کے مطالعہ کی اہمیت کیا ہے اور اردو زبان میں اس کے مواد کی فراہمی کے ضروری تقاضے کیا ہیں؟ (رئیس التحریر)


گزشتہ جولائی میں، میں نے کچھ مولویوں کا عربی میں امتحان لیا تھا جو پنجاب یونیورسٹی کالج میں وظائف کے امیدوار تھے۔ میں نے دیکھا کہ دوسرے علاقوں کی طرح پنجاب میں بھی بعض مولوی جہاں لفظی ترجمہ اور قواعد کی تفصیلات میں اتنی گہرائی تک پہنچتے ہیں کہ جسے یورپ کے مستشرق بہت کم وقعت دیتے ہیں، وہاں سب کے سب عرب کی تاریخ وادب کے اہم حقائق سے کم وبیش بے خبر ہیں۔ ان کی تعلیم میں اس خامی کو دور کرنے کے لیے میں نے پہلے تواریخ عرب کا ایک سن وار نقشہ مرتب کیا اور پھر ایک اور خاکہ عربی ادب کے متعلق تیار کیا لیکن میرا یہ طریق عمل تاریخ عالم کی ایک اہم شاخ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور غیر فلسفیانہ طریقے پر پیش کرنے کے مترادف تھا۔ حقیقت میں مولویوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ عرب کی تاریخ بہ قید سنین اور اس کے واقعات پورے تطابق زمانی کے ساتھ قلم بند موجود ہیں، جسے وہ کسی طرح بھی زمانہ افسانہ واساطیر کے سپرد نہیں کر سکتے، چاہے یہ من گھڑت افسانے اور اساطیر زمانہ عتیق ونامعلوم کے لیے جذبات عزت واحترام کو تحریک دینے میں کتنے ہی ممد ومعاون ہوں۔ انہیں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ عربی ادب صرف قرآن کی تفاسیر، چند رسائل قانون، مناظرانہ نظموں یا صرف ونحو کی کتابوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں علوم ریاضی، تواریخ اور طب وغیرہ پر تصانیف کی ایک کثیر تعداد بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود میرے ان خاکوں کا اصل مقصد پورا نہیں ہو سکتا اگر مولوی کو یہ یقین نہ دلایا جائے کہ اس کے ملک، مذہب اور ادب کی تاریخ نوع انسان کے فکر وعمل کی عالمگیر تاریخ کا صرف ایک جزو ہے۔ چنانچہ میں یہ بیان کرنے کے لیے مضطرب تھا کہ عرب کی تاریخ اسلام کی صورت میں کیونکر جلوہ گر ہوئی اور اس کے ادب نے مختلف ممالک کے باشندوں کو جو اس مسلک کے پیرو تھے، کس حد تک متاثرکیا۔ میں نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ تہذیب وتمدن کی عالمگیر تاریخ میں تاریخ اسلام کو کیا مقام حاصل ہے۔ موجودہ رسالہ میری اس سعی وکوشش کا نتیجہ ہے۔

مجھے اس امر کا پورا احساس ہے کہ اس کتاب کو کوئی خاص ادبی حیثیت حاصل نہیں لیکن اگر اسے پڑھ کر کسی مولوی کے دل میں اپنے یا دوسرے ممالک کی تاریخ وادب کے اہم واقعات کا مطالعہ کرنے کا شوق پیدا ہو جائے، جنہیں میں نے نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، یا ان کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہے اور ان کا مطالعہ ناقدانہ نظر سے کرے تو میرا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ شاید یہ کتاب دیکھ کر قابل تر مصنفین کو اسی قسم کے مفید موضوعات پر اردو میں کتابیں لکھنے کی ترغیب بھی ہو۔ .......

اس موقع پر میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سائنس اور ادب پر ایسی مستند کتابوں کا جو کسی یورپی زبان میں لکھی ہوئی ہوں، ترجمہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں اردو میں ڈھال لینا چاہیے۔ یورپی مصنفین خصوصاً ہمارے ہم عصر بڑے عمومیت پسند ہیں اور ان کی تحریریں غیر شخصی اور تجریدی انداز کی ہیں حالانکہ قریباً تمام مشرقی زبانوں کا طبعی رجحان ذاتی، مخصوص، ٹھوس اور ڈرامائی ہے۔ ترجمے کی عام مشکلات بھی کافی حد تک کٹھن ہیں، چاہے ہم ایک یورپی زبان کا دوسری یورپی زبان میں ہی ترجمہ کیوں نہ کریں۔ مثلاً اس میں شک ہے کہ شیکسپیئر کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں، بیرنگر (Beronger) کا انگریزی میں یا ڈکنز کا اطالوی زبان میں کما حقہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن مشرقی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے مشکلات اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ ان میں ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہاں ان کے خیالات کو دوبارہ لکھا جا سکتا ہے۔ انجیل مقدس، جس کی زبان اور روح میں اتنی مشرقیت موجود ہے، جب عربی، ترکی یا اردو میں ترجمہ کی جاتی ہے تو اصل کے پورے معانی (یا جو مفہوم ہم اصل عبارت سے لیتے ہیں یا خیالی رشتے جو اس سے وابستہ ہیں) پوری طرح ادا نہیں کیے جا سکتے۔ مثال کے طور پر سینٹ میتھیو کے چوبیسویں باب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کے ترابی کے ترکی ترجمے میں قواعد اور مفہوم کی ۱۰۸ غلطیاں موجود ہیں۔

ہمیں اردو میں ترجموں کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر زبانوں کے مفہوم کو اردو میں ادا کیا جائے۔ مثال کے طور پر ہم مل کی ’معاشیات‘ کا ترجمہ نہیں چاہتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ ’معاشیات‘ کے نفس مضمون کو عام فہم اردو میں بیان کیا جائے۔ یہی اصول تواریخ، مابعد الطبیعیات اور ادب کی کتابوں پر بھی منطبق ہوتا ہے جن کے نفس مضمون کو ہم سلیس اور بامحاورہ زبان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تصنیف شدہ کتابوں کے تراجم نہیں چاہتے۔

میں جو تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، میرا خیال ہے کہ وہ محض ترجمہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے۔ اب تک جو تراجم شائع ہوئے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے ایک لغات اور ایک اطاعت شعار منشی کی ضرورت ضرور پڑتی ہے لیکن ایسے قابل فہم بیان کے لیے جسے ایک چودہ سالہ بچہ بھی بآسانی سمجھ سکے، یہ ضروری ہے کہ مصنف اپنے مضمون پر پوری طرح حاوی ہو اور اس زبان میں ماہر ہو جس میں وہ کتاب لکھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی خیالات کی نمائندگی کے لیے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ادب میں، تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے ان خیالی رشتوں کا موازنہ کر لیا جائے جو ایک یا دوسرے لفظ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور اگر غیر زبان میں اس کا بالکل ہم معنی لفظ نہ ملے تو پھر مترجم کو خود وہ خیالی رشتے بیان کرنے چاہییں اور اپنے ترجمے میں ان الفاظ کی تشریح کر دینی چاہیے اور پھر اپنے انتخاب کردہ لفظ کی موزونیت کے متعلق تسلی کرنے کے لیے یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ کیا اس ملک کا کوئی باشندہ جو اس مضمون پر حاوی ہو، ان ہم زبانوں کو آسان اور سادہ طریق پر اس مضمون کی تعلیم دینے کے لیے جو اس سے ناواقف محض ہیں، یہی اسلوب اختیار کرے گا؟ جب تک مترجم اس پر عمل نہ کرے گا، وہ خیالات کی نہیں بلکہ صرف اصوات کی تعلیم دے گا۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس کی مصطلحات کے لیے، جن کے الفاظ حقائق یا اشیا کی نمائندگی کرتے ہیں، اس بات کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت نہیں کہ کس ترکیب صوتی سے حقائق یا اشیا کا مفہوم ظاہر کیا جاتا ہے لیکن جب تک کسی میں فکر وتخیل اور قوت جذب وتفہیم نہ ہو، اس کی لسانی قابلیت چاہے کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہندوستان کے باشندوں کے لیے کوئی ایسی کتاب جسے وہ سمجھ سکیں، نہ سائنس پر لکھ سکتا ہے اور نہ ادب پر۔

سیرت و تاریخ

Flag Counter