جنرل مشرف کا دورۂ امریکہ ۔ اور پاک امریکہ تعلقات کی نئی جہت

پروفیسر شیخ عبد الرشید

جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ حکومتی توقعات کے مطابق اور عوامی توقعات کے برعکس مکمل ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیا اور اپنے مقاصد میں کام یابی کی واضح نشان دہی کی اور اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ نئی صدی میں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاک امریکہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک پاکستانی حکمران جب بھی امریکہ یاترا پر گئے تو واپسی پر قوم کو یہی نوید دی کہ اب پاک امریکہ دوستی طویل المیعاد‘ پائیدار اور مستحکم وخوش حال پاکستان کی ضامن ہوگی مگر اوراق تاریخ شاہد ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات نشیب وفراز کا شکار رہے ہیں۔ کسی مخصوص وقت میں ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کیسے ہوں گے‘ اس کا زیادہ تر انحصار امریکی مفادات کے تقاضوں پر ہی رہا۔ تجربات اس بات کے عکاس ہیں کہ امریکہ پاکستانی مفادات کو کسی بھی خاطر میں لانے پر کبھی تیار نہیں ہوا۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ یک طرفہ معاملہ رہا۔ جب بھی امریکہ ہم سے گلے ملنے لگا تو ہمارے گلے پڑ گیا۔ تاہم ۱۱ ستمبر کے بعد اور موجودہ علاقائی صورت حال میں پاک امریکہ تعلقات غیر معمولی نوعیت واہمیت اختیار کر گئے ہیں اور ایک بار پھر پاکستان سے بھی زیادہ امریکہ کے مفادات کو ہمارے خطے میں خاص طور پر نازک اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
۱۱ ستمبر کے بعد پاکستان کے حاکموں نے ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’بنیاد پرستی‘‘ کے خاتمے کی نیک کوششوں میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا جس سے جمہوریت کے محافظوں اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان تعلقات کا نیا باب شروع ہوا جس سے ۶۰ء اور ۸۰ء کی دہائی کی یاد تازہ ہو گئی چنانچہ جنرل پرویز مشرف کے دورۂ امریکہ تک ہمارے چار ہوائی اڈے ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں امریکی افواج کے پاس تھے۔ کراچی میں ہمارے سب سے بڑے ’’قائد اعظم بین الاقوامی ہوائی اڈے‘‘ کا پرانا ٹرمینل مکمل طور پر امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ہے۔ کراچی شہر کے وسط میں انہوں نے رابطہ دفتر قائم کر لیا ہے۔ یاد رہے اس سے قبل بھی ہمارے ایک جمہوریت دوست فوجی صدر نے ۶۰ء کی دہائی میں ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ میں پشاور کے قریب بڈابیر کا اڈہ امریکہ کو دیا تھا جہاں سے U-2 نامی امریکی جاسوسی جہاز سوویت یونین کی فضاؤں میں گیا جہاں اسے مارا گیا تو خروشچیف نے رد عمل میں ہمیں You too کہہ کر گلوب پر واقع پاکستان پر سرخ دائرہ کھینچا اور ۱۶ دسمبر۱۹۷۱ء کو پاکستان دولخت ہو گیا۔
۱۱ ستمبر کے بعد امریکہ سے جو ہمارا نیا رشتہ بنا اورعلاقے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہم نے وطن عزیز کے اندر اور باہر جو ’’جرات مندانہ‘‘ پالیسی اختیار کی اور مغربی دانش وروں کے وژن کے مطابق ’’جدید‘‘ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جو سعی جمیل شروع کی‘ اس پر شاباش لینے کے لیے جنرل پرویز مشرف امریکہ گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جنرل کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ اس دورکے آغاز سے قبل ۹ فروری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتہ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کو PAK-US ACQUISITION AND CROSS SERVICES AGREEMENT کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پاکستان‘ افغانستان اور گرد وپیش کے خطے میں امریکی فوجی اور دوسرے مفادات کی تکمیل کی خاطر ہر نوعیت کا Logisticتعاون فراہم کرے گا۔ امریکہ بھی دہشت گردی کے خلاف اس مہم کی تکمیل میں پاکستان کو مختلف نوعیت کی سہولتیں فراہم کرے گا اور اسے ۳۰۰ سے ۵۰۰ ملین ڈالر کی مدد بھی دے گا۔ اس حوالے سے امریکی ماہرین نے صدربش کی طرف سے پاکستان کے ذمے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی معافی کو ایک فیاضانہ اقدام سے تعبیر کیا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت عزیز اور امریکہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے بھی اس پر بڑے تفاخر اور گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن اس معافی کے اعلان کی نوعیت کی وضاحت نہیں ہو سکی کیونکہ یہ تو پہلے سے واجب الادا امریکی قرضوں کی باقی ماندہ رقم ہے اور یہ اصل زر کے بجائے سود کی مد میں واجب الادا ہے اور یہ رقم پوری ایک ارب ڈالر بھی نہیں بلکہ ۸۰ کروڑ ڈالر بنتی تھی اور اب مزید ۲۰ کروڑ ڈالر کی اضافی امداد اس لیے دی گئی ہے کہ پورے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی ادائیگی میں سہولت پیدا ہو سکے اور یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ یہ اعلان غیر مشروط نہیں بلکہ اس کی توثیق امریکی کانگرس کے ایوان بالا سینٹ کو کرنا ہوگی جہاں پچھلے چار ماہ سے پاکستان کو دی جانے والی تجارتی مراعات کو دبا کر رکھا گیا ہے۔ ویسے بھی کانگریس میں طاقت ور بھارت نواز لابی پہلے سے سرگرم عمل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس دورہ میں دفاعی سازوسامان کے حوالے سے کوئی قابل ذکر بات نہیں جبکہ ۱۸ فروری کو ہی طے ہوا کہ امریکہ پاکستان کے واحد دشمن ملک بھارت کو ’’فائر فائنڈرز‘‘ نامی جاسوس ریڈار دے گا جو کشمیری مجاہدین کے خلاف استعمال ہوں گے۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل رچرڈ مائر نے بھارت کی فوجی تعلیم وتربیت کے لیے رقم دوگنا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ دوسری طرف تجارت کے شعبے میں ٹیکسٹائل کے کوٹے کے حوالے سے امریکی دورہ میں بات چیت ہوئی لیکن امریکی ٹیکسٹائل لابی کے اثر کے تحت واضح کر دیا گیا کہ ٹیرف کی معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جنوبی ایشیا میں امریکہ کی قلیل المیعاد فوجی موجودگی کے ہمارے دعووں کے برعکس صدر بش طویل المیعاد موجودگی کا راگ ببانگ دہل الاپ رہے ہیں جس سے پاک چین مثالی دوستی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ چین اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت بھی اب وہ نہیں رہی جو کہ ماضی میں ہوا کرتی تھی۔
اس تجزیے سے عیاں ہوا کہ موجودہ دورۂ امریکہ عوامی توقعات کے مطابق بڑی اہمیت کا حامل ثابت نہ ہوا تاہم حاکم وقت کی ترجیحات ضروری نہیں کہ عوامی آرزوؤں کے مطابق ہوں۔ امریکہ کا دورہ اس لحاظ سے بھی کام یاب رہا کہ جنرل پرویز مشرف کے اہل خانہ جو مستقل طور پر امریکہ میں آباد ہیں‘ ان کی میزبانی کا لطف بوسٹن میں اٹھایا گیا۔ اس دورے کے دوران میں جنرل پرویز مشرف جو ملک پاکستان کے عوام کو رعب میں رکھنے کے لیے مختلف مواقع پربامعنی فوجی وردیوں کا مسلسل استعمال کرتے ہیں اور گاہے گاہے احکامات ربانی کی روشنی میں صاف صاف بتاتے ہیں کہ یہ اقتدار انہیں اللہ تعالیٰ نے بخشا ہے‘ وردی اتار کر امریکہ یاترا پر گئے اور اپنی حکومت‘ نظام حکومت اور پروگرامِ حکومت کے لیے امریکی سند حاصل کی۔ ایسے حکمران جن کے پاس اپنے ’’بنیاد پرست اور جاہل‘‘ عوام کی دی ہوئی سند حکومت نہ ہو‘ ان کے لیے امریکہ کی سند کلیدی اہمیت اختیار کر جاتی ہے جو کہ صدر بش نے اپنے یونین ایڈریس میں ان کا خصوصی ذکر کر کے اور جنرل پرویز کو ذاتی دوست قرار دے کر فراہم کر دی ہے اور یہ کوئی چھوٹی موٹی کام یابی نہیں‘ عوام اور سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کام یابی پر جنرل صاحب کو مبارک باد پیش کریں۔ بے چاری جمہوریت کے لیے اس دورے کا پیغام یہی ہے کہ وہ آئندہ متوقع ’’شفاف اور منصفانہ‘‘ انتخابات کے باوجود مزید کچھ عرصہ آرام وراحت میں بسر کرے۔ سردست امریکہ کو پاکستان میں ملٹری برانڈ ڈیموکریسی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی شہ رگ کشمیر کے حوالے سے امریکی صدر کی وضاحتیں بھی اچانک مثبت ہو گئی ہیں۔ کارگل بحران اور اعلان واشنگٹن میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی بد نیتی کے گناہ ۱۱ ستمبر کے واقعہ نے دھو دیے ہیں۔ اب امریکہ خالصتاً پاکستان کے مفاد میں پاک بھارت مذاکراتی عمل میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اس کردار میں ’’معاہدۂ تاشقند سے اعلان واشنگٹن‘‘ تک امریکی کردار اور رویے کی جھلک نظر نہیں آئے گی۔ پاکستان کے حاکموں ومحافظوں کا یہی دانش مندانہ تجزیہ ہے لہذا حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق فوجی حکمرانوں کے ایجنڈے کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا جائے۔ اس سے انکار بنیاد پرستی اور دہشت گردی ہوگا۔
جنرل پرویز مشرف کے تدبر وحکمت‘ جرات مندی وبہادری کا تو اس وقت پورا عالم معترف ہے۔ ان کی امریکہ یاترا پر کئی امریکی کالم نویسوں نے انہیں پاکستان کا کمال اتاترک کہا ہے۔ کچھ نے تو ان کو انور السادات سے مماثل قرار دیا۔ ایک امریکی کالم نویس نے جنرل پرویز مشرف کو جنوبی ایشیا کا گوربا چوف بتایا۔ ان تینوں راہنماؤں کا امریکہ اور مغرب میں بڑا نام ہے کیونکہ اپنے اپنے ممالک میں مغرب کے مفادات کا تحفظ زمینی حقائق کی آڑ میں جس طرح انہوں نے کیا‘ شاید امریکی بصورت دیگر نہ کر پاتے۔ مذکورہ تینوں راہنما ترکی‘ مصر اور سوویت یونین کی تاریخ کے اہم باب ہیں۔ ان کی عظمت سے اس وقت تک انکار ممکن نہیں جب تک کوئی ’’انتہا پسند قنوطی‘‘ تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کر یہ نہ دیکھ لے کہ سیکولرازم کی بدترین مثال ترکی ہے جہاں جبر سے رسم الخط بدلا گیا‘ بزور قوت لباس تبدیل کروایا گیا اور طاقت سے دینی شعائر کو بند کر کے جدید جمہوریہ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہی کمال اتاترک کا عظیم کارنامہ ہے۔
انور السادات کے نام کے ساتھ ہی بنیاد پرست کا حافظہ اگر انہیں کیمپ ڈیوڈ کی یاد نہ دلا دے اور علاقائی وعالمی صورت حال میں زمینی حقائق سے مطابقت پیدا کر کے سوویت یونین کی گاڑی کو روس تک لے آنے میں گوربا چوف نے جس مہارت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا‘ وہ اتنا پرانا واقعہ نہیں کہ تاریخ کی کتاب کھولنا پڑے۔ ان تینوں عظیم راہ نماؤں میں ایک اور مماثلت بھی ہے کہ تینوں مختلف اوقات میں مغرب کے چہیتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو دورۂ امریکہ پر امریکی کالم نویس جنرل پرویز مشرف میں بیک وقت تینوں کی عظمت دیکھتے رہے اسی لیے دورہ سے پہلے اور بعد میں وہ اعتراف عظمت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اعلان کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے‘ پاک امریکہ دوستی اور خوش حال ومستحکم جدید اسلامی ریاست پاکستان کے قیام وتحفظ کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ صدر کے منصب پر فائز رہیں حالانکہ جب وہ اس منصب پر براجمان ہوئے تھے تو کسی کی پروا کیے بغیر ’’بہادری وجرات مندی‘‘ سے ہو گئے تھے۔ اب بھی کس کی مجال ہے کہ وہ کمانڈو کا راستہ روک سکے۔
اس کام یاب امریکی دورے کے باوجود ضروری ہے کہ یہ امر تسلیم کر لیا جائے کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اب دنیا کو نئی طرح سے دیکھے۔ یہ طے کرنا اہم ہے کہ پاکستان کے مفادات کیا ہیں؟ یہ طے کرتے وقت ہمیں ریاست اور حکومت میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ پھر دیکھنا ہوگا کہ ریاست کے اپنے مفادات کس طرح بہتر طریق سے تکمیل کو پہنچ سکتے ہیں۔ یہ امر اب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ ریاست پاکستان اور امریکہ کے مفادات علاقائی صورت حال میں ایک دوسرے سے بڑی حد تک یکسانیت نہیں رکھتے۔ نصف صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ ’’پاکستان آپشن‘‘ کو تبھی استعمال میں لاتا ہے جب ایسا کرنا اس کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس طرح تو یہ مطلقاً یک طرفہ معاملہ کے سوا کچھ نہیں۔ وقت اور ہوش مندی کا تقاضا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ کی دیرپا موجودگی کا مدبرانہ تجزیہ کر کے ’’علاقائی دوستوں‘‘ کی قربانی نہ دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ حالات کے کروٹ لینے پر امریکہ آنکھیں ماتھے پر رکھے اور ہم گنگناتے رہیں ؂
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے

حالات و مشاہدات

Flag Counter