علماء دیوبند اور سرسید احمد خان - مولانا عیسیٰ منصوری کے ارشادات پر ایک نظر

ضیاء الدین لاہوری

موقر جریدہ ’’الشریعہ‘‘ میں جناب مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا ایک مضمون بعنوان ’’علماء دیوبند اور سرسید احمد خان‘‘ مطالعہ میں آیا جو روزنامہ جنگ لندن میں مطبوعہ غلام ربانی صاحب کے ایک مضمون کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ’’دیوبند فرقہ والوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل ایک مدرسہ کھول کر سرسید احمد خان کی مخالفت کرنا شروع کر دی اور اس کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کر کے اس کو نیچری کہنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کے لیے انگریزی تعلیم حاصل کرنا ناجائز قرار دے دیا۔‘‘ اگرچہ مولانا موصوف نے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ بیان کیا ہے کہ ’’غلام ربانی صاحب کے یہ تینوں دعوے بالکل بے بنیاد‘ گمراہ کن اور سراسر غلط ہیں‘‘ مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے پہلی دو باتوں کی وضاحت میں علیگ پارٹی کے پراپیگنڈا سے مرعوب ہو کر ایسا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا‘ البتہ وہ انگریزی تعلیم کے حصول کو ناجائز قرار دینے کے الزام کا مناسب رد کرتے ہیں۔

مولانا موصوف نے الزام کنندہ کے الفاظ ’’عین مقابل‘‘ کے الفاظ کا غلط مفہوم لیا اور فرمایا کہ ’’مدرسہ دیوبند علی گڑھ یونیورسٹی کے عین مقابل نہیں بلکہ تین سو میل دور ایک چھوٹے سے قصبے میں قائم کیا گیا‘‘ حالانکہ اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ یہ مدرسہ علی گڑھ یونیورسٹی کے مقابلے میں رد عمل کے طو رپر قائم کیا گیا۔ الزام کنندہ شعوری یا غیر شعوری طور پر غلام احمد پرویز سے متاثر دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان حضرت نے بھی اپنی ایک تحریر میں یہی غلط بات کہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ دیوبند علی گڑھ کالج کے قیام (۱۸۷۵ء) سے نو سال قبل ۱۸۶۶ء میں وجود میں آیا تھا۔ (۱) اس وقت اس کالج کا منصوبہ سرسید کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ اس کا چرچا ان کے دورۂ انگلستان ۷۰۔۱۹۶۹ء کے بعد ہوا۔ سرسید نے ۱۸۶۷ء کے اخبار سائنٹفک سوسائٹی میں مدرسہ دیوبند کی پہلی سالانہ رپورٹ پر اپنا تبصرہ تحریر کیا۔ (۲) پھر جولائی ۱۸۷۳ء کے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں سرسید نے اس مدرسہ کی ساتویں سالانہ رپورٹ پر ایک طویل تبصرہ شائع کیا جس میں انہوں نے علما کو جی بھر کر لتاڑا اور اسلامی مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم پر کڑے الفاظ میں نکتہ چینی کی۔ (۳) اس وقت سرسید کا تعلیمی منصوبہ زیر تکمیل تھا اور وہ اپنے نیچری عقائد کی بڑے زور وشور سے تشہیر کر رہے تھے۔ رد عمل کے طور پر علما کی طرف سے ایک استفتا شائع ہوا جس کی متعلقہ عبارت درج ذیل ہے:

’’کیا فرماتے ہیں علماء دین اس امر میں کہ ان دنوں ایک شخص ان مدرسوں کو جن میں علوم دینی اور ان علوم کی جو دین کی تائید میں ہیں‘ تعلیم ہوتے ہیں‘ جیسے مدرسہ اسلامیہ دیوبند اور مدرسہ اسلامیہ علی گڑھ اور مدرسہ اسلامیہ کان پور‘ ان کو برا کہتا ہے اور ان کی ضد میں ایک مدرسہ اپنے طور پر تجویز کرنا چاہتا ہے ..... مسلمانوں کو ایسے مدرسے میں چندہ دینا درست ہے یا نہیں؟‘‘ (۴)

اس استفتا سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مدرسہ دیوبند علی گڑھ یونیورسٹی کے مقابلے میں قائم نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس علی گڑھ کالج مدرسہ دیوبند کے ’’عین مقابل‘‘ جاری کیا گیا۔ کالج کی تاریخ اجرا کے بارے میں سرسید فرماتے ہیں:

’’۲۴ مئی ۱۸۷۵ء روز سالگرہ ملکہ معظمہ ..... مدرسہ کھولا گیا۔‘‘ (۵)

روز سالگرہ ملکہ معظمہ کا خاص موقع یونہی منتخب نہیں کیا گیا تھا بلکہ سرسید کی تمام تر تعلیمی کاوشیں اسی نکتے کے گرد گھومتی ہیں۔ علی گڑھ کالج کی بنیاد میں جو جذبہ کارفرما تھا‘ اسے سرسید کے ان الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:

’’ہمارے ملک کو‘ ہماری قوم کو اگر درحقیقت ترقی کرنی اور فی الواقع ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند کا سچا خیر خواہ اور وفادار رعیت بننا ہے تو اس کے لیے بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں ہے کہ وہ علوم مغربی وزبان مغربی میں اعلیٰ درجہ کی ترقی حاصل کرے۔‘‘ (۶)

’’اصلی مقصد اس کالج کا یہ ہے کہ مسلمانوں میں عموماً اور بالتخصیص اعلیٰ درجے کے مسلمان خاندانوں میں یورپین سائنسز اور لٹریچر کو رواج دے اور ایک ایسا فرقہ پیدا کرے جو ازروئے مذہب کے مسلمان اور ازروئے خون اور رنگ کے ہندوستانی ہوں مگر باعتبار مذاق اور رائے وفہم کے انگریز ہوں۔‘‘ (۷)

کالج کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر وائسرائے کو پیش کردہ سپاس نامے میں اس کا مقصد یوں بیان کیا گیا:

’’ہندوستان کے مسلمانوں کو سلطنت انگریزی کی لائق وکارآمد رعایا بنانا اور ان کی طبیعتوں میں اس قسم کی خیر خواہی پیدا کرنا جو ایک غیر سلطنت کی غلامانہ اطاعت سے نہیں بلکہ عمدہ گورنمنٹ کی برکتوں کی اصل قدر شناسی سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (۸)

کالج کے ٹرسٹیوں نے ایک موقع پر یہ اعلان کیا:

’’من جملہ کالج کے مقاصد اہم کے یہ مقصد نہایت اہم ہے کہ یہاں کے طلبہ کے دلوں میں حکومت برطانیہ کی برکات کا سچا اعتراف اور انگلش کیریکٹر کا نقش پیدا ہو اور اس سے خفیف سا انحراف بھی حق امانت سے انحراف کے مترادف ہے۔‘‘ (۹)

سرسید کے دست راست نواب محسن الملک کا بیان ہے:

’’یہاں کی مذہبی تعلیم تعصب سے پاک ہے‘ تفرقہ کو دور کرنے والی ہے‘ غیر مذہب والوں سے اتحاد اور دوستی رکھنے کی تعلیم دیتی ہے‘ گورنمنٹ کی اطاعت اور سچی خیر خواہی کو جزو اسلام بتاتی ہے۔‘‘ (۱۰)

ایک اور موقع پر انہوں نے فرمایا:

’’اس کا بیج تو بویا سرسید نے‘ اب جب کہ یہ پھلے پھولے گا اور اس میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تہذیب‘ شائستگی‘ علمی قابلیت اور گورنمنٹ کی وفادار رعایا ہونے کی حیثیت سے آپ اپنی مثال ہوں گے تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی کی برکتوں اور آزادی کی بشارت دیتے پھریں گے۔‘‘ (۱۱)

سرسید کے بہت بڑے مداح الطاف حسین حالی بیان کرتے ہیں:

’’سب سے زیادہ وفاداری اور لائلٹی کی مستحکم بنیاد جو سرسید کی مذہبی تحریروں نے مسلمانوں میں قائم کی ہے‘ وہ انگریزی تعلیم کی مزاحمتوں کو دور کر کے ان کو عام طور پر اس کی طرف متوجہ کرنا اور خاص کر ان کی تعلیم کے لیے محمڈن کالج کا قائم کرنا ہے جس کی رو سے نہایت وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جس قدر اعلیٰ تعلیم مسلمانوں میں زیادہ پھیلتی جائے گی‘ اسی قدر وہ تاج برطانیہ کے زیادہ وفادار اور گورنمنٹ کے زیادہ معتمد علیہ بنتے جائیں گے۔‘‘ (۱۲)

یہ ہے بانیان کالج کے اپنے الفاظ میں علی گڑھ کالج میں دی جانے والی تعلیم کے اغراض ومقاصد کا ایک خاکہ جسے سرسید کی تعلیمی جدوجہد کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے ایک نعمت قرار دیا جاتا ہے‘ وہ تعلیم جو صرف اور صرف انگریزوں کی خیر خواہی‘ وفاداری‘ لائلٹی اور انگریزی برکات کے سچے اعتراف وغیرہ وغیرہ جذبات سے معمور ہو۔ غلامانہ ذہنیت کو تقویت پہنچانے والی اس کیفیت کو مسلمانوں کی ترقی سے موسوم کیا جاتا ہے۔

جہاں تک فتووں کی بات ہے‘ مولانا موصوف کا یہ بیان محل نظر ہے کہ ’’علماء دیوبند نے کبھی سرسید پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا درست نہیں۔ جو بات واقعی ہوئی‘ اس سے انکار کیوں؟ دراصل سرسید کے پیروکاروں نے ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نصاب میں پراپیگنڈا کے اصولوں سے کام لے کر مسلمانوں کی ترقی اور بھلائی کے نام پر سرسید کی شخصیت کو اس قدر صاف وشفاف بنا دیا ہے کہ اس کے زیر اثر اچھے بھلے دانش ور بھی مرعوب ہو کر بات کرتے ہیں۔ صرف صاف وشفاف ہی نہیں‘ انہوں نے سرسید کو علما کے مقابلے میں مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کے حق میں ہم دردی کے جذبات ابھارے جائیں۔ اگر سرسید کے موجودہ پیروکار ان کے مذہبی عقائد کو دانستہ چھپاتے ہیں یا ان سے اغماض برتتے ہیں یا ان پر عمل نہیں کرتے تو اس سے نہ تو اس دور کی صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے جس میں یہ فتوے جاری ہوئے اور نہ سرسید اپنے عقائد سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

علماء دیوبند کے سرسید کے خلاف کفر کے فتووں کے ذکر میں صرف ایک رسالہ ’’نصرۃ الابرار‘‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ رسالہ ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا۔ اس میں متعدد شہروں کے علما کے فتاویٰ درج ہیں۔ اگرچہ اس رسالے کا بنیادی مقصد سرسید کی انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کے خلاف رد عمل ظاہر کرنا تھا مگر استفتا اور ان کے جوابات میں ان کے نیچری عقائد بھی زیر بحث آ گئے۔ اگر مولانا موصوف برطانوی ہند کے مختلف علاقوں کے علما کو‘ گو وہ مسلک دیوبند سے منسلک ہوں‘ علماء دیوبند قرار نہیں دیتے تو مدرسہ اسلامیہ دیوبند کے مدرسین کو تو بہرحال ایسا تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس رسالے میں ضلع سہارن پور کے ذیل میں مولانا محمود حسن مدرس مدرسہ اسلامیہ دیوبند کے حوالے سے یہ تحریر ملتی ہے:

’’فرقہ نیچریہ کے بارے میں جو کہ منکر نصوص قرآنی واحادیث نبوی واجماع امت ہے‘ جو کچھ علماء معتبرین نے ارشاد فرمایا ہے‘ وہ امر حق موافق کتاب وسنت ہے۔‘‘ (ص ۲۳)

اس مدرسے کے جن مدرسین نے اس تحریر کی تائید کی ہے‘ ان کے نام: احمد حسن‘ محمد حسن اور عبد اللہ خان ہیں۔ دیوبند کے علماء معتبرین نے فرقہ نیچریہ کے بارے میں جو ارشاد فرمایا‘ وہ احمد حسن ولد مولوی محمد قاسم کے حوالے سے اس تحریر میں ملاحظہ فرمائیں:

’’فرقہ نیچری جو کہ اپنے آپ کو تابع سید احمد خان بتلاتے ہیں‘ ہرگز ہرگز کوئی معاملہ ان سے جائز نہیں۔ بوجہ دعوائے اسلام ان کے دھوکا میں کوئی مسلمان نہ آوے۔ سید احمدخان کے کفر کی بابت علماء گزشتہ نے پہلے بھی تحریر فرمایا ہے اور اب بھی جو کچھ علماء مذکورہ نے تحریر فرمایا‘ موافق قواعد شرع درست ہے۔ لاریب یہ شخص کافر ہے‘ اس کے کفر میں کوئی شک وشبہ نہیں۔‘‘ (ص ۲۴)

اس کی تائید میں ’’الجوابات المذکورۃ کلہا صحیحۃ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ محمد فضل عظیم خطیب دیوبند کا نام تحریر ہے۔

سرسید کے انتقال کو ایک صدی گزر چکی ہے۔ اس دوران میں مخصوص حلقے ان کی شخصیت کو جاذب نظر بنانے کے لیے ان کے چہرے پر نیا خول چڑھانے میں مصروف رہے۔ اس مقصد کے لیے خوب خوب جھوٹ بولے گئے اور ان کے عقائد پر دبیز پردوں کی تہیں ڈال دی گئیں۔ آج یہ عالم ہے کہ علما کے فتووں پر تو بڑی لعن طعن کی جاتی ہے‘ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ فتوے ان کے کن کن عقائد کی ترویج کے رد عمل میں جاری ہوئے۔حقائق کو بد نیتی سے دوسروں کی نظروں سے اوجھل رکھنا بھی جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ بہت کچھ سرسید کے نئے تراشیدہ بت کے پیچھے چھپ چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کے اصلی چہرے کو اجاگر کیا جائے۔ جو لاعلم ہیں‘ انہیں آگاہ کیا جائے کہ ان کے عقائد کیا تھے۔ پھر فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ فتوے جائز تھے یا ناجائز۔ سرسید کے چند عقائد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ انصاف سے بیان کیجیے کہ اگر آج کوئی شخص ان عقائد کی تبلیغ کرنے لگے تو مسلمانوں کا کیا رد عمل ہوگا؟

  • فرشتے‘ جنات اور شیطان کوئی علیحدہ مخلوق نہیں۔ جنات کوئی غیر مرئی مخلوق نہیں بلکہ اس سے جنگلی اور وحشی انسان مراد ہیں۔ ابلیس کا کوئی خارجی وجود نہیں‘ یہ انسان میں وہ قوت ہے جو اسے سیدھے راستے سے پھیرتی ہے۔ 
  • پیغمبروں پر وحی کسی فرشتے کے ذریعے سے نہیں آتی تھی بلکہ القا کی صورت میں نازل ہوتی تھی۔ ان کے دل میں جو بات پیدا ہوتی‘ اس کو وہ وحی والہام قرار دیتے تھے۔
  • انبیاء کے علاوہ مقدس لوگوں پر بھی وحی آتی ہے۔ سرسید کے الفاظ میں: 

’’اگر وحی والہام نہ تھا تو اور کیا تھا جس نے کال ون اور لوتھر کے دل کو اس پرانے راستے سے پھیرا اور ہمارے ہی زمانے کے اس قابل تعظیم وادب شخص بابو کشیب چندرسین کے دل کو خدائے واحد کی طرف موڑا اور سوامی دیانند سرسوتی کے دل کو مورتی پوجن سے پھیرا؟‘‘ 

واضح ہو کہ موخر الذکر اس اسلام دشمن جماعت آریہ سماج کے بانی تھے جس نے برصغیر میں شدھی تحریک چلائی اور جس نے بعد میں ’’ہندو مہاسبھا‘‘ اور ’’راشٹریہ سیوک سنگھ‘‘ کی صورت میں جنم لیا۔

  • معجزہ سے مراد اگر کوئی واقعہ مافوق الفطرت یا کسی خلاف عقل امر کا وقوع ہے تو کسی نبی سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آتش نمرود سے صحیح سلامت نکل آنے کا واقعہ یہودیوں اور عیسائیوں کی تقلید ہے۔ سرسید کے الفاظ میں: 

’’بے شک ان کے لیے آگ دہکائی گئی تھی اور ڈرایا گیا تھا کہ ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیں گے مگر یہ بات کہ درحقیقت وہ آگ میں ڈالے گئے‘ قرآن مجید سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ 

’’خدا نے ہم کو قانون فطرت یہ بتایا کہ آگ جلانے والی ہے۔ پس جب تک یہ قانون فطرت قائم ہے‘ اس کے برخلاف ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے کہ قولی وعدہ کے برخلاف ہونا ناممکن ہے۔‘‘

  • حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بیان میں جادوگروں کی رسیوں کا سانپ بن جانا اور آپ کے عصا کا اژدہا بن کر ان کو نگل جانا محض نفس انسانی کی قوت کا ظہور تھا۔ وہ رسیاں اور لاٹھیاں لوگوں کو سانپ اور اژدہے ’’معلوم‘‘ ہوتی تھیں‘ حقیقت میں ایسا کچھ نہ ہوا۔
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے کیونکہ ایسا ہونا نیچر کے اصولوں کے خلاف ہے۔ سرسید کے الفاظ میں: ’’حضرت مریم حسب قانون فطرت انسانی اپنے شوہر یوسف سے حاملہ ہوئیں۔‘‘
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ ’’اپنی موت مرے۔‘‘
  • سرسید کے الفاظ میں: ’’شق قمر کا ہونا محض غلط ہے اور بانی اسلام نے کہیں اس کا دعویٰ نہیں کیا۔‘‘


حوالہ جات

۱۔ تاریخ دار العلوم دیوبند (سید محبوب رضوی) جید پریس دہلی (۱۹۷۷ء) ص ۱۵۵

۲۔ تحریک علی گڑھ تا قیام پاکستان (ڈاکٹر ایچ بی خان) الحمد اکادمی کراچی(۱۹۹۸ء) ص ۶۸

۳۔ مقالات سرسید‘ جلد ہفتم‘ مجلس ترقی ادب لاہور (۱۹۶۲ء) ص ۲۷۸

۴۔ سرسید احمد خان‘ ایک سیاسی مطالعہ (عتیق صدیقی) مکتبہ جامعہ نئی دہلی (۱۹۷۷ء) ص ۱۳۴

۵۔ مکمل مجموعہ لکچرز سرسید‘ مصطفائی پریس لاہور (۱۹۰۰ء) ص ۴۰۵

۶۔ مقالات سرسید‘ جلد ہشتم‘ ص ۴۸

۷۔ ایڈریس اور اسپیچیں (مرتبہ‘ نواب محسن الملک) انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ (۱۸۹۸ء) دیباچہ ص ۲

۸۔ ایضاً‘ ص ۳۲

۹۔ تذکرہ وقار (محمد امین زبیری) عزیزی پریس آگرہ (۱۹۳۸ء) ص ۲۱۲

۱۰۔ مجموعہ لکچرز نواب محسن الملک‘ نول کشور پرنٹنگ پریس لاہور (۱۹۰۴ء) ص ۴۷۰

۱۱۔ ایضاً‘ ص ۴۸۶

۱۲۔ مقالات حالی‘ حصہ اول‘ انجمن ترقی اردو کراچی (۱۹۵۵ء) ص ۲۱۶


شخصیات

(جون ۲۰۰۲ء)

Flag Counter