حقیقی جمہوریت یا رجعت قہقریٰ؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ڈوری کا ایک سرا طاقت ور شخص کے ہاتھ میں ہے اور دوسرے سرے سے ایک بظاہر آزاد شخص کی ٹانگ بندھی ہوئی ہے۔ اس ٹانگ بندھے شخص کی آزادی‘ ڈوری کی لمبائی کے برابر ہے۔ جب بھی یہ شخص ذرا زیادہ آزادی پانے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرے سرے پر موجود شخص خائف ہو کر ڈوری کو کھینچنا شروع کر دیتا ہے اور وہ ’’آزاد‘‘ شخص الٹے پاؤں گھسٹتا چلا جاتا ہے۔ مزاحمت تو دور کی بات ہے‘ صرف بچاؤ کرنے میں ہی وہ منہ کے بل گر جاتا ہے‘ کہنیاں چھل جاتی ہیں اور ہاتھ خاک آلود ہوجاتے ہیں۔ رہا دل‘ تو اس کی بات ہی چھوڑیے۔

یہ مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ سے زیادہ کہیں اور صادق نہیں آ سکتی۔ ملک کے عسکری ادارے نے ڈوری کا سرا مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔ ’’ملکی سلامتی اور قومی مفاد‘‘ ڈوری کی لمبائی کے متوازی ہیں۔ ڈوری کے دوسرے سرے پر دستوری ڈھانچہ ہے جسے فی الواقع ’’ڈھانچہ‘‘ ثابت کر دیا گیا ہے۔ 

وطن عزیز کی تاریخ کے معروضی جائزے سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دستوری اداروں کو کام کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا؟ اس کا ایک ہی جواب نہایت شد ومد سے دیا جاتا ہے کہ دستوری ادارے‘ غیر دستوری انداز سے چلائے جاتے ہیں۔ کوئی بھی ہوش مند اور غیر جانب دار شخص اس جواب کی صحت سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کا حل یہی ہے کہ ’’ڈوری‘‘ برقرار رکھی جائے‘ وقتاً فوقتاً کھینچ ماری جائے اور دستوری اداروں کو ذلیل ورسوا کیا جائے؟ آخر ایک بار کھینچ مارنے کے بعد‘ بلکہ فوراً بعد‘ دستوری اداروں کے قیام کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں؟ عسکری ادارہ مستقل طور پر خود ملک کی باگ ڈور کیوں نہیں سنبھال لیتا؟ بہت صاف اور سیدھی بات ہے کہ اصول وضوابط کے بغیر‘ ’’جٹکے‘‘ انداز سے کوئی بھی ادارہ نہیں چلایا جا سکتا۔ پھر ریاست تو ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ جب یہ بات طے شدہ ہے کہ آخر دستور ہی کی طرف لوٹنا ہوگا تو پھر اس کی دھجیاں اڑانے کا فائدہ؟

جہاں تک دستوری اداروں کے غیر دستوری انداز سے چلانے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق شخصیات سے ہے۔ کسی کی شخصی خامیوں کی بنا پر اداروں کو نہیں لپیٹنا چاہیے بلکہ ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں جن سے ’’شخصی غلبے‘‘ کا تدارک ہو سکے۔ جہاں تک پارلیمانی نظام کا تعلق ہے تو برطانیہ کے اندر بھی پچھلے چند سالوں سے اس پر تنقید سامنے آ رہی ہے کہ اب یہ وزارتی نظام کے بجائے وزیر اعظمی نظام (Prime Ministerial System) بن چکا ہے۔ ویسے بھی کوئی بھی نظام مختلف مراحل طے کرتا ہوا‘ اپنے ثمرات سے مستفید کرتا ہوا‘ آخر کار Point of Saturation تک پہنچ جاتا ہے جہاں اسے پیوند کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ برطانیہ کی حد تک تو شاید یہ بات درست ہو کہ وزارتی نظام کو پیوند کاری کی ضرورت ہے لیکن پاکستان پر اس اصول کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ یہاں پارلیمانی جمہوریت کی کسی کونپل کو پھوٹتے ہی مسل دیا جاتا ہے‘ Point of saturation تو بہت دور کی بات ہے۔

حقیقی پارلیمانی جمہوریت ایک طویل ارتقا کی متقاضی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں محدود شرح خواندگی اور مخصوص معاشرتی حالات کے تناظر میں یہ ارتقا کچھ اس طرح سے ہوگا:

۱۔ پہلے الیکشن کے بعد سے پندرہ سال تک کے دور کو ہم ماقبل جمہوریت کا مرحلہ (Pre-Democratic Phase) کہہ سکتے ہیں۔

۲۔ دوسرے مرحلے پر مزید پندرہ سال کے عرصے کو جمہوریت کی جانب پیش قدمی (Initiative to Democarcy) کہہ سکتے ہیں۔

۳۔ اس کے مزید تیس سال بعد کے عرصے میں ہم جمہوریت اور اس کی متعلقہ قدروں سے معاشرتی سطح پر آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔

یہ ارتقا اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ کسی انقطاع کے بغیر انتخابات مسلسل ہوتے رہیں۔

پاکستان میں عملی صورت حال کچھ اس طرح سے ہے کہ ابھی ہم پہلے مرحلے سے نہیں نکل پاتے کہ قوم کے ’’رکھوالے‘‘ اپنی اہمیت جتانے آ دھمکتے ہیں۔ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو ’’محفوظ‘‘ کر کے دوبارہ جمہوری عمل شروع کروا دیتے ہیں۔ اگر جمہوریت پاکستان میں قدم نہیں جما سکتی تو اس کی وجہ نظام کی ناکامی نہیں بلکہ ہماری عجلت پسندی ہے۔ قوم پچپن سال سے پہلے مرحلے میں ہے اور تقاضے تیسرے مرحلے کے کرتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ادوار کو ہم ’’جمہوری‘‘ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ان ادوار کا شمار Pre-Democratic Phase میں ہوتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ مسلسل جمہوری عمل سے تبدیلی اور بہتری کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ کثیر جماعتی کی جگہ دو جماعتی نظام جڑ پکڑ چکا تھا۔ عوام اپنی طاقت سے آگاہ ہو رہے تھے۔ امکان غالب تھا کہ دوسرے مرحلے میں شخصی غلبے کا تدارک بھی ہو جاتا‘ لیکن ملک وقوم کے ’’خیر خواہوں‘‘ نے ’’ذمہ داری‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’بروقت ‘‘ مداخلت کرکے کثیر جماعتی نظام کی راہ دوبارہ ہموار کر دی ہے۔ امید ہے قوم لوٹوں کی منڈی سے مزید دس بارہ سال تک محظوظ ہوتی رہے گی۔ پھر بہتری کے آثار نظر آنے پر دوبارہ ڈوری کھینچ لی جائے گی کیونکہ کوئی نہ کوئی بانکا آزادی کی ’’حدود‘‘ کو پھلانگنے کی کوشش کرے گا۔


آراء و افکار