سرحدی کشیدگی اور مغربی عزائم

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت ساری دنیا کی نظریں جنوبی ایشیا پر مرکوز ہیں۔ اس خطے کی سات بڑی ریاستوں میں سے دو ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ جنگ کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان‘ بھارتی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ورنہ باقی پانچ ریاستوں میں سے کسی میں اتنا دم خم نہیں کہ انڈیا سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھ سکے۔ انڈیا کا بارڈر بھی تقریباً تمام ریاستوں سے متصل ہے جس سے انڈیا کو در اندازی کے تمام مواقع میسر ہیں۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ نااتفاقی کے سبب ایک اصول پر متفق ہے: باہمی عدم اتحاد۔ بالخصوص انڈیا اور پاکستان کے مابین انتہائی باہمی بد اعتمادی پائی جاتی ہے۔ انڈیا میں رونما ہونے والے کسی بھی ناخوش گوار واقعے کی ذمہ داری پاکستان کے سر تھوپ دی جاتی ہے۔ یہی صورت حال دوسری جانب ہے۔ اس سے تعلقات کی نوعیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس خطے کے باقی ممالک کے باہمی تعلقات کا تعین بھی انڈیا اور پاکستان کی پالیسیوں سے ہوتا ہے جس سے یہ خطہ مزید بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ باہمی عدم اعتماد کی اس فضا نے بیرونی طاقتوں (Extra-regional powers) کو جنوبی ایشیا میں اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے اور اس میں شدت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جس سے علاقائی طاقتوں کے باہمی تعلقات (Intra-regional relations)مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح جنوبی ایشیا داخلی اور خارجی دونوں اعتبار سے خطرے میں (Vulnerable) ہے۔ 

جنوبی ایشیا کے مسائل سے کماحقہ واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو درجہ بدرجہ تین مختلف سطحوں پر دیکھا جائے: مقامی (Domestic)‘ علاقائی (Regional) اور عالمی (Global)۔

مقامی سطح پر ہر ملک کو مذہبی‘ لسانی اور نسلی عصبیتوں کا سامنا ہے۔ انڈیا میں ہندو انتہا پسندی سے ’’سیکولر ازم‘‘ خطرے میں ہے۔ فرقہ وارانہ اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ کشمیر کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکات انڈین یونین کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ صاف اور سیدھی سی بات ہے کہ کثیر نسلی‘ کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک کو زیادہ عرصے تک مصنوعی انداز میں یکجا نہیں رکھا جا سکتا۔ حالیہ ہندو انتہا پسندی سے موجودہ یکجائی بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوئی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ ڈوبنے والا تنکے کو بھی شہتیر سمجھتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے داخلی ٹوٹ پھوٹ سے ڈوبتے ملک کو خارجی محاذ کی صورت میں ’’تنکے‘‘ سے نواز ہے اور تنکا بہرحال تنکا ہوتا ہے۔ بھارت کو اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی علاقائی پالیسی مقامی محرکات کے پیش نظر تشکیل دی گئی ہے۔ افغانستان کے خلاف مغرب کی یلغار میں انڈیا کی انتہائی کوشش تھی کہ اسے بھی فعال رول سونپا جائے۔ کیونکہ مسلم احیا کی تحریکات پر کاری ضرب لگانے سے جہاں ایک طرف کشمیر میں آزادی کی تحریک تعطل کا شکار ہوتی‘ وہاں ہندوستانی مسلمانوں کو بھی باور کرا دیا جاتا کہ زیادہ اچھلنے کودنے کی ضرورت نہیں۔ بہت بڑی آبادی اور زرعی ملک ہونے کے ناتے انڈیا کو یہ موقع مل گیا کہ افغان جنگ کے دوسرے مرحلے میں امریکی آنکھ کا تارا بن جائے کیونکہ اہل مغرب انڈیا کو بہت بڑی منڈی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں جہاں ان کا مال کھپ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی کوشش ہوگی کہ انڈیا ترقی پذیر زرعی ممالک کی صف سے نکل کر صنعتی ممالک کی برادری میں شامل نہ ہونے پائے۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ انڈین معیشت کو تہ وبالا کرنا ہوگا۔ بارڈر پر انڈین فوج کی مستقل موجودگی آنے والے دنوں کی ہیبت ناکی کو ظاہر کرتی ہے۔ انڈین معاشی ترقی کا گراف بہت پیچھے چلا جائے گا جس سے مغربی طاقتوں کو موقع مل جائے گا کہ انڈیا کے ساتھ وہ کھیل شروع کر سکیں جو وہ نہرو کے دور میں نہیں کر سکیں۔ موجودہ ہندو انتہا پسندی کے تناظر میں معیشت پر کاری ضرب سے انڈیا داخلی محاذ پر ایک بڑے بحران سے دوچار ہوگا۔ اس بحران کے اثرات جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔

انڈیا سے تعلقات بڑھانے میں اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں مغربی طاقتوں کو ایک سہولت حاصل ہے کہ انڈین عزائم عالمی سطح پر توسیعی (Extra Regional) نہیں ہیں۔ ہندومت کے مطابق سمندر پار جانا گناہ ہے۔ ہندوؤں کی سوچ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ تک محدود ہے اس لیے مغربی ممالک کو انڈیا سے ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ بھارت کی توڑ پھوڑ کر کے جہاں اپنا مال کھپایا جا سکتا ہے‘ وہاں جنونی ہندوؤں کو ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے لایعنی نصب العین کے حصول پر بھی ابھارا جا سکتا ہے۔ اس طرح ترقی کے اعتبار سے انڈیا Status quo کا شکار رہے گا۔

پاکستان کا معاملہ بھارت سے بہت مختلف ہے۔ اکثریت کے مسلمان ہونے کے ناتے لسانی اور نسلی اختلافات اتنے شدید نہیں ہیں جتنے کہ بنا دیے گئے ہیں۔ عوام کی بہت بڑی اکثریت اسلام کے رشتہ وحدت میں پروئی ہوئی ہے۔ جہاں تک جنوبی ایشیا کا تعلق ہے‘ پاکستان ا س خطے میں مسلمانوں کے حق حکمرانی کا تسلسل ہے۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے ہمارے اسلاف نے اسپین کی مثال کو مد نظر رکھا کہ اگر کسی خطے سے مسلمانوں کے اقتدار کا کلی خاتمہ ہو گیا تو وہاں سے مسلمان بھی ناپید ہو جائیں گے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی صورت حال کے تناظر میں‘ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ حق حکمرانی کی حفاظت میں تساہل نہ برتتے ہوئے ہمارے اسلاف نے بہت جرات اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ اس خطے میں آزاد اور خود مختار پاکستان کی موجودگی علاقائی وابستگی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ نظریاتی بنیاد پر ہے۔ مسلمان کسی بھی نسل اور زبان سے تعلق رکھتا ہو‘ اس کی اسلام سے وابستگی علاقے سے ماورا ہوتی ہے یعنی عملاً اس کی اپروچ Extra Regional ہوتی ہے۔ اسی اپروچ کے سبب سے ساری دنیاپر مسلمانوں کا ہوا سوار ہے۔ 

امریکی سعودی تعلقات کو ہی دیکھ لیجیے۔ امریکہ کو اپنی تیل کی رسد کی فکر ہے اور سعودی عرب کو طلب کے متوازن رہنے کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تیل کی منڈی کے علاوہ دنیا میں کوئی حقیقی عالمی منڈی موجود نہیں۔ تیل کی طلب اور رسد میں معمولی سا عدم توازن بھی پوری دنیا کا مضطرب کر دیتا ہے۔ سعودی عرب تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ امریکہ تیل صرف کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے چنانچہ دونوں ملکوں کے درمیان مفادات کا واضح اشتراک پایا جاتا ہے لیکن ۱۱؍ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکی پالیسیوں کے تناظر میں یہ مفاداتی اشتراک قصہ پارینہ بنتا نظر آتا ہے۔ سعودی عوام کی Extra Regional اپروچ کسی وقت بھی حالات کو پلٹا دے سکتی ہے۔

اسی طرح چین میں مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت سے سرفراز کرنا عجیب بات نہیں ہے کیونکہ مقامی مسلمانوں کے مطابق بیجنگ اور واشنگٹن کے ’’کافروں‘‘ میں کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح چین اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں میں بھی کوئی فرق نہیں۔

قارئین کرام! آپ پر واضح ہو گیا ہوگا کہ دنیا بھر کے مسلمان خود کو اسلام کے رشتہ وحدت میں منسلک تصور کرتے ہیں۔ یہ وحدت سیاسی‘ حکومتی اور معاشی اعتبار سے تو موجود نہیں لیکن مستقبل میں اس کی امید کی جا سکتی ہے۔ اگر مسلم ممالک سیاسی ومعاشی وحدت کے حامل ہو جائیں تو مغرب کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اسلام کا قلعہ ہونے کے ناتے پاکستان ہی وہ ملک ہے جو مسلم وحدت کے لیے فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ مغربی طاقتوں نے اس ممکنہ فعالیت کی روک تھام کے لیے قلعے میں دراڑیں ڈال کر اسے اپنی بقا کے لیے لڑنے تک محدود کر دیا ہے۔

حالیہ افغان جنگ میں امریکہ کی عجلت پسندی کہ جنرل پرویز مشرف فوراً ہاں یا نہ میں جواب دیں‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی تاکہ جنرل مشرف بلامشاورت قدم اٹھانے پر ہدف تنقید ٹھہریں اور ان کے حامیوں اور مخالفین کی گروہ بندی جڑپکڑ سکے۔ جنرل مشرف کو اتنا زیادہ اعتماد دلایا گیا کہ انہوں نے اپنے بیانات سے گروہ بندی کے عمل کو تیز تر کر دیا۔ اس کے بعد جنرل مشرف کو ریفرنڈم کروانے کی طرف راغب کیا گیا۔ جنرل صاحب نے ضرورت سے زیادہ سمارٹ بنتے ہوئے ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ کے درمیان قطعی لائن کھینچ دی۔ ریفرنڈم کے بجائے یہ وہ قطعی لائن ہے جس نے اپوزیشن جماعتوں کو اے پی سی میں شرکت سے روکے رکھا۔ 

سرحدی صورت حال پر عوام کی لاتعلقی بھی سنگین صورت حال کی غمازی کرتی ہے۔ فیصلہ سازی میں جنرل مشرف کی ’’سولو فلائٹ‘‘ نے ملک کو داخلی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ خارجی محاذ پر ہمارے پاس ایک آپشن ایٹمی قوت کی صورت میں موجود ہے لیکن داخلی محاذ پر قومی وحدت پارہ پارہ ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں ہماری اپروچ Extra Regionalہونے سے تو رہی‘ ہم تو بمشکل اپنی علاقائی سرحدوں کی حفاظت اور بقا کے لیے متحد ہو سکتے ہیں۔ اس طرح مغربی طاقتوں نے اپنی مخصوص حکمت عملی کے تحت ہماری اپروچ Intra Regional کر دی ہے۔

اگر ہم بنظر غائر اسلامی دنیا کی بابت مغربی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا بنیادی نکتہ اسلامی ممالک میں علاقائی رجحانات کو فروغ دینا ہے۔ افغانستان میں کرزئی حکومت کے قیام کے بعد غیر افغان مجاہدین کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔ پاکستان اور عرب مجاہدین کی خوب تذلیل کی گئی۔ اسی طرح کشمیر میں بھی کہا جا رہا ہے کہ غیر کشمیری اس علاقے سے نکل جائیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھی کسی عرب اتحاد اور غیر عرب مسلمانوں کے نفوذ کے تدارک کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ 

یہ بات بہت واضح ہے کہ اسلامی تحریکات کی Extra Regional اپروچ اور عزائم نے مغربی دنیا کو خبردار کر دیا ہے کیونکہ اگر باقاعدہ عالمی اسلامی حکومت نہ بھی قائم ہو تو ان تحریکات کے زیر اثر اسلامی ممالک کے عوام اور ان کی حکومتیں بھی مغربی ممالک کے مقابل یکساں پالیسی اپنا سکتے تھے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پچاس ساٹھ ممالک کا یکساں موقف آسانی سے نظر انداز نہیں ہو سکتا۔ سلامتی کونسل کے ویٹو پاور ممبران پر شدید تنقید سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید مستقبل میں ویٹو پاور کا خاتمہ کر دیاجائے۔ دنیا کو اجتماعی سلامتی (Collective Security) کے لیے آخر کار ایسا کرنا پڑے گا۔ ایسی صورت میں جنرل اسمبلی کے اندر مسلم ممالک کی Extra Territorial اور Extra Regional اپروچ عملاً ویٹو پاور بن کر ابھر سکتی تھی۔ غالباً مستقبل کے ایسے ہی منظر سے خائف ہو کر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں داخلی گروہ بندیاں پیدا کر کے ان ممالک کو صرف اپنے اپنے مخصوص علاقے کی سلامتی اور بقا تک محدود کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ علاقائی قومیت جڑ پکڑ سکے اور عالمی مسلم معاشرہ ظہور میں نہ آئے۔

حالات و مشاہدات