اسلامی نظریاتی کونسل کے نام مدیر ’الشریعہ‘ کا مکتوب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترمی ڈاکٹر امین اللہ وثیرصاحب

سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل‘ حکومت پاکستان اسلام آباد

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

’’کمیٹی برائے جائزہ قوانین حدود و قصاص‘‘ کے دوسرے اجلاس منعقدہ ۲۶ مئی ۲۰۰۲ء میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ یادفرمائی کا تہہ دل سے شکریہ ! دعوت نامہ ایسے وقت میں موصول ہوا ہے کہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات اور مختلف دوستوں کے ساتھ مواعید کو اچانک تبدیل کرنا مشکل ہے اور متعلقہ مواد کے ضروری مطالعہ کا وقت بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس اجلاس میں حاضری نہیں ہو سکے گی جس کے لیے بے حد معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ کسی اجلاس کے لیے قبل از وقت دعوت نامہ موصول ہوا تو حاضری کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے تعمیل حکم کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

دعوت نامہ کے ہمراہ آپ کے ارسال کردہ مسودات پر میں نے ایک نظر ڈالی ہے اور پہلی فرصت میں انہیں تفصیل کے ساتھ دیکھوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اسلامی قانون کے ایک طالب علم اور اسلامائزیشن کی جدوجہد کے ایک کارکن کے طور پر اس حوالہ سے اپنے چند احساسات و تاثرات کو اس موقع پر کمیٹی کے اجلاس کے شرکا کی خدمت میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ امید ہے کہ ان طالب علمانہ معروضات کو بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے گا۔ 

اس وقت ’’حدود آرڈیننس‘‘ سمیت متعدد اسلامی قوانین‘ دستوری دفعات اور عدالتی فیصلوں پر نظر ثانی کے تقاضے مختلف حلقوں کی طرف سے سامنے آرہے ہیں اور دھیرے دھیرے ایسی فضا قائم ہو رہی ہے کہ اگر ان تقاضوں کے حوالہ سے اصولی ترجیحات کا ابھی سے تعین نہ کیا گیا تو اسلامائزیشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان ‘ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کا اب تک کا پورے کا پورا عمل نظر ثانی کی زد میں آجائے گا۔ یہ ادارے اس سلسلہ میں مزید کسی پیش رفت کے بجائے اپنے سابقہ کام کی صفائیاں پیش کرنے اور ان میں رد و بدل کرنے میں ہی مصروف رہیں گے۔ اور یہ ’’ ریورس گیئر‘‘ پاکستان میں اسلامائزیشن کے عمل کو ایک بار پھر ’’زیرو پوائنٹ‘‘ تک واپس لے جائے گا۔ مجھے اسلام کے نام پر نافذ ہونے والے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت سے انکار نہیں ہے اور اگر کسی مسودہ قانون میں کوئی فنی سقم رہ گیا ہے یا اس پر عمل درآمد کی راہ میں کوئی رکاوٹ موجود ہے تو قرآن و سنت کے اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس پر نظر ثانی سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن یہ عمل ہمارے داخلی تقاضوں اور ضروریات کے حوالہ سے ہونا چاہیے اور اس سلسلہ میں بیرونی عوامل اور دباؤ کو قبول کرنے کا کسی سطح پر بھی تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے ورنہ ضروری اور جائز نظر ثانی بھی شکوک و شبہات کا شکار ہو کر اس عمل پر عوام اور دینی حلقوں کے اعتماد کو مجروح کرنے کا باعث بن جائے گی۔ 

اس لیے میں اسلامائزیشن کی راہ میں حائل داخلی مشکلات اور اسلامی قوانین پر نظر ثانی کے دونوں حوالوں سے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے سامنے مندرجہ ذیل تجاویز رکھنا چاہوں گا۔

* داخلی تقاضوں‘ ضروریات اور مشکلات کا جائزہ لینے اور اسلامی قوانین کے مسودات کی خامیوں کی نشاندہی کے لیے ایک ’’ورکنگ گروپ‘‘ قائم ہونا چاہیے جس میں سیشن کورٹس کی سطح کے جج صاحبان‘ دینی مدارس میں فقہ و حدیث کا کم از کم بیس سالہ تجربہ رکھنے والے مدرسین اور اسی سطح کے وکلا صاحبان کو شامل کیا جائے جو متعلقہ قوانین کا تفصیلی اور شق وار جائزہ لے کر انہیں موثر بنانے کے لیے تجاویز دیں۔ آزاد کشمیر میں چونکہ سیشن جج اور ضلع قاضی مل کر مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں اس لیے ان کا عملی تجربہ زیادہ ہے اور ’’ورکنگ گروپ‘‘ میں ایسے جج صاحبان اور قاضی حضرات کی شمولیت زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ 

* اسلامی قوانین پر نظر ثانی کے خارجی دباؤ یعنی بین الاقوامی تقاضوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ ’’ورکنگ گروپ‘‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی قوانین اور تقاضوں کے ساتھ شرعی قوانین کے تضادات کی نشاندہی کرے‘ ان تضادات کے اسباب اور پس منظر کی وضاحت کرے اور ان کے حوالہ سے شرعی قوانین کی افادیت‘ اہمیت اور ضرورت کو واضح کرتے ہوئے اس سلسلہ میں عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جدید اسلوب اور خالصتاً علمی انداز میں جواب دے۔

ہم اس وقت اس معاملہ میں قومی سطح پر ’’تذبذب‘‘ کا شکار ہیں اور اسلامی قوانین کے بارے میں عالمی تقاضوں اور دباؤ کو نہ پوری طرح قبول کر رہے ہیں اور نہ مسترد ہی کر رہے ہیں۔ یہ طرز عمل درست نہیں ہے اور اس سے پاکستان میں اسلامائزیشن کے بارے میں ابہام اور کنفیوژن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں علمی انداز میں ان سوالات کا سامنا کرنا چاہیے اور علم و دانش کی اعلیٰ ترین سطح پر ان سوالات کا جائزہ لیتے ہوئے شکوک و شبہات کا علمی جواب دینا چاہیے۔ میرے نزدیک اس کام کے لیے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ سب سے بہتر فورم ہے اور کونسل اس کام کے لیے حسب معمول دوسرے اہل علم کا تعاون بھی حاصل کر سکتی ہے۔ 

مجھے امید ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان اور بالخصوص ’’کمیٹی برائے جائزہ قوانین حدود و قصاص‘‘ کے اجلاس کے شرکاء ان گزارشات پر توجہ فرمائیں گے۔ بے حد شکریہ !

والسلام 

ابو عمار زاہد الراشدی

مکاتیب

Flag Counter