خوشی کی تلاش

اختر حمید خان

جب میں کالج میں پڑھتا تھا، میرے یورپی تاریخ کے پروفیسر نے یہ حکایت بیان کی: ایک بوڑھی عورت بحر اوقیانوس کے کنارے ایک جھونپڑی میں رہتی تھی۔ روزانہ طغیانی کے سبب سمندر کا پانی جھونپڑی میں آجاتا اور وہ جھاڑو سے اسے نکالنے کی کوشش کرتی۔ ہمارے پروفیسر اس حکایت کو انیسویں صدی میں یورپ کے شاہوں کی جمہوری قوتوں کے خلاف سعی ناکام کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ 

اب مجھے اس حکایت کا دوسرا استعمال سمجھ میں آ رہا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے دوست اور میں بھی اس بوڑھی عورت کی طرح سمندر کی طغیانی کو جھاڑو سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ناموزوں ہیں۔ ہماری ناموزونی محض اس لیے نہیں کہ ہم بوڑھے ہو گئے ہیں بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ہم وقت کی غالب روش کو خوشی سے قبول نہیں کرتے۔

ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں قدیم دانش مند ---- چینی، ہندی یا مسلم ---- صحیح کہتے ہیں۔ انسانی روحانی اقدار اور دائمی فلسفے کی تشریح کرتے ہوئے یہ بزرگ تعلیم دیتے ہیں کہ اگر ہم خوش رہنا چاہتے ہیں تو ہم کو نفس کی جبلی خواہشات کو سختی سے قابو میں رکھنا ہوگا اور اپنے لالچ، شہوت، زیادہ کھانے کی خواہش اور ضروریات کو کم کرنا ہوگا اور سادگی، توکل اور بے غرضی اپنانی ہوگی۔

اس کے برخلاف زمانے کی غالب روش کا اعلان عام ہے کہ خوشی کے حصول کے لیے جبلی خواہشات کی تسکین کرنا، اپنی ضروریات میں بے حد اضافہ کرنا اور زیادہ سے زیادہ دولت اور قوت حاصل کرنا ضروری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی یا حال کسی زمانے میں بھی ان روحانی بزرگوں کا مشورہ اکثریت نے قبول نہیں کیا لیکن ہمارے اسلاف، خواہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں، گو اس مشورے پر پوری طرح عمل پیرا نہیں تھے، پھر بھی وہ اس کی سچائی سے انکار نہیں کرتے تھے۔

ہمارے دور کی غالب روش اس دائمی فلسفے کو بے جوڑ اور محض فراریت سمجھ کر رد کرتی ہے۔ آر ایس ٹانی (R.S Tawney) اپنی کلاسیکی کتاب ’’مذہب اور سرمایہ داری کا عروج‘‘ میں بیان کرتا ہے کہ یورپ میں عقائد میں تبدیلی کیسے آئی اور کس طرح ایک ظالم سماج وجود میں آیا جس کی بنیاد صنعت اور عسکریت پر تھی اور جس نے بڑی تیزی سے تمام دنیا کو فتح کر لیا۔

مالکوم مگریج (Malcolm Muggeridge)نے ۱۹۵۸ء میں لکھا:

’’دنیا کی یہ بڑھتی ہوئی یکسانی، جو خواہش کی ہم آہنگی سے وجود میں آئی ہے، بظاہر اس کے متضاد رجحانوں میں چھپی رہتی ہے۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے گویا روس، اس کے حلقہ بگوش ملکوں اور چین کے باشندے اشتراکیت چاہتے ہیں، امریکہ اور ان کے حلقہ بگوش آزادی کے خواہش مند ہیں۔ ہم مغربی یورپ والوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ہم اپنی عیسائی تہذیب کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ .... پنڈت نہرو اور ان کے ساتھی بمشکل اپنے آپ کو اس پر یقین دلا رہے ہیں کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں، وہ دراصل انگریزی طرز کی فلاحی اور پارلیمانی جمہوریت ہے ..... (لیکن حقیقت یہ ہے کہ) بہت کم روسی، چینی اور ان کے حلقہ بگوش اشتراکیت چاہتے ہیں۔ بہت کم امریکی آزادی اور بہت تھوڑے یورپی عیسائی یا کسی اور تہذیب کے خواہش مند ہیں اور بہت کم ہندوستانی جمہوریت یا فلاحی ریاست چاہتے ہیں۔ یہ سب، اور ان کے علاوہ تمام دنیا کے لوگ جس شے کے خواہش مند ہیں، وہ وہی ہے جو امریکہ میں لوگوں کو حاصل ہو چکی ہے: جگمگاتے ہوئے شہروں میں چھ رویہ سڑک پر آتی جاتی چمک دار کاریں، جلتی بجھتی اشتہاری روشنیاں، شور مچاتے ہوئے موسیقی کے بکس، بلند وبالا عمارتیں، منزل بہ منزل آسمان کی طرف بڑھتی ہوئی ..... میں جب رات کے وقت امریکی ریاست اوہایو کے ایتھنز شہر (کل آبادی ۳۴۵۰) میں داخل ہوا تو اندھیرے میں مجھے چار روشن، رنگین، چمک دار نشان نظر آئے۔ ان پر تحریر تھا: گیس، ڈرگز، بیوٹی اور فوڈ۔ میں نے اس وقت سوچا کہ یہ ہمارے دور کا کلام ہے جو نہایت آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے ......‘‘

’’اس دنیا میں اب حقیقت میں نہ کوئی اشتراکی ہے اور نہ سرمایہ پرست، نہ کیتھولک، نہ پروٹسٹنٹ، نہ کالا، نہ ایشیائی، یہ یوروپی، نہ داہنے بازو والا نہ بائیں والا، نہ درمیانی، یہاں صرف ہمیشہ قائم رہنے والی خواہش ہے: گیس، نشے، خوب صورت عورت اور کھانے کی۔‘‘

یہ بات تیس سال پہلے لکھی گئی تھی۔ پھر ہر گزرنے والے عشرے کے ساتھ اشیا کے حصول کی خواہش میں برابر ترقی ہوتی گئی۔ امریکی بلاشبہ اس چمک دار سڑک پر بہت آگے نکل گئے، لیکن ہر بڑا چھوٹا ملک تن دہی سے ان کے نقش قدم پر رواں دواں ہے۔

ماہر اشتہار نویس اشیا کے حصول کے مسلک کے بڑے پادری ہیں۔ ان لوگوں نے بڑی ہوشیاری سے نفسیات کے سائنسی اصول اپنا کر، مغالطہ آمیز لطیف انداز میں ہمارے ذہنوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ہمارے شعوری مصلحت پسند ذہن کو نظر انداز کر کے ہمارے تحت الشعور تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ہم سگریٹ خریدیں تو وہ اپنا وقت اس بات پر ضائع نہیں کرتے کہ سگریٹ نوشی اچھی ہے یا بری۔ اس بحث میں پڑنے کے بجائے وہ خوب صورت تصاویر اور مناظر کے ذریعے سے سگریٹ نوشی کو دوسرے ممالک کی سیر اور امیر لوگوں کی صحبت سے وابستہ کرتے ہیں۔ سگریٹ ہاتھ میں لے کر ہم اٹلی میں پیسا کے مینار کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں یا مصر میں گیزہ کے ہرم کے آگے، یا سگریٹ منہ میں دبا کر ہم تیز دوڑنے والی موٹر کار میں سفر کرتے یا پرکشش عورتوں کو دیکھ کر مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے تحت الشعور کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایک خاص قسم کے جوتے پہن لینے سے ہم جاوید میاں داد بن جائیں گے اور ایک خاص برانڈ کی چائے پینے سے عمران خان، اور ایک برانڈ کی چائے کوئی بے حد حسین خاتون ہمارے لیے پیالی میں ڈال کر بصد انداز پیش کرے گی۔ ہماری بسیار خوری کی خواہش کو یوں تقویت دی جاتی ہے کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ اگر ہم ایک خاص نام کی ہاضمے کی ٹکیا استعمال کریں تو ہر قسم کے مرغن کھانے زیادہ مقدار میں کھا سکیں گے۔ نفسیات کے علم سے فائدہ اٹھا کر یہ عیار اشتہار نویس ہمارے بچوں کو ببل گم، ٹافی، سپاری اور مشروبات کا عادی بنا رہے ہیں۔

اشتہار بازی کے ان ماہروں کی مدد سے، جو گاہکوں کے لالچ کے جذبے اور یکایک مال دار ہو جانے کے خواب کو تقویت دینا جانتے ہیں، بہت سے ٹھگ حال ہی میں ہزاروں بیواؤں اور پنشن پانے والوں کی بچت ہڑپ کر کے روپوش ہو گئے۔ اشیا کے حصول کی خواہش اس وقت پنپتی ہے جب لالچ، شہوت، اور بسیار خوری کی طلب کو ترغیب دی جائے۔ اشتہار کے ماہر اس کالے جادو کے سوداگر ہیں۔ اس معاملے میں وہ شیطان پر برتری کا نہ سہی، اس کی ہم سری کا دعویٰ ضرور کر سکتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خواہش، شہوت اور بسیار خوری کے مخالف دانش مند بزرگوں کو شکست ہو گئی۔ لیکن حقیقت یہ نہیں۔ ان کی بات آج بھی درست ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ شہوت، لالچ اور بہت کھانے کی خواہش ہم کو خوشی یا سکون نہیں دے سکتی کیونکہ ان نفسانی جذبوں کو تقویت ہمارے اندر بے اطمینانی، نفرت، بد دیانتی اور تضاد کو جنم دیتی ہے جس کا لازمی نتیجہ انسانی معاشرے میں فساد اور دکھ میں اضافے کی شکل میں نکلتا ہے۔ سوائے جادوگروں کے یا بوجھ بجھکڑوں کے کون یہ کہہ سکتا ہے کہ زیادہ خرچ کرنے کی خواہش، گیس، نشے، حسن اور کھانے کے مسلک نے امریکیوں کو واقعی خوشی بخشی ہے یا ہم جیسے نقالوں کو خوشی دے گا؟

میں اس گفتگو کو ایک حکایت پر ختم کرنا چاہتا ہوں۔ اگلے وقتوں میں ایک بوڑھا صوفی تھا، حقیقی مرشد، سادہ اور مطمئن۔ ایک دن اس کے دنیا دار مرید گوشت کی زیادہ قیمت کی شکایت کرنے لگے۔

’’ہم نے اس کو سستا کر لیا ہے‘‘، مرشد نے کہا۔

’’حضور، یہ کیسے ممکن ہوا؟’’، مرید بولے۔

مرشد نے جواب دیا، ’’اس طرح کہ ہم اس کو نہ کھائیں گے اور نہ خریدیں گے۔‘‘

شاید صارف معاشرے کے بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ اسی طرح ممکن ہے:

’’کوئی بھی تمہاری اشیا کے حصول کی خواہش کا علاج نہیں کر سکتا، سوائے دانش مندوں کے۔ جاؤ، ان کو تلاش کرو۔‘‘ (المعری)

(ماخوذ از مجموعہ مضامین:’’کومیلا سے اورنگی تک‘‘)

مشاہدات و تاثرات