عصرِ حاضر کے اظہاری رویوں میں عکاسی کا تغلب، شدہ اچھائیوں کے باوجود منفی میلانات کا حامل ہے۔ عکاسی اپنے مجموعی اثرات کے لحاظ سے انسانی فطرت کی بنگ دلی کو شدید تر کرتی ہے۔ بالخصوص سکرین پر مشتر کیا گیا معاشرے کی اندرونی کشمکش کا عکس گری کے ذریعے اظہار، بوجوہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ کیونکہ بعض ایسے امور جو ہم معمول کی زندگی میں دیکھتے ہیں یا ان کے تجربے سے گزرتے ہیں، ہمیں کسی قسم کے مستقل اضطراب سے دوچار نہیں کرتے۔ ان کے منفی اثرات کے نقوش طویل المدت نہیں ہوتے۔ ہم بہت جلد ایسی اضطرابی کیفیت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ ہماری شخصیت کا باطن، خارج کی ان یورشوں کے مقابل مدافعتی رویہ اپنا کر انہیں تہہ و بالا کر دیتا ہے۔ ایسا وقتی اضطراب نسبتاً ہمارے اعصاب اور شعور کو توانائی اور پختگی بخشتا ہے۔
لیکن سکرین پر دکھایا گیا عکاسی کا رویہ کشش رکھتا ہے۔ ہیجان خیزی کو ہوا دیتا ہے۔ ہمارا داخلی اضطراب، ایسے لمحوں میں فلیش مارتا ابھرتا ہے اور ہمارے ذہن و شعور پر ان مٹ نقوش ثبت کر دیتا ہے۔ ایسے نقوش کا مستقل، دیرپا اور موثر ہونا سکرین کے "حجاب یا بالواسطگی" کی بدولت ہے۔ اس بالواسطگی کی پیدا کردہ کشش سے ہم اپنی روز مرہ زندگی کو سکرین جیسی ترتیبات سے آراستہ کرنے کا رجحان اپنا لیتے ہیں۔ سکرین پر عکاسی کا مروجہ اظہار ہمارے سماجی رویوں کے انحطاط کا بنیادی سبب ہے۔ ایسی عکس گری سطحیت کو فروغ دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ سچائی ہمارے داخلی وجود سے اپنے نقوش وارتباطات چھوڑے جا رہی ہے کیونکہ عکاسی، زندگی کی کلی تفہیم کا ذریعہ نہیں۔ عکاسی سچائی کے مترادف نہیں۔ عکس گری کا موجودہ رویہ جس قسم کی واقعیت پسندی کو معاشرے میں رائج کرتا ہے، اس سے انسان واقعات کی زد میں آیا ہوا ذرہ بن کر رہ جاتا ہے اور وہ ذرہ بغیر کوئی تخلیق کیے، بغیر کوئی یادگار چھوڑے معدوم ہو جاتا ہے۔ یوں عکاس امیدوں کا مدفن بن جاتی ہے اور امکانات کو فنا کر دیتی ہے۔
تخیلی بصیرت پر مبنی معاشرتی عکاسی کی اہمیت سے بھی مفر ممکن نہیں۔ لیکن عکاسی کا وسیلہ صرف تحریر کو ہونا چاہئے، تحریر بھی ایسی جو تخیلی تطہیر سے آراستہ ہو کر معاشرتی برائیوں کی سنگینی سے روشناس کرا سکے۔ بے لباس الفاظ ایسے لوگوں کے لیے "جھٹکے" کا باعث بنتے ہیں جن کی ذاتی و اخلاقی سطح پست ہوتی ہے۔ تاریخی اور ادراک پر مبنی عکاسی کا تحریری اظہار معاشرے کے باشعور طبقے کو موجودہ مسائل کے بنیادی سوالوں کی شناخت کراتا ہے اور وہ لگی لپٹی اندھی دہانیری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ غیر سنجیدہ لوگوں کی عکاسی کے روپ تک رسائی (اور وہ بھی ایسا جو مخوف نہ ہو) معاشرتی انحطاط کے عمل کو تیز تر کرتی ہے کہ وہ اسی انداز سے سوچنے اور عمل کرنے لگ جاتے ہیں اور عکس گری حقائق کی (Distorton) بن کر رہ جاتی ہے۔
فنون لطیفہ اور ادب میں عکاسی کے رویے ہی نے تیسری دنیا کے تعلیم یافتہ طبقے کو سیاسی نظام کے طور پر جمہوری نظریہ سے متعارف کرایا ہے۔ جہاں تک جمہوریت کے خارجی مظہر (سیاسی جماعتیں، الیکشن، حزب اقتدار، حزب اختلاف وغیرہ) کا تعلق ہے، تیسری دنیا کے بہت سے ممالک بشمول پاکستان، بارہا اس تجربے سے گزرے ہیں لیکن بصورتِ اپنے مثبت نتائج و اثرات دینے سے قاصر رہی ہے۔ ایسا ہی مغرب کے لیے بھی سچ ہے کیونکہ جمہوریت اپنے نظری پہلو میں "مساوات" سموئے ہوئے ہے۔ یہ مساوات مغرب کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ کیونکہ اجارہ داریاں ہیں، غریب ہیں، گروپ بندیاں ہیں، ریاست کے اندر بھی، اور ریاستوں کے مابین بھی۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سیاسی فکر نے جمہوریت کے خارجی مظہر کو اپنا مشائے مقصود تسلیم کر لیا ہے۔ End of History اسی ہی تسلیمیت کا اظہار ہے۔ مشہور مفکر روسو، جس کی رومانیت، جمہوری قدروں کے فروغ کا باعث بنی، اپنی شہرہ آفاق تصنیف "معاہدہ عمرانی" میں خود تسلیم کرتا ہے کہ "حقیقی جمہوری حکومت" نہ کبھی قائم ہوئی ہے نہ ہوگی۔ ایسا کہتے ہوئے روسو کی دور اندیش نظروں نے یقیناً بھانپ لیا تھا کہ جمہوریت نظری پہلو سے قطع نظر، خارجی مظہر کی حد تک اثر و نفوذ پا سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا حل کیا ہے؟
میرے ذاتی نقطہ نظر کے مطابق، جمہوریت اپنے پسِ منظر کے ساتھ گویا ہے کہ وہ انسان کے شعوری تسلسل کو دو مختلف انداز سے توڑنے کا باعث بنی ہے۔
ا۔ ایک تو یہ کہ انسان نے زینہ بہ زینہ لکیری سفر کرنے کی بجائے جست لگانے کی کوشش کی ہے (بالخصوص تیسری دنیا کے انسان نے) اس جست کا پیدا کردہ خلا، انسان کے تمام مسائل اپنے اندر سموئے ہوئے ہے کہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں جمہوریت کی آمد ور حقیقت ایک لمبی جست ہے۔ اور پھر ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس جست سے قائم کی گئی جمہوریت فوراً ہی مغربی ممالک جیسے فوائد سے ہم کنار کر دے گی۔ (اگرچہ خارجی مظہر کی حد تک) لیکن جب ہم موازنے میں اپنی جمہوریت کو صرف "لینے والی" دیکھتے ہیں جو دینی کچھ نہیں تو اس خارجی مظہر کو بھی (جو اصل صورت میں نافذ نہیں) لپیٹنے کی سعیِ نام کرتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے ایسا کیا ہے۔ اگرچہ خارجی مظہر حقیقی جمہوریت کا ایک پہلو ہے، لیکن اس تک رسائی بھی بتدریج ارتقائی انداز میں ہو سکتی ہے۔ حقیقی جمہوریت تو ایک لمبے ارتقاء کا مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں محدود شرح خواندگی اور مخصوص معاشرتی حالات کے تناظر میں یہ ارتقاء کچھ اس طرح ہوگا۔
ا۔ پہلے الیکشن کے بعد سے پندرہ سال تک۔ اسے ہم ماقبل جمہوریت کا مرحلہ Pre-Democratic Phase کہہ سکتے ہیں۔
۲۔ دوسرے مرحلے پر مزید پندرہ سال، اس ہم جمہوریت کی جانب پیش قدمی Initiative to Democracy کہہ سکتے ہیں۔
۳۔ تیسرے مرحلے پر ہم جمہوریت کے خارجی مظہر کو پا سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ الیکشن مسلسل ہوتے رہیں۔
پاکستان میں عملی صورتِ حال کچھ اس طرح ہے کہ ابھی ہم پہلے مرحلے سے نہیں نکلتے کہ مارشل لاء لگ جاتا ہے۔ اور پھر مارشل لاء کے بعد دوبارہ پہلے مرحلے میں ہی داخل ہوتے ہیں۔ یوں جمہوریت، خارجی مظہر کی حد تک بھی پاکستان میں قدم نہیں جما سکی۔ اس کی وجہ نظام کی ناکامی نہیں، ہماری عجّلت پسندی ہے۔
۲۔ دوسرا یہ کہ مغرب کے انسان نے جمہوریت کے خارجی مظہر تک رسائی اگرچہ اپنے تخیلی شعور سے کی ہے کیونکہ مغرب کے سامنے کوئی "پہلی دنیا" نہیں تھی جہاں سے وہ اس خارجی مظہر کو مستعار لیتا۔ پھر بھی مغرب کا انسان بنفسہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ مغرب کے تخیلی رویے کی راہ بھی، جمہوریت کے خارجی مظہر کے حصول کے بعد مسدود ہو چکی ہے۔ مغرب اسی خارجی مظہر کو فکری تسلسل کا مقصود ٹھہراتا ہے۔
حقیقی جمہوریت ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں تمام افراد کی حیثیت برابر ہو۔ کوئی فرد یا ادارہ مقتدر قوت کا حامل نہ ہو کہ مساوات کو گزند پہنچے۔ لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ عوام میں پھیلا ہوا اختیار یا اقتدار، عوام کے نام پر چند افراد استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ کثرت قدرتی طور پر وحدت میں ڈھلنے کا رجحان رکھتی ہے اور اقتدار و اختیارات ایک نقطے پر جمع ہونے کا میلان رکھتے ہیں۔ ایسی مصنوعی وحدت کو جو مساوات کے منافی ہے، حقیقی جمہوریت کے منافی ہے، پارہ پارہ کرنے کے لیے "علیحدگیِ اختیارات" کا نظام اپنایا جاتا ہے اور کبھی نکلیئری عائلہ کا۔ لیکن بات وہی ہے کہ کثرت، وحدت کی طرف میلان رکھتی ہے اور اختیارات کا ارتکاز کسی فرد یا ادارے میں ہو جاتا ہے جس سے جمہوریت، خارجی مظہر کے طور پر موجود ہونے کے باوجود، اصلی سپرٹ سے محروم رہتی ہے۔ اب پارلیمانی نظام کو بھی وزیرِ اعظمی نظام Prime Ministerial نظام کہا جانے لگا ہے۔ مغرب کے اہل دانش اس کا سدِ باب چاہتے ہیں لیکن تا حال کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس کا حل ایک ہی اصول ہے۔ "ہم سب ماوراء" اور اس کے تحت "ہم سب برابر" میرے نقطہ نظر کے مطابق یہ اصول جمہوریت کا داخلی پہلو ہے جس کی سرایت سے جمہوریت، حقیقی جمہوریت میں بدل جاتی ہے اور کوئی فرد یا ادارہ عوام کے نام پر قوت حاصل کر کے مساواتِ انسانی کو ختم کرنے کے درپے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وحدت و اختیار ماورائیت میں ہو گا نہ کہ کسی فرد یا ادارے کے پاس۔ میری مراد خدا کو مقتدرِ اعلیٰ ماننے کے تصور سے ہے۔ لیکن جمہوریت کے خارجی مظہر کو منشائے مقصود تسلیم کر کے اپنے تخیل کی راہ مسدود کرتے ہوئے اہل مغرب، ریاست کے اندر اور ریاستوں کے مابین عدم مساوات کو تقویت دے رہے ہیں۔
جمہوریت کے حقیقی مفہوم سے شناسائی تبھی ممکن ہے کہ معاشرتی سطح پر افراد کے اذہان میں 'ماورائیت' سرایت کر جائے تاکہ وہ انفرادی سطح پر داخلی وحدت سے آشنا ہو سکیں۔ ادب میں تخیلی رویے کا فروغ اس داخلی وحدت کو اجتماعی سطح پر پھیلا سکتا ہے اور انسان حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ جدید عہد کی پیچیدگیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ادب کو تخیلی رویہ اپنانا ہو گا۔



















