مسلم پرسنل لاء اور بھارتی مسلمانوں کی جدوجہد

۲۸، ۲۹ اور ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو بمبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تیرہواں سالانہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے ہزاروں علماء کرام اور لاکھوں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ شرکاء اجلاس نے ’’کامن سول کوڈ‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی کے عزم کا اظہار کیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سربراہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی دامت برکاتہم علالت اور ضعف کی وجہ سے اس اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، البتہ ان کی طرف سے مندرجہ ذیل خطبۂ صدارت مولانا محمد عبد اللہ نے اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔ (ادارہ)

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وخاتم النبیین محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان و دعا بدعوتہم الیٰ یوم الدین۔

حضرات سامعین کرام!

ہم مسلمانوں نے پورے عزم کے ساتھ سوچ سمجھ کر اپنے وطن ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے اس فیصلہ کو ارادۂ الٰہی کے سوا کوئی طاقت نہیں بدل سکتی۔ ہمارا یہ فیصلہ کسی کم ہمتی، مجبوری، بے چارگی پر مبنی نہیں۔ ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔

ہمارا دوسرا فیصلہ یہ ہے (جو عزم اور قطعیت میں پہلے فیصلہ سے کسی طرح کم اور غیر اہم نہیں) کہ ہم اس ملک میں اپنے پورے عقائد، دینی شعائر، قانونِ شریعت اور اپنی پوری مذہبی و تہذیبی خصوصیات کے ساتھ رہیں گے۔ 

ہم ان میں سے کسی ایک نقطہ سے بھی دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس ملک کے باشندے کی حیثیت سے ہمیں یہاں آزادی اور عزت کے ساتھ رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ اس ملک کی جمہوریت اور دستور و آئین کا بھی فیصلہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی خصوصیات، قانون و شریعت، احکامِ دین، اپنے عقائد و شعائر، اپنی زبان و تہذیب اور اپنی ان چیزوں کو چھوڑ کر، جو ہم کو عزیز ہیں، اس ملک میں رہیں۔ اس طرح رہنے سے یہ وطن، وطن نہیں بلکہ ایک جیل خانہ اور قفس بن جاتا ہے جس میں گویا پوری قوم کو زندگی کی عزتوں اور لذتوں سے محروم رکھ کر سزا دی جاتی ہے۔

ہمارا خمیر ضرور اس ملک میں تیار ہوا ہے اور یہ خاک ہم کو بہت عزیز ہے، لیکن ہماری تہذیب ابراہیمی ہے۔ اور مسلمان جس ملک میں رہے گا، اس کی وطنیت خواہ کچھ ہو، اس کی تہذیب ابراہیمی ہو گی۔ ہم یہاں زندہ اور باعزت انسانوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ ہم اس ملک میں آزاد ہیں۔ اس کی تعمیر و ترقی اور دستور سازی میں شریک ہیں۔ اس لیے اس کا کوئی سوال نہیں کہ ہم دوسرے درجہ کے شہریوں کی طرح زندگی بسر کریں۔ اپنے ملک میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا ہر شخص کا فطری، انسانی، اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ اور اس حق کو جب بھی چھیننے کی کوشش کی گئی تو اس کے ہمیشہ سنگین نتائج نکلے۔ زندگی اور موت بھی اسلام پر ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام اور ایمان پر قائم رہنے کی کوشش کریں، اسی پر اپنی زندگی گزاریں اور جب موت آئے تو اسی دین و ملت پر آئے۔

ولا تموتن الا وانتم مسلمون (آل عمران)
’’تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

اسی کی وصیت ابراہیم و یعقوب علیہما السلام نے اپنی اولاد کو کی کہ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔

ووصیٰ بھا ابراھیم بنیہ ویعقوب یا بنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون (البقرہ)
’’اسی طریقہ پر چلنے کی ہدایت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ نے اپنی اولاد کو کی۔ انہوں نے کہا تھا، میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔‘‘

شریعتِ اسلامی نے ایک مسلمان کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک اس کے انتظامات کیے ہیں اور ایسا ماحول تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے جس میں مسلمان اس حقیقت کو فراموش نہ کر پائے، اس کو ہر وقت یاد رہے کہ اس کا تعلق اس دینِ ملت سے ہے جس کے داعی ابراہیم اور محمد علیہما السلام تھے، جس کی بنیاد توحید پر ہے اور وہ ایک الگ امت ہیں۔ مسلمان جس وقت بھی پیدا ہوتا ہے، اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، اس کا اسلامی نام رکھا جاتا ہے، ناموں میں ان ناموں کو ترجیح دی گئی ہے جن میں عبدیت و حمد کا اظہار ہے، اس سے ابراہیمی سنتیں ادا کرائی جاتی ہیں، اور جب مرتا ہے تو سب اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اپنے لیے اور سب مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔

اللھم من احییتہ منا فاحیہ علی الاسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان۔
’’اے اللہ ہم میں سے تو جس کو زندہ رکھے، اس کو ایمان پر زندہ رکھیو، اور جس کو موت دے تو اس کو ایمان کے ساتھ دنیا سے اٹھائیو۔‘‘

یہاں تک کہ قبر میں اتارتے ہوئے اور آخری ٹھکانے پر پہنچاتے ہوئے بھی یہی لفظ زبان پر ہوتے ہیں۔

بسم اللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ۔
’’اللہ کے نام پر اور رسول اللہ کے دین و ملت پر۔‘‘

اس کا مقصد اور پیغام یہ ہے کہ ہمیں اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اور زندگی کی ہر منزل پر اس کو یا رکھنا ہے کہ ہم ملتِ ابراہیمی اور امتِ محمدی کے فرد اور ایک مخصوص شریعت اور آئین و مسلکِ زندگی کے پیرو اور خدا کے موحد اور وفادار بندے ہیں۔ ہماری زندگی بھی اسی آئین و مسلک کی وفاداری میں گزرے اور ہمیں موت بھی اسی حال میں آئے۔ ہماری موجودہ نسلیں بھی اسی راستہ پر گامزن رہیں اور ہماری آئندہ نسلیں بھی اسی صراط مستقیم پر چلیں۔

ملتِ ابراہیمی اور دینِ محمدی کی اس دعوت کو آج صراحت اور تعین کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس تہذیب کی دعوت ہے جس کی بِنا ابراہیم علیہ السلام نے ڈالی اور تکمیل و تجدید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ اجتماع و اخلاق میں اس کے معین اصول ہیں۔ یہ فرد کی حریت اور فلاح کی ضامن ہے۔ چند معین عقائد، معین اصولوں اور معین کرداروں نے اس کو وجود بخشا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مشترکہ دعوت اور میراث ہے اور اس کے سوا کوئی تیسری چیز خدا کو قبول نہیں ؎

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

(اقبالؒ)

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے ایمان و عقیدہ کا جز ہے کہ ان کا عائلی قانون (Family Law) اسی خدا کا بنایا ہوا ہے جس نے قرآن اتارا اور عقائد و عبادات کا قانون عطا کیا۔ سارا قرآن مجید ان تصریحات سے بھرا ہوا ہے، مسلمان اس عقیدہ پر ایمان لانے پر مجبور ہیں اور اس کے بغیر وہ مسلمان نہیں رہ سکتے۔ اس کا مطلب یہ کہ یہ قانون خدائے علیم و خبیر کا بنایا ہوا ہے جو انسان کا بھی خالق ہے اور اس کائنات کا بھی۔ وہ فطری ضرورتوں اور کمزوریوں دونوں سے واقف ہے، وہ فرماتا ہے:

الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔
’’کیا وہی آگاہ نہ ہو گا جس نے پیدا کیا ہے، وہ تو (بڑا ہی) باریک بین ہے اور (پورا) باخبر ہے۔‘‘

اسی طرح وہ زمانہ کا خالق ہے۔ ہمارے لحاظ سے ماضی، حال و مستقبل کی تقسیم کتنی ہی صحیح اور ضروری ہو، اس کے لحاظ سے سب ماضی ہی ماضی ہے۔ اس لیے ایک بار یہ مان لینے کے بعد کہ وہ خدا کا بنایا ہوا قانون ہے، جو ایک زندہ جاوید امت اور ایک عالمگیر اور دائمی شریعت کے لیے بنایا گیا ہے، تو ترمیم و تبدیلی کی ضرورت کا مطالبہ ایک کھلے منطقی تضاد (اور جہاں تک مسلمان کہلانے والے اشخاص کا تعلق ہے) ایک اعتقادی و علمی نفاق کے سوا کچھ نہیں۔ پھر معاملہ صرف ایمان بالغیب اور مذہبی عقیدت اور عصبیت کا نہیں، اس قانون کے مکمل متوازن اور عادل ہونے اور زمان و مکان کی تبدیلی پر حاوی ہونے کے عقلی و علمی شواہد اور مسلم و غیر مسلم، مشرقی و مغربی فضلاء، جری و انصاف پسند مقننین کے واضح اعترافات اور عملی تجربے اتنے ہیں کہ کوئی ’’شپرہ چشم‘‘ ہی ان سے انکار کر سکتا ہے۔ اس موضوع پر متعدد نامور فضلاء نے قلم اٹھایا ہے اور بڑا قیمتی مواد جمع کر دیا ہے۔

ہندوستان میں جب یہ مسئلہ اٹھا اور دیکھنے والوں کو یہ نظر آیا کہ افق پر خطرہ کی علامتیں نمایاں ہو گئی ہیں اور یہ بادل جو ابھی کسی کسی وقت گرجتا ہے، کسی وقت ضرور برسے گا، تو انہوں نے ’’مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ کے نام سے دسمبر ۱۹۷۲ء میں بمبئی میں ایک متحدہ پلیٹ فارم بنایا جس سے وقتاً‌ فوقتاً‌ قانون سازی کی نوعیت اور اس کے رخ کا جائزہ لیا جاتا رہے اور مسلمانوں کی رائے عامہ کو بیدار رکھنے کا سامان کیا جاتا رہے تاکہ اچانک ان پر یہ یا کوئی دوسرا مسئلہ شب خون نہ مارنے پائے۔ یہ ایک ایسا نمائندہ بورڈ تھا جس کی مثال اپنی وسعت اور عمومیت اور مختلف مکاتبِ خیال کی نمائندگی کے لحاظ سے تحریکِ خلافت کے بعد نہیں ملتی۔ ۱۹۴۷ء کے بعد اتنے بڑے اجتماعات دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس بورڈ کی تشکیل اور اس کے ان شاندار اور بے نظیر جلسوں کا اتنا اثر ضرور ہوا کہ حکومت اور مسلم پرسنل لاء میں اصلاح و ترمیم کی آواز بلند کرنے والے حضرات کو ہوا کا رخ معلوم ہو گیا، اور اتنا ثابت ہو گیا کہ مسلمان اس مسئلہ پر صد فیصد متفق ہیں۔ اس لیے دانش مندی، حقیقت پسندی اور انتخابی سیاست کا بھی تقاضا ہے کہ اس مسئلہ کو اٹھانے میں احتیاط کی جائے۔

حضرات! یہ دین جو ہم تک پہنچا ہے اور جس دولت کے ہم آپ امین اور (محافظ کا لفظ تو بہت بڑا ہے) اس دولت کے حامل ہیں، وہ دین ہمیں دانشوروں، سماجی خدمت گاروں، اصلاحی کام کرنے والوں (Reformers) یا بانیانِ سلطنت کے ذریعہ نہیں پہنچا ہے۔ یہ سارے گروہ قابلِ احترام ہیں لیکن کسی دین میں — اور کسی تہذیب، نظامِ فکر و دبستانِ خیال (School of Thought) اور خالص مطالعہ، غور و فکر اور تجربہ کے نتائج میں — ایک حدِ فاصل، سرحدی لکیر (Line of Demarcation) ہوتی ہے جو ایک کو دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ اس خط کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حدِ فاصل یہ ہے کہ آسمانی مذاہب (ادیان) ان برگزیدہ افراد کے ذریعہ پہنچے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب سے سرفراز فرمایا تھا اور جن پر وحی آتی تھی۔

اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے خلط مبحث (Confliction) ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ نادانستہ طریقہ پر ان مذاہب سے توقع، اور بعض اوقات آگے بڑھ کر ایسی چیز کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں، جن کی ان مذاہب میں گنجائش اور ان کا کوئی جواز نہیں۔ وہ بعض اوقات ان کی تشریح کا فرض اپنے ذمہ لے لیتے ہیں، اپنی وسعتِ مطالعہ اور وسعتِ اظہار کے لیے وہ مذاہب کی ترجمانی ایسی کرنے لگتے ہیں جیسے کہ یہ نرے فلسفے یا انسانوں کے بنائے ہوئے تہذیب و تمدن کے نظام اور سماجی تجربے اور معاشرتی نظریات ہیں۔ یہ ہے وہ غلطی جو نادانستہ طریقہ پر بعض بڑے ذمہ دار اور سنجیدہ لوگوں سے ہوتی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ دین اور غیر دین میں حدِ فاصل اور امتیازی نشان کیا ہے۔

فلسفۂ سماجیات (Social Sciences) کا علم، تہذیب و تمدن (Civilization)، سوسائٹی اور انسانی معاشرہ، یہ سب اپنی جگہ حقائق ہیں، ہم ان کا انکار نہیں کرتے، ان کا احترام کرتے ہیں اور اپنے ذمہ ان کو حقوق سمجھتے ہیں۔ خود مسلم ملت ایک معاشرہ، تہذیب و تمدن اور فکر و دانش کا ایک مستقل مدرسہ (School of Thought) بھی ہے، لیکن اس کی جو اصل حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک ’’دین‘‘ ہے۔ اور اس دین کو دنیا میں پیش کرنے والے اور اس کو بروئے کار لانے والے، اس کو ہماری زندگی میں داخل کرنے والے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ اور (یہ دین) ان کی زبان اور ان کا طرزِ فکر نہیں، اس کا بنیادی چشمہ ان کے دماغ میں نہیں تھا بلکہ ان سے باہر اور ان سے بلند تھا، اور وہ ان کے لیے اسی درجہ قابلِ احترام اور قابلِ اطاعت تھا جیسے ہمارے آپ کے لیے اور سارے امتیوں کے لیے۔

وما ینطق عن الہویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ (النجم)
’’اور وہ خواہشِ نفس سے منہ سے بات نہیں نکالتے ہیں۔ یہ (قرآن) تو حکمِ خدا ہے (اور ان کی طرف بھیجا جاتا ہے)۔‘‘
ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان ولٰکن جعلناہ نورا نھدی بہ من نشآء من عبادنا و انک لتھدی الیٰ صراط مستقیم (الشوریٰ)
’’آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب (اللہ) کیا چیز ہے، نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا انتہائی کمال) کیا چیز ہے، لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، ہدایت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ایک سیدھے رستہ کی ہدایت کر رہے ہیں۔‘‘

وحی و نبوت کا فرق اساسی فرق ہے۔ ہمیں غیر مسلم بھائیوں اور غیر مسلم فضلاء سے زیادہ شکوہ نہیں کہ وہ وحی و نبوت کے عہد سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ ان کے مفہوم سے بہت سے حضرات ناآشنا ہیں۔ بعثتِ محمدی سے پہلے خود عربوں کا یہی حال تھا۔ اس میں نہ کسی ذہانت کا انکار ہے اور نہ کسی کی نیت پر حملہ ہے۔ ایک تاریخی یا نفسیاتی تجزیہ ہے کہ جو شخص نبوت اور وحی کی حقیقت سے واقف نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ اس کا کیا مرتبہ اور حق ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ کس چیز کی متقاضی ہے، وہ مسلمانوں کے بارہ میں مشورہ دینے یا فیصلہ کرنے کا اخلاقی یا قانونی طور پر مجاز نہیں۔

دوسری ضروری بات یہ ہے کہ دینِ اسلام کے دائرہ کو سمجھ لیا جائے۔ اس بارہ میں مذاہب میں خود اختلاف ہے اور اس میں درجوں کا فرق ہے۔ کئی مذاہب ایسے ہیں کہ وحی و نبوت سے ان کا آغاز ہونے کے باوجود انہوں نے مذہبی زندگی کو ایک خاص دائرہ میں محدود کر لیا ہے، مثلاً‌ عبادات کے دائرہ میں۔ لیکن اسلام کا معاملہ یہ نہیں ہے، اسلام میں دین کا دائرہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ یہ ایک اساسی حقیقت ہے جو عبد و معبود کے تعلق کو سمجھے بغیر سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ ہر مسلمان خدا کا فرمانبردار بندہ ہے اور اس کا تعلق خدا سے دائمی ہے، عمومی ہے، عمیق بھی ہے اور وسیع بھی ہے، غیر محدود بھی ہے اور جامع بھی۔ قرآن شریف میں ہے:

یا ایھا الذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کآفۃ ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین (البقرہ)
’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے۔‘‘

میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان اگر مسلم پرسنل لاء (شرعی، عائلی قانون) میں تبدیلی قبول کر لیں گے تو آدھے مسلمان رہ جائیں گے۔ اس کے بعد خطرہ ہے کہ آدھے مسلمان بھی نہ رہیں۔ فلسفۂ اخلاق، فلسفۂ نفسیات اور فلسفۂ مذاہب کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ مذہب کو اپنے مخصوص نظامِ معاشرت و تہذیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کا ایسا فطری تعلق اور رابطہ ہے کہ معاشرت مذہب کے بغیر صحیح نہیں رہ سکتی اور مذہب معاشرت کے بغیر مؤثر و محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کا نتیجہ ہو گا کہ آپ مسجد میں مسلمان ہیں (اور مسجد میں کتنی دیر مسلمان رہتا ہے، اپنے سارے شوقِ عبادت کے باوجود؟) اور گھر میں مسلمان نہیں، اپنے معاملات میں مسلمان نہیں، اپنے عائلی و خاندانی روابط و تعلقات میں مسلمان نہیں، حقوق کی ادائیگی اور ترکہ کی تقسیم میں مسلمان نہیں۔

اس لیے ہم اس کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے اوپر کوئی دوسرا نظامِ معاشرت، نظامِ تمدن اور عائلی قانون مسلط کیا جائے۔ ہم اس کو دعوتِ ارتداد سمجھتے ہیں اور ہم اس کا اس طرح مقابلہ کریں گے جیسے دعوتِ ارتداد کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اور یہ ہمارا شہری، جمہوری اور دینی حق ہے۔ اور ہندوستان کا دستور اور جمہوری ملک کا آئین اور مفاد نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتا ہے کہ جمہوریت کی بقا اپنے حقوق کے تحفظ اور اظہارِ خیال کی آزادی اور ہر فرقہ اور اقلیت کے سکون و اطمینان میں مضمر ہے۔

یہاں سے یہ عہد کر کے جائیے کہ اب قانونِ شریعت پر آپ چلیں گے۔ یہ جہیز کیا مصیبت ہے؟ لڑکے والوں کی طرف سے مطالبات کی ایک لمبی چوڑی فہرست پیش ہوتی ہے، شرائط پیش کیے جاتے ہیں، ان کے پورا نہ ہونے پر یہ معصوم لڑکیاں جلا دی جاتی ہیں۔ ملک میں سیکڑوں واقعات پیش آتے ہیں۔ صرف دہلی میں ہر بارہ گھنٹے پر ایک نئی بیاہی دلہن کو جلا کر مار ڈالا جاتا ہے (قومی آواز، دہلی۔ ۱۰ جون ۱۹۸۴ء)۔ کیا اس کائنات کے خالق اور نوعِ انسانی کے مربی (جس کی مخلوق مرد و عورت دونوں ہیں) کو یہ چیز گوارا ہو سکتی ہے؟ کیا اس ظلم کے ساتھ کوئی ملک کوئی معاشرہ پنپ سکتا ہے؟ خدا کی رحمت و نصرت کا مستحق ہو سکتا ہے؟ آپ رحمۃ للعالمین کی امت ہیں، آپ کے ہوتے ہوئے دوسروں کو بھی اس کی ہمت نہیں ہونا چاہیے تھی۔ میں نے دہلی کے ایک جلسہ میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون (الانفال)
’’اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں تھے، انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخشش مانگیں اور وہ انہیں عذاب دے۔‘‘

آپ رحمۃ للعالمین کی امت ہیں، آپ کے ہوتے ہوئے ہندوستانی سماج میں، ہندوستان کے معاشرہ اور سوسائٹی میں یہ ظلم ہو؟ اس کو عقل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آپ کے ہوتے بھی یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، چہ جائیکہ آپ کے ہاتھوں ہو۔ عہد کیجیے کہ آپ اسلامی طریقہ پر شریفانہ انسانی طریقہ پر شادی کا پیام دیں گے، آپ لڑکی مانگیں گے، اپنے لیے رفیقہ حیات کی تلاش کریں گے، بیٹے کے لیے پیام دیں گے تو جہیز کے لیے آپ کے بڑھے چڑھے مطالبات نہیں ہوں گے کہ ہمیں یہ ملنا چاہیے، وہ ملنا چاہیے۔ لڑکوں کو اور ان کے وارثوں اور بزرگوں کو اس کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے یہاں تو کیا، ہم اس ملک سے اس رسم کو ختم کر دیں گے۔

حالات و واقعات

(دسمبر ۱۹۹۹ء)

دسمبر ۱۹۹۹ء

جلد ۱۰ ۔ شمارہ ۲۳ و ۲۴

طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نماز کی اہمیت اور چند ضروری مسائل
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

مسلم پرسنل لاء اور بھارتی مسلمانوں کی جدوجہد
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

عربوں کی دولت پر مغربی ممالک کی عیاشی
مولانا محمد عیسٰی منصوری

قرآنی علوم کے ارتقائی مراحل
مولانا ظفر احمد اعظمی

معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار اور اہمیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اظہاری رویے میں تخیل کی اہمیت
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

تعارف و تبصرہ
ادارہ الشریعہ

کرائے کی کلیسائیں اور واشنگٹن آفس
میجر (ر) ٹی ناصر

چیچن مجاہدوں کی عظمت کو سلام
عبد الرشید ارشد

تلاش

شماریات