کرائے کی کلیسائیں اور واشنگٹن آفس

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں بے شمار خود ساختہ ”پاسٹر“ اور ”بشپ“ وجود میں آئے ہیں کہ پاکستانی کلیسیا اس معاملہ میں خود کفیل ہوئی بلکہ فاضل پاسٹر اور بشپ برآمد کرنے کے بھی قابل ہو گئی ہے۔ ان ”پاسٹر“ اور ”بشپ“ صاحبان کا طریقہ کار ہمارے سیاسی رہنماؤں سے مختلف نہیں۔ یعنی ملک کے مختلف شہروں میں روحانی اجتماع کیے جاتے ہیں، مفت شفا کے اشتہار دیے جاتے ہیں، اپنے جلسوں کی رونق بڑھانے کے لیے ضیافتوں کا انتظام کیا جاتا ہے، دوسرے شہروں سے ”ہجوم“ اکٹھا کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ پھر ان ”روحانی“ جلسوں کی ویڈیو فلمیں بنتی ہیں، فوٹو گرافی ہوتی ہے، ان جلسوں میں ایک آدھ غیر ملکی ضرور شامل ہوتا ہے جو خاص طور پر پاکستانیوں کو شفا دینے کے لیے سمندر پار کے ملکوں سے آتا ہے یا آتے ہیں۔ بعض ”پاسٹر“ اور ”بشپ“ صاحبان ٹیلی ویژن کے مقامی عملے کو بھی بلا لیتے ہیں جہاں روپیہ بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ کیا ممکن نہیں۔ غیر مسیحی افراد بھی ”شفا“ پانے آتے ہیں اور یوں ان جلسوں کی رپورٹ بیرون ملک بھجوا کر پاکستان میں مسیحیت اختیار کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں بتا کر اچھا خاصا منافع کمایا جاتا ہے۔ 

چند برس پیشتر ایک مولوی صاحب نے یورپ کے دورے سے واپسی پر بیان دیا کہ وہ یورپ میں ”پانچ عدد“ پوپ مسلمان کر کے آئے ہیں۔ جب ان کو یاد دلایا گیا کہ پوپ تو صرف ایک ہی ہوتا ہے اور تامل وہ سکتی ہے تو مسلمان ہونے والے ”پانچ پوپ“ پانچ پادری اور بعد ازاں پانچ مسیحی بن گئے۔ اسی طرح پاکستانی ”پاسٹر“ اور ”بشپ“ صاحبان اب تک پاکستان کی نصف آبادی کو مسیحیت قبول کروا چکے ہیں۔ اس دھوکے اور جھوٹے میں جتنا کردار پاسٹر اور بشپ صاحبان کا ہے، اتنا ہی ہماری کلیسیا کا ہے۔ دو وقت کی مفت ضیافت اور مفت سفری سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بغیر سوچے سمجھے جہاں کسی نے بلایا، چل دیے۔ ان روحانی اجتماعات میں مسیحیت کی منادی ”تقریباً“ صفر ہوتی ہے۔ لول تو شور و غل میں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کیا وعظ کیا جا رہا ہے۔ دوسرے عوام کی توجہ سٹیج پر ادھر ادھر بھاگنے پر زیادہ مذکور رہتی ہے۔

ہماری کلیسیا اتنی ”ویلی“ یا فارغ ہے کہ دو وقت کی روٹی اور مفت سفر یا سیر کرنے کے شوق میں کرائے کی کلیسیا بنتی جا رہی ہے۔ اتوار کے دن گرجا گھر نہ جانے کے ہزار بہانے تو موجود ہیں لیکن کرائے کی کلیسیا بننے میں ہر جواز موجود ہے۔

کلیسیا کا فرض ہے کہ وہ اپنے گرجا گھروں کو آباد کریں۔ اپنے ہدیے اور نذرانوں سے کلیسیا کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے تیار کریں نہ کہ اپنا مقام عبادت چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکتے پھریں۔ (یاد رہے کہ پاسٹر یا پاسبان کسی بھی ایک مقامی کلیسیا کا پادری ہوتا ہے، سارے ملک میں منادی کرنے والے ”پادری“ کہلاتے ہیں جو مبلغ بھی ہو سکتا ہے) کلیسیا کو ایسے ”پاسٹر“ اور ”بشپ“ صاحبان سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو خود کو کسی ایک بھی کلیسیا کے پاسبان نہیں اور پورے ملک کی پاسبانی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خداوند یسوع مسیح کا قول یاد رکھیں۔ متی ۳۳:۴-۲۳ مرقس ۱۳: ۲۱-۲۳ لوقا ۲۱: ۸ اور استثنا ۱۸: ۲۰-۲۲ اپنی بائبل کو پڑھیں اور دیکھیں کہ خدا ایسے ”پاسٹر“ اور ”بشپ“ صاحبان کے لیے کیا فرماتا ہے جو مقامی سطح پر کلیسیا کو اجاڑ کر خداوند کی کلیسیا کو ”کرائے کی کلیسائیں“ بنانے میں دن رات مصروف ہیں۔ خداوند یسوع مسیح کلیسیاؤں کو بدعتی تعلیم سے بچائے۔ کرائے کی کلیسیا بننے سے بچائے۔ آمین

(بشکریہ ماہنامہ کلامِ حق گوجرانوالہ، اکتوبر ۱۹۹۹ء)


حالات و مشاہدات

(دسمبر ۱۹۹۹ء)

دسمبر ۱۹۹۹ء

جلد ۱۰ ۔ شمارہ ۲۳ و ۲۴

طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نماز کی اہمیت اور چند ضروری مسائل
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

مسلم پرسنل لاء اور بھارتی مسلمانوں کی جدوجہد
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

عربوں کی دولت پر مغربی ممالک کی عیاشی
مولانا محمد عیسٰی منصوری

قرآنی علوم کے ارتقائی مراحل
مولانا ظفر احمد اعظمی

معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار اور اہمیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اظہاری رویے میں تخیل کی اہمیت
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

تعارف و تبصرہ
ادارہ الشریعہ

کرائے کی کلیسائیں اور واشنگٹن آفس
میجر (ر) ٹی ناصر

چیچن مجاہدوں کی عظمت کو سلام
عبد الرشید ارشد

تلاش

شماریات