رمضان ’رمض‘ کے مادہ سے ہے جس کا معنی تپش ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں تو ویسے ہی تپش ہوتی ہے اور روزے کی تپش اس کے علاوہ ہوتی ہے۔ مفسرین اور علماء کرام فرماتے ہیں کہ روزے کی اس تپش کی وجہ سے روزے دار کے گناہ پگھل جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی حضور علیہ الصلوٰۃ کا ارشادِ مبارک ہے ’’لکل شئی زکوٰۃ و زکوٰۃ الجسد الصوم‘‘ کہ ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے جیسے مال کی زکوٰۃ اس کا چالیسواں حصہ محتاجوں پر خرچ کرنا ہے۔ کپڑے کی زکوٰۃ یہ ہے کہ اس کو دھو کر صاف ستھرا رکھا جائے گا۔ اسی طرح انسان کے جسم کی زکوٰۃ یہ روزہ ہے۔ روزہ رکھ کر انسان اپنے جسم کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
روزہ ایک سلبی عبادت ہے کیونکہ اس میں ضبط اور صبر کرنا پڑتا ہے۔ سید علی ہجویریؒ اور بعض دیگر علماء فرماتے ہیں کہ ہر عبادت میں ریاکاری کا امکان موجود ہے۔ صرف روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریاکاری کا کوئی امکان نہیں ہوتا کیونکہ روزے کا تعلق بندے اور اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر عام لوگوں کے سامنے منہ بند رکھیں مگر غسل خانے میں جا کر پانی پی لیں تو اس کو کون جانتا ہے؟ مگر یہ بندے اور اللہ کے درمیان معاملہ ہے۔
اللہ نے روزے اگرچہ فرض قرار دیے ہیں مگر بیماروں اور مسافروں کو رعایت بھی دی ہے۔ بیمار آدمی کے لیے رعایت یہ ہے کہ وہ بیماری کے دوران روزہ نہ رکھے بلکہ تندرست ہونے پر روزہ قضا کر لے۔ مسافر بھی اگر دورانِ سفر روزہ نہ رکھ سکے، سفر کی تکلیف ہو یا سحری اور افطاری کا انتظام نہ ہو سکتا ہو، تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ جب مقیم ہو جائے تو چھوڑے ہوئے روزے رکھ لے۔ ایسا کرنے میں بیمار اور مسافر پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ روزہ رکھ لیں تو ان کے لیے اچھا ہے۔ بیمار اور مسافر کے علاوہ اس بوڑھے اور ضعیف آدمی کو بھی رعایت حاصل ہے جو اپنی زندگی کی آخری منزل میں ہے اور دس پانچ گھنٹے کا فاقہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ بھی روزہ نہ رکھے اور اس کے بدلے فدیہ ادا کر دے۔ اگر بعد میں تندرست ہو گیا تو چھوڑے ہوئے روزے قضا کرنے ہوں گے۔ اللہ نے معذوروں کے عذر کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں بھی رعایت دی ہے۔ اور باقی لوگوں پر رمضان کے انتیس یا تیس روزے فرض قرار دیے ہیں۔
روزہ اسلام کے برحق ہونے کی دلیل ہے جسے غیروں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انگریز مصنف آرنلڈ اپنی کتاب تبلیغِ اسلام (Preaching of Islam) میں لکھتا ہے کہ جو لوگ محمد (ﷺ) کے دین کو عیاشی اور آرام طلبی کا دین کہتے ہیں، وہ جھوٹے ہیں کیونکہ اس دین میں بڑے مشکل احکام بھی ہیں جن میں روزے جیسا مشکل رکن بھی موجود ہے۔
افریقی ممالک میں برصغیر کی نسبت چھ گنا زیادہ گرمی پڑتی ہے اور وہاں پر بسا اوقات دن بھی اٹھارہ انیس گھنٹے کا ہوتا ہے مگر مسلمان وہاں بھی روزے جیسے مشکل حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ اسی لیے مومن کے ایمان کو پرکھنے کے لیے گرمی کا روزہ ایک معیار ہوتا ہے۔
میں نے عرض کیا کہ روزے میں ریا نہیں آتی اور اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض قرار دے کر ایک مومن کو ضبط کا قانون سمجھایا ہے۔ اس سے مراد اپنے جذبات، خواہشات اور ہر چیز پر قابو پانا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانون کی پابندی سکھانے والی عبادت ہے۔ اس میں ضبطِ نفس یعنی انسانی اور بہیمانہ خواہشات پیدا کرنے والے محرکات پر ضبط کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ کھانا، پینا اور جنسی تعلقات ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کی خواہشات ابھرتی ہیں اور انہی تین چیزوں پر پابندی کا نام روزہ ہے۔
اللہ نے روزے میں عجیب حکمت رکھی ہے۔ یہ ایسا حکیمانہ عمل ہے جو کہ قانون سکھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر انسان رمضان کے ایک مہینے میں نفس پر ضبط کر سکتا ہے تو پھر سال کے باقی گیارہ مہینوں میں کیوں نہیں کر سکتا؟ اور اگر اس نے ایک ماہ میں قانونِ ضبط نہیں سیکھا تو پھر سارا سال انسانوں کی بجائے جانوروں کی طرح وقت گزارے گا۔ انسان وہی ہے جو ضبطِ نفس کا قانون سیکھ لیتا ہے اور پھر اس پر پورا سال عمل کرتا ہے۔
اب دیکھیے، روزے کی حالت میں ایک تندرست آدمی کے لیے کھانا، پینا اور جنسی تعلقات حرام ہو جاتے ہیں۔ یعنی حلال کمائی سے کمایا ہوا دودھ، پھل، کھانا، چائے حرام ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ منکوحہ بیوی بھی حرام ہو جاتی ہے۔ جس طرح روزے کی حالت میں یہ پابندی عائد ہے، اسی طرح باقی قوانین کی پابندی بھی لازمی ہے۔ جہاں رکنے کا حکم ہے وہاں رک جاؤ، یہی ضبطِ نفس کا قانون ہے جو روزہ سکھاتا ہے اور انسان کو انسانی اور بہیمانہ خواہشات سے روکتا ہے۔
یہ تو روزے کی ظاہری صورت ہے اور باطنی طور پر روزہ رکھنے کے لیے اس کی نیت کرنا بھی ضروری ہے۔ ہر عبادت نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے لیے نیت یعنی دل کا ارادہ ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی عبادت نیت کے بغیر ادا نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ باطنی طور پر انسان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے دل اور زبان کو قابو میں رکھے۔ یہ سب باتیں قانونِ ضبط سے تعلق رکھتی ہیں۔
امام غزالیؒ نے روزے کی حقیقت اس طرح بیان فرمائی ہے کہ روزے کے ظاہری لوازمات پورے کرنے یعنی کھانے، پینے اور جنسی تعلقات سے رک جانے کے علاوہ روزے کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ روزے کی حالت میں آنکھ کی حفاظت ضروری ہے۔ اگر روزے دار کی نگاہ غیر محرم پر پڑے گی یا کسی اور غلط جگہ پر پڑے گی تو روزے میں نقصان آئے گا۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی غلط نگاہ ’’سہم من سہام ابلیس‘‘ ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو زہر میں بجھا ہوا ہے، جس جسم میں زہر آلود تیر لگے گا تو اس کو ہمیشہ کے لیے بگاڑ دے گا۔ اسی طرح اگر روزے دار کی نگاہ غلط جگہ پر پڑے گی تو روزے کا ستیاناس کر دے گی۔ روزے کی حالت میں زبان کی حفاظت بھی ضروری ہے تاکہ اس سے صرف سچی بات ہی نکلے، کوئی غلط بات اور جھوٹ نہ نکلنے پائے۔ کسی بھی بیہودہ بات اور غیبت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ روزے میں کان کی حفاظت بھی لازمی ہے، مکروہ اور فحش گانوں اور بیہودہ باتوں سے کان کو بچا کر رکھو۔ اس کی بجائے نصیحت والی اچھی بات ہی کان میں پڑنی چاہیے۔ اللہ کی کتاب اور سنتِ رسول کی سچی بات ہی کان میں آنی چاہیے۔ اسی طرح ہاتھ پاؤں کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ روزے کی حالت میں اپنے اعضاء و جوارح کو برائیوں سے بچانا چاہیے۔ ہاتھ اور پاؤں کو نیکی کے کاموں میں لگانا چاہیے۔ باقی اعضاء بھی کسی برائی میں ملوث نہ ہوں۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ روزے کے لیے کھانا اتنا کھانا چاہیے جس سے بھوک مٹ جائے۔ بہت زیادہ نہیں کھانا چاہیے کہ اس طرح روزے دار روزے کی آزمائش میں پورا نہیں اتر سکے گا۔ اتنا زیادہ کھا لینا کہ دوپہر تک کھٹے ڈکار ہی آتے رہیں، یہ روزے کی روح کے منافی ہے۔ بہت زیادہ کھانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صرف کھانے کا ٹائم ٹیبل تبدیل کیا ہے، روزے کی حقیقت کو نہیں پایا۔ پہلے اگر تین یا چار دفعہ دن میں کھاتے تھے تو اب سحری و افطاری صرف دو دفعہ رہ گیا۔ البتہ کھانے کی مقدار میں کمی نہیں آئی بلکہ کچھ زیادہ ہی ہوئی ہے۔ لہٰذا ماہِ رمضان میں کھانے کا بہت زیادہ اہتمام کرنا بھی درست نہیں ہے کہ اس سے آزمائش کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
امام غزالیؒ نے ایک یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ روزہ رکھ کر اس کی قبولیت کے لیے بھی فکر مند ہونا چاہیے۔ جب آدمی شام کو روزہ افطار کرے تو اس کے دل میں خدشہ بھی ہو کہ ہمارا روزہ معیارِ الٰہی پر پورا بھی اترا ہے یا نہیں، اور یہ کہ یہ بارگاہِ خداوندی میں قبول بھی ہوا ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی کے کام کرنے کے باوجود ان لوگوں کے دل ڈرتے رہتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انہیں رب تعالیٰ کے سامنے لوٹ کر جانا ہے۔ اگر ان کی عبادت قبول نہ ہوئی تو یہ ضائع چلی جائے گی۔ گویا عبادت کرنے کے باوجود انہیں اس کی قبولیت کے متعلق دھڑکا لگا رہتا ہے۔ اسی لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادت کو قبول کر لے۔
سلف صالحین تو اسی انتظار میں رہتے تھے کہ ماہِ رمضان آئے تاکہ وہ روزے رکھ کر اس کی عبادت و ریاضت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تو رمضان کی آمد سے دو ماہ پہلے ہی انتظار شروع کر دیتے تھے اور مضطرب رہتے تھے کہ کہیں رمضان کی برکات سے محروم نہ رہ جائیں۔ اس ماہِ مبارک کا جتنا بھی وقت مل جائے، اس کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔
روزے کی حالت میں انسان کے پیٹ میں کھانے پینے یا دوائی کی قبیل سے کوئی چیز نہیں پہنچنی چاہیے۔ البتہ اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کھا پی لے تو روزے میں کوئی نقصان نہیں آتا۔ اگر کھانے کے بعد پتہ چلا کہ میں نے بھول کر کھا لیا ہے تو پھر قے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا نے کھلا پلا دیا ہے۔ آئندہ احتیاط رکھے۔ قے کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر خودبخود آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اگر خود کوشش کر کے قے کرے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور آدمی کو قضا کرنی ہو گی۔



















