شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے سب سے چھوٹے فرزند حافظ منہاج الحق خان راشد (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم) کی شادی خانہ آبادی ۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء کو جامع مسجد علیؓ (اعوان ٹاؤن، ملتان روڈ، لاہور) میں نمازِ ظہر کے بعد مسجد مذکورہ کے خطیب مولانا قاری عبد الخالق کی دختر کے ساتھ انجام پائی۔ قاری صاحب موصوف حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے ہم زلف اور حافظ منہاج الحق خان راشد کے خالو محترم ہیں۔ خطبۂ نکاح حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے پڑھا اور اس موقع پر حاضرین کی فرمائش پر خطاب بھی فرمایا۔ ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اِن دنوں طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ گھٹنوں کا درد اور مختلف بیماریاں بھی لاحق ہیں اور گزشتہ کئی دنوں سے عرق النساء (لنگڑی کا درد) نے زیادہ پریشان کر رکھا ہے۔ یہ وہ درد ہے جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام کو لاحق ہوا تھا اور انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر انہیں شفا ہو گئی تو وہ اپنے کھانے میں مرغوب ترین چیز کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ترک کر دیں گے۔ چنانچہ وہ شفا یاب ہوئے تو اونٹ کا گوشت انہوں نے کھانا چھوڑ دیا۔ اس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ’’الّا ما حرم اسرائیل علیٰ نفسہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
آج اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے نکاح کے سلسلہ میں آپ حضرات کے پاس حاضری ہوئی ہے، اس لیے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کچھ مسائل آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق دیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ امت کے چاروں بڑے اماموں اور سب محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ مسلمان مرد یا عورت پر بالغ ہونے کے بعد نماز، روزہ اور دیگر عبادات جو شرعاً فرض ہو جاتی ہیں، ان کی ادائیگی بہرحال ضروری ہے۔ اور اگر کسی شخص کی کوئی نماز یا روزہ رہ گیا ہے تو وہ محض توبہ سے معاف نہیں ہو گا بلکہ اس کی قضا کرنی ہو گی۔ آج کل ایک غلط فہمی عام طور پر پڑھے لکھے لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ توبہ اور استغفار سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔
- حقوق اللہ میں جو امور فرائض سے متعلق ہیں وہ صرف توبہ سے معاف نہیں ہوں گے بلکہ توبہ کے ساتھ ان کی قضا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمہ ایک فرض نماز یا ایک فرض روزہ قضا ہے، تو ساری زندگی توبہ کرتا رہے، جب تک اسے قضا کی نیت سے ادا نہ کر لے گا وہ اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہو گا۔
- اسی طرح حقوق العباد کا معاملہ ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی حق اس کے ذمہ ہے تو وہ صرف توبہ سے معاف نہیں ہو گا۔ اس کے لیے شرط ہے کہ جس کا حق ہے اُسے واپس کرے، یا حق والا شخص خود اسے معاف کر دے۔ اس کے بغیر حقوق العباد کی معافی نہیں ہو گی۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ اشکال پایا جاتا ہے کہ زندگی کا کوئی ایک حصہ ایسا گزر گیا ہے کہ نماز نہیں پڑھی، روزہ رکھا ہے اور نہ زکوٰۃ دی ہے۔ اب اس کا حساب کیسے ہو گا کہ اس شخص کے ذمہ کتنی نمازیں باقی ہیں، کتنے روزے ہیں اور کتنے سالوں اور کتنی رقموں کی زکوٰۃ اس کے ذمہ ہے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ شریعت نے ایسے معاملات میں، جن کا قطعی طور پر تعین نہ کیا جا سکتا ہو، ’’تحری‘‘ کا اصول بتایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے پوری کوشش اور سوچ بچار کے ساتھ ظن غالب کے طور پر ایک اندازہ طے کر لے اور پھر اس اندازے کے مطابق نماز اور دیگر واجب الذمہ فرائض کی قضا کر لے۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح وقتی نمازوں میں ترتیب اور تعین ضروری ہے کہ وہ کون سی نماز ادا کر رہا ہے، اسی طرح قضا نمازوں میں بھی ترتیب اور تعین ضروری ہے۔ اور اگر قضا نماز میں یہ تعین کیے بغیر کہ وہ کس دن کی کونسی نماز قضا پڑھ رہا ہے، مطلق قضا کی نیت سے جتنی مرضی نمازیں پڑھ لے، وہ قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہو گی۔ اس کی آسان صورت فقہاء نے یہ بتائی ہے کہ مثلاً فجر کی نماز قضا کر رہا ہے تو یہ نیت کر لے کہ میرے ذمہ فجر کی جتنی نمازیں قضا ہیں، اُن میں سے پہلی نماز پڑھ رہا ہوں، یا اُن میں سے آخری نماز پڑھ رہا ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں نماز کا تعین ہو جائے گا اور وہ نماز ادا ہو جائے گی۔
نماز کے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ وہ کسی حالت میں معاف نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایک شخص سولی پر لٹک رہا ہے، ابھی جان باقی ہے اور نماز کا وقت ہو گیا ہے، تو اگرچہ وہ وہاں وضو یا تیمم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ نماز کی ادائیگی اس حالت میں بھی ضروری ہے، اور حکم یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اشارے کے ساتھ نماز پڑھے۔ نماز اسے بھی معاف نہیں ہے۔
اسی طرح اگر کسی ظالم نے اسے ایسی جگہ قید کر دیا ہے جو ناپاک ہے، وہاں نہ نماز پڑھی جا سکتی ہے اور نہ ہی تیمم کیا جا سکتا ہے، تو حکم یہ ہے کہ جس حالت میں بھی ہے، تیمم کر کے نماز پڑھ لے، اور یہ نیت رکھے کہ اگر اسے موقع ملا تو صحیح حالت میں آنے کے بعد اس نماز کو دوبارہ ادا کرے گا۔ اگر اس نیت کے ساتھ اس نے وہ نماز گندگی کے ماحول میں پڑھ لی اور اسے دوبارہ موقع نہیں ملا تو اس کی وہی نماز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جائے گی۔
ایک جزئیہ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک شخص درخت پر چڑھا ہوا ہے اور نیچے شیر یا کوئی درندہ ہے جس سے جان کا خوف لاحق ہے، اس کیفیت میں نماز کا وقت آ گیا ہے تو نماز معاف نہیں ہے۔ حکم یہ ہے کہ درخت پر جس طرح بھی ممکن ہے، نماز پڑھ لے، اور بعد میں موقع ملنے پر دوبارہ اس نماز کو ادا کرے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ایک مسئلہ لکھا ہے، جو فقہ حنفی کی مستند کتاب ہے، اسے سلطان محی الدین اورنگ زیب عالمگیرؒ کے حکم پر پانچ سو علماء کرام کی مجلس نے مرتب کیا تھا، اور یہ پانچ سو علماء ایسے تھے کہ ان میں سے کسی ایک کی مثال بھی علم اور تقویٰ کے لحاظ سے آج کے دور میں نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ یہ مسئلہ البحر الرائق اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو رہا ہے، سر جسم سے باہر آ گیا ہے اور باقی دھڑ ابھی رحم میں ہے، اس حالت میں نماز کا وقت جا رہا ہے، تو حکم یہ ہے کہ اس حالت میں بھی جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھ لے۔ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ بچے کی ولادت کے بعد عورت کو خون آتا ہے جو دمِ نفاس کہلاتا ہے، اس حالت میں نماز فرض ہی نہیں ہوتی۔ تو فقہاء کہتے ہیں کہ بچے کی ولادت مکمل ہو جانے کے بعد جو خون آتا ہے، وہ دمِ نفاس ہوتا ہے، ولادت مکمل ہونے سے پہلے نفاس نہیں ہوتا، اس لیے اس دوران جس نماز کا وقت آیا ہے، وہ اس کے ذمہ فرض ہے اور وہ اسے ہر حالت میں ادا کرنی چاہیے۔
نماز کے بارے میں ایک مسئلہ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اپنی بیوی اور گھر کے افراد کو نماز کے لیے کہنا اور اپنا پورا زور صَرف کرنا بھی گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’قوا انفسکم واہلیکم نارا‘‘ خود بھی جہنم کی آگ سے بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچاؤ۔ اس لیے جو شخص خود تو نماز پڑھتا ہے مگر اپنے گھر کے افراد کو، بیوی کو، بچوں کو اور دیگر ماتحت حضرات کو نماز کی تلقین نہیں کرتا اور اس کے لیے اپنا پورا زور صَرف نہیں کرتا، وہ بھی ان لوگوں کے بے نماز ہونے کی ذمہ داری میں شریک ہے اور ان کے نماز نہ پڑھنے سے وہ بھی گنہگار ہو گا۔ کسی نے خوب کہا ہے ؎
حق نے کر ڈالی ہیں دوہری خدمتیں تیرے سپرد
خود تڑپنا ہی نہیں اوروں کو تڑپانا بھی ہے
نماز کے بارے میں ایک مسئلہ اور بھی یاد رکھیں، اگرچہ اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے، لیکن نوے فی صد فقہاء اس پر متفق ہیں اور مفتیٰ بہ قول بھی یہی ہے کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے تو وہ جو کلمات اور تکبیرات زبان سے ادا کر رہا ہے، وہ اتنی آواز میں ضرور پڑھے کہ اس کے کان انہیں سنیں۔ اگر اس کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کو خود اس کے کان نہیں سن رہے تو وہ تلفظ شمار نہیں ہو گا اور نماز ادا نہیں ہو گی۔ بے شک دوسروں کے کان نہ کھائے، لیکن اس کے الفاظ کا اس کے اپنے کانوں تک پہنچنا بہرحال ضروری ہے، ورنہ نماز ادا نہیں ہو گی۔
نماز کی اہمیت شریعت میں بہت زیادہ ہے اس لیے اس بارے میں سستی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ آپ اندازہ کریں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو جب ابولؤلؤ مجوسی نے فجر کی نماز کے دوران زخمی کر دیا تو زخموں کی حالت یہ تھی کہ انتڑیاں کٹ گئی تھیں اور جو دودھ شہد وغیرہ پلاتے تھے وہ انتڑیوں کے راستے باہر آ جاتا تھا، حتیٰ کہ طبیبوں نے ظاہری حالت دیکھ کر مایوسی کا اظہار کر دیا تھا۔ اس حالت میں ان کے بیٹے نے یاد دلایا کہ امیر المؤمنین! آپ فجر کی نماز پوری نہیں کر سکے تھے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسی حالت میں فجر کی نماز ادا کی۔ اور حضرت عمرؓ تو یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے حُکام کی کارکردگی کا اندازہ نماز سے کیا کرتا ہوں، جو نماز کا پابند ہے وہ باقی کام بھی صحیح کرتا ہو گا، اور جو نماز میں کوتاہی کرتا ہے وہ دوسرے معاملات میں زیادہ کوتاہی سے کام لیتا ہو گا۔
خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل امت کو جو آخری وصیت فرمائی، وہ نماز کے بارے میں تھی کہ ’’الصلوٰۃ و ما ملکت ایمانکم‘‘ نماز کی پابندی کرنا اور ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ یہ نصیحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمائی۔ اس لیے سب حضرات اس بات کا عہد کریں کہ آئندہ نماز کی پابندی کریں گے اور گزشتہ نمازیں جو رہتی ہیں انہیں بھی قضا کریں گے۔
اس موقع پر عورتوں کے لیے بھی دو تین مسئلے بیان کرنا چاہتا ہوں جو میں عام طور پر بیان کیا کرتا ہوں۔ عورتیں اگر خود سن رہی ہیں تو وہ انہیں یاد کر لیں، اور مرد حضرات بھی اپنے گھروں میں عورتوں کو ان مسائل سے آگاہ کریں۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورتیں عام طور پر ناخن پالش لگاتی ہیں جن میں ناخن پر لیپ ہو جاتا ہے اور وضو اور غسل کے موقع پر پانی ناخن کی سطح تک نہیں پہنچتا۔ ایسی صورت میں نہ وضو ہوتا ہے نہ غسل۔ اور جب وضو اور غسل نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوتی، بلکہ غسل کرنے کے باوجود عورت ناپاک کی ناپاک رہتی ہے۔ اسی طرح ناخن لمبے ہوں تو ان کے نیچے میل جم جاتی ہے اور پانی میل کے نیچے جسم تک نہیں پہنچتا۔ اس صورت میں بھی وضو اور غسل نہیں ہوتا۔ کیونکہ فقہاء نے مسئلہ لکھا ہے کہ غسل اگر فرض ہو تو جسم کا سوئی کے ناکے جتنا حصہ بھی خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔ یہی حالت وضو کی بھی ہے۔
البتہ مہندی کا مسئلہ یہ نہیں ہے کیونکہ مہندی سے جسم میں رنگت پیدا ہوتی ہے مگر لیپ نہیں ہوتا اور جسم تک پانی پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ البتہ ہونٹوں پر لگائی جانے والی سرخی اگر ایسی ہے کہ اس سے ہونٹوں پر لیپ ہو جاتا ہے اور پانی ہونٹوں کی جلد تک نہیں پہنچتا تو اس کا حکم بھی یہی ہو گا کہ غسل اور وضو نہیں ہو گا۔ اور ان تمام صورتوں میں پڑھی ہوئی نماز بھی نہیں ہو گی۔
یہاں ایک اور مسئلہ کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اگرچہ اس مسئلہ میں خود ہمارے اکابر میں بھی اختلاف ہے مگر ہمارے شیخ و مرشد حضرت مولانا حسین علی صاحب قدس اللہ سرہ اور ان کے استاذ محترم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نور اللہ مرقدہ، دونوں کا فتویٰ ہے کہ بے وضو سجدہ کرنا کفر ہے۔ اس لیے عورتوں کو اس معاملہ میں بہت احتیاط کرنی چاہیے کہ ایسی چیزوں کے استعمال سے نہ صرف یہ کہ وضو اور غسل نہیں ہوتا اور نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ بے وضو سجدے کرنے کی وجہ سے کفر کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ عورتیں ناک میں کوکا اور کانوں میں بالیاں یا کانٹے پہنتی ہیں اور ہاتھوں میں انگوٹھی ہوتی ہے۔ وضو اور غسل میں ان سب کو اس طرح حرکت دینا ضروری ہے کہ ان کے نیچے سوراخ اور جلد تک پانی پہنچ جائے، ورنہ نہ وضو ہو گا اور نہ ہی غسل ہو گا۔
عورتوں کے لیے ایک اور بات بھی ضروری ہے کہ نماز میں ان کا سر اور بال پوری طرح ڈھکے ہوئے ہوں۔ بال اگر چوتھائی حصہ سے زیادہ ننگے ہوں گے، یا دوپٹہ باریک اوڑھا ہوا ہو گا، تو بھی نماز نہیں ہو گی، خواہ بند کمرے میں نماز پڑھیں۔ اسی طرح بازو ننگے ہوں یا کان کا چوتھا حصہ بھی ننگا ہو تو نماز نہیں ہو گی۔
یہ سب مسائل حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’بہشتی زیور‘‘ میں تفصیل کے ساتھ لکھ دیے ہیں۔ انہیں عورتوں کو پڑھائیں۔ ورنہ یہی عورتیں کل قیامت کے دن گریبان پکڑیں گی کہ اِن مردوں نے ہمیں دنیا کی سہولتیں تو سب فراہم کیں مگر دین کے بارے میں ہماری راہ نمائی نہیں کی۔
یہ مسئلے میں اس لیے بیان کرتا ہوں کہ یہ بیماریاں ہمارے اندر موجود ہیں اور علاج اسی بیماری کا کیا جاتا ہے جو موجود ہو۔ انسان کو بیماری کوئی اور لاحق ہو، اور طبیب علاج کسی اور بیماری کا شروع کر دے، تو اسے حکمت نہیں کہا جاتا۔ اس لیے سب دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ ان مسائل پر توجہ دیں اور ان سے اپنے گھر والوں کو اور خواتین کو بھی آگاہ کریں۔
میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ آج ہماری حاضری نکاح کے سلسلہ میں ہے۔ میرے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ منہاج الحق خان راشد کا نکاح قاری عبدالخالق صاحب کی بیٹی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نکاح دین کے تقاضوں میں سے ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صحابہ کرام حضرت علیؓ، حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ نے آپس میں صلاح مشورہ کیا۔ ایک نے کہا کہ میں ساری زندگی رات کو نیند نہیں کروں گا اور رات عبادت میں بسر کیا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ساری زندگی شادی نہیں کروں گا۔ اور تیسرے نے کہا کہ میں ساری زندگی بلا ناغہ روزے رکھوں گا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ باتیں سن کر فرمایا کہ میں تم سے زیادہ تقویٰ اور خدا خوفی رکھتا ہوں اور میں نے شادی بھی کی ہے، میری اولاد بھی ہے، رات کو نیند بھی کرتا ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں، روزے رکھتا بھی ہوں اور کبھی نہیں رکھتا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔
’’نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے اعراض کیا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
اس لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ شادی سنت ہے۔ بلکہ غلبۂ شہوت کی صورت میں اگر طاقت اور وسائل رکھتا ہو تو شادی فرض ہو جاتی ہے، اگر اس صورت میں شادی نہیں کرے گا تو گنہگار ہو گا۔
ایک حدیث میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’النکاح نصف الدین‘‘ نکاح دین کا نصف ہے۔ اور ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی مشترک سنت ہیں:
(۱) ان میں سے ایک مسواک ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والی چیز ہے۔ خود میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ۱۹۳۴ء میں میرے دانتوں میں کیڑا لگ گیا اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ سب دانت نکلوا دیں۔ ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا عبد القدیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’میاں مسواک کیا کرو‘‘۔ چنانچہ میں نے اسی وقت سے مسواک شروع کی اور جب تک منہ میں دانت رہے، پوری پابندی کے ساتھ مسواک کرتا رہا، اور اس کی برکت یہ ہوئی کہ اس کے بعد زندگی بھر میرے دانتوں میں کیڑا نہیں لگا۔
(۲) دوسری چیز خوشبو بیان فرمائی کہ عطر لگانا بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی مشترک سنت ہے۔
(۳) جبکہ تیسری چیز نکاح بیان کی کہ کم و بیش سبھی انبیاء کرام علیہم السلام نے نکاح کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا تھا بلکہ نکاح سے پہلے ہی آسمانوں کی طرف اٹھا لیے گئے تھے۔ لیکن یہ بات ہمارے عقیدے میں شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، وہ آسمانوں پر موجود ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہ جب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو ان کی شادی ہو گی اور دو بیٹے پیدا ہوں گے جن میں ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام موسیٰ رکھیں گے۔ تو نکاح بھی انبیاء کرامؑ کی سنت ہے اور دین کا تقاضا ہے۔
(۴) انبیاء کرام علیہم السلام کی چوتھی مشترک سنت بعض روایات میں حیاء اور بعض میں ختنہ بیان کی گئی ہے۔
میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔



















