عربوں کی دولت پر مغربی ممالک کی عیاشی

ملتِ اسلامیہ اپنی چودہ سو سالہ تاریخ کے کسی بھی دور میں اس قدر بے حیثیت، بے بس، کمزور، دشمنانِ اسلام کے لئے لقمہ تر اور ذلت و نکبت کا شکار نہیں تھی جتنی آج ہے۔ کہنے کو تو پچپن کے قریب مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں، کرۂ ارض کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی ملتِ اسلامیہ پر مشتمل ہے، اور قدرت نے اپنے خزانوں سے پٹرول سمیت تمام نعمتوں سے اس دھرتی کو نواز رکھا ہے، مگر ان سب کے باوجود دنیا میں پوری ملتِ اسلامیہ کی حیثیت اتنی بھی نہیں جتنی یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سوئٹزرلینڈ کی ہے۔ پچپن ملکوں کے مسلم وزراء خارجہ کے جمع ہونے کی خبر عالمی میڈیا میں اتنی جگہ بھی نہیں پاتی جتنی کسی عام یہودی کے قتل یا زخمی ہونے کی خبر۔ یورپ کے قلب (بوسنیا) میں مسلسل چھ ماہ تک اس ملت کی ایک لاکھ کے قریب بیٹیوں کی عصمت دری اور لاکھوں مسلمانوں کے ذبح کیے جانے پر کفر کی اجازت کے بغیر کسی مسلم ملک کے سربراہ نے زبانی احتجاج بھی نہیں کیا۔ حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی اجازت کے بغیر لیبیا اور عراق کے مسلمان فریضہ حج تک ادا نہیں کر سکتے۔ 

ملتِ اسلامیہ کی اس بے حیثیتی، ذلت و زبوں حالی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ہمارے حکمران ہیں جن کی باگ ڈور مغربی آقاؤں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس وقت عالمی صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا پر کفر کا اقتدارِ اعلیٰ اور غلبہ ہے۔ مسلم دنیا پر مغرب کے اشاروں پر رقصاں ایسے بے حمیت حکمرانوں کا تسلط ہے جو ظلم کے خلاف بولنے والی زبان اور ظلم کو روکنے کے لیے اٹھنے والے ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اور اسلام کی سربلندی کے لیے سوچنے والے سر قلم کر دیتے ہیں۔ 

موجودہ دور کو اقتصادی دور کہا جاتا ہے۔ یعنی اب قوموں اور ملکوں کی فتح و شکست کا فیصلہ عسکری میدان کے بجائے اقتصادی میدان میں ہوتا ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، سوویت یونین عسکری طور پر دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا مگر جیسے ہی اس کا اقتصادی ڈھانچہ کمزور ہوا، وہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا۔ اس صدی کی پانچویں دہائی میں اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا پر کنٹرول کی چابی یعنی کالا سونا (پٹرول) مسلمانوں کو عطا کیا۔ ۱۹۷۳ء میں مشہور امریکی جریدے ٹائمز نے لکھا تھا کہ اقتصادیات کے سارے راستے ریاض (سعودی دارالخلافہ) کی طرف جاتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عربوں کو پٹرول کے سیال خزانے دے کر انہیں پوری دنیا پر کنٹرول کرنے کے لیے فیصلہ کن اقتصادی حیثیت عطا فرما دی تھی، جس سے نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کی تقدیر بدلی جا سکتی تھی۔ گویا دنیا میں اقتصادی دور کے شروع ہونے سے پہلے اس کی شاہ کلید عربوں کو عطا کر دی گئی تھی، مگر اس نعمتِ خداوندی کی یہ قدر کی گئی کہ آج پٹرول کے نرخ بھی مغرب کے اشاروں پر مقرر ہوتے ہیں۔

عرب وزرائے تیل اوپیک کے اجلاس میں جانے سے پہلے امریکہ سے احکامات لے کر جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جس پٹرول کے دام ۱۹۷۴ء میں ۳۴ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے تھے، اب کم ہوتے ہوئے ۹ ڈالر فی بیرل ہیں۔ جبکہ ان پچیس سالوں میں مغرب کے اسلحہ، مشنریوں، ساز و سامان کی قیمت کم از کم پانچ گنا بڑھی ہے۔ آج عربوں سے جو پٹرول ۹ ڈالر میں لیا جاتا ہے، وہ یہاں ہمیں کئی سو ڈالر میں بیچا جاتا ہے، یعنی سینکڑوں گنا نفع انگریزوں کی جیب میں جاتا ہے۔ لیکن مغربی میڈیا پٹرول کی گرانی کا سارا الزام عربوں پر رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کا آٹھ سو بلین ڈالر سے زائد سرمایہ مغرب کے بینکوں میں پڑا ہے جسے بظاہر کبھی نہیں نکالا جا سکے گا۔ گزشتہ ۳۰ سال سے اس سرمایہ کے بل بوتے پر مغرب نے پوری دنیا پر اقتصادی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ اس کی سالانہ زکوٰۃ بیس ملین ڈالر بنتی ہے جو پوری ملتِ اسلامیہ کی معاشی بدحالی دور کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔ مگر یہ حسرت ناک منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ چند ماہ پہلے سعودی عرب پانچ بلین ڈالر کا سودی قرض حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہا تھا۔

خلیجی جنگ کے بعد سے ہر سال سعودی بجٹ کا خسارہ بڑھتا جا رہا ہے جو اس سال اس قدر زیادہ ہو گیا کہ ساؤتھ افریقہ کے ساتھ کئی سال پہلے اسلحہ کا جو سودا ہوا تھا، اس کی قیمت ادا کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے اسے منسوخ کرنا پڑا۔ سعودی حکومت ہر سال تقریباً‌ بیس بلین ڈالر کا اسلحہ خریدتی ہے اور دس بلین ڈالر فاضل پرزوں پر خرچ کرتی ہے۔ اس طرح تیس بلین ڈالر ہر سال مغرب کے خزانوں میں پہنچ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تمام اسلحہ اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کرنے کی شرط پر بیچا جا رہا ہے۔ پورے خطہ میں اسرائیل کے سوا سب مسلم ملک ہی ہیں اور سعودی عرب کے حساس اسلحہ پر کنٹرول امریکہ یعنی یہود و نصاریٰ کا ہے۔ مغرب مختلف بہانوں سے سعودی عرب کو اس اسلحہ کی خریداری پر مجبور کرتا ہے۔ یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ اگر ایک سال کی رقم صحیح خرچ کی جائے تو پوری دنیا کے مسلمانوں کے اقتصادی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا جا رہا ہے کہ وہ مسلم ملکوں میں امیر ترین شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ۲۶ فروری ۱۹۹۹ء کے فنانشل ٹائمز نے سعودی عرب کی اقتصادی حالت پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے اسلحہ کی سب سے بڑی کمپنی برٹش ایروسپیس کا چودہ فیصد کاروبار سعودیہ پر منحصر ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کمپنی کے ساڑھے پانچ ہزار ماہرین کو سعودی عرب میں فروخت کردہ اسلحہ کی نگرانی اور سروس کے لیے نہایت اعلیٰ مشاہروں پر روزگار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی مالی حالت خصوصاً‌ خلیج کی جنگ کے بعد یہ ہو چکی ہے کہ اسلحہ کی قیمت نقد ادا کرنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے اب روزانہ چھ لاکھ بیرل پٹرول برطانیہ کو دیا جا رہا ہے۔ سعودی کرنسی (ریال) دنیا کی مستحکم ترین کرنسی شمار کی جاتی تھی، اب اس کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے ۲۵ فروری ۱۹۹۹ء کو سعودی عرب نے ایک بلین ڈالر خرچ کیے، اس کے بعد ۹ مارچ ۱۹۹۹ء کو دوبارہ ایک بلین ڈالر خرچ کیے۔ ریال کی قیمت اب بھی خطرے میں ہے۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کے محفوظ ذخائر صرف سات بلین ڈالر رہ گئے ہیں، جبکہ بھارت جیسے ملک کے ذخائر بڑھ کر تیس بلین ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس سال ۱۹۹۹ء کے سعودی بجٹ کے اخراجات میں بارہ فیصد کٹوتی کے باوجود بجٹ کا خسارہ ۹.۴ فیصد ہے۔ تیسری دنیا کے غریب ممالک کے بجٹ کا خسارہ بھی اتنا نہیں ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ اگر کسی گھر سے مسلسل سامان نکال کر باہر منتقل کیا جاتا رہے تو ایک وقت ایسا آئے گا جبکہ گھر میں کچھ نہیں بچے گا۔ یہی حال ان عرب ملکوں کا ہے۔ گزشتہ تیس سال سے مسلسل ان ملکوں کا سرمایہ مغرب کے بینکوں اور کمپنیوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

فائنینشل ٹائمز ہی کی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق تیل کی دولت سے مالامال ملکوں کی موجودہ اقتصادی صورتحال یہ ہے کہ سعودی عرب و خلیجی ریاستوں کی پچیس ملین نفوس پر مشتمل ملکوں کی سالانہ آمدنی اب محض ۲۳۵ بلین ڈالر رہ گئی ہے۔ جبکہ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سوئٹزرلینڈ — جس کی آبادی صرف ۶ ملین نفوس پر مشتمل ہے اور جس کے پاس پٹرول جیسی نعمت بھی نہیں — سالانہ آمدنی ۲۶۰ بلین ڈالر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی ڈیڑھ فیصد آبادی کے آٹھ سو بلین ڈالر سے زیادہ مغربی بینکوں میں رکے پڑے ہیں جنہیں بینک استعمال کر کے مسلسل اپنی ثروت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

آج دنیا کا ہر ملک صنعتی ترقی میں آگے بڑھنے کے لیے اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی خاطر ہزار جتن کر رہا ہے، مگر مسلم عرب ملکوں نے اپنے ملکوں کو صنعتی قوت بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بھارت کی آبادی سو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں دس بلین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی بدولت اس کی صنعتی ترقی کھلی آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ سرمایہ فی الحقیقت اس کا ہوتا ہے جو اس کو سنبھالتا ہے۔ عربوں کے سرمایہ کے بل بوتے پر آج یہودی پوری دنیا کے مالک و آقا بن بیٹھے ہیں۔ فائنینشل ٹائمز کا یہی مضمون نگار مزید لکھتا ہے کہ اب ان عرب ملکوں کی پچیس سالہ خوشحالی اور مزے کی ہالی ڈے یا پکنک پوری ہو چکی ہے۔ ان کی نئی نسل کو سخت ترین حالات و تلخ حقائق کا سامنا ہے، لیکن عوام اور نئی نسل کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔

ملتِ اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ سعودی عرب و خلیج کی ریاستیں مغرب کے شکنجہ میں اس بری طرح جکڑی جا چکی ہیں کہ ان کے کسی حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کر سکتیں۔ چند سال پہلے مغرب نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں خلیج کی جنگ کے جال میں پھانسا۔ اس جنگ کی قیمت امریکہ ایک سو بیس بلین ڈالر سے زیادہ مختلف طریقوں سے پہلے ہی وصول کر چکا ہے۔ یہ ممالک مسلسل اپنی حفاظت و بقا کا ٹیکس (جزیہ) برابر ادا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم امریکی فوجیوں کی (جو حرمین شریفین سے چند منٹ کے ہوائی فاصلہ پر ہر قسم کی حرام کاریوں میں مصروف ہیں) امریکی معیار کے مطابق تنخواہیں اور بے شمار دیگر مراعات سعودی عرب سے وصول کی جا رہی ہیں۔ نیز اسے ہر سال کئی بلین ڈالر کا مزید اسلحہ خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سعودی سرمایہ سے خریدا گیا امریکی اسلحہ امریکی فوجوں کے لیے ہے۔ جبکہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی آخری وصیت یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکالنے کی تھی، جسے سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں عملی جامہ پہنایا گیا۔ چودہ سو سال کے بعد اس مقدس سرزمین پر یہود و نصاریٰ کے ناپاک قدم پہنچ چکے ہیں۔ یہ صورتحال ہر مسلمان کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔

ادھر چند ماہ سے امریکہ نے ان ملکوں پر گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے عراق سے پھر چھیڑخانی شروع کر رکھی ہے۔ ظاہر ہے، اس کے اخراجات بھی اِن ملکوں ہی سے اصول کیے جائیں گے۔ ماضی میں جب کبھی سی آئی اے نے جنوبی امریکہ کی حکومتوں کا تختہ الٹ کر اپنی منشا کی حکومت لانے کی منصوبہ بندی کی، اور اخراجات کی امریکی کانگریس نے منظوری نہیں دی، تو وہ اخراجات سعودی عرب سے وصول کیے گئے۔

یہ حقیقت ہے کہ سعودی حکومت یعنی خاندانِ آل سعود نے حرمین شریفین کی تعمیر و تزئین پر بڑی فراخ دلی سے بڑی دولت خرچ کی ہے، جس سے حج و عمرہ کرنے والوں کو بڑی راحت و سہولت پہنچی ہے۔ اسی طرح خاندانِ آل سعود کا یہ کارنامہ بھی سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ انہوں نے حرمین شریفین کو صحیح معنی میں توحید و سنت کا مرکز بنایا، توہم پرستی اور جاہلی رسوم و رواج (شرک و بدعات) کے مظاہر اس مقدس سرزمین سے ختم کیے۔ نیز اس سے قبل ترکی دور میں حرمِ مکہ میں چار مصلوں (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) پر جو الگ الگ جماعت ہوتی تھی، اسے ختم کر کے تمام مسلمانوں کو ایک امام پر جمع کر کے ملتِ اسلامیہ کی یکجہتی کو فروغ دیا۔

ان باتوں پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو سعودی عرب کے موجودہ حکمران خاندان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حرمین شریفین پر جتنا خرچ ہو رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ سعودی مملکت میں صرف فٹ بال کے کھیل پر خرچ ہو رہا ہے۔ دوسرے اخراجات کی بھی کوئی حد و انتہا نہیں۔ مغربی ممالک میں کون سی مشہور جگہ ہے جہاں ان کے کروڑوں اربوں کے پیلس (محل) نہ ہوں۔ حرمین کو شرک و بدعت کے مظاہر ہے پاک کرنا یقیناً‌ ایک مستحسن اقدام ہے مگر سیاسی و اجتماعی صورتحال یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ مکہ مکرمہ، اور سعودیہ کا قبلہ امریکہ بن چکا ہے۔ مختلف مسلک کے مصلے حرمِ مکہ سے ختم کر کے یکجہتی کو فروغ دینا بلاشبہ قابلِ تعریف اقدام ہے، مگر ساتھ ہی ملت کی اجتماعیت اور سیاسی حیثیت کو نقصان سے بچانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

مغربی ذرائع کے مطابق سعودیہ نے امریکہ کے اشارے پر سوڈان کی اسلامی حکومت کے خلاف وہاں کے باغی عیسائیوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ شمالی و جنوبی یمن کے اتحاد کے خلاف کروڑوں ریال کے خرچ سے جلاوطن کمیونسٹ حکومت بنائی گئی۔ اور اب افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے امریکی فارمولے پر عمل کروانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اگر ہم طویل عرصہ کے سعودی عرب کے سیاسی کردار کا خلاصہ ایک جملے میں ادا کرنا چاہیں تو وہ یہ ہو گا کہ ’’غریب مسلم ملکوں کی مالی امداد کر کے انہیں امریکہ کی غلامی پر راضی کرنا۔‘‘

دستاویزات کی روشنی میں اب یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ مصر کے مرحوم صدر سادات کا کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ ہو، یا یاسر عرفات کا موجودہ فلسطین اسرائیل سمجھوتہ، ان سب کے پیچھے سب سے بڑی حقیقت ہمارے حکمرانوں کا مغرب نواز کردار ہے۔

عرصہ دراز سے دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے نام پر سعودی سرمایہ میرے خیال میں نمائشی چیزوں پر صَرف ہو رہا ہے۔ جس میں سرفہرست یورپ اور امریکہ میں لاکھوں کروڑوں ڈالر کی لاگت سے عالی شان مساجد کی تعمیر بھی ہے۔ چند ماہ پہلے ایڈنبرا میں دو ملین پونڈ کی لاگت سے ایک شاندار مسجد تعمیر کی گئی۔ اس مسجد کے افتتاحی دن کی تقریب پر تخمیناً‌ اتنی ہی رقم خصوصی طیاروں، فائیو سٹار ہوٹلوں، مرسڈیز کاروں اور نمود و نمائش کی نذر ہو گئی۔ کون نہیں جانتا کہ موجودہ دور میں دین کے نام پر دی جانے والی امداد درحقیقت سیاسی لابنگ کے لیے ہوتی ہے۔

گزشتہ پچیس سال میں دنیا بھر کے پچاس مسلم ملکوں نے برطانیہ میں اپنی لابنگ پر جتنی رقم صَرف کی، اس سے کہیں زیادہ اس مقصد کے لیے سعودی عرب نے خرچ کی، تقریباً‌ بیس کروڑ پونڈ کے لگ بھگ۔ مگر سعودی عرب کی اس خطیر مالی امداد سے برطانیہ میں مسلمانوں کا کوئی اجتماعی اہم مسئلہ ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ یہ ساری امداد ایسے اداروں، مساجد اور افراد کو دی گئی جن کی بدولت برطانیہ میں ایسے مولویوں کی پوری کھیپ تیار ہو چکی ہے جن کا ایمان سعودی عرب کی ثناخوانی اور وفاداری بن چکا ہے۔ اب تو رمضان اور عیدین کا چاند بھی سعودی عرب سے برآمد ہونے لگا ہے۔

ہم یہ باتیں اپنے زخمی دل پر پتھر رکھ کر لکھ رہے ہیں۔ عموماً‌ ہمارے حکمرانوں کے کرتوت ہر صاحبِ حمیت مسلمان کو تڑپانے والے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے حکمران خدائے واحد پر بھروسہ کر کے مغرب کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ہر دردمند مسلمان کی دلی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو اتنی عقل دے کہ وہ یہود و نصاریٰ کے آلۂ کار بننے کے بجائے محمدؐ رسول اللہ کے وفادار بنیں۔

عالم اسلام اور مغرب

(دسمبر ۱۹۹۹ء)

دسمبر ۱۹۹۹ء

جلد ۱۰ ۔ شمارہ ۲۳ و ۲۴

طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نماز کی اہمیت اور چند ضروری مسائل
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

روزہ کی اہمیت اور اس کے تقاضے
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

مسلم پرسنل لاء اور بھارتی مسلمانوں کی جدوجہد
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

عربوں کی دولت پر مغربی ممالک کی عیاشی
مولانا محمد عیسٰی منصوری

قرآنی علوم کے ارتقائی مراحل
مولانا ظفر احمد اعظمی

معاشرہ میں دینی مدارس کا کردار اور اہمیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اظہاری رویے میں تخیل کی اہمیت
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

تعارف و تبصرہ
ادارہ الشریعہ

کرائے کی کلیسائیں اور واشنگٹن آفس
میجر (ر) ٹی ناصر

چیچن مجاہدوں کی عظمت کو سلام
عبد الرشید ارشد

تلاش

شماریات