علوم قرآن سے مراد وہ تمام علوم ہیں جن کا تعلق قرآن کریم سے ہے، جیسے علم تفسیر، علم قراءۃ، اسباب نزول و شان نزول کی معرفت، ناسخ و منسوخ کا علم، مکی و مدنی سورتیں، نزول قرآن میں سورتوں و آیتوں کی ترتیب، جمع قرآن اور اس کی کتابت، اعجاز قرآن وغیرہ وغیرہ۔ اور موجودہ زمانہ میں مستشرقین کے اعتراضات جو وحی اور قرآن پر ہیں ان کے جوابات، یہ سب بھی علوم قرآن کے اندر داخل ہوں گے۔ اس طرح علوم قرآن کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا۔
لیکن یہ علم کب وجود میں آیا اور کن مراحل سے گزرتا ہوا ہم تک پہنچا؟ اس کو جاننے کے لیے نزول قرآن کے وقت سے اب تک کے تمام ادوار کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اس پورے زمانے کو پہلے ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: (۱) دور تمہید (۲) دور تدوین اور اس کے مختلف مراحل۔
دورِ تمہید
قرآن کریم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کے جمع کرنے اور بیان کرنے کی ذمہ داری لے لی گئی۔
ان علینا جمعہ و قرانہ۔ فاذا قراناہ فاتبع قرانہ۔ ثم ان علینا بیانہ۔ (القیامہ ۱۷۔۱۹)
ترجمہ: ’’بے شک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوانا، تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپؐ اس کے تابع ہو جایا کیجیے، پھر اس بیان کر دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔‘‘
صحابہ کرامؓ صحیح عربیت کا ذوق رکھنے کی وجہ سے قرآن کے مطالب، اوامر و نواہی کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آیت کا شان نزول کیا ہے اور کس موقع پر قرآن کی کون سی آیت نازل ہوئی۔ انہیں جب کسی آیت کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے اور آپؐ سے اس کی تفسیر معلوم کرتے۔ چنانچہ جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مہتدون۔ (الانعام ۸۲)
ترجمہ: ’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا، ایسوں ہی کے لیے تو امن ہے۔‘‘
تو صحابہ کرامؓ کو تشویش ہوئی اور کہا ’’اینا لم یظلم نفسہ؟‘‘ ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے اوپر ظلم نہیں کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ظلم سے مراد شرک باللہ ہے۔ چنانچہ قرآن کی دوسری آیت میں ہے:
ان الشرک لظلم عظیم۔ (لقمان ۱۳)
ترجمہ: ’’بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
اس طرح دور رسالتؐ اور دور صحابہؓ میں علوم قرآن کی تدوین کی کوئی حاجت نہیں تھی۔ پھر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی اکثریت ناخواندہ تھی کہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اور ان کے علم کا سارا دارومدار قوت حافظہ پر تھا۔ نیز یہ بات بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو قرآن کے علاوہ دوسری چیزوں کے لکھنے سے منع کر دیا تھا کہ مبادا قرآن کے ساتھ کسی دوسری چیز کا اختلاط ہو جائے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تکتبوا عنی و من کتب غیر القرآن فلیمحہ وحدثوا عنی و لا حرج و من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ فی النار۔
ترجمہ: ’’میری طرف سے قرآن کے علاوہ دوسری چیزوں کو مت لکھو۔ جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہے تو اس کو مٹا دو۔ میری طرف سے بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جس نے قصدا میری طرف سے جھوٹ کہا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘
اس طرح عہد رسالت میں علوم قرآن کا دارومدار ایک دوسرے سے تلقی اور سماع پر رہا۔ ابتدائی تدوین قرآن عہد صدیقی میں حضرت عمرؓ کے مشورہ سے ہوا۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کے زمانۂ خلافت میں عرب و عجم کا اختلاط زیادہ ہوا تو انہوں نے اسی مصحف صدیقی کی مختلف نقلیں کرا کر مختلف ملکوں کو روانہ کر دیں اور یہ بھی حکم جاری فرما دیا کہ اس کے علاوہ جو قرآن کے نسخے ہوں، انہیں جلا دیا جائے، مبادا امت میں اس کی وجہ سے اختلاف پیدا ہو۔ یہ حضرت عثمانؓ کی فراست ایمانی تھی جو کہ انہوں نے یہ حکم دیا۔
ہمارے موضوع سے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت عثمانؓ نے کتابت کے سلسلے میں بعض بنیادی چیزیں بتائیں، جنہیں بعد میں چل کر علم رسم قرآن یا علم رسم عثمانی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اسی طرح پر حضرت عثمانؓ کو علم رسم قرآن کا موسس یا واضع کہا جا سکتا ہے۔ نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابوالاسود الدولی (متوفی ۶۹ھ) کو عربی زبان کی سلاست و صحت کے لیے بعض قواعد کو مرتب کرنے کو کہا، تو اس بنا پر حضرت علیؓ کو علم اعراب کا موسس کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ علوم قرآن کے واضعین اور موسسین میں مندرجہ ذیل حضرات ہیں:
- صحابہ کرامؓ میں سے خلفائے اربعہؓ، ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ، زید بن ثابتؓ، ابی بن کعبؓ، ابو موسی اشعریؓ، اور عبد اللہ بن زبیرؓ۔
- تابعین میں سے مجاہدؒ، عطاء بن یسارؒ، عکرمہؒ، قتادہؒ، حسن بصریؒ، سعید بن جبیرؒ، اور زید بن اسلمؒ۔
- اور تبع تابعین میں سے حضرت مالک بن انسؒ کو کہا جا سکتا ہے، جنہوں نے حضرت زید بن اسلمؒ سے یہ علم حاصل کیا۔
یہ تمام حضرات ان علوم کے بانی اور موسس ہیں جنہیں اب ہم علم تفسیر، علم اسباب نزول، علم مکی و مدنی، علم ناسخ و منسوخ، علم غریب القرآن کے نام سے موسوم کرتے ہیں، یا مجموعی طور پر علوم قرآن کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
دورِ تدوین
دور تدوین کو ہم نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے:
- پہلا دور دوسری صدی ہجری پر ختم ہوتا ہے، اس دور میں علم تفسیر کے علاوہ دوسرے علوم قرآن شروع نہیں ہوئے تھے۔
- دوسرا دور تیسری صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے، جب تفسیر کے علاوہ دوسرے علوم قرآن کی بھی تدوین شروع ہوئی۔ یہ دور آٹھویں صدی ہجری پر ختم ہوتا ہے، اس میں ہر صدی کی مشہور کتابوں کا ذکر ہے جو اس موضوع پر لکھی گئیں۔
- تیسرا دور آٹھویں صدی ہجری سے شروع ہو کر نویں صدی ہجری پر ختم ہوتا ہے، اس دور میں علوم قرآن میں بہت سے جدید علوم داخل ہوئے، جیسے امثال القرآن اور جدل القرآن وغیرہ۔
- چوتھا دور دسویں صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ زمانہ کو بھی شامل ہے، یہ دور اخیر ہے۔
پہلا دور
جب علوم کی تدوین کا دور شروع ہوا تو سب سے پہلے علم تفسیر کو مدون کیا گیا کہ وہ تمام علوم قرآنیہ کی اصل اور بنیاد ہے۔ دوسری صدی ہجری کے جن علماء کرام نے اس فن کی طرف توجہ کی اور اس میں کتابیں تصنیف کیں، ان میں سے سر فہرست شعبہ بن الحجاج محدث بصرہؒ، سفیان بن عیینہؒ جو اہل حجاز کے تفسیر و حدیث میں امام کہلاتے ہیں، اور وکیع بن الجراحؒ جو عبد اللہ بن المبارکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے استاذ ہیں۔ ان حضرات نے علم تفسیر سے شغل رکھا، ان کی تفسیرات صحابہ کرامؓ اور تابعین کے اقوال و آراء کی جامع ہیں۔
پھر انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ابن جریر طبریؒ (متوفی ۳۱۰ھ) نے اپنی تفسیر لکھی، جس میں احادیث صحیحہ، اعراب، استنباط مسائل کا ذکر کیا۔ وہ نہج، جس کو ابن جریر طبریؒ اور اس سے پہلے کے مفسرین نے اختیار کیا، یعنی صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال و آراء پر اکتفا کیا، تفسیر کے اس طرز کو تفسیر بالماثور کہا جاتا ہے۔
اسی دور میں تفسیر کا دوسرا نہج بھی شروع ہوا، جس کو تفسیر بالرائے کہا جاتا ہے۔ پھر قرآن کی مختلف تفسیریں لکھی گئیں، کسی نے مکمل قرآن کی تفسیر لکھی، کسی نے ایک جز، ایک سورہ، اور کسی نے خاص خاص آیتوں کی، مثلا تفسیر آیات الاحکام، جس کو تفسیر موضوعی بھی کہا جاتا ہے۔
دوسرا دور
اس دور میں تفسیر کے علاوہ دوسرے علوم قرآن کی تصنیف و تالیف ہوئی اور علماء کرام نے خاص طور پر اس کی طرف توجہ کی۔
چنانچہ تیسری صدی ہجری میں علی بن المدینیؒ، جو امام بخاریؒ کے شیخ ہیں، انہوں نے اسباب نزول پر، اور ابوعبید القاسم بن سلامؒ نے ناسخ و منسوخ اور قراءۃ و فضائل قرآن پر لکھا، اور محمد بن ایوب الفریسؒ (۲۹۴ھ) نے مکی و مدنی سورتوں کے بارے میں لکھا، اور محمد بن خلف بن المرزبانؒ (۳۰۹ھ) نے اپنی کتاب الحاوی فی علوم القرآن تصنیف کی، ابن ندیمؒ نے الفہرست میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ ۲۷ اجزاء پر مشتمل ہے۔
واضح رہے کہ قرآن کے متعلق سارے علوم کے لیے ’’علوم القرآن‘‘ کا لفظ بطور اصطلاح کے سب سے پہلے محمد بن خلف بن المرزبانؒ نے اپنی کتاب ’’الحاوی فی علوم القرآن‘‘ میں استعمال کیا۔
چوتھی صدی ہجری میں ابوبکر محمد بن القاسم الانباریؒ (۳۲۸ھ) نے ’’عجائب علوم القرآن‘‘ تالیف کی، جس میں انہوں نے فضائل قرآن، قرآن کا سات حرفوں پر نزول، مصاحف کی کتابت، سورتوں اور آیتوں کی تعداد، نیز کلمات قرآنی کی تعداد پر بحث لکھی۔ ابوالحسن اشعریؒ (۳۲۴ھ) نے ایک عمدہ کتاب ’’المختزن فی علوم القرآن‘‘ کے نام سے لکھی۔ ابوبکر السجستانیؒ نے ’’فی غریب القرآن‘‘ اور ابو محمد القصاب محمد بن علی الکرخیؒ نے ’’نکت القرآن الدالۃ علی البیان فی انواع العلوم والاحکام المنبئۃ عن اختلاف الانام‘‘ تصنیف کی، اور محمد بن علی الادفویؒ (۳۸۸ھ) نے ’’الاستغناء فی علوم القرآن‘‘ بیس جلدوں میں لکھی۔
پانچویں صدی ہجری میں ابو الحسن علی بن ابراہیم بن سعید الحوفیؒ (۴۳۰ھ) نے ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ اور ’’اعراب القرآن‘‘ نامی دو کتابیں تصنیف کیں۔ ابو عمرو الدانیؒ (۴۴۴ھ) نے ’’التیسیر فی القراءات السبع‘‘ اور ’’المحکم فی النقط‘‘ لکھیں۔
چھٹی صدی ہجری میں ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ، جو السہیلیؒ (۵۸۱ھ) کے نام سے مشہور ہیں، انہوں نے ایک کتاب ’’تنبیہات القرآن‘‘ لکھی۔ حاجی خلیفہؒ نے اپنی کتاب ’’کشف الظنون‘‘ میں اس کا نام ’’التعریف والاعلام بما ابہم فی القرآن من الاسماء والاعلام‘‘ بتایا ہے، نام سے کتاب کی غرض و غایت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔
علامہ ابن الجوزیؒ (۵۹۷ھ) نے بھی دو کتابیں ’’فنون الافنان فی عیون علوم القرآن‘‘ اور ’’المجتبی فی علوم تتعلق بالقرآن‘‘ لکھیں۔
ساتویں صدی ہجری میں عز الدین ابن عبد السلامؒ (۶۶۰ھ) نے مجاز القرآن کے متعلق ایک کتاب ’’الاشارۃ الی الایجاز فی بعض انواع المجاز‘‘ لکھی۔ علم الدین السخاویؒ (۶۴۳ھ) نے ’’جمال القراء وکمال الاقراء‘‘ اور ابو شامہ المقدسیؒ (۶۶۵ھ) نے ’’المرشد الوجیز فیما یتعلق بالقرآن العزیز‘‘ لکھی۔
تیسرا دور
اس دور میں سابقہ علوم قرآن کے ساتھ ساتھ علوم قرآن سے متعلق کچھ نئے گوشے رونما ہوئے، جیسے بدائع القرآن، حجج القرآن، اقسام القرآن اور امثال القرآن وغیرہ۔ بدیع کے جو انواع قرآن کریم میں وارد ہوئے ہیں، اس موضوع پر ابن ابی الاصبع المصریؒ (۶۵۴ھ) نے ایک مستقل کتاب ’’بدیع القرآن‘‘ لکھی۔ حجج القرآن یا علم جدل القرآن — یعنی قرآن میں براہین اور ادلہ کے جو انواع مذکور ہیں — اس موضوع پر نجم الدین الطوفیؒ (۷۱۶ھ) نے ایک کتاب لکھی۔ اقسام القرآن پر متقدمین علماء میں سے ابن القیمؒ (۷۵۱ھ) نے ’’التبیان فی اقسام القرآن‘‘، اور متاخرین علماء میں سے مولانا حمید الدین فراہیؒ نے اپنی کتاب ’’امعان فی اقسام القرآن‘‘ لکھی۔ امثال القرآن کی بہت سی مثالیں ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘، جو علامہ سیوطیؒ کی ہے، اس کی ۶۸ ویں نوع میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
آٹھویں صدی ہجری میں بدر الدین الزرکشیؒ (۷۹۴ھ) نے ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ لکھی، جو استاد محمد ابو الفضل ابراہیمؒ کی تحقیق کے ساتھ چار جلدوں میں شائع ہوئی۔
نویں صدی ہجری میں جلال الدین البلقینیؒ (۸۲۴ھ) نے ’’مواقع العلوم فی مواقع النجوم‘‘ تصنیف کی۔ پھر جلال الدین سیوطیؒ (۹۱۱ھ) نے ’’التبحیر فی علوم التفسیر‘‘ اور ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ لکھیں۔ مؤخر الذکر کتاب میں الزرکشیؒ کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ سے بڑی حد تک مدد لی گئی ہے۔
چوتھا دور
نویں صدی ہجری کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ پھر بہت سے علماء نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور مختلف تصنیفات دنیا کے سامنے آئیں۔ کسی نے تاریخ القرآن پر لکھا اور کسی نے علوم قرآن اور متعلقات قرآن پر۔ شیخ طاہر الجزائریؒ نے ’’التبیان لبعض المباحث المتعلقۃ بالقرآن‘‘، شیخ محمد جمال الدین القاسمیؒ نے مقدمۂ تفسیر ’’محاسن التاویل‘‘، شیخ محمد عبد العظیم الزرقانیؒ نے ’’مناہل العرفان فی علوم القرآن‘‘، اور شیخ محمد علی سلامہؒ نے ’’منہج الفرقان فی علوم القرآن‘‘ لکھیں۔
عربی زبان و ادب کے استاد کبیر مصطفی صادق الرافعیؒ نے ’’اعجاز القرآن والبلاغۃ النبویۃ‘‘، استاد سید قطبؒ نے ’’التصویر الفنی فی القرآن‘‘، اور استاد مالک بن نبیؒ نے ’’الظاہرۃ القرآنیۃ‘‘ لکھی، جس میں مسئلۂ وحی پر بہت عمدہ بحث کی گئی ہے۔
علامہ رشید رضا مصریؒ کی ’’تفسیر القرآن الحکیم‘‘ — جو ’’تفسیر المنار‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے — اس کے مقدمے میں بھی علوم قرآن پر بہت عمدہ مواد موجود ہے۔ جدید کتابوں میں ڈاکٹر محمد عبد اللہ درازؒ کی دو کتابیں ’’النبا العظیم‘‘ اور ’’نظرات جدیدۃ فی القرآن‘‘، شیخ محمد الغزالیؒ کی کتاب ’’نظرات فی القرآن‘‘، استاد محمد المبارک (عمید کلیہ الشریعہ جامعہ دمشق) کی کتاب ’’المنہل الخالد‘‘، ڈاکٹر مناع القطان کی کتاب ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘، ڈاکٹر صبحی الصالح کی کتاب ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘، اور شیخ محمد علی الصابونیؒ کی کتاب ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ قابل ذکر ہیں۔
امت اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہونے کی وجہ سے عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی اس موضوع پر کتابیں وجود میں آئیں۔ ہمارے ہندوستانی علماء میں سے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’الفوز الکبیر‘‘ جو اصلا فارسی میں لکھی گئی ہے، وہ علوم قرآن ہی کے موضوع پر ہے۔ ابھی چند سال ہوئے اس کی عربی زبان میں مولانا سعید احمد صاحب پالنپوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے ’’العون الکبیر‘‘ کے نام سے بہت عمدہ شرح لکھی ہے۔
موجودہ زمانہ میں علوم قرآن کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سی چیزوں کا انکشاف اور مختلف چیزوں کی تسخیر دنیا کے سامنے آئی تو بہت سے لوگوں نے قرآن اور تسخیر کائنات کے موضوع پر قلم اٹھایا۔ ان ساری بحثوں کو علوم قرآن ہی کے دامن میں جگہ ملنی چاہیے۔ ایسے ہی اعدائے اسلام نے جو قرآن کے اوپر اعتراضات کیے ہیں اور علمائے اسلام نے ان کے مختلف زبانوں میں جوابات دیے ہیں، یہ ساری بحثیں بھی علوم قرآن سے متعلق سمجھی جائیں گی۔ اس طرح علوم قرآن کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔
یہ علوم قرآن کے متعلق چند سطریں ہیں، اس کا مقصد اس موضوع پر لکھی گئی ساری کتابوں کا استقصاء یا احاطہ نہیں ہے، اور یہ اس جیسے چھوٹے مضمون میں ممکن بھی نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ یہ علم ہم تک کن مراحل سے گزرتا ہوا پہنچا ہے اور علمائے اسلام نے اس ایک موضوع پر کس طرح کتابیں لکھی ہیں، اور امت اسلامیہ کبھی بھی ایسے علماء کرام سے خالی نہیں رہی ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)



















