مطالعہ صحیح بخاری وصحیح مسلم (۴)

ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن

ڈاکٹر سید مطیع الرحمٰن / عمار خان ناصر



مطیع سید: ایک پیشین گوئی ہے کہ اسلام غریب ہو جائے گا اور غریبوں کے لئے خوشخبری ہے۔1 غریبی کا اسلام سے کیا تعلق؟

عمار ناصر: غریب کا لفظ اجنبی کے معنوں میں ہے۔ جو لوگ اپنے ماحول میں صحیح اسلام پر عمل کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں اجنبی بن جائیں اور ماحول کے رنگ میں نہ رنگے جائیں، وہ مراد ہیں۔

مطیع سید: لوگوں سے قتال کروجب تک وہ لا الہ نہ کہہ دیں۔2 یہ کیا کوئی خاص مشرکین کے لیے حکم تھا؟کیونکہ دین میں تو جبر نہیں ہے۔

عمار ناصر: یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اگر کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو اللہ تعالیٰ اسے سزادیتے ہیں۔ یہ جبر ہی ہےکہ اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ ایمان لاو، اگر نہیں لاتے تو سزا ملے گی۔ اسی طریقے پر حضرت موسیؑ کی قوم کو شرک اختیار کرنے پر قتل کی سزا دی گئی۔ تو اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کا مواخذہ کر نا چاہے تو کر لیتا ہے، یعنی اللہ چاہے تو جبرکر سکتاہے۔ ایمان نہ لانے کی آزادی بھی اس نے دی ہے، تو وہ جب چاہے، اپنی حکمت کے تحت یہ آزادی سلب بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ حق انسانوں کو حاصل نہیں ہے، مجھے اور آپ کو اللہ نے یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم لوگوں سے جبراً‌ ایمان کا مطالبہ کریں۔

اسی ضابطے کے مطابق قرآن مجید میں عرب کے مشرکین کو حجۃ الوداع کے موقع پر ایک مہلت دی گئی اور اس سے پہلے بھی اعلان کیا گیا کہ وہ اگر شرک چھوڑ کر ایمان نہیں لاتے تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ یہ حدیث بھی اسی سے متعلق ہے۔ البتہ فقہا کے ہاں اس میں کئی بحثیں ہیں۔ بعض اس حدیث کو اسی آیت کےتحت سمجھتے ہیں اور مشرکین عرب کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عمومی طور پر جہاد اور قتال کا حکم ہے جو کسی کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔ مقصود اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہو جائیں۔ پھر اس میں بعض گروہوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ گنجائش بھی دے دی کہ وہ اگر جزیہ دے کر اپنے دین پر قائم رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔

مطیع سید: ایک آدمی کو پھوڑا نکلا۔ اس نے اسے پھاڑدیا اور اسی کے باعث مر گیا توآپ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر جنت حرام ہو گئی۔3 آپ ﷺ نے اسے خودکشی کے زمرے میں لیا حالانکہ پھوڑے کو پھاڑنا تو ٹھیک ہی ہوتا ہے؟

عمار ناصر: نہیں، اس میں نیت کو دیکھنا اہم ہے۔ اگر تو اس نے علاج کے لیے پھاڑا ہے یا غلطی سے پھٹ گیا تو وہ اور بات ہے۔ یہ وعید اس وقت صادق ہوگی جب اس نے مرنے یعنی خود کشی کی نیت سے ہی پھاڑا ہو۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے انصار کو فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔4 تو کیا اس بات کو ہم خلافت کی تقسیم کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں؟

عمار ناصر: نہیں، خلافت کے حوالے سے تو آپ ﷺ نے انصار کو واضح طور پر منع کر دیا تھا کہ تم اس کشمکش میں شریک نہ ہونا۔ یہاں قومی خزانے سے دی جانے والی مراعات میں ترجیح کی بات ہو رہی ہے کہ جب خزانے آئیں گے، اموال آئیں گے تو ان کی تقسیم میں تمہیں نظر انداز کیا جا ئے گا اور باقی لوگوں کو دیا جا ئےگا تو تم اس پر صبر کرنا۔

مطیع سید: آپ کہیں مہمان بن کر جائیں اور کوئی آپ کی مہمان نوازی نہ کرےتو اپنی مہمان نوازی کا حق اس سے لے لو۔5 یہ کس تناظرمیں نبی ﷺ نے فرمایا تھا؟

عمار ناصر: یہ آپ ﷺ نے لشکروں سے کہا تھا کہ جب تم کسی علاقے میں جاؤ اور وہ تمہاری مہمان نوازی نہ کریں یعنی قیام وطعام کے ضروری بندوبست میں تعاون نہ کریں تو تم جبراً‌ اپنا حق لے سکتے ہو۔

مطیع سید: اسلامی علاقوں میں یا کسی بھی علاقے میں؟

عمار ناصر: نہیں، کسی بھی علاقے میں۔

مطیع سید: مسافر کی حیثیت سے؟

عمار صاحب: مسافر کی حیثیت سے بھی لے سکتے تھے اور خاص طور پر بہت سے علاقے تھے جیسے نجران وغیرہ جن کے ساتھ باقاعدہ معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ اسلامی لشکر آئیں گے تو تم پابند ہو گے کہ مقامی طور پر ان کی مہمان نوازی کرو۔ اس تناظر میں فرمایا کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو جتنا تمہار ا حق بنتا ہے کہ تم جبراً‌ لے سکتے ہو۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ غلام اپنے مالک کے لیے رب کا لفظ نہ بولے۔6

عمار ناصر: جی، یہ مناسب نہیں ہے۔ رب کے لفظ میں پالنے پوسنے کا مفہوم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے۔

مطیع سید: لیکن نبی ﷺ نے خود بھی قیامت کی پیشین گوئی میں باندی کی مالکہ کے لیے ربتھا کا لفظ بولا۔7 حضرت یوسف بھی قرآن میں ایک جگہ عزیز مصر کو اسی لفظ سے یاد کرتے ہیں۔

عمار ناصر: درست ہے، نبی ﷺ نے بعض جگہ یہ لفظ بولابھی ہے۔ اس میں یوں ہوتا ہے کہ زبان میں اگر ایک لفظ رائج ہے تو عرف کے لحاظ سے آپ اس کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے، لیکن بعض موقعوں پر آپ محسوس کرتےہیں کہ اس لفظ کے استعمال سے ایک خاص طرح کا رویہ پیداہوتا ہے تو اس تناظر میں آپ کو کچھ تردد بھی محسوس ہوتا ہے۔ اسی پہلو سے آپ ﷺ بھی اس لفظ سے گریز کی تلقین فرما رہے ہیں۔

مطیع سید: کسی صحابی نے تلاوت فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے مجھے یہ آیات یاد دلادیں، میں ان کو بھول چکا تھا۔8 جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ہم آپ کو پڑھائیں گے اور آپ بھولیں گے نہیں۔

عمار ناصر: نہیں، وہ سنقرک فلاتنسیٰ میں جو بات کہی گئی ہے، وہ اور مفہوم میں ہے۔ وقتی طور پر بھول جانے کی نفی یہاں مراد نہیں ہے۔ نبی ﷺ اپنی ذاتی اور انفرادی حیثیت میں کوئی چیز بھول بھی سکتے تھے، قرآن کی کوئی آیت بھی بھول سکتے تھے۔ اس آیت میں دراصل قرآن کے نزول اور حفاظت کے دو مرحلوں کا ذکر ہے۔ ایک جب قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس میں کمی بیشی اور نسخ کا معاملہ بھی جاری تھا۔ اس مرحلے پر آپ پر نازل کیے جانے والے کئی حصوں کو مستقلاً‌ محفوظ کرنا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں تھا۔ اللہ کی حکمت کے تحت یہ حصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یادداشت میں بھی محفوظ نہ رہے ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی حوالے سے اس آیت میں کہا گیا کہ آپ اس کے متعلق فکرمند نہ ہوں، کیونکہ دوبارہ جب ہم آپ کو اس کی قراءت پڑھائیں گے جو حتمی ہوگی تو پھر آپ اس کو نہیں بھولیں گے۔

مطیع سید: یعنی یہ آیات وقتی طور پر آپ کو مستحضر نہیں تھیں؟

عمار ناصر: جی، مستحضر نہیں تھیں۔

مطیع سید: رھط، یہ لفظ آدمی کے معنی بھی آتا ہے؟

عمار ناصر: آدمی کے معنوں میں نہیں، عام طور پر چھوٹی جماعت کے معنوں میں آتا ہے۔

مطیع سید: میں نے کہیں اس کے معنی آدمی کے دیکھے تو مناسب نہیں لگا۔

عمار ناصر: قافلہ، جماعت، چھوٹا گروہ، ان معنوں میں آتا ہے۔ مفردکے لیے استعمال کی کوئی نظیر میری نظر میں نہیں ہے۔ ممکن ہے اصل لغت میں اس کی گنجائش ہو۔

مطیع سید: بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی زمینیں مسلمانوں کو مل گئی تھیں اور ان کی پیداوار سے سال بھر کا خرچ آپ ﷺ کے گھر بھی آجاتا تھا۔ تو یہ جو کہا جاتا تھا کہ دو دو ماہ تک چولہا نہیں جلتا تھا، یہ کس دور کی بات ہے؟

عمار ناصر: روایت میں تو تصریح نہیں ہے کہ یہ کب کی بات ہے۔ دیکھنا پڑے گا کہ پہلے کی بات ہے یا بعد کی۔

مطیع سید: حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پتلی روٹی اور بھنی ہوئی بکری کبھی نہیں کھائی۔9 جبکہ مختلف روایات موجود ہیں کہ آپ ﷺ کو دستی کا گو شت بہت پسند تھا10 اور حضرت انس تو حضور ﷺ کے پاس مسلسل دس سال رہے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتاہے؟ یہ کب کی روایت ہے؟

عمار ناصر: اس طرح کی روایتیں غالباً‌ عموم کے لحاظ سے صورت حال کو بیان کر دیتی ہیں۔ دیگر تفصیلات کو سامنے رکھیں تو صورت حال اس سے تھوڑی مختلف دکھائی دیتی ہے۔

مطیع سید: کیا یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ﷺ کی ازواج میں سے ایک زوجہ محترمہ نے فرمایاکہ میں نے حضور ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا؟11

عمار ناصر: چاشت کی نماز معمولاً‌ پڑھنے کا تو واقعی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ کسی موقع پر آپ ﷺ سفر سے آئے تو دو رکعتیں ادا فرما لیں یا فتح مکہ کے موقع پر آٹھ رکعات ادا کیں۔ عموم میں آپ کا یہ معمول نہیں تھا۔ البتہ آپ کی معیشت سے متعلق اس طرح کی روایتیں محلِ غور ہیں۔ ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی صاحب کی ایک اچھی تحقیق مدنی عہدِ میں نبی ﷺ کی معیشت کے موضوع پر انڈیا کے کسی علمی مجلے میں اور یہاں ماہنامہ اشراق میں بھی شائع ہوئی تھی۔ مجھے اس کی تفصیل مستحضر نہیں، لیکن اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے، انہوں نے اس پر کوئی روشنی ڈالی ہو ۔

مطیع سید: عجوہ کھجور کے بارےمیں بخاری کی جو روایت ہے کہ اس کے کھانے سے جادو اثر نہیں کرتا،12 کیا لوگوں نے اس کا تجربہ کیا ہے؟ کیونکہ یہ تو تجربے سے تعلق رکھنے والی چیزہے۔ کیا کسی نے کہیں اس کاتجربہ لکھا بھی ہے؟

عمار ناصر: ابن قیم نے زاد المعاد میں اس پر بات کی ہے۔ وہ اس میں کئی تحدیدات بیان کرتے ہیں کہ کیا مطلق عجوہ میں شفا ہے یا یہ عجوۃ العالیہ یعنی مدینے کے بالائی حصے میں اگنے والی کھجور کی خاصیت ہے، کیونکہ حدیث میں مدینے کی بالائی بستی کے بار ے میں شفا کا ذکر آیا ہے۔ تو بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ یہ اس کے ساتھ خاص ہے۔

مطیع سید: راویوں کی جانچ پرکھ کے تو بہت سے اصول ہیں۔ اس پر کتابیں بھی ہیں، بہت کام ہواہے۔ کیا متن پر تنقیدکے حوالےسے بھی اتنا کام ہوا ہے؟

عمار ناصر: کچھ نہ کچھ ہواہے۔ درایتاً‌ نقد کرنے کے اصولوں کی مثالیں تو بہت ملتی ہیں لیکن ان کو اصولی قالب میں ڈھالنے کا کام زیادہ نہیں ہوا۔ احناف کے ہاں کچھ تھوڑی سی بحث ملتی ہے، لیکن وہ زیادہ جامع نہیں۔ حنفی اصول ِ فقہ کی کتابوں میں اس بحث کو روایت کے معنوی انقطاع کا عنوان دیتے ہیں۔ اس میں کچھ اصولوں کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر فقہی مسائل سے ہوتا ہے۔ لیکن عمومی طورپر ہر طرح کی روایات کو درایتاً‌ دیکھنے کے اصول کیا ہیں، اس پر یکجا اور مربوط شکل میں کام نہیں ہے، بکھراہو کام ہے۔ تاہم انفرادی مثالیں بہت ملتی ہیں۔

مطیع سید: گھوڑا اور گدھا دیکھنے میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، پھر کس اصول کے تحت گدھا حرام ہے اور گھوڑا حلال ہے؟ درندہ صفت ہونے کی جو علامات ہیں، وہ تو ان دونوں میں نہیں ہیں۔

عمار ناصر: اصل میں یہ تین اصناف بنتی ہیں۔ اصول تو یہ ہے کہ خبائث ممنوع ہیں اور طیبات حلال ہیں۔ خبائث میں ایک کیٹیگری بالکل واضح ہے، جیسے طیبات میں بھی ایک کیٹیگری ہے جو بالکل واضح ہے۔ درمیان میں کچھ اشتباہ والی چیزیں بھی ہیں۔ تو اس میں ہم خود اپنے اصول سے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس میں دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ کہیں پیغمبر کے ذوق اور پیغمبر کی فطرت سلیمہ نے ایک فیصلہ کیا ہے تو اس کو ہم قبول کر لیں گے۔ یا اگر پیغمبر کی طرف سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی اور وہ چیز اس درمیان کی کیٹیگری میں ہے تو اس میں اجتہادی اختلاف پیدا ہو جائے گا۔

مطیع سید: تو کیا مذکورہ مسئلے میں کوئی اجتہادی اختلاف نہیں ہے؟

عمار ناصر: گدھے کے بارے میں یہ بحث رہی ہے، لیکن وہ بحث نص سے استدلال پر ہے۔ عبد اللہ بن عباس اور کوئی دوسرے صحابہ کا خیال یہ تھا کہ گدھےاصولاً‌ حرام نہیں ہیں۔ نبی ﷺ نے کسی اور عارضی وجہ سے ان کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے ان کا جو استدلال ہے، وہ نص سے ہے۔ یعنی جو حرام جانور ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کر دیے ہیں اور گدھا اس میں شامل نہیں ہے۔

مطیع سید: اور گھوڑے کے بارے میں کیا اختلاف ہے؟

عمار ناصر: گھوڑے کے بارے میں حنفی فقہا کی رائے کراہت کی ہے۔ امام ابو حنیفہ سے منسوب ایک روایت ہے کہ وہ اسے حرام تو نہیں کہتے لیکن ناپسند کرتے ہیں۔

مطیع سید: مزفت ایک برتن ہے۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ نے سارے برتنوں میں کھانے پینے کی اجازت دے دی تھی۔13 یہ کس قسم کا برتن تھا؟ کیا خاص وجہ تھی کہ اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی؟

عمار ناصر: اصل میں جن برتنوں کے استعمال سے منع کیا گیا، وہ بنیادی طور پر بنائے ہی اس لیے جاتے تھے کہ ان میں شراب پی جائے یا محفوظ کی جائے۔ ان میں نبیذ وغیرہ ڈال کر رکھنے سے وہ جلدی نشہ آور ہو جاتی تھی۔ مزفت میں شاید یہ تھا کہ باقی برتنوں میں اگر آپ احتیاط سے کام لیں تو تو نشہ آور ہونے سے پہلے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ مزفت میں برتن کے مسام وغیرہ اس طرح بند کر دیے جاتے تھے کہ تھوڑی تاخیر سے بھی اس میں نشہ پیدا ہو جاتا تھا۔ تو یہ سدِ ذریعہ کے طور پر ممانعت کی گئی تھی۔

مطیع سید: ہاتھی، زیبرا اور زرافہ جیسے جانوروں کے بارے میں کیا حکم ہے، یہ حلال ہیں یا حرام؟

عمار ناصر: اصل میں حرمت کی واضح علامت تو جانور کا چیر پھاڑ کرناہے۔ قرآن نے جانوروں کی حلت بیا ن کرتے ہوئے بہیمۃٰ الانعام کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس سے حلت کا جو معیار بنتاہے، وہ یہ ہے کہ انعامِ کی نوعیت کے چوپایے ہونے چاہییں، یعنی درندے نہ ہوں۔ ہاتھی کو فقہاء حرام ہی شمار کرتے ہیں، کیونکہ وہ اگرچہ چیر پھاڑ نہیں کرتا اور شکار بھی نہیں کرتا، لیکن اس کے دانتوں کی وجہ سے اس کی ظاہری ہیئت درندے کی سی ہے۔ البتہ زرافے اور زیبرے میں درندگی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ ان کا گوشت حلال سمجھا جاتا ہے۔

مطیع سید: گھوڑے کے حوالےسے نبی ﷺ نے حرمت کا حکم نہیں فرمایا بلکہ اجازت دی، جبکہ احناف کہتے ہیں کہ ابوداؤد کی روایت میں اس سے منع کیا گیا ہے۔14 آپ کس کو ترجیح دیں گے؟

عمار ناصر: احناف کے اندر بھی کئی رجحانات ہیں۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں بس کراہت ہے، ورنہ اصولاً‌ گھوڑا حلال ہے۔ بعض حرام کی طرح کی چیز سمجھتے ہیں اور وہ اسی ابو داؤود والی روایت سے استدلال کرتے ہیں۔ مالکیہ کے ہاں بھی شاید اسی طرح کا رجحان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے اصل میں ان کو کھانے پینے کے جانوروں سے الگ ذکر کیاہے۔ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اللہ نے تمہارے لیے انعام پیداکیے، اور اس کے بعد کہا ہے کہ اللہ نے گھوڑے گدھے اور خچر بھی سواری کے لیے پیداکیے ہیں۔ یعنی ان کو الگ ذکر کیا ہے۔ اسی طرح خالد بن ولید کی روایت میں بھی ممانعت کا ذکر ہے، لیکن محدثین کہتے ہیں کہ کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ محدثین کے معیار کے مطابق وہ ایک کمزور روایت ہے۔ مستند روایات محدثین کے نزدیک وہی ہیں جس میں گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت ہے۔

مطیع سید: گوہ کے بارے میں ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایاکہ یہ میرے علاقے میں نہیں ہوتی، اس لیے مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔15 لیکن دوسری جگہ پر یہ فرمایاکہ کچھ قوموں کو مسخ کر کے جانور بنا دیا گیا تھا، شاید یہ گوہ انھی کی نسل سے ہو۔16 پھر ایک دوسری حدیث میں بندروں کے بارے میں فرمایا کہ جو قومیں مسخ ہوئیں، ان کی آگے کوئی نسل نہیں چلی۔ لیکن گوہ کے بارے میں آپ ﷺ فرمارہے ہیں کہ قومیں مسخ ہوئیں ہیں۔

عمار ناصر: جی، یہ ایک مسئلے کے بارے میں دو متضاد روایتیں آگئیں جن میں ترجیح قائم کرنی پڑ ے گی۔ احناف حرمت والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں، دوسرے فقہاء کے نزدیک حلت کی روایت کو ترجیح حاصل ہے۔ جہاں تک کسی مسخ شدہ گروہ کی نسل سے ہونے کا تعلق ہے تو محدثین کہتے ہیں کہ شاید آپ نے پہلے اپنے قیاس اور ظن سے یہ بات فرمائی ہوگی، لیکن پھر آپ کو وحی سے بتا دیا گیا ہوگا کہ کسی مسخ شدہ گروہ کی نسل آگے نہیں چلی۔ جیسے دجال کے بارے میں آپ ﷺ کےبعض تبصروں سے لگتاہے کہ پوری طرح تفصیلات آپ ﷺ کو نہیں بتائی گئی تھیں اور آپ کچھ قیاسات سے بھی مدد لیتے تھے۔ ظاہر ہے، یہ کوئی شریعت کا مسئلہ نہیں تھا۔

مطیع سید: آپ ﷺ کو دو پیالےپیش کیے گئے، ایک دودھ کا اوردوسرا شراب کا۔ پھر جب آپ نے دودھ کا پیالہ لے لیا تو کہا گیا کہ اگر آپ شراب کا پیالہ لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔17 یہ آپ کی کیسی عجیب آزمائش کی گئی اور آپ کے پیالہ لینے سے آپ کی امت کی ہدایت یا گمراہی کا فیصلہ کیسے ہوا؟

عمار ناصر: یہ تمثیلی نوعیت کی ایک تعلیم تھی۔ مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ جیسے آپ راہ راست پر ہیں اور آپ نے درست انتخاب کیا ہے، اسی طرح آپ کی امت بھی مجموعی طور پر راہ راست پر قائم رہے گی۔

مطیع سید: آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا، لیکن خود کھڑے ہو کر پیا بھی۔18 حضرت علی کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر بھی پیا ہے۔19

عمار ناصر: اس کے متعلق دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ بعض لوگ اس میں بہت شدت کرتے ہیں، لیکن عام فقہا ءکا عمومی رجحان یہ ہے کہ کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی شرعی یا اخلاقی کراہت نہیں۔ ہاں، طبی پہلو سے یہ بہتر ہے کہ کھڑے ہوکر پینے سے احتیاط کی جائے اور بیٹھ کر سکون اور اطمینان سے پیا جائے تاکہ کوئی نقصان نہ ہو۔ اسی طرح استحباب یا ادب کے لحاظ سے بھی یہی مناسب ہے کہ بیٹھ کر پانی پیا جائے۔

مطیع سید: میں نے کئی جگہ یہ محسوس کیاہے کہ جب کوئی حدیث سامنے آتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ احناف نے جو بات پہلے طے کرلی ہے، حدیث سامنے آنے پر بجائے اس کو تسلیم کرنے کے ایسی تاویل کرتے ہیں کہ وہ ان کے موقف کے مطابق ہوجائے۔

عمار ناصر: دیکھیں، سبھی ایسے کرتے ہیں۔ اس میں بعض دفعہ تعصب بھی ہوتا ہے۔ جب کچھ آراء مقبول اور رائج ہوگئی ہوں اور فقہی پہچان بن گئی ہوں تو اس میں تعصب پیدا ہو جانا ایک قابل فہم بات ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ لازماً‌ تعصب ہی وجہ ہو۔ کئی مواقع پر مجموعی دلائل ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی روشنی میں کسی ایک حدیث کو ظاہری مفہوم میں لینے کے بجائے یہ بہتر محسوس ہوتا ہے کہ حدیث کو کسی ایسے مفہوم پر محمول کر لیا جائے جو مجموعی دلائل کے مطابق ہو۔

مطیع سید: حدیث کے شارحین میں آپ کی پسندیدہ ترین شخصیت کون سی ہے؟

عمار ناصر: حدیث کے شارحین میں میری پسندیدہ شخصیت علامہ انور شاہ کشمیری ہیں۔

مطیع سید: ان کی فیض الباری کی وجہ سے؟

عمار ناصر: جی، حدیث کی باقی جتنی بھی شروحات ہیں، ان کے اہم مباحث بھی فیض الباری میں آ جاتے ہیں اور ان کا یک بہت اچھا محاکمہ بھی مل جاتا ہے۔ شاہ صاحب کی جو باقی تحریریں ہیں جن میں وہ اصل میں کسی خاص فقہی مسئلے پر کلام کررہے ہوتے ہیں، وہاں تو کچھ ان کا رنگ مختلف ہے۔ لیکن فیض الباری میں یہ ہے کہ متن کے، سند کے بھی، فقہ کے، اصول فقہ اور اصول حدیث کے، ہر طرح کے مباحث آپ کو ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔ اس میں آپ کو ان کے علم کا بہت وسیع کینوس نظر آتاہے۔ حدیث کے فہم میں جو ان کا زاویہ ہے، اس سے آپ صحیح فائدہ تب اٹھاسکتے ہیں یا صحیح قدر وقیمت کااندازہ تب کر سکتے ہیں جب پوری دینی روایت کی نمائندہ چیزیں آپ کے سامنے ہوں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ شاہ صاحب ان بحثوں میں کیا اضافہ کر تے ہیں۔

مطیع سید: فقہا میں آپ کی پسندیدہ شخصیت؟

عمار ناصر: آپ اگر علمی صلاحیت کے لحاظ سے پوچھ رہے ہیں تو کچھ کہنا بہت مشکل ہے اور میری تو بالکل یہ حیثیت نہیں۔ ذہانت وذکاوت یا علمی سطح کے لحاظ سے تو شاید آپ کوئی خاص فرق نہیں کر سکتے۔ البتہ فقہی اپروچ کے متعلق اگر آپ پوچھنا چاہ رہے ہیں تو وہ حضرت عمر ہیں۔ اصل میں فقیہ الامت وہی ہیں۔

مطیع سید: تمام فقہا میں سے آپ کن کو دیکھتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر فاروق کی زیادہ پیروی کی ہو؟

عمار ناصر: مجموعی طور پر کچھ کہنامشکل ہے۔ ان کے ہاں جو اجتہاد کی اسپرٹ ہے، اس کے کچھ نہ کچھ نمونے سبھی فقہا کے ہاں ملتے ہیں۔ اسپرٹ سے مرا د یہ ہے کہ وہ حکم کو بالکل ظاہر پر لینے کی بجائے اس کے مقصد و منشا کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، اس کی روح اور مقصد کو متعین کرنے کے لیے عقل اور قیاس سے اور شریعت کے مقاصد اور پیش نظر مصالح سے مدد لیتے ہیں، اور دیگر تمام نصوص کو بھی سامنے رکھتے ہوئے یہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شارع اصل میں کہنا کیاچاہتاہے۔ اس کے لحاظ سے حکم کی ظاہری شکل کو چھوڑ کر وہ کئی دفعہ ایک دوسری شکل بھی اختیارکر لیتے ہیں۔ یہ ان کے اجتہاد کی سپرٹ ہے۔ اب اس کے نسبتا ً‌ زیادہ نمونے آپ کو مالکیہ اور احناف کے ہاں ملیں گے اور حنابلہ کے ہاں بھی اس کی بہت اچھی مثالیں۔ ایسا نہیں کہ شوافع کے ہاں اس کی مثالیں بالکل نہیں ملتیں، لیکن اطلاقی سطح پر آپ کو اس کے زیادہ نمونے مالکیہ اور احناف کے ہاں اور پھر حنابلہ کے ہاں ملیں گے۔


حواشی

  1. صحیح مسلم، ‌‌‌‌كتاب الایمان، باب بيان ان الاسلام بدا غريبا وسيعود غريبا، رقم الحدیث: 145، جلد: 1، ص: 130
  2. صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب الایمان، ‌‌باب فان تابوا واقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم، رقم الحدیث: 25، ص: 76
  3.  صحیح البخاری، ‌‌‌‌کتاب احادیث الانبیاء، ‌‌باب ما ذكر عن بنی اسرائيل، رقم الحدیث: 3463، ص: 888
  4.  صحیح البخاری، کتاب الشرب والمساقاۃ، باب القطائع، رقم الحدیث: 2376، ص: 612
  5.  صحیح البخاری، کتاب الادب، باب اكرام الضيف وخدمتہ ایاه بنفسہ‌‌، رقم الحدیث: 6137، ص: 1523
  6.  صحیح البخاری، کتاب العتق، باب كراہیۃ التطاول على الرقيق، رقم الحدیث: 2552، ص: 655
  7.  صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، ‌باب ان الله عنده علم الساعۃ ، رقم الحدیث: 4777، ص: 1214
  8.  صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، ‌باب نسيان القرآن ‌‌ ، رقم الحدیث: 5037، ص: 1301
  9.  صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، ‌‌باب الخبز المرقق والاكل على الخوان والسفرة ، رقم الحدیث: 5385، ص: 1380
  10.  صحیح البخاری، ‌‌كتاب الهبۃ وفضلها، ‌‌باب القليل من الھبۃ، رقم الحدیث: 2568، ص: 661
  11.  صحیح البخاری، ‌‌ابواب التہجد، ‌‌باب من لم يصل الضحى ورآه واسعا، رقم الحدیث: 1177، ص: 338
  12.  صحیح البخاری، ‌‌ابواب الاطعمۃ، ‌‌باب العجوۃ ، رقم الحدیث: 5445، ص: 1391
  13.  صحیح البخاری، ‌‌کتاب الاشربۃ، ‌‌‌‌باب ترخيص النبی صلى الله عليہ وسلم فی الاوعيۃ والظروف بعد النہی، رقم الحدیث: 5593، ص: 1411
  14.  سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، ‌‌باب فی اكل لحوم الخيل، رقم الحدیث: 3790، جلد: 3، ص: 352
  15.  صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان، باب اباحۃ الضب، رقم الحدیث: 1945، جلد: 3، ص: 1543
  16.  صحیح مسلم، کتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان، باب اباحۃ الضب، رقم الحدیث: 1949، جلد: 3، ص: 1545
  17.  صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب جواز شرب اللبن، رقم الحدیث: 2009، جلد: 3، ص: 1592
  18.  صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، باب كراہیۃ الشرب قائما، رقم الحدیث: 2024، جلد: 3، ص: 1600
  19.  صحیح البخاری، ‌‌ابواب الاشربۃ، باب الشرب قائما، رقم الحدیث: 5615، ص: 1426

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(مارچ ۲۰۲۳ء)

تلاش

Flag Counter