افغانستان کی موجودہ صورت حال اور ہماری ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی۔ پھر روسی فوجیں آئیں، یہ تو ہمارے سامنے کا معاملہ ہے، اور اپنا پورا زور صرف کیا مگر افغانستان نے بحیثیت افغان قوم قبول نہیں کیا، سوویت یونین کی افواج کو ناکام واپس جانا پڑا بلکہ اس کے نتیجے میں خود سوویت یونین بکھر کر رہ گئی۔ تیسرا مرحلہ یہ کہ جب امریکی اتحاد کی فوجیں آئیں تو افغان قوم نے اس کو بھی قبول نہیں کیا اور مزاحمت کی، اتنی شاندار مزاحمت کی کہ روس کے خلاف مزاحمت میں افغان قوم کو امریکی بلاک، عالم اسلام اور بہت سے ملکوں کی حمایت حاصل تھی، ایک لحاظ سے پوری دنیا ان کے ساتھ تھی، روس کے سارے مخالفین ان کے ساتھ تھے، لیکن امریکی اتحاد کی فوجی یلغار کے خلاف مزاحمت میں وہ تنہا تھے، ان کو درپردہ کسی کی حمایت حاصل ہوئی ہو تو ہو لیکن بظاہر پوری دنیا ان کی مخالف تھی بلکہ ان کا نام لینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرمائی۔ اس پر یہ بات ایک دفعہ پھر واضح ہو گئی کہ افغان قوم خود پر کسی دوسرے کا تسلط قبول نہیں کرتی، یہ تیسرا تاریخی واقعہ ہے، افغان قوم کو اس پر سلام۔

دوسری بات یہ عرض کروں گا کہ یہ تقریباً تین پشتوں کی جنگ تھی، اب جب جنگ انتہا کو پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مہربانی کی ہے کہ کابل کسی نئی خون ریزی سے بچ گیا ہے۔ یہ پوری دنیا کے لیے حیران کن بات ہے کہ طالبان کابل میں پرامن طریقے سے داخل ہوئے ہیں، کابل نے مزاحمت نہیں کی اور بغیر کسی لڑائی کے کابل طالبان کے کنٹرول میں آ گیا ہے، اس پر خوشی کا اظہار الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تاریخ پر نظر رکھنے والے حضرات ہی جانتے ہیں کہ کتنا بڑا معجزانہ واقعہ ہوا ہے کہ کابل کسی مزاحمت کے بغیر سرنڈر ہو گیا ہے۔

جبکہ پورے افغانستان میں ایسی صورتحال ہے کہ افغانیوں نے عمومی طور پر طالبان کی دوبارہ آمد پر مسرت کا اظہار کیا ہے، پھول پیش کیے جا رہے ہیں اور ان کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ یہ افغان قوم کے اجتماعی مزاج کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان قوم جہاں حریت پسند ہے کہ کسی دوسرے کا تسلط قبول نہیں کرتی، اسی طرح افغان قوم نے غیر ملکی تہذیب اور غیر ملکی نظریات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ اسلام کے ساتھ، شریعت کے قوانین کے ساتھ، افغان قوم کی تہذیب و روایات کے ساتھ افغان قوم کی کمٹمنٹ آج بھی قائم ہے اور اس کا ایک بار پھر اظہار ہو گیا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے جس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کرنا چاہیے ،طالبان کو مبارکباد دینی چاہیے اور افغان قوم کے ساتھ یکجہتی و ہم آہنگی کا اظہار کرنا چاہیے۔

اس کے ساتھ اس بات کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ افغانستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے دو باتیں واضح ہیں۔ ایک یہ کہ افغانستان کو تقسیم کرنے کی بہت دفعہ کوشش ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوئی کہ تقسیم نہیں ہوا اور افغانستان کی وحدت قائم ہے۔ دوسرا افغان قوم کی شریعت اور اپنی تہذیب کے ساتھ کمٹمنٹ قائم ہے، الحمد للہ۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان کے اس جذبے کو سراہا جائے اور افغانستان کی وحدت و سالمیت کو سپورٹ کیا جائے۔

افغانستان اور افغان قوم کی اس وقت سب سے بڑی ضرورت قومی وحدت کا ماحول قائم کرنا اور قائم رکھنا ہے۔ پہلے بھی افغان قوم کو کئی بار تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی، اب مزید کوششیں ہوں گی، زبان کے حوالے سے، نسل کے حوالے سے، مذہب کے حوالے سے، مسلک کے حوالے سے، فرقے کے حوالے سے، تقسیم کے کئی بیج بوئے جا رہے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں سے، اپنے ساتھیوں سے عرض کروں گا کہ افغان قوم کو اپنی وحدت کا ماحول قائم کرنے دیجیے، کسی قسم کی تفریق کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے، نہ مذہبی، نہ مسلکی، نہ سیاسی، نہ لسانی، نہ علاقائی۔ اگر قومی وحدت کا ماحول قائم رہے گا تو شریعت کے ساتھ اور افغان قوم کی روایات کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ قائم ہے ، ان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، ان شاء اللہ العزیز۔ ہمیں اس وقت ان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، ان کی قومی وحدت کو سپورٹ کرنا چاہیے، شریعت اور افغان قوم کی تہذیب کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ کو سلام کرنا چاہیے، اور ان کے خلاف کسی قسم کی سازش میں حصہ نہیں بننا چاہیے، شعوری طور پر بھی نہیں اور غیر شعوری طور پر بھی نہیں۔

تیسری بات، ایک عرصہ سے یہ جنگ چل رہی ہے، نصف صدی تو ہمیں بھی ہو گئی ہے اس جنگ کو دیکھتے ہوئے، کئی پشتوں سے یہ جنگ چل رہی ہے۔ اب یہ ماحول سامنے ہے کہ دنیا بھر سے تنقیدی تبصرے آ رہے ہیں، باقی دنیا تو جو کرتی ہے کرے، مگر افغانستان کے ساتھ، طالبان کے ساتھ، شریعت کے ساتھ اور افغان تہذیب کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے حضرات تو کم از کم اس جال میں نہ پھنسیں۔ سب سے مشکل مرحلہ یہ ہے کہ ہمدردی رکھنے والے دوست بھی جال کا شکار ہو رہے ہیں، کبھی ایک حوالے سے کبھی دوسرے حوالے سے۔ بہت سے حلقے اپنے اپنے فارمولے، اپنی اپنی تجاویز، اپنے اپنے تبصرے پیش کر رہے ہیں، ایک طوفان برپا ہے دنیا میں منفی پراپیگنڈے کا، کردار کشی کا، جس کا ہم بھی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ میری یہ درخواست ہے اہل دین سے کہ طالبان کو سیٹ ہونے کے لیے وقت دیں۔ ہمارے اپنے اپنے فارمولوں نے ہمارا کیا حشر کر رکھا ہے کہ ہم ان کو مشورہ دیں گے؟ ہم خود ستر سال سے فارمولوں کی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سب دوستوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ خدا کے لیے اپنے ستر سال کے ناکام تجربے ان کے سر مت تھوپیے، ان کو آزادی سے کام کرنے دیجیے، وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں افغانستان کو بھی، اپنے مستقبل کو بھی، قومی تقاضوں کو بھی، اور شریعت کو بھی ہم سے بہتر سمجھتے ہیں، وہ مبتلٰی بہ ہیں اور شرعًا مبتلٰی بہ کی رائے کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔

میں برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے اس بیان کا خیرمقدم کروں گا کہ انہوں نے وہی بات کی ہے جو میں عرض کر رہا ہوں، آج کے اخبارات میں چھپی ہے کہ طالبان کو وقت دیں اور کام کرنے کا موقع دیں۔ میری گزارش ہے کہ روس نے کتنا وقت لیا؟ دس سال۔ امریکہ نے کتنا وقت لیا؟ بیس سال۔ ان غریبوں کو دس سال کا وقت تو دیں کہ اپنی مرضی سے کچھ کر سکیں، اور دیکھیں کہ اپنی ترجیحات کے مطابق وہ کیا کرتے ہیں۔ میں برطانیہ کے کمانڈر کی اس بات کو سراہوں گا اور سب لوگوں سے درخواست کروں گا کہ ’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ کو اپنی قوم کو اعتماد میں لینے کا موقع دیجیے، اپنے نظام کو مرتب کرنے اور نافذ کرنے کا موقع دیجیے، اور چند سال دیکھیے پھر سارے تبصرے کر لینا، جس نے مثبت کرنا ہے مثبت کر لے، جس نے منفی کرنا ہے منفی کر لے۔ فی الوقت ان کو آزادی کے ساتھ اپنے مستقبل کی تشکیل کا موقع دیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائیں اور ہمیں ان کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

حالات و واقعات

(ستمبر ۲۰۲۱ء)

Flag Counter