زوالِ امت میں غزالی کا کردار تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۱)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

امام غزالی پر ایک اور اتہام

اپنے سابقہ مضمون "غزالی اور ابن رشد کا قضیہ" (الشریعہ، فروری ومارچ ۲۰۱۴ء) میں ہم نہایت تفصیل سے یہ عرض کرچکے ہیں کہ امام غزالی نے ایسا کچھ نہیں لکھا کہ جس سے انہیں علم، عقل اور سائنس وفلسفہ کی کاوشوں کا منکر قرار دیا جاسکے، بلکہ اس کے برعکس ان کے ہاں متواتر ایسی عبارات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کے سخت مخالف ہیں جو اسلام کو فلسفہ وسائنس اور عقلی علوم کے تمام اجزاء اور شعبوں کا مخالف کہتے ہیں۔ ہم نے ایسی کئی عبارات وہاں نقل کی ہیں جن سے قاری بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ امام غزالی کو تمدن دشمن قرار دینا، عقلی علوم کی تمام تر انسانی روایت کا مخالف باور کرانا یا مذہب اور سائنس کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھنا ان کے مخالفین کا محض خیالی پلاؤ ہے اور غزالی پر ایسا الزام تو کم ازکم خود ان کے حریف ابن رشد نے بھی عائد نہیں کیا تھا۔ 

ہم اپنے محولہ بالا مضمون میں غزالی کی طرف منسوب مسخ شدہ موقف کی اصل حقیقت آشکار کرنے کے ساتھ ساتھ غزالی اور ابن رشد کے قضیہ کے اصل متعلقات پر بھی خود ان کی اپنی عبارات کی روشنی میں ہم ایک محاکمانہ نظر ڈال چکے ہیں جس سے نہ صرف قضیہ کی اصل صورتِ حال سامنے آتی ہے، بلکہ یہ بھی کہ ابن رشد، غزالی کے ساتھ اپنی آویزش میں کتنی سادہ پوزیشن پر کھڑے ہیں اور کس طرح انہوں نے در اصل غزالی کا جواب لکھ کر غزالی ہی کے مقدمہ کو مضبوط کیا ہے۔ غزالی کے موقف اور منہج کی علمی ومتونی تحقیق کا فریضہ ہم نے اس مضمون میں انجام دیا تھا اور یہاں ہمیں غزالی کے حوالہ سے ترقی پسندوں کے واویلے کے کچھ تاریخی پہلؤوں پر روشنی ڈالنی ہے۔

لبرلز کی زبان پر عموماً جب غزالی اور ابن رشد کا تقابلی تذکرہ آتا ہے تو غزالی کا نام اسلامیت کا حوالہ بن کر اور ابن رشد کا نام دینی انحراف کا حوالہ بن کر آتاہے۔ ابن رشد کے نام کو کسی اور نے نہیں، خود اس کے اپنے شیدائیوں نے اباحیت اور دینی انحراف کا استعارہ بنادیا ہے۔ اس کی ایک معمولی سی مثال عالم عرب میں جدیدیت کو فروغ دینے کے لیے سرگرم مؤسسۃ ابن رشد للفکر الحر (من اجل الحریۃ والدیمقراطیۃ وحقوق الانسان فی العالم العربی)ہے جس کی طرف سے ہر سال برلن (جرمنی) کی سالانہ تقریب میں عالم عرب کے اندر اباحیت اور جدیدیت کے لیے سرگرم کسی نمایاں شخصیت یا ادارہ کو جائزہ ابن رشد کے نام سے انعام سے نوازا جاتا رہا ہے جو اپنے حلقوں میں کافی باوقعت سمجھا جاتا ہے۔ اسی برلن میں ایک کنیسہ کے ساتھ قائم مسجد ابن رشد کو دیکھ لیجیے جہاں خاتون امامت کراتی ہے اور کسی نقاب بلکہ سر ڈھانپنے والی عورت کا داخلہ وہاں ممنوع ہے۔ الحاد وجدیدیت کے متاثرین ایسا نہیں کہ ابن رشد کے فرسودہ فلسفیانہ افکار سے اتفاق رکھتے ہوں اور اسی وجہ اس کی تعظیم کرتے ہوں، بلکہ جیسا کہ ایک سلفی عالم شیخ صالح المنجد نے لکھا ہے، اس کا سبب وحید اس کے دینی انحرافات ہیں۔ وہ اس کی کسی فکر سے نہیں، محض اس کے دینی انحراف سے متاثرہیں۔ 

شیخ صالح نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نہایت عمدہ انداز میں غزالی اور ابن رشد کے قضیہ پر وشنی ڈالی ہے، اس قضیہ کی بابت شیخ ابنِ تیمیہ کا قول نقل کیا ہے کہ کس طرح اس میں ابن رشد کم زور پوزیشن پر کھڑا ہوتا ہے اور حق اس میں عموماً غزالی ہی کے ساتھ ہوتا ہے، نیز اباحیت پسند لبرلز کے ہاں اس کی تعظیم کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے کہ ابن رشد باوجود اپنے فکری انحرافات کے عملی شریعت کی تعطیل میں اس حد تک پہنچا ہوا نہیں تھا جس حد تک اس کے شیدائی پہنچے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے فلسفیانہ افکار بھی عرصہ ہوا خود فلسفہ ہی کی دنیا میں اپنی علمی وقعت کھو چکے ہیں اور خود لبرلز بھی ان میں کوئی خاص کشش نہیں پاتے، لیکن اس کے باوجود اگر لبرلز نے ابن رشد کی تعظیم کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے تو اس کا سبب وحید اس کے دینی انحرافات ہیں اور بس، خواہ وہ خود بھی اس کے افکار سے من وعن اتفاق نہ رکھتے ہوں۔ غزالی اور ابن رشد کے اس قضیہ میں در اصل ہمارا مقصود محض غزالی ہی کی وکالت نہیں، بلکہ اسلامیت کی وکالت کرنا اور اسی کا دفاع کرنامطلوب ہے۔

"ترقی پسندوں" کی طرف سے دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ صرف یہ کہ غزالی کے موقف کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے، بلکہ ایک اور دعویٰ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مسلم زوال کے ذمہ دار بھی غزالی ہیں اورفلسفہ پر ان کی تنقید سے ہی عالم اسلام پہلے علمی اور بعد ازاں سیاسی زوال کا شکار ہوگیا جس کا یہ تسلسل ہے کہ آج عالم اسلام کو ذلت کے یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ عالم اسلام غزالی کی بجائے ابن رشد کے ساتھ اپنا رشتہ استوارکرے، اس سے اس کے ایامِ بہار پھر سے لوٹ آئیں گے۔ عالم اسلام کے ان بہی خواہوں کے بقول آٹھویں تا بارھویں صدی عیسوی کا دور جو مسلمانوں کی علمی وعقلی ترقی کا دورِ عروج تھا، گیارہویں صدی عیسوی میں ہونے والی غزالی کی تنقید سے ہی زوال پذیر ہوگیا۔ مسلم معاشرہ میں علم وعقل اور فلسفہ وسائنس کے زوال کا آغاز شروع ہوا اور چونکہ سیاسی ومعاشرتی عروج واستحکام لازمی طور پر علمی وعقلی سرگرمیوں سے مشروط ہیں، اس لیے علمی وعقلی سرگرمیوں کے انحطاط کے ساتھ مسلمان کلی طور پر زوال وانحطاط کا شکار ہوتے چلے گئے۔ یوں گویا جب تک مسلم معاشرہ "تلقین غزالی" کا شکار نہیں ہوا تھا، تب تک وہ علمی وعقلی اعتبار سے بھی عہد عروج میں تھا اور اقوامِ عالم کی قیادت کے مقام پر بھی فائز تھا، بعد ازاں جب تلقین غزالی کو اس نے اپنے سینہ سے لگایا تو علمی وعقلی اعتبار سے انحطاط کا شکار ہوگیا اور دنیاوی وجاہت اور وقار سے بھی محروم ہوگیا۔

جسٹس امیر علی نے اپنی کتاب "روحِ اسلام" میں برابر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 

"غزالی سائنس کے تمام انکشافات کو اور ریاضی وہیئت کے تمام نتائج کو قبول کرتے تھے" ۔

اور یہ سچ ہے کہ غزالی کی کتابوں سے معمولی سی ممارست رکھنے والا کوئی شخص بھی انہیں اس کے برخلاف کسی ایسے مسخ شدہ موقف سے متہم نہیں کرسکتا جس میں تمام عقلی اور سائنسی علوم کو بیک جنبش مسترد کر دیا گیا ہو۔ نیز بقول امیر علی کے غزالی سلطان سنجر کے وزیر اور نظام الملک کے بیٹے فخر الملک کے نہایت قریبی دوستوں میں سے تھے اور بغداد کو انہوں نے تب ہی چھوڑا تھا کہ جب فخر الملک کو قتل کردیا گیا۔ جبکہ سلطان سنجر کے زمانہ میں علمی وعقلی سرگرمیاں اتنے عروج پر تھیں کہ انہیں مامون کے دور پر قیاس کیا جاتا ہے جس کی تاریخی تفصیل آئندہ سطور میں مذکور ہوگی، ان شاء اللہ! 

تاہم یہی امیر علی چونکہ انگریزی لٹریچر کے خوشہ چین ہیں، خود اسلامی تاریخ کو بھی انگریزی تراجم کے ذریعہ سمجھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور انگریز مصنفین کے علمی رعب کا شکار ہیں، اس لیے وہ غزالی کے بارہ میں اعترافِ حقیقت کے باوجود خود کو غزالی کے بارہ میں مسخ شدہ موقف کے اثر سے محفوظ نہیں رکھ سکے اور اس کی رو میں بہتے ہوئے وہ یہ تک بھول گئے ہیں کہ کہیں وہ تضاد بیانی کا شکار تو نہیں ہو رہے۔ چنانچہ اسی "روحِ اسلام" کے اندر اعترافِ حقیقت کے باوجود بڑی سادگی کے ساتھ غزالی کے بارہ میں ایک انگریز کا ایسا اقتباس بھی بلانکیر نقل کرتے ہیں جو علمی وعقلی افلاس میں اپنی مثال آپ ہے۔ لکھا ہے کہ 

"البیرونی کی انڈیکا کا مشہور ومعروف مترجم ڈاکٹر شاشو لکھتا ہے: اگر عربوں میں اشعری اور غزالی پیدا نہ ہوتے تو عرب قوم کا ہر فرد گلیلیو اور نیوٹن ہوتا۔" 

ڈاکٹر شاشو کا یہ اقتباس ایک بار نقل کرنے کے بعد ان کا جی نہیں بھرا تو اسی کتاب میں چند ہی صفحات کے بعد ایک بار پھر یہی اقتباس نقل کرتے ہیں اور اسے نہایت عمدہ تبصرہ قرار دیتے ہوئے مزید اضافہ کرتے ہیں کہ 

"یہ دونوں بزرگ سائنس اور فلسفہ کی مذمت کرکے اور اس پر زور دے کر کہ دینیات اور فقہ کے علاوہ کوئی علم قابلِ تحصیل نہیں، اسلامی دنیا کی ترقی کو مسدود کرنے میں سبقت لے گئے۔ ان کی مثال آج تک جہالت اور ذہنی جمود کے جواز میں پیش کی جاتی ہے۔" 

کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ غزالی یا اشعری کے بارہ میں ایسے بے وقعت تبصرے کوئی ان کو واقعتا پڑھنے کے بعد کر رہا ہے؟ لیکن الحاد اور جدیدیت کے متاثرین کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس رائے کو کئی دہائیوں سے بڑے طمطراق کے ساتھ دہرائے چلے جارہے ہیں جس کا سرے سے کوئی سر پیر نہیں اور جس کا کوئی ایک بھی ثبوت خود غزالی کی عبارات سے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ کاش ہمارے روشن خیال مفکر انگریز مصنفین کے علمی رعب کے اثر سے آزاد ہوپاتے تو ان کے بعض انتہائی احمقانہ بیانات پر ناقدانہ نظر ڈالنے کے قابل ہوپاتے۔

غزالی کو مسلم زوال کا ذمہ دار ٹھہرانا ہماری نظر میں کم وبیش ایسا ہی ہے جیسے ایک امریکی فاضل کے بقول مسلمانوں کے زوال کا آغاز تب ہوا تھا جب انہوں نے پندرہویں صدی میں شراب کو چھوڑ کر قہوہ پینا شروع کردیا تھا یا ایک اور مغربی نابغہ کے بقول مسلمانوں کے افلاس کا سبب ان کا سود سے کنارہ کشی کرنا ہے۔ مسلمانوں کے یہ بہی خواہ بجا طور پر اس لائق ہیں کہ ان کے اس عقلی افلاس اور ذہنی دیوالیہ پن پر ان کے ساتھ تہہ دل سے اظہارِ افسوس اور اظہارِ ہم دردی کیا جائے۔ یقیناًخواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اس لیے اگر کوئی خواب دیکھنا چاہتا ہے تو ہم اس کو روک نہیں سکتے، مگر ہم نہایت معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ زوالِ امت کے بارہ میں واقعات کی یہ تمام تر نقشہ کشی ناقص اور ادھوری ہے۔ غزالی کو فلسفہ کے تمام اجزاء کا ناقد ٹھہرانے کی جو حقیقت ہے، وہ بالتفصیل بیان ہو چکی ہے۔اس لیے اگر مسلم معاشرہ مفید انسانی علوم کی تحقیق وترقی کے اعتبار سے کسی وقت انحطاط پذیر ہوا تو اس کے اسباب خواہ کچھ بھی رہے ہوں، مگر امام غزالی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا محض ایک من پسند خواب دیکھنے یا دکھانے کے مترادف ہے کیونکہ امام غزالی نے جب مفید انسانی علوم پر کوئی تنقید سرے سے کی ہی نہیں، الٹا ایسا کرنے والوں کو موردِ تنقید بنایا تو اس حوالہ سے مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے والے انحطاط کو بہرحال ان کے سر ڈالنا بالکل بلاجواز اور خود فریبی کے مترادف ہے۔ جبکہ اگر تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو وہ بھی واقعات کی ایک بالکل الگ تصویر پیش کرتے ہیں اور غزالی کے رقیبوں اور حریفوں کے پروپیگنڈے کی کوئی تصدیق وہاں سے بھی نہیں ہوتی۔ ہم یہاں غزالی کے حوالہ سے یہی تاریخی حقائق آپ کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ 

تاریخی حقائق کی رو سے اول تو آٹھ تا بارہویں صدی عیسوی کو مسلمانوں کے عروج کا قابلِ رشک دور قرار دینا ہی محل نظر ہے۔ بے شک وہ دور بعد کے ادوار سے تو بہتر تھا ہی اور یہ ہونا بھی تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زمانہ جس قدر بعد کی طرف جائے گا، اس میں شر اور فساد بڑھتا ہی جائے گا۔ نیز یہ بھی سچ ہے کہ اس دور میں علمی وعقلی نوعیت کی سرگرمیاں مسلمانوں میں عروج پر تھیں۔ مگر محض اس بنیاد پر اس دور کو ہر اعتبار سے ایک قابلِ رشک دور قرار دینا درست نہیں ہے۔ نیز یہ تاثر دینا کہ جب آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کے آخر میں مسلم معاشرہ علمی وعقلی سرگرمیوں کے اعتبار سے انحطاط کا شکار ہوا تو اس کے بعد ہی ان کی سیاسی تنزلی بھی شروع ہوئی، اس دور کی نہایت ادھوری تصویر ہے اور اس میں بہت سے تاریخی حقائق سے سہواً یا عمداً غماض کیا جاتا ہے۔

پھر غزالی کی سیرت کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غزالی نے اگر عملی اعتبار سے مسلمانوں کے سیاسی عروج وزوال میں کوئی کردار ادا کیا بھی تھا تو وہ مسلم معاشرہ، سلطنت اور ریاست کے بقاء واستحکام اور ارتقاء پر منتج ہوا تھا، نہ کہ زوال وانحطاط پر۔ تاریخی حقائق کے مطابق مسلمانوں کے علمی وعقلی عروج کا زمانہ بعض دوسرے پہلوؤں کی وجہ سے صرف قابل رشک نہیں، بلکہ اس میں مسلمان اجتماعی سطح پر کچھ مسائل اور پریشانیوں کا سامنا بھی کر رہے تھے، امام غزالی نے ان امور کی اصلاح کے لیے حصہ ڈالا اور انہی کی برکت سے مسلمانوں کو تمدنی اور سیاسی سطح پر بھی اس کا بیش بہا فائدہ ہوا۔ اس حوالہ سے ہم نے چند دیگر حوالوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر اندلس کی تاریخ کے ایک دو اوراق کا انتخاب کیا ہے۔ میری مراد وہی اندلس ہے جو مسلمانوں کے علمی، عقلی اور سائنسی عروج کی تاریخ میں سب سے زیادہ قابل ذکر کہلاتا ہے اور مسلمانوں کی علمی وصنعتی سرگرمیوں کا عہد یادگار اس سے وابستہ ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں، مگر اس سے پہلے ایک نظر چند تمہیدی متعلقات پر ڈالتے ہیں۔

مسلم سلاطین کی "علم دوستی" کے قابل مذمت پہلو 

اور شعوبیتِ جدیدہ کے رد عمل میں ان سے برتا گیا اغماض

ایک خاص عہد، خصوصاً آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کے مسلم سلاطین کی شہرہ آفاق علمی وعقلی سرگرمیوں کے بارہ میں ہم سب نے یقیناًکافی کچھ سن رکھا ہے، مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کے کچھ منفی پہلو بھی تھے، جو مسلم سلاطین کی طرف سے نظر انداز کیے گئے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی مین اسٹریم اور صالح دینی قیادت کو ان سرگرمیوں پر تحفظات تھے اور مسلم مؤرخین نے بھی ان سرگرمیوں کو کچھ زیادہ تحسین آمیز انداز میں نقل نہیں کیا؟ اگر نہیں تو پھر آئیے جان لیجئے۔

نو آبادیاتی عہد کے پس وپیش زمانہ میں مغرب کے شعوبی ناقدین کی طرف سے اسلام اور اسلامی عرب پر یہ اعتراضات کیے گئے کہ وہ تمدن مخالف ہیں اور تہذیب وتمدن نے ان کی تاریخ میں کبھی بھی نشو ونما نہیں پائی۔ اس کے جواب میں اسی عہد کے اندر بعض مسلم قلم کار میدان میں آئے اور مختلف زبانوں میں ایک جوابی لٹریچر تیار کیا جس میں ثابت کیا گیا کہ اسلام اور اسلامی عرب پر شعوبیت کے جدید مغربی فرزندوں کا اعتراض درست نہیں ہے۔ اس جوابی رد عمل کے جوش میں ان قلم کاروں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کو تمدن دوستی کے مغربی مفہوم اور معیار پر منطبق کرنے کے لیے مواد تلاش کیا، اس سلسلہ میں انہیں سب سے زیادہ مواد انہی سلاطین کی تاریخ میں میسر آیا جن کی مخصوص علمی وعقلی سرگرمیوں پر خود انہی کے زمانہ میں مسلم معاشرہ کے اندر ایک طرح کا اضطراب پایا جاتا تھا۔ یوں ان کی سرگرمیوں کو مسلمانوں کی علم دوستی کا حوالہ بنادیا گیا۔

ہمیں جاننا چاہئے کہ مسلمانوں کی اصل تاریخ ہارون ومامون کے زمانہ سے شروع نہیں ہوتی اور نہ ہی غیر اقوام کے علوم وتجربات سے استفادہ کا سلسلہ اس دور میں شروع ہوا۔ ان کی تاریخ کا اصل قابل تقلید اور قابل رشک عہد وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا عہد ہے۔ مسلمان اس عہد میں بھی غیر اقوام کے مفید تجربات اور عقلیات سے فائدہ اٹھاتے رہے، جس کی ایک سے زیادہ مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ بعد میں اموی اور خصوصا عباسی خلفاء بھی اگر غیر اقوام کے علوم وفنون سے استفادہ کرنے میں اس حد تک محدود رہتے تو یقیناًان کے اس کردار پر کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ حادثہ یہ ہوا کہ بعد کے مسلم خلفاء نے کتاب پرستی کو خود ایک آرٹ بنالیا، غیر اقوام کی دیمک زدہ کتابوں کو اور اپنی موت آپ مرجانے والے فلسفوں کو سونا اور چاندی میں تول تول کر برآمد کرتے رہے، ان فلسفوں کے ساتھ اسلام کے تخیلاتی تقابلی مطالعے شروع کروائے اور اس سلسلہ میں حلال وحرام کی تمیز بھی بھول گئے۔ موسیقی، تصویر سازی اور طلسمیات جیسے خالص غیر اسلامی آرٹس بھی طب وطبابت کی طرح ان کی دلچسپی کا محور تھے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سب اسلام کے تصورِ علم اور آدابِ علم سے سراسر انحراف تھا اور مسلمانوں کو اس کی قیمت چکانی پڑی۔

شعوبیت جدیدہ کے اعتراضات کا زور گھٹانے کے لیے ہمارے مصنفین نے جن سرگرمیوں کا سہارا لیا، کیا ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں شعوبیت قدیمہ نے در اصل انہی سرگرمیوں کے نتیجہ میں نشو ونما پائی تھی؟ شعوبیت ایک تحریک تھی جس کی ابتداء عربوں پر عجموں کو فضیلت دینے کے نکتہء نظر سے ہوئی تھی، مگر بعد ازاں اس نے عرب دشمنی اور فتنہ ارتداد کی شکل اختیار کرلی تھی، یہاں اس کی تفصیل میں جانے کا موقع تو نہیں، البتہ اتنا ضرور عرض کرنا ہے کہ مسلمانوں میں اس شعوبیت اور عرب دشمنی نے خصوصاً عباسی خلفاء کی "علم دوست" سرگرمیوں کے نتیجہ میں ہی راہ پائی تھی۔ جدید دور میں مغربی مصنفین کے ایک متعصب گروہ کی طرف سے عرب سرزمین، اس کی تہذیب وثقافت اور اس کی آب وہوا تک کو موردِ اعتراض بنانا در اصل اسی شعوبیت کا ہی دوسرا جنم تھا۔ اگر اب اس شعوبیت جدیدہ کے اعتراضات کا زور گھٹانے کے لیے انہی سرگرمیوں کا حوالہ پیش کیا جائے جو کسی دور میں مسلمانوں کے اندر شعوبیت قدیمہ کے نمو پانے کا سبب بنی تھیں تو یہ کتنی عجیب بات ہے!

چنانچہ ہمارے دور میں ان سلاطین کی علمی تابناکیوں کا غوغا اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک دور میں مسلمان بادشاہوں نے یونانی، فارسی اوررومی فلسفوں کو درآمد کرنے کے بعد مسلمانوں کی علمی وعقلی کاوشوں کو جو رخ دیا تھا اور ان سلاطین کی تہذیبی وتمدنی خدمات نے مسلم معاشرہ میں جو جو فساد اور انتشار پیدا کیا تھا، اس کے تناظر میں صالح مسلمانوں کی "مین اسٹریم" نے کبھی بھی اپنے سلاطین کی ان سرگرمیوں کو بنظر تحسین نہیں دیکھا، مسلم معاشرہ میں مرجعیت رکھنے والے علماء اور شرفاء ان کی اِن سرگرمیوں پر مضطرب تھے اور یہ تاثر صرف اس دور تک محدود نہیں رہا، ان سرگرمیوں کی تاریخ، ان کے دیر پا مضرات اور ان کے نتائج وقبائح کو دیکھتے ہوئے ہر دور میں دینی وابستگی رکھنے والے مسلمان اہل علم اور مسلم معاشرہ کا مجموعی تاثر اْس دور کے موروثی سلاطین کی اِن سرگرمیوں کے بارہ میں یہی رہا ہے۔ چنانچہ مامون جو ان سرگرمیوں میں سر نوشت کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے بارہ میں شیخ ابن تیمیہ کا ایک قول قابل ذکر ہے جس سے ان سرگرمیوں کے بارہ میں روایتی مذہبی حلقوں کے غم وغصہ کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے:

"میں نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ مامون سے غافل رہے گا،بلکہ ا س امت پر اس نے جو مصیبت نازل کی ہے، اس کا ضرور اس سے بدلہ لے گا۔" 

ہمارے پرانے اسلامی لٹریچر میں ان سرگرمیوں کی شاید ہی کسی نے تحسین کی ہو، جبکہ جدید لٹریچر میں سے اگر اردو لٹریچر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی بہرحال ایسے مصنفین ملتے ہیں جو ان سلاطین کی غیر صالح سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب "تاریخ دعوت وعزیمت" کی جلد اول اور دوم قابل ملاحظہ ہیں۔، جبکہ اردو کے عمومی لکھاریوں کی روش اس باب میں جو اب اس نہج سے ہٹی ہوئی نظر آتی ہے، اس کی ابتداء ہمارے ہاں خصوصاً علامہ شبلی کے ذریعہ سے ہوئی۔ علامہ شبلی نے مسلم سلاطین کے ان کاموں کو بلاتمیز کارناموں کی حیثیت سے اپنی تحریروں میں بیان کیا، یہ سلسلہ اگر جینوئن اور مفید علوم کے حوالہ سے ان کی خدمات کی حد تک محدود رہتا تو قابل فہم ہوتا، مگر جیسے ان سلاطین کی آزاد روی نے جاہلی آرٹس تک کی تمیز روا نہ رکھی، اسی طرح علامہ شبلی بھی ان کی سرگرمیوں کے نتائج وعواقب اور قبائح کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی ان سرگرمیوں کو بالعموم صرف کارناموں کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ سید مودودی اس پر تنقید کرتے ہوئے اور ان سرگرمیوں سے مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے والے مفاسد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"یونان اور عجم کے فلسفہ اور علوم وآداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی اور اس لٹریچر کے اثر سے مسلمانوں میں "کلامیات" کی بحثیں شروع ہوگئیں، اعتزال کا مسلک نکلا، زندقہ اور الحاد پَر پرزے نکالنے لگا اور عقائد کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کردیے۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ رقص، موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی از سرِ نو ان قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچا لیا تھا۔" 

اس پر ایک حاشیہ قائم کرتے ہوئے مزید رقم طراز ہیں:

"مولانا شبلی اور جسٹس امیر علی جیسے لوگوں نے ان بادشاہوں کے ان کارناموں کو اسلامی تہذیب وتمدن کی خدمات میں شمار کیا ہے۔" 

نیز شاہ معین الدین احمد ندوی جو خود شعوبیتِ جدیدہ کے بڑے ناقد ہیں، نے آج سے تقریبا ستر سال قبل بالکل صحیح لکھا تھا کہ 

"اس زمانہ میں مغربی تہذیب اور اس کی مادی ترقیوں کا ایسا رعب چھایا ہوا ہے کہ اس کے ناقد بھی اس کے مادی مظاہر کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں اور یورپ کی تہذیب کو معیار اور اس کے تمدنی نظریوں کو مسلم مان کر اپنی تہذیب اور اپنے تمدنی نظریوں کو بھی اسی رنگ میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔" 

جدید عرب دشمن شعوبیوں کا یہ اعتراض درست نہیں ہے کہ اسلام یا اسلامی عرب تمدن مخالف تھے اور نہ ہی ان کے جواب میں ہمیں عباسی خلفاء کی سرگرمیوں سے اپنی تاریخ کا آغاز کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔ اسلام کی تعلیمات وہی ہیں جو کہ قرآن وحدیث میں مذکور ہیں۔ اگر ان میں کوئی بات تمدن اور علم دوستی کے خلاف دکھائی جاسکتی ہے تو ضرور دکھائی جائے۔ فرزندانِ اسلام ہمیشہ سے تمدن دوست رہے ہیں، مگر اس حوالہ سے ان کا نکتہ نظر اپنا تھا، تمدن دوستی کا مغربی معیار ان کے پیش نظر قطعاً نہیں تھا اور نہ ہی اس حوالہ سے ہمیں صفائی دینے کی کوئی ضرورت ہے۔ اہل مغرب کا چونکہ اس حوالہ سے بہرحال ایک اپنا معیار ہے اور وہ اسی کو بنیاد بنا کر اسلامی تاریخ پہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ یہ تمدن دوست نہیں ہے تو ردِ عمل میں آکر ان کا جواب دینے والوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خلافت راشدہ سے بعد کے خلفاء کی ان علم دوست سرگرمیوں کو بیان کیا ہے جو دراصل دینی اعتبار سے ان کی سستی وکاہلی کا نتیجہ تھیں، جنہیں مسلم معاشرہ کی مین اسٹریم نے کبھی بہ نظر تحسین نہیں دیکھا اور جن کا مسلم معاشرہ کو فائدہ سے زیادہ نقصان ہوا۔ ان کو بیان کرنے سے مقصود یہ تھا کہ مغرب کے تمدن دشمنی کے اعتراض کا زور گھٹایا جاسکے۔ ان حضرات کی حسن نیت اپنی جگہ، مگر رد عمل میں ہونے کی وجہ سے یہ حضرات بھول جاتے ہیں کہ قرونِ اولی کے مسلمان بعد کے "علم دوست" خلفاء سے بہرحال زیادہ قابل تقلید اور زیادہ قابل رشک ہیں۔ 

ان کی نظر میں تمدن دوستی کے کسی الحادی تصور سے زیادہ خود اپنا دین ومذہب عزیز تھا۔ اسی دین کی برکت سے تو وہ خاک سے اٹھ کر آسمان تک پہنچے تھے، قیصر وکسریٰ ان کے گھوڑوں کی دھول بن گئے تھے اور انہیں جو کچھ بھی ملا تھا، اسی دین کی برکت سے ملا تھا جسے وہ وعلم وتمدن دوستی کے کسی ایسے تصور پر قربان نہیں کرسکتے تھے جو غیر اسلامی تصورِ زندگی کی کوکھ سے نکلا ہو۔ بعد کے خلفاء بد قسمتی سے اس معیار کے نہ تھے۔ گو کہ وہ بھی اتنے گئے گذرے نہ تھے جتنے آج کے مسلمان حکم ران، مگر بہرحال علم دوستی اور کتاب پروری کے جوش میں وہ اسلامی آداب وتعلیمات میں تساہل کے مرتکب ضرور ہوئے۔ مغربی ناقدوں کا جواب دینے والے مسلم مصنفین سے نوآبادیاتی دور کے پس وپیش زمانہ میں یہ غلطی ہوتی رہی ہے کہ جس طرح مسلم خلفاء علم دوستی کے جوش میں حلال وحرام اور مفید وغیر مفید کی تقسیم تک کو بھول گئے تھے، اسی طرح ان مذکور الصدر مصنفین نے بھی علم دوستی اور تمدن دوستی کے مظاہر بیان کرتے ہوئے ان کی ان سب سرگرمیوں کو بطورِ کارنامہ پیش کیا ہے اور اس کے لیے بہت زور لگایا ہے کہ مسلم ریاستوں کے ماضی کو مغربی تصورات کے مطابق تمدن دوست اور علم پرور ثابت کیا جاسکے، قطع نظر اس سے کہ وہ سرگرمیاں حلال بھی تھیں یا نہیں اور قطع نظر اس سے کہ یہ سرگرمیاں مسلم ریاست کو سیاسی اور معاشرتی حوالہ سے کس طرح عدمِ استحکام کا شکار کر رہی تھیں۔

علم دوستی کی رو میں بہہ کر اپنے اس دین کے آداب اور تقاضوں کو بھول جانا جو ان کے لیے دنیا میں وجاہت اور وقار کا سبب بنا تھا یا صرف اس علم دوستی کو کامیابی کی شہ کلید سمجھ لینا ہی ان سلاطین کی غلطی تھی۔ ان سرگرمیوں کے مضرات اور ان کے تدارک کے لیے علماء کی مساعی کی ایک پوری تاریخ ہے۔ ان کی نظر میں ان سرگرمیوں میں اگر افادیت کا کوئی پہلو تھا بھی تو مضرت کے وہ پہلو جو نظر انداز کیے جارہے تھے، وہ ان کی افادیت سے کہیں زیادہ تھے۔ 

علمی وعقلی عروج کے عہد میں سیاسی انحطاط کے چند پہلو

(آٹھ تا بارہویں صدی عیسوی کی اصل تصویر)

اس دور کے خلفاء اور امراء میں بہت سی خوبیاں بھی موجود تھیں اور ان سے انکار ممکن نہیں، مگر کتاب پرستی کو اور جاہلی آرٹس کی سرپرستی کو ان کی مطلق خوبی نہیں مانا جاسکتا۔ علم دوستی ایک اچھی خصلت ہے، لیکن انحطاط کا مفہوم اگر یہ ہے کہ کوئی قوم سیاسی طور پر غیر مستحکم ہوجائے، معاشرتی طور پر اس میں انتشار وفساد ہو، فرقہ بندیاں ہوں، اس قوم کے آباء نے جن صفات کے عامل وداعی ہوکر دنیا میں عزت وعروج اور ترقی کی منازل طے کی تھیں، اس قوم کے اربابِ بست وکشاد ان صفات کو اپنانے میں غفلت وتکاسل برتنا شروع کر دیں اور ریاست اپنے عروج کی اصل حقیقت اور علت کو ہی بھول جائے تو پھر جان لیجئے کہ انحطاط کا یہ مفہوم مسلم امت میں غزالی سے بہت پہلے وارد ہوچکا تھا۔ جس دور کو مسلم علمی وعقلی عروج کا دور کہا جاتا ہے، وہ سیاسی اور معاشرتی اعتبار سیان کے لیے نہایت زبوں حالی کا دور تھا اور غزالی کے بارہ میں تاریخی حقائق یہ ہیں کہ انہوں نے در اصل اس زبوں حالی کے تدارک کے لیے اپنا حصہ ڈالا تھا۔

ہم دوبارہ کہیں گے کہ مسلم سلاطین کے علم دوست رویوں میں دینی آداب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کا جو تساہل برتا گیا، اس کی وجہ سے ایک تو وہ مسلمانوں کے لیے دینی اعتبار سے تشویش وخدشات کا باعث بن رہے تھے، دوسرا چونکہ صرف علم دوستی کا رویہ ریاست اور معاشرت کی تمام ضرورتوں کو پورا نہیں کرتا اس لیے علم دوستی کے باوصف جب دوسرے لوازمات میں سستی برتی گئی تو اس کا نقصان ریاست اور معاشرہ کو برداشت کرنا پڑا۔ چنانچہ ایک مسلمان کے لیے اول تو علم دوستی کا وہ مفہوم ہی قابل اعتبار نہیں جس میں اس کے دینی آداب اور تقاضوں کو نسیاً منسیاً کر دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ شہرہ آفاق علم پرور مسلم سلاطین کے علم دوستی کی رو میں بہہ کر دینی اعتبار سے مسلم معاشرہ کو انارکی کا شکار کردینے کی روش کو مسلمانوں کی مین اسٹریم نے کبھی بھی بنظر تحسین نہیں دیکھا، ان کی ان سرگرمیوں کو ان کی تمدن دوستی کے طور پر بلانکیر نقل کرنا ہمیں مسلمانوں کے اندر نوآبادیاتی عہد کے پس وپیش زمانہ سے قبل کہیں نظر نہیں آتا۔ دوسرا اس دور میں اگر فرض کر لیا جائے کہ مسلمان واقعی علمی، عقلی اور تمدنی اعتبار سے عروج پر تھے تو دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ بعینہ اسی دور میں وہ سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے سخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی تھے۔

علم دوستی ایک اچھی خصلت ہے، مگر صرف اس ایک خصلت کی وجہ سے کسی فرد،معاشرہ یا ریاست کی تمام کم زوریوں سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی محض علم دوستی اور کتاب پروری کے رویہ کو کسی قوم کی تمام ضرورتوں کا کفیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ داستان ہے کہ مسلمانوں نے جب انحطاط کا سفر شروع کیا تھا تو نہ تو اس وقت تک غزالی پیدا ہوئے تھے اور نہ ہی اس وقت مسلم سلاطین کے "علم دوست" رویوں میں کچھ کمی آئی تھی، بلکہ علم دوستی کے جدید مفہوم کی رو سے تو وہ سلاطین اپنے سابقین سے کچھ زیادہ ہی علم دوست تھے اور یہ علم دوستی ان میں برابر ترقی کر رہی تھی۔ علم دوستی ایک اچھی خصلت ہے، مگر کسی قوم کو اپنی سیاسی ومعاشرتی بقاء واستحکام کے لیے کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ محض لائبریریوں کا کتابوں سے آباد ہونا کسی قوم کی عزت اور وجاہت کی ضمانت فراہم نہیں کرتا اور نہ ہی محض علم دوستی کے جدید مفہوم کو عروج وزوال کا واحد قطعی سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً خدا کی منتخب قوم کے لیے تو کوئی بھی مادی پیمانہ عروج وزوال کا قطعاً کوئی معیار نہیں ہے اور نہ ہی تاریخ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ہاں، اگر آداب کے ساتھ علم دوست رویے اختیار کیے جائیں اور صرف اسی پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے معاشرتی وسیاسی استحکام کے باقی اسباب کو اختیار کیا جائے تو اس میں بہرحال شرعی اعتبار سے کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

مسلم سلاطین کی شہرہ آفاق علم دوستیوں کا پس منظر سامنے آجانے کے بعد بہتر ہے کہ اب ایک نظر اس دور میں مسلمانوں کے معاشرتی وسیاسی استحکام پر بھی ڈال لی جائے۔ یہ محض ایک تخیل ہے کہ جب تک مسلمان علمی وعقلی سرگرمیوں میں مگن تھے جو آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کا عہد ہے تو سیاسی ومعاشرتی اعتبار سے بہت مستحکم تھے۔ ذیل میں ہم اس سلسلہ کے چند حالات وواقعات آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور حالات وواقعات کے تجزیہ کی یہ ساری سعی اصل علمی مراجع کی بجائے عمداً اردو لٹریچر کے بعض ان نام ور مصنفین کی تحریروں کی روشنی میں کریں گے جو گویا آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کی علمی وعقلی سرگرمیوں کا گویا دورِ جدید کے مسلمانوں میں احیاء چاہتے ہیں، مسلمانوں کو اپنے اِس ماضی سے رشتہ استوار کرنے کی پر زور دعوت دیتے ہیں اور اس عہد کی علمی سرگرمیوں کے قابل مذمت پہلوؤں کی برملا مذمت سے اغماض برتتے ہیں۔ نیز اس سلسلہ میں رو بہ زوال ایک بڑی مسلم ریاست کو آخری دموں میں سقوط سے بچالے جانے کے سلسلہ میں امام غزالی کا جو ناقابل فراموش کردار تھا، اس پر ہم قدرے روشنی ڈالیں گے۔ 

مسلمانوں کے مفروضہ علمی عروج کے عہد میں سے چوتھی صدی ہجری(بمطابق دسویں یا گیارہویں صدی عیسوی) مسلمانوں کی تاریخ میں بالعموم سائنسی اعتبار سے سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے‘ مگر ٹھیک اسی دور میں مسلمانوں کا سیاسی استحکام کس قدر زوال کا شکار تھا‘ مولانا عبدالسلام ندوی اس کی صحیح تصویر آپ کے سامنے رکھتے ہیں:

’’چوتھی صدی میں مسلمانوں کا زوال انتہائی درجہ کو پہنچ گاط تھااور ہر جگہ طوائف الملوکی پھیل گئی تھی‘ لیکن اسی کے ساتھ مسلمانوں کی عقلی زندگی نہایت ترقی یافتہ ہوگئی تھی اور تمام دنیا کی قوموں کے علوم وفنون اسلامی تمدن کا جزو ہوگئے تھے۔‘‘ 

مولانا عبد السلام ندوی کی مذکورہ بالا عبارت میں کافی اجمال ہے، ہم اس کی کچھ تفصیل آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور صرف چوتھی صدی ہجری کی بجائے مسلم علمی عروج کے پورے مزعومہ اسلامی عہد پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ نویں صدی عیسوی (تیسری صدی ہجری) کے وسط میں عباسی خلافت کا زوال شروع ہوگیا تھا، مرکز کی کم زوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف صوبوں میں کئی خود مختار ریاستیں (طاہریہ، سامانیہ، صفاریہ، بویہ اور طولونیہ وغیرہ) قائم ہوگئیں۔ طوائف الملوکی کے اس دور کی تین بڑی اور قابل ذکر حکومتیں یہ ہیں: سامانیہ، بنی بویہ اور خلافتِ فاطمیہ۔ بوعلی سینا بنی سامانیہ کے عہد میں اور ابن مسکویہ بنی بویہ کے عہد میں پیدا ہوا۔ پھر دسویں صدی عیسوی میں سامانی حکومت کے اندر زوال آیا تو اس کی قلم رو میں میں شامل علاقہ مزید تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگیا اور یہاں کئی خود مختار ریاستیں قائم ہوگئیں۔نویں صدی عیسوی کے وسط میں مرکزی خلافت کے ضعف سے شروع ہونے والا طوائف الملوکی کا دور تقریباً دو سو سال یعنی گیارہویں صدی عیسوی کے وسط تک محیط ہے۔

سلجوقی سردار طغرل کے ہاتھوں گیارہویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اس طوائف الملوکی اور ضعف وافتراق کا کافی حد تک خاتمہ ہوا اور مسلمانوں کی ایک مضبوط ریاست قائم ہوئی جو سلطنت سلجوقیہ کہلاتی ہے۔ امام غزالی اسی دور میں پیدا ہوئے۔ مگر یہ سلطنت بھی تقریباً پچاس سال کے اندر اندر یعنی گیارہویں صدی عیسوی ہی کے نصف اخیر میں زوال کا شکار ہوئی تو کئی خود مختار حکومتیں قائم ہوگئیں۔ مسلمانوں کے داخلی ضعف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دور میں صلیبی عالم اسلام پر حملہ آور ہوئے۔ گیارہویں صدی عیسوی کے اخیر میں وہ بیت المقدس پر قابض ہوگئے اور فلسطین کے بڑے حصہ پر ان کی حکومت قائم ہوگئی۔ بارہویں صدی عیسوی ان صلیبی حملہ آوروں کے ساتھ نبرد آزمائی میں گذری، سلجوقی سلاطین کا پروردہ عماد الدین زنگی، اس کا بیٹا نور الدین زنگی اور بعد ازاں اس کا جانشین صلاح الدین ایوبی یکے بعد دیگرے صلیبیوں کے ساتھ ٹکراتے رہے اور بارہویں صدی عیسوی کے اخیر میں بیت المقدس کی فتح اور واپسی کے بعد پورپ بھر میں غیظ وغضب کی آگ بھڑک اٹھی۔ تقریباً سارا یورپ ملک شام پر اپنی پوری قوت کے ساتھ آتش وآہن اگلنے لگا۔ تاہم پانچ برس کی تھکا دینے والی جنگ کے بعد 1192ء میں فریقین کے درمیان صلح ہوئی اور بیت المقدس سمیت مسلمانوں کے تمام علاقے مسلمانوں ہی کے پاس رہنے پر اتفاق ہوا۔

سلجوقی سلطنت سے جدا ہونے والے حصوں میں ایک بڑا نام خوارزم شاہی سلطنت کا ہے، بارہویں صدی عیسوی کے اختتام پر اس حصہ پر تاتاری مسیحی حملہ آور ہوئے جو بغداد تک عالم اسلام کو روندتے چلے گئے اور اسی کے بعد بغداد کے آخری برائے نام خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ بغداد کی عباسی خلافت کا نام ختم ہوگیا۔ کتب خانوں کو جلادیا گیا اور بیت الحکمت جل کر راکھ ہوگیا۔ تاہم مسلمانوں کی افواج اور کتابوں سے شکست نہ کھانے والے یہ تاتاری مسلمانوں کے دین کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ کعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں مل گئے۔

یہ تھی مشرقی اسلامی دنیا کے علمی وعقلی عروج کے عہد میں مسلمانوں کے انحطاط وزوال کے اجمال کی تفصیل جس کی طرف مولانا عبد السلام ندوی نے اپنی عبارت میں اشارہ کیا ہے۔ ہمارا مدعا یہ نہیں کہ مسلمانوں کے لیے علم دوستی مضر چیز ہے۔ نہیں، بلکہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ محض علم دوستی اور کتاب پروری کا رویہ کسی ریاست کی تمام ضرورتوں کی کفالت کے لیے کافی نہیں ہے، چنانچہ علمی عروج کے مزعومہ عہد میں مسلمان حکم رانوں کی تمام تر علمی دوستی کے باوجود مسلم ریاستیں انحطاط کا شکار تھیں، اس وجہ سے ہم ان ادوار کو ہر لحاظ سے قابل رشک نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس مفروضہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ علمی عروج کے اس عہد میں مسلمان کی سیاست ترقی اور استحکام کے معیار پر پورا اترتی تھی۔ عرب میں عجمی فلسفہ کی بنیاد مستحکم بنیادوں پر رکھنے کے لیے مسلمانوں کو ابتدا ہی میں جو قیمت چکانا پڑی، وہ کوئی معمولی قیمت نہ تھی۔ شبلی کے الفاظ ہیں:

’’منصور ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عرب کے زور کوگھٹانے کے لیے عوما ں کا رسوخ بڑھایا اورتمام بڑے بڑے عہدے ان کے ہاتھ میں دیے‘ اگرچہ منصور کی یہ کارروائی پولیٹیکل حیثیت سے نہایت خراب تھی لیکن اس غلطی سے اتنا فائدہ ہوا کہ عرب میں فلسفہ کی بنارد قائم ہوئی اور آج مسلمانوں میں عقلی علوم کا جو کچھ رواج ہے، وہ اسی غلطی کی بدولت ہے۔‘‘ 

پھر کیا ہم جانتے ہیں کہ اسی فلسفہ کی بنیاد رکھے جانے بعد ہی خلافت عباسیہ کے عروج کے دور میں مسلمانوں میں شعوبیت (عرب دشمنی) اور الحاد وزندقہ کی تحریک پیدا ہوئی؟ سوال یہ ہے کہ جس فلسفہ کی بنیاد قائم کرنے اور اسے رواج دینے کے لیے ہمارا سیاسی استحکام داؤ پر لگا، ہمارے دین کے خلاف خود ہماری ہی غلطی کے بسبب ایک خواہ مخواہ کا انتشارکھڑا ہوا، ہم اس کو اپنی ترقی کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ہمارا منصب تو یہ تھا کہ ہم لوگوں کو اللہ کے دین کے معاملہ میں تقدیس کی تلقین کرتے اور انہیں اس معاملہ میں طفلانہ اور غیر ذمہ دارانہ بحث بازی سے باز رہنے کی تلقین کرتے، مگر ہم خود ہی اس کام کے نقیب بن گئے۔

کہا جاتا ہے کہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے حملہ کے بعد مسلمانوں کا علمی زوال شروع ہوا۔ کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ عالم اسلام پر تاتاریوں کے حملہ کو جس چیز نے کامیاب بنایا تھا، کیا وہ تاتاریوں کا علمی و وفنی ترقی میں مسلمانوں سے فائق ہونا تھا؟ ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ اس وقت عالم اسلام علمی وفنی ترقی کے اعتبار سے تاتاریوں سے کہیں آگے تھا اور عالم اسلام پر غلبہ پانے کے بعد دجلہ وفرات کو مسلمانوں کی کتابوں کی سیاہی سے جنہوں نے سیاہ کیا تھا، وہ تاتاری ہی تھے۔ نیز کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ تیرہویں صدی میں تاتاریوں کے حملہ کے بعد اگر عالم اسلام میں علمی زوال شروع ہوا جو اب تک ختم نہیں ہورہا تو کیا عالم اسلام کا سیاسی اور مجموعی زوال بھی اسی وقت شروع ہوگیا تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ تاتاریوں کے حملہ کے بعد ایک وقتی اور عارضی زوال کے باوجود مسلمان ڈوبے نہیں، بلکہ ڈوبنے کے بعد ایک بار پھر ابھرے اور زبردست شان کے ساتھ ابھرے۔ مسلمانوں کا عروج اس کے بعد بھی تقریباً پانچ سو سال تک باقی رہا۔ مسلمانوں کا عہد عروج کسی بھی قوم کے عہد عروج سے زیادہ یعنی ایک ہزار سال پر محیط ہے جو 1700ء تک باقی رہا۔ اس کے بعد اگر مسلمانوں کی مغلوبیت شروع ہوئی تو بے شک اس کے ظاہری اسباب سے ایک ان کا مادی علوم کنارہ کشی اختیار کرنا بھی ہے، لیکن صرف یہی ایک سبب نہیں۔ مادی اسباب ووسائل کے بل بوتے پر حاصل ہونے والا غلبہ انہیں دنیا کا چودھری تو بنا سکتا ہے، مگر اللہ کا محبوب نہیں۔ جبکہ اللہ کی ناراضگی کے ساتھ حاصل ہونے والا غلبہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔ دفاع کے مادی اسباب مہیا رکھنا مسلمانوں کے دینی فرائض میں شامل ہے۔ اگر مسلمانوں نے اس سے پہلو تہی کی تو علم دوستی کی رو میں بہہ کر باقی سب تقاضے بھول جانے کی طرح یہ بھی ان کی دینی غلطی ہی تھی، جبکہ راہِ اعتدال ان کے درمیان تھی۔ مگر موجودہ دور میں انہیں اگر عزت اپنے صحیح مفہوم میں چاہئے تو اس کے لیے انہیں اپنے ایمان واعمال اور اللہ کے ساتھ قلبی تعلق کی کم زوری پر بھی توجہ دینا ہوگی، ورنہ مادہ پرست قوموں کی طرح محض مادی اسباب ووسائل کے بل بوتے پر حاصل ہونے والی عزت کسی کام کی نہیں۔

مشرقی اسلامی دنیا کی کہانی کے بعد ہم اس سلسلہ میں یہاں پر بطورِ خاص اندلس پر بھی روشنی ڈالیں گے۔ اندلس کا دور مسلمانوں کی علمی وعقلی ترقی کا یادگار ترین زمانہ ہے۔ مسلمانوں کی علمی وعقلی عروج کی تاریخ کا تذکرہ جب بھی آئے گا تو سب سے پہلے اندلس، غرناطہ اور قرطبہ کا ذکر ہوگا، مسلم علمی وعقلی عروج کے حوالہ سے اس خطہ کو بہت یادگار اور عہد ساز سمجھا جاتا ہے، مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے پہلا سقوط بھی اندلس میں ہوا اور وہ عیسائی جو فاتح بن کر یہاں وارد ہوئے، وہ در اصل ان علوم اور کتابوں میں مسلمانوں کے شاگرد تھے؟ مسلمانوں کی تاریخ میں سائنسی اور علم پروری کے اعتبار سے سب سے زیادہ تاب ناک اور قابل رشک دور اندلس کا تھا۔ غزالی کی ضرب کے بعد جب فلسفہ کا منحرف دبستان مشرق میں راہی عدم ہوا تو ابن باجہ، ابن طفیل اور ابن رشد جیسے لوگ بھی اندلس ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ اندلس کبھی عباسی خلافت کے زیر نگیں نہیں آسکا، بلکہ گیارہویں صدی عیسوی تک یہ امویوں کے پاس رہا۔ 1030ء تک یہاں قائم رہنے والا اموی خاندان کا دورِ حکومت سید قاسم محمود کے الفاظ میں:

’’اندلس کی تاریخ کا سب سے شان دار دور ہے اور اس دوران یہاں سائنسی ترقی پوری تیزی سے ہوئی اور کئی ممتاز سائنس دان پیدا ہوئے۔ ‘‘

مگر گیارہویں صدی عیسوی میں اموی خلافت کے سقوط کے بعد اسلامی اندلس طوائف الملوکی کا شکار ہوکر سات حصوں میں بٹ گیا۔ شبلی کے بقول چوتھی صدی ہجری (تقریباً دسویں یا گیارہویں صدی عیسوی جو اندلس میں اموی خلافت کے زوال کا آخری عہد ہے) میں عالم اسلام کا سب سے بڑا کتب خانہ اندلس کا تھا‘ جو اتنا بڑا تھا کہ ملک بھر کا ٹکسع اس کے مصارف کے لیے ناکافی تھا‘ سینکڑ وں گماشتے اطراف واکناف کے اضلاع میں اس کے لیے مقرر تھے کہ قدیم وجدید کتابیں بروقت فراہم کی جائیں‘ صرف اشعارو قصائد کی کتابیں اس میں اتنی تھیں کہ آٹھ سو اسی صفحات پر ان کی فہرست مشتمل تھی۔کتاب پروری کا یہ شوق اتنا عام تھا کہ صرف حکم ران نہیں‘ عام امراء بھی کتب خانے قائم کرتے تھے۔ قرطبہ میں اس کا عام دستور تھا اورامراء کے مابین اس کی بنیاد پر فخر ونمود ہوتی تھی۔ تفصیل شبلی کے مضمون "اسلامی کتب خانے" میں دیکھئے۔ لطف یہ ہوا کہ اموی خلافت کے سقوط کے بعد طوائف الملوکی کا شکار تمام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکم ران بھی بلا کے علم دوست نکلے۔ سید قاسم محمود کے الفاظ میں:

’’علمی لحاظ سے ان حکومتوں نے بہت ترقی کی۔ بادشاہ بذاتِ خود حکمت ودانش اور علم وادب کا شغف رکھتے تھے۔ ‘‘

پھر یہ ہوا کہ طوائف الملوکی کا شکاراندلس محض ستر‘اسی سال کے اندر اندر ان علم دوست لیکن نااہل حکم رانوں کے ہاتھ سے بھی نکل کر دو حصے تو عیسائیوں کے پاس جاتا رہا، جبکہ باقی ماندہ حصہ سے باقاعدہ عیسائیوں کو جزیہ جاتا تھا۔ تاہم پھر اس حصہ میں تبدیلی کی ایک ہوا چلی، اس حصہ میں طوائف الملوکی کے دور کا خاتمہ ہوا، نہایت مضبوط حکومتیں قائم ہوئیں جنہوں نے صلیبیوں نے کے ساتھ آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کی۔ یوں یہ علاقہ جو گیارہویں صدی عیسوی میں ہی آخری دموں کے اندر پڑا تھا، مزید تقریباً ساڑھے تین سو سال تک کے لیے صلیبیوں کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا اور ظاہری اسباب کے تحت گویا اس کا کلی سقوط 1492ء تک کے لیے مؤخر ہوگیا۔ حالات کی اس خوش کن اور غیر متوقع تبدیلی کے اسباب کیا تھے، آئیے غور کرتے ہیں۔

(جاری)

شخصیات