سورہ یونس اور سورہ ہود کے مضامین : ایک تقابل

ڈاکٹر عرفان شہزاد

علامہ حمید الدین فراہی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ قرآن مجید کی سورتیں جوڑا جوڑا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اور سورہ آل عمران، اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے بارے میں جنھیں معوذتین بھی کہا گیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے جب قرآن کی سورتوں کا مطالعہ کیا گیا تو یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔

اس تناظر میں سورہ یونس اور سورہ ہود کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس میں مزید کیا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور قرآن کی سورتوں کے بارے میں جوڑا جوڑا ہونے کا نظریہ کتنا صائب ہے، نیز، قرآن مجید کی تفہیم میں اس پر کیا اثر پڑتا ہے۔

مکتب فراہی کے مطابق قرآن مجید کی سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دین کے مختلف مراحل کا بیان ہیں: کہیں پر قوم کے خاص لوگوں کو انذار کیا گیا ہے، جب کہ کہیں یہ انذار عام ہو گیا ہے، کہیں انذار کے سارے دلائل اور براہین آخری درجے مکمل ہو گئے ہیں اور مرحلہ اتمام حجت تک پہنچ گیا اور کہیں اس کے بعد ہجرت کا وقت آ گیا ہے، اور کہیں سب سے آخری مرحلہ آ جاتا ہے کہ اب منکرین کی تباہی اور مومنین کی کامیابی اور ان کے غلبے کا وقت آ گیا ہے۔ درج ذیل دونوں سورتیں، مرحلہ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ چیز ان کے مضامین سے عیاں ہے۔ اتمام حجت کا مطلب ہے کہ رسول، دین کی دعوت اپنے تمام دلائل، براہین، معجزات غرض تمام ممکنہ وسائل سے اس طرح مکمل کر دیتا ہے کہ مخاطبین کے پاس اس کی صداقت کو جھٹلانے کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا، لیکن پھر بھی اگر وہ انکار پر مصر رہتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی ضد، عناد اور تعصب ہوتا ہے۔

اب دونوں سورتوں کے تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے:

دونوں سورتیں الر کے حروف سے شروع ہوتی ہیں۔ حروف مقطعات کے بارے میں علامہ فراہی کے پیش کردہ نظریہ پر جناب عدنان اعجاز صاحب کی تحقیق کے مطابق، ا ل ر سے مراداللہ کی طرف سے نازل کردہ حکمت ہے۔ ان دونوں ہی سورتوں میں آغاز کلام میں بھی حکمت کی طرف اشارہ ہے: سورہ یونس میں کہا گیا ہے کہ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں اور سورہ ہود میں کہا گیا ہے کہ یہ آیت خدائے حکیم کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔اسی لحاظ سے دونوں سورتوں کا مضمون بھی حکیمانہ پیغام کا حامل ہے۔ مخاطبین سے کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ رسولوں کے انذار اور اتمام حجت کے بعد دنیا میں جو حال ان کی قوموں کا ہوا اور اسی بنا پر آخرت میں جو انجام ان کا ہوگا،اس سے عبرت حاصل کرو اور خود کو دنیا اور آخرت کے اس خسران سے بچاؤ، اور رسول کی دعوت کی اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے، خود کو خدا کے انعام کا مستحق بناؤ۔ (عدنان اعجاز صاحب کے مضمون کے لیے دیکھیے، 'حروف مقطعات اور نظریہ فراہی کے اطلاقات، اشراق ،ستمبر اور اکتوبر' 2016)

علامہ فراہی کے نقطہ نظر سے ہٹ کر بھی، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حروف مقطعات، اپنی سورت کے مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ا ل ر کے یکساں نام کے لحاظ سیدیکھا جائے تو دونوں سورتوں کے مضامین بھی ایک جیسے ہیں، یعنی انذار و بشارت۔ انذار یعنی مخاطبین کو دین حق پر ایمان لانے کی دعوت دینا اور ان کے انکار پر عذاب کی دھمکی سنانا کہ وہ عذاب دنیا میں بھی آ جائے گا اور آخرت میں بھی پیش آئے گا، اور بشارت کا مطلب مومنین کو دنیا اور آخرت میں انعام کی بشارت دینا۔ اس انذار اور بشارت کے لیے دونوں سورتوں میں استدلال بھی یکساں ہے، یعنی انبیا کی تاریخ سے استدلال۔سورہ یونس میں البتہ آفاق اور انفس سے بھی دلائل لائے گیے ہیں۔

دونوں سورتوں کے آغاز ہی میں انذار اور بشارت ایک ساتھ مذکور ہوئے ہیں۔ سورہ یونس میں ہے:

اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ، قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ (آیت 2)

کیا اِن لوگوں کو اِس پر حیرانی ہو گئی کہ ہم نے اِنھی میں سے ایک شخص پر وحی کی ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور جو مان لیں، اْنھیں خوش خبری پہنچا دوکہ اْن کے لیے اْن کے پروردگار کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ (اِس حقیقت کو سمجھنے کے بجاے) اِن منکروں نے کہہ دیا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔

سورہ ہود میں ہے:

۱ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ، اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ (سورہ ہود، آیت 2)

کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ میں اْس کی طرف سے تمھیں خبردار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔

چنانچہ دونوں سورتوں میں یہ دونوں مضامین پوری سورہ میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ تاہم، دونوں سورتوں میں انذار کا مضمون غالب ہے، کیونکہ معاملہ اتمام حجت کی طرف جا رہا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سورہ یونس میں انذار عام سے اتمام حجت تک کے دو مراحل بیان ہوئے ہیں۔ یعنی پہلے مرحلے پر بات سمجھائی جا رہی ہے اور آخر میں جان بوجھ کر انکار پر مصر رہنے والوں کو عذاب کی دھمکی سنا دی گئی ہے۔سورہ یونس میں اتمام حجت ابھی ابتدائی طور پر ہوا ہے یعنی کچھ لوگوں پر اتمام حجت ہو گیا اور کچھ پر ابھی ہو رہا ہے، اس لیے انہیں بار بار سمجھایا جا رہا ہے۔ جب کہ سورہ ہود میں اتمام حجت اگلے مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ اس سورہ میں معاملہ سمجھانے سے زیادہ منکرین کے لیے دھمکی آمیز ہو گیا ہے۔ مثلاً دونوں سورتوں میں آسمان اور زمین کی تخلیق کے تذکرے کے بعد نتیجے کے بیان میں لب و لہجے کا فرق ملاحظہ کیجیے:

سورہ یونس:

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ، مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِہٖ، ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ، اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا، وَعْدَ اللّٰہِ حَقًا، اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ، وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (آیت 3۔4)

’’(لوگو)، حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر معاملات کا نظم سنبھالے ہوئے اپنے عرش پر قائم ہو گیا۔ اْس کی اجازت کے بغیر کوئی (اْس کے حضور میں) سفارش کرنے والا نہیں ہے۔ تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے، لہٰذا اْسی کی بندگی کرو۔ کیا تم سوچتے نہیں ہو؟ تم سب کو (ایک دن) اْسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، اِس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اْنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اْن کو انصاف کے ساتھ (اْن کے عمل کا) بدلہ دے اور جنھوں نے انکار کر دیا ہے، اْن کے انکار کے بدلے اْن کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے۔‘‘

سورہ ہود:

وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً، وَلَءِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ۔ وَلَءِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلآی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ، اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْھِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ (آیت 7۔8)

’’اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور (تمھاری پیدایش سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا ۔۔۔ اِس لیے (پیدا کیا ہے) کہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب (اے پیغمبر)،اگر تم اِن سے کہتے ہو کہ (لوگو)، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو یہ منکرین فوراً بول اٹھیں گے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ اور اگر کچھ مدت کے لیے ہم اِن سے عذاب کو ٹال دیں گے تو ضرور پوچھیں گے کہ اِسے کیا چیز روکے ہوئے ہے؟سنو، جس دن وہ اِن کے اوپر آ پڑے گا تو اِن سے پھیرا نہ جاسکے گا اور وہی چیز اِن کو آ گھیرے گی جس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔‘‘

یعنی سورہ یونس میں بات اصولی اعتبار سے کی گئی ہے کہ نیکو کار مومنوں کو اجر جب کہ منکرین کو سزا ملے گی، جب کہ سورہ ہود میں بات دھمکی آمیز ہو گئی ہے، ساتھ میں قیامت سے پہلے دنیاوی عذاب کی دھمکی بھی دے ڈالی گئی ہے۔ 

سورہ ہود میں چونکہ انذار پر زیادہ زور ہے، اسی مناسبت سے اس میں بشارت کا مضمون کم ہو گیا ہے۔

سورہ یونس کی آیت 47 میں دنیاوی عذاب آنے کا اصول بتایا گیا ہے کہ کسی قوم پر اگر رسول آ جائے تو ان کے مسلسل انکار کی صورت میں اس قوم کا فیصلہ دنیا میں ہی کر دیا جاتا ہے:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ، فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (آیت 47)

’’(اس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب ان کا رسول آ جاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘

سورہ یونس اور سورہ ہود میں اسی اصول کی تفصیل اور اطلاقات دکھائے گیے ہیں۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سورہ یونس کے آغاز میں عذابِ آخرت کا ذکر پہلے ہے اور دنیاوی عذاب کا بعد میں جب کہ سورہ ہود میں دنیاوی عذاب کا ذکر آخرت کے عذاب سے پہلے کیا گیا ہے جب کہ سورہ ہود میں دنیاوی عذاب کا ذکرپہلے ہے اور آخرت کے عذاب کا بعد میں۔ مثلاً دیکھیے:

سورہ یونس:

اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا، وَعْدَ اللّٰہِ حَقًا، اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ، وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (آیت 4)

’’تم سب کو (ایک دن) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، اِس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اْنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو انصاف کے ساتھ (ان کے عمل کا) بدلہ دے اور جنھوں نے انکار کر دیا ہے، ان کے انکار کے بدلے اْن کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے۔‘‘

سورہ ہود:

وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ، وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ (آیت 3)

’’اور یہ کہ تم اپنے پروردگار سے معافی چاہو، پھر اْس کی طرف رجوع کرو، وہ تمھیں ایک متعین مدت تک اچھی طرح بہرہ مند کرے گا اور ہر اْس شخص کو جو اْس کے فضل کا مستحق ہے، اپنے فضل سے نوازے گا۔ لیکن اگر منہ پھیرو گے تو میں تمھارے اوپر ایک بڑے ہول ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘

چنانچہ اسی مناسبت سے سورہ یونس میں آگے جا کر بھی پہلے آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، پھر اس آخرت کے عذاب کے نمونے کے طور پر دنیاوی عذاب کے چند نمونے بتائے گیے ہیں، جب کہ سورہ ہود میں دنیاوی عذاب کا ذکر کرنے کے بعد آخرت کے عذاب پر ان سے استدلال کیا گیا ہے۔ مثلاً دیکھیے سورہ ہود میں قوم عاد پر عذاب کا ذکر کرنے کے بعد قیامت کے عذاب کا ذکر یوں کیا گیا:

وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعَنَۃً وَّیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (آیت 60)

’’(آخر کار) اِس دنیا میں بھی اِن کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔‘‘

اسی طرح فرعو ن پر آنے والے دنیاوی عذاب کا ذکر کرنے کے بعد یہ کہا گیا:

یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ، وَبِءْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ (آیت 98)

’’قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور انھیں دوزخ میں لے جا اتارے گا۔ کیا ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتریں گے۔‘‘

پھر دنیاوی عذاب کے سار ے قصے سنا کر یہ کہا گیا:

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَۃِ، ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ (ہود، 103)

’’اِس میں یقیناًان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہے جس کے لیے سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہو ۔‘‘

سورہ یونس میں نوح علیہ السلام کے تذکرے کے بعد اور موسیٰ علیہ السلام کے تذکرے سے پہلے ان دونوں کے درمیان کے رسولوں کو اجمالًا ذکر کیا گیا ہے (آیت 74)، پھر اس اجمالی بیان میں آنے والے رسولوں کا تفصیلی تذکرہ سورہ ہود میں آ گیا ہے۔ اس طرح دونوں سورتیں مل کر انذار کی قرآنی تاریخ کی تکمیل کرتی ہے۔

سورہ یونس میں نوح علیہ السلام کا قصہ مختصر ہے اور موسیٰ علیہ السلام کا مفصل، جب کہ سورہ ہود میں نوح علیہ السلام کا قصہ مفصل ہے اور موسیٰ علیہ السلام کا بالکل مختصر ہے۔ اس طرح دونوں سورتیں مل کر ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں۔

دونوں سورتوں میں نعمت اور نکبت کی حالتوں کے بارے میں انسان کے ناشکر گزار رویے کا ذکر ہے، لیکن دونوں میں ایک فرق ہے: سورہ یونس میں مصیبت کا بیان ہے کہ جب ناشکرے انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اٹھتے بیٹھے خدا کو پکارنے لگتا ہے، اور جب مصیبت دور ہو جاتی ہے تو خدا کو ایسے بھول جاتا ہے جیسا کبھی پکارا ہی نہ تھا:

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْقَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا، فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ، کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (آیت 12) 

’’حقیقت یہ ہے کہ اِنھیں کوئی عذاب دکھا بھی دیا جائے تو ایمان نہ لائیں گے۔ اِس لیے کہ) انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے وہ ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب اس کی تکلیف ہم ٹال دیتے ہیں تو اِس طرح چل دیتا ہے گویا جو تکلیف اسے پہنچی، اس میں کبھی اْس نے ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ حد سے گزرنے والوں کے لیے اْن کے اعمال اِسی طرح خوش نما بنا دیے گئے ہیں۔‘‘

جب کہ سورہ ہود میں اس ناشکر گزار رویے کو نعمت کے باب میں بیان کیا گیا ہے کہ جب ایسے انسان سے نعمت چھین لی جائے تو فورا مایوس ہو جاتا ہے:

وَلَءِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰھَا مِنْہُ اِنَّہٗ لَیَءُوْسٌکَفُوْرٌ (آیت 9)

’’انسان کا معاملہ یہ ہے کہ ہم اس کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں، پھر اس سے اسے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور نا شکری کرنے لگتا ہے۔‘‘

اور دوسرا یہ کہ اگر اسے مصیبت کے بعد نعمت ملتی ہے تو اترانے لگتا ہے لیکن خدا کا شکر گزار نہیں بنتا:

وَلَءِنْاَذَقْنٰہُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ذَھَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ، اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ (آیت 10)

’’اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی، ہم اسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میری مصیبتیں مجھ سے دور ہوئیں۔ (پھر) وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے والا بن جاتا ہے۔‘‘

دونوں سورتوں کی اس موضوع کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو ناشکر گزاری کے اس انسانی رویے کی تصویر مکمل ہوتی ہے۔ گویا دونوں سورتوں کے یہ دونوں مقامات ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔

دونوں سورتوں میں قرآن کے بارے میں کفار کے رویے پر بات ہوئی ہے کہ وہ اسے من گھڑت قرار دے رہے تھے، اس پر دونوں سورتوں میں قرآن جیسا کلام لانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ سورہ یونس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم قرآن کو من گھڑت سمجھتے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ (آیت 38) جب کہ سورہ ھود میں کہا گیا ہے کہ اس جیسی دس سورتیں لے آؤ۔ (آیت 13)

دونوں سورتوں کے اس تقابلی مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ قرآنی سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا نظریہ درست ہے اور اس تناظر میں یہ قرآن فہمی کا ایک نیا دریچہ کھولتا ہے۔

قرآن / علوم قرآن