ستمبر ۲۰۱۷ء

نصوص کی تحدید و تخصیص اور قرآن کی آفاقیت

― محمد عمار خان ناصر

سوالات۔ نظم قرآن کا تصور اور تفسیر میں مخاطب کے تعین کا مسئلہ (اور اس کے ساتھ اتمام حجت کا قانون بھی) سامنے آنے کے بعد احکام کی تحدید وتعیین اور تعمیم کے مسئلے پر ذہن کافی الجھا ہوا ہے۔ رہ نمائی فرمائیں۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس کون سے ایسے قطعی اصول ہیں جن کی رو سے ہم بعض احکام کو عہد رسالت کے ساتھ خاص اور بعض کو عمومی مانیں گے؟مولانا اصلاحی کے ہاں "تدبر قرآن" میں تخصیص کی وہ صورتیں نظر نہیں آتیں جو غامدی صاحب کے ہاں اور آپ کی کتاب "جہاد ایک مطالعہ" میں نظر آتی ہیں۔ آپ کی جہاد کی کتاب میں "خیر امت" کے خطاب کی بھی مجھے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ صرف عہدِ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۴)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۶) یولج کا ترجمہ۔ ایلاج کے معنی داخل کرنا ہوتا ہے، قرآن مجید میں رات اور دن کے حوالے سے یہ فعل پانچ آیتوں میں ذکر ہوا ہے۔ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ان پانچ آیتوں میں سے ایک آیت کا ترجمہ صاحب تفہیم القرآن نے داخل کرنے کے بجائے نکالنا کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔ پہلی بات کہ یہ ترجمہ آیت کے الفاظ کے خلاف ہے، ایلاج کے معنی داخل کرنا ہے نکالنا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس مفہوم کی تائید میں کوئی اور نظیر بھی نہیں ہے، قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ اللہ دن سے رات کو اور رات سے دن کو نکالتا ہے۔...

سورہ یونس اور سورہ ہود کے مضامین : ایک تقابل

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

علامہ حمید الدین فراہی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ قرآن مجید کی سورتیں جوڑا جوڑا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اور سورہ آل عمران، اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے بارے میں جنھیں معوذتین بھی کہا گیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے جب قرآن کی سورتوں کا مطالعہ کیا گیا تو یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔ اس تناظر میں سورہ یونس اور سورہ ہود کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس میں مزید کیا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور قرآن کی سورتوں...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

۳۔ اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات۔ عصر حاضر تخصص و سپیشلائزیشن کا دور ہے، علوم و فنون کے شعبہ جات پر مستقل کام ہوا ہے ۔مصطلح الحدیث کی انواع پر بھی مستقل تصنیفات لکھی گئی ہیں۔ یہ تصنیفات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں ایک نوع سے متعلق تفصیلی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کے جوانب و اطراف کا احاطہ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند اہم کاوشیں ذکر کی جاتی ہیں۔ ان کتب کے تذکرے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جدید دور میں انواع علوم الحدیث پر ہونے والے کام کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ اصول حدیث کی اہم انواع سے متعلق بعض اہم اور تفصیلی...

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۲)

― مولانا محمد رفیق شنواری

تعلیمی ماحول کی تشکیل میں استاد کا کردار۔ تعلیمی عمل کا ایک اساسی بلکہ اہم ترین رکن استاد ہے ۔ لیکن تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں استاد کے علاوہ تعلیمی وسائل کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ تعلیم کے وسائل پورے اور بہتر ہوں تو استاد کو عمل تدریس میں لگن پیدا ہوگی ، اس طرح بہتر اور معیاری تدریس اپنے مثبت اور اچھے اثرات کے باعث عملِ تعلیم کو خوش گوار اور پرکشش بنا دیتی ہے۔ اس لیے تعلیمی ماحول کی تشکیل میں اولین ذمہ داری اداروں کے سربراہان یا مدارس کے مہتممین حضرات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مدارس کے بادشاہ یا سلاطین بننے کے بجائے طلبہ اور بالخصوص مدرسین...

چینی زبان کی آمد

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے کہ مستقبل قریب میں ہم چینی تاجروں...

دینی مدارس کا نصاب، جہاد افغانستان اور عسکریت پسندی

― محمد عرفان ندیم

سر سیداحمد خان کے بیٹے سیدمحمود احمد ہندوستان کے مشہور وکیل تھے۔ ان کی یاد داشت بڑی کمزور تھی۔ ایک دفعہ ایک مقدمے میں پیش ہوئے اور یہ یا دہی نہ رہا کہ وہ استغاثہ کے وکیل ہیں یا وکیل صفائی۔ انہوں نے موقع ملتے ہی وکیل صفائی کے دلائل دینا شروع کر دیے اور بڑی مہارت سے ملزم کی صفائی میں دلائل پیش کیے۔ موکل اور جج دونوں پریشان ہو گئے۔ موکل نے انہیں ایک چٹ پیش کی جس میں انہیں یاد کر وایا کہ آپ وکیل صفائی نہیں بلکہ استغاثہ کے وکیل ہیں۔ محمود احمد نے بڑے اطمینان سے چٹ پر نظر دوڑائی اور ذرہ بھر توقف کیے بغیر اسی جوش و خروش سے دوبارہ بولنا شروع کیا ’’می...

مذہب اور سائنس کے موضوع پر ایک ورکشاپ ۔ چند تاثرات

― محمد عثمان حیدر

راقم کو ۳ تا ۵ جولائی ۲۰۱۷ء، میرین ہوٹل گوجرانوالہ میں ایک سہ روزہ ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا جو الشریعہ اکادمی اور خوارزمی سائنس سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔ ورکشاپ کا عنوان تھا: ’’مذہب اور سائنس: تنازعات کی وجوہات اور مفاہمت کی اساسیات‘‘۔ ورکشاپ میں معلم کی ذمہ داری ڈاکٹر باسط بلال کوشل صاحب نے انجام دی اور تین دن ان سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ ورکشاپ جس موضوع کے تحت منعقد کی گئی تھی، وہ دور حاضر میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سائنسی ایجادات اور ان کے فوائد نے سبھی طبقات کو اپنے اثر میں لے لیا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter