اہل کتاب سے متعلق اسلام کا زاویہ نظر

محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ کو دنیا کی اقوام تک اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچانے کا جو منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ دراصل اسی ذمہ داری کا ایک تسلسل ہے جو اس سے پہلے یہود یوں اور مسیحیوں کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں گروہ رفتہ رفتہ راہ راست سے ہٹ گئے اور دین کی اصل اور حقیقی تعلیمات ان کے ہاتھوں بگاڑ کا شکار ہو گئیں۔

مذکورہ دونوں گروہوں سے متعلق قرآن مجید نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان کو سامنے رکھا جائے تو مذہبی اختلافات کے حوالے سے توازن اور اعتدال کا ایک حسین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے جس کی ہمارے دین نے ہمیں تعلیم دی ہے۔ 

ان سطور میں ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس بات پر غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اپنے پیش رو ان دونوں گروہوں کے متعلق کیا ہدایات دی ہیں اور ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ 

انبیاء اور صحف سماوی کی طرف نسبت 

سب سے پہلی بات تو ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ قرآن نے ان گروہوں کے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے جس کا مطلب ہے اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان رکھنے والے لوگ۔ یہ بڑی اہم اور قابل غور بات ہے، کیونکہ قرآن مجید نے ان دونوں گروہوں پر جو بنیادی تنقید کی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کر دیا ہے اور گمراہی اور انحراف کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود جب قرآن ان کے لیے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بگاڑ اور انحراف کے باوجود آسمانی کتابوں کی طرف ان کی اس نسبت کو اصولی طور پر تسلیم کرتا ہے۔

ان گروہوں کے لیے قرآن نے جو بعض دوسری تعبیریں استعمال کی ہیں، ان سے بھی یہی پہلو سامنے آتا ہے۔ مثال کے طو رپر سورۃ الحدید کی آیت ۲۷ میں نصاریٰ کا ذکر ’’الذین اتبعوہ‘‘ (جنھوں نے مسیح کی پیروی اختیار کی) کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ آل عمران میں حضرت مسیح سے رفع آسمانی کے وقت ان سے جو وعدے کیے گئے، ان میں سے ایک وعدے کا ذکر ان الفاظ سے کیا گیا ہے کہ ’’میں تمھارے پیروکاروں (یعنی نصاریٰ) کو قیامت تک منکروں (یعنی یہود) پر غالب رکھوں گا۔‘‘ (آیت ۵۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مسیح علیہ السلام کی تعلیم سے انحراف کی نشان دہی کرتے ہوئے بھی نصاریٰ کی اس نسبت کو اصولاً قبول کرتا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔ 

قرآن مجید کے بیان کے مطابق قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ مسیحیوں کے اس عقیدے کی بابت اپنے پیغمبر حضرت مسیح علیہ السلام سے بازپرس فرمائیں گے تو حضرت مسیح اس مشرکانہ عقیدے سے تو صاف صاف براء ت کا اعلان کریں گے، لیکن اپنی پیروی کا دعویٰ کرنے والی امت سے لاتعلقی ظاہر نہیں کریں گے، بلکہ بڑے ہی لطیف انداز میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی امت کی مغفرت کی درخواست پیش کریں گے۔ سورۂ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح کی درخواست یوں نقل فرمائی ہے:

مَا قُلْتُ لَھُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ، وَکُنتُ عَلَیْْھمْ شَھیْداً مَّا دُمْتُ فِیْھمْ، فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْھِمْ، وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ شَھِیْدٌ، إِن تُعَذِّبْھُمْ فَإِنَّھُمْ عِبَادُکَ، وَإِن تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (آیت ۱۱۶، ۱۱۷)

’’میں نے تو ان سے وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ اور جب تک میں ان میں رہا، ان پر نگران رہا، لیکن جب تو نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو تو ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو (تیرا اختیار ہے)، یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انھیں معاف کر دے تو (کون تجھے پوچھنے والا ہے)، بے شک تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ 

مشرکین اور اہل کتاب میں فرق 

قرآن مجید نے اہل کتاب میں سے نصاریٰ کے اس عقیدے کی پرزور تردید فرمائی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام معاذ اللہ الوہیت میں شریک تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُو إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ، وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ، إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ، وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (المائدہ، آیت ۷۲)

’’یقیناًکفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل، اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اس پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دیا ہے اور ظالموں کو (قیامت کے روز) کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔‘‘ 

حقیقت کے لحاظ سے نصاریٰ کا یہ عقیدہ شرک ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہی دوسری جگہ عقیدۂ توحید کو مسلمانوں اور اہل کتاب کے مابین ایک متفقہ اور مشترکہ اساس بھی قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۂ آل عمران میں فرمایا:

قُلْ یَا أَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّٰہِ، فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْھَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (سورۂ آل عمران، آیت ۶۴)

’’کہہ دو کہ اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے مابین مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کچھ لوگ اللہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں کو رب نہ بنا لیں۔ پھر اگر یہ پھر جائیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں۔‘‘ 

غور کیا جائے تو قرآن مجید کا یہ اسلوب دو بڑے اہم نکات کی طرف ہماری راہ نمائی کرتا ہے:

اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ اہل کتاب، خاص طور پر نصاریٰ مشرکانہ عقائد اختیار کیے ہوئے تھے، لیکن چونکہ وہ اصولاً توحید کے قائل اور علم بردار تھے اور اپنے ان عقائد کو شرک سمجھتے ہوئے اقراری طو رپر ’’مشرک‘‘ نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں ’’مشرکین‘‘ سے الگ شمار کرتے ہوئے ’’توحید‘‘ کو ان کے اور مسلمانوں کے مابین ایک مشترک نکتہ تسلیم فرمایا ہے۔

قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے دوسرا انتہائی اہم نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ دعوت دین کے میدان میں داعی کی اصل توجہ اس پر ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اور مدعوکے مابین مشترک طور پر مسلمہ نکات کو تلاش کرے اور انھیں اپنی دعوت کی بنیاد بنائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشترک اساسات کے بغیر دعوت کے عمل کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر فریقین کے مابین کوئی بھی نکتہ اشتراک نہ ہو تو گفتگو، مکالمہ اور دعوت کا عمل شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ قرآن نے یہاں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مخاطب اگر کسی اصول کو لفظی طور پر مان رہا ہو، جبکہ عمل کے لحاظ سے اس کی نفی کر رہا ہو تو اس کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر گفتگو کی بنیاد رکھی جائے اور اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ تم جس بات کو اصولاً تسلیم کرتے ہو، تمھارے فلاں اور فلاں نظریات واعمال اس کی نفی کر تے ہیں۔

یہاں یہ بات سمجھنا بڑا اہم ہے کہ قرآن نے اہل کتاب کے، توحید سے ٹکرانے والے عقائد اور رویوں کو یہاں الزامی انداز میں بیان نہیں کیا اور یوں نہیں کہا کہ تم تو غیر اللہ کی عبادت بھی کرتے ہو، اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتے ہو اور انسانوں کو اپنا رب بھی بناتے ہو، اس لیے تمھارے دعوائے توحید کی کیا وقعت ہے؟ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے مثبت پہلو سے بات کی ہے اور عقیدۂ توحید میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان اصولی اشتراک کو بنیاد بنا کر انھیں یہ دعوت دی ہے کہ آؤ، اس عقیدے کو لفظاً ومعناً اور اس کی حقیقی روح کے مطابق تمام تر لوازم کے ساتھ اختیار کر لیں۔

قرآن مجید نے اہل کتاب کے، اصولی طور پر عقیدۂ توحید کو ماننے کا لحاظ شرعی احکام کے دائرے میں بھی کیا ہے اور اس ضمن میں مشرکین اور اہل کتاب کے لیے الگ الگ احکام مقرر فرمائے ہیں۔ چنانچہ اسلامی شریعت میں کسی مشرک کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا حرام ہے اور کسی مشرک مرد یا عورت کے ساتھ نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رکھا گیا، لیکن اس کے برخلاف اہل کتاب کے متعلق یہ اجازت دی گئی ہے کہ ان کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت بھی کھایا جا سکتا ہے اور ان کی پاک دامن عورتوں سے مسلمان مرد نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۵)

اہل کتاب کے ساتھ مذہبی رواداری 

اہل کتاب کے ساتھ دین ابراہیمی کی اساسی تعلیمات میں اشتراک نیز دعوت دین کی حکمت کے ان اصولوں کے تحت ہم دیکھتے ہیں کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ وتابعین میں ہمیں اہل کتاب کے ساتھ ہمدردی و تعلق خاطر اور رواداری و احترام کی بڑی عمدہ اور غیر معمولی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً دیکھیے:

مکی عہد نبوت میں جب روم کے مسیحیوں اور فارس کے مجوسیوں کے مابین جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مسلمان بہت غمگین ہوئے۔ رومیوں کے ساتھ اس ہمدردی کو قرآن مجید نے بنظر استحسان دیکھا اور سورۃ الروم کی ابتدائی آیات میں مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ عنقریب رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوگا اور اس دن مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوگی۔ 

روایات میں منقول ہے کہ اس موقع پر مشرکین مکہ اور مسلمان نے گویا دو کیمپوں کی صورت اختیار کر لی اور مشرکین نے اہل فارس کو اپنے بھائی قرار دے کر اس فتح پر خوشی منائی،جبکہ مسلمانوں نے ان کے مقابلے میں اہل کتاب کو اپنے بھائی کہہ کر ان کی شکست پر اظہار غم کیا۔ تفسیر طبری میں عکرمہ سے روایت ہے:

’’مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ بھی اہل کتاب ہو اور نصاریٰ بھی اہل کتاب ہیں، جبکہ ہم امی ہیں اور ہمارے بھائی یعنی اہل فارس تمھارے اہل کتاب بھائیوں پر غالب آ گئے ہیں۔ اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نکل کر کفار کے پاس گئے اور کہا کہ کیا تم اپنے بھائیوں کے ہمارے بھائیوں پر غالب آنے پر خوش ہو رہے ہو؟ خوش مت ہو، اللہ تمھاری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا نہیں کرے گا۔ بخدا، اہل روم اہل فارس پر غالب آ کر رہیں گے۔‘‘ (تفسیر طبری، تفسیر سورۃ الروم، آیت ۲)

سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے بنائے جانے والے گھروں میں مسجدوں کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کی قائم کردہ عبادت گاہوں کا بھی ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ وہ جگہیں ہیں جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُم بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً (آیت ۴۰)

’’اور اگر اللہ نے انسانوں (کے فتنہ وفساد) کو دوسرے انسانوں کے ذریعے سے دفع کرنے کا قانون نہ بنایا ہوتا تو راہب خانوں، کلیساؤں، گرجوں اور مسجدوں تک کو گرا دیا جاتا جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے۔‘‘

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو یہاں یہودی بڑی تعداد میں آباد تھے۔ ان کی تالیف قلب کی خاطر اور انھیں اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے سولہ سترہ ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان کعبہ کے بجائے اہل کتاب کے قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث ۴۱)

فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں مدینہ منورہ کے یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت میں عاشورا کا روزہ رکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا اور فرمایا کہ ’’میں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث ۳۱۶۸)

ایک انصاری نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: ’’اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے‘‘ اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الخصومات، حدیث ۲۲۸۰)

۹ ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انھوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روک دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نماز پڑھنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی ہی میں مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۴/۱۰۸)

ایک موقع پر آپ اپنے صحابہ کے ساتھ راستے میں کسی جگہ تشریف فرما تھے۔ ایک شخص کا جنازہ وہاں سے گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ نے فرمایا: ’’کیا وہ انسان نہیں ہے؟‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث ۱۳۱۲)

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جن معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہوتی تھی، ان میں آپ اہل کتاب کے قوانین اور طریقوں کے مطابق فیصلہ کرنا پسند فرماتے تھے۔ اسی طرح اہل کتاب کی تالیف قلب کی غرض سے آپ نے وضع قطع سے متعلق امور میں بھی مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے طریقے کی موافقت کو پسند فرمایا۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، رقم ۵۵۷۳)

حضرت عمر کے عہد خلافت میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو شہر کا دورہ کرتے ہوئے آپ نے کلیسائے مریم کے قریب نماز ادا کی۔ اس موقع پر انھیں تھوکنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انھوں نے اپنے کپڑے میں تھوکا۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اسی گرجے میں ہی تھوک دیتے، کیونکہ یہاں تو اللہ کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے۔ سیدنا عمر نے جواب میں فرمایا کہ اگر یہاں اللہ کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے تو کثرت سے اللہ کو یاد بھی تو کیا جاتا ہے۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ترجمہ ابو شعیب، ۷/ ۲۱۲)

عہد صحابہ میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ اگر کسی مسلمان کا کوئی یہودی یا مسیحی عزیز وفات پا جاتا تو صحابہ اس کے جنازے کے ساتھ جاتے اور تجہیز وتکفین میں شریک ہوتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر تابعی شعبی بیان کرتے ہیں کہ حارث بن ابی ربیعہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جو مسیحی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجنائز، رقم ۱۱۹۶۴)

اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے جب اپنے دور میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ مسجد (ہیکل سلیمانی) میں موجود مقدس کے اوپر گنبد (قبۃ الصخرہ) کی تعمیر کا فیصلہ کیا تو اس کے انتظام وانصرام میں یہودیوں کو بھی شریک کیا اور مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کو یہاں بطور مجاور خدمت انجام دینے کا موقع فراہم کیا۔ پندرہویں صدی کے عرب مورخ قاضی القضاۃ مجیر الدین الحنبلی (۱۴۹۶ء) نے اپنی کتاب میں اس کی حسب ذیل تفصیل نقل کی ہے:

’’مسجد اقصیٰ کے لیے دس یہودی خادم مقرر کیے گئے جن سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ اگلی نسلوں میں ان کی تعداد بڑھ کر بیس ہو گئی۔ ان کے ذمے گرمی سردی کے موسم اور زیارت کے ایام میں مسجد اور اس کے ارد گرد طہارت خانوں کے کوڑا کرکٹ کو صاف کرنا تھا۔ اسی طرح دس مسیحی خاندانوں کو نسل در نسل مسجد اقصیٰ کی خدمت کے لیے مقرر کیا گیا۔ یہ مسجد کے لیے چٹائیاں تیار کرنے کے علاوہ ان چٹائیوں اور اس نالی کی صفائی کرتے تھے جس سے گزر کر پانی حوضوں تک آتا تھا۔ دیگر کاموں کے علاوہ پانی کے حوضوں کی صفائی بھی انھی کے ذمے تھی۔ مسجد کے یہودی خادموں کی ایک جماعت شیشے کے چراغ، پیالے اور فانوس وغیرہ تیار کرتی تھی اور ان سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ اسی طرح وہ خادم بھی جزیہ سے مستثنیٰ تھے جنھیں چراغوں کی بتیوں کی دیکھ بھال پر مامور کیا گیا تھا۔ ان کو یہ ذمہ داری عبد الملک کے زمانے سے لے کر ہمیشہ کے لیے نسل در نسل سونپ دی گئی تھی۔‘‘ (’’الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل‘‘ ص ۲۸۱)

فقہا تصریح کرتے ہیں کہ اہل کتاب اگر مسجد اقصیٰ کے لیے مال وقف کرنا چاہیں تو ان کی مذہبی وابستگی کے تناظر میں ایسا کرنا درست ہوگا اور ان کا وقف کیا ہوا مال قبول کیا جائے گا۔ ابن الہمام ’’فتح القدیر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’اگر ذمی مسجد اقصیٰ کے لیے مال وقف کرے تو جائز ہے ، کیونکہ یہ ان کے نزدیک بھی کار ثواب ہے اور ہمارے نزدیک بھی۔‘‘ (فتح القدیر، کتاب الشرکہ، ۶/۲۰۱)

اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ ومجادلہ 

قرآن مجید نے ایک عام اصول کے طور پر اس کی تلقین کی ہے کہ دوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ بحث ومباحثہ کرتے ہوئے اور ان کی غلطی کو واضح کرتے ہوئے شائستہ اور حکیمانہ اسلوب اختیار کیا جائے اور کسی کے جذبات کو مجروح کرنے سے گریز کرتے ہوئے ہمدردی اور خیر خواہی سے اسے صحیح بات سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ سورۃ النحل میں فرمایا:

اُدْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُم بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ، إِنَّ رَبَّکَ ھُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ (آیت ۱۲۵)

’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے سے بلاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ ایسے طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو۔ بے شک رب خوب جانتا ہے ان کو جو اس کی راہ سے بھٹک گئے اور خوب جانتا ہے ان کو بھی جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ 

قرآن مجید نے یہی حکیمانہ ہدایت اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ کے حوالے سے بھی بطور خاص بیان کی ہے۔ چنانچہ سورۃ العنکبوت میں ارشاد ہے:

وَلَا تُجَادِلُوا أَھْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ، إِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ، وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِیْ أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْْکُمْ، وَإِلَھُنَا وَإِلَھُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (آیت ۴۶)

’’اور اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر اسی طریقے سے جو سب سے اچھا ہو۔ ہاں، ان میں سے جو لوگ ظالم ہیں (ان کے ساتھ بحث کی ضرورت نہیں)۔ اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر بھی جو ہماری طرف اور تمھاری طرف اتارا گیا اور ہمارا اور تمھارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔‘‘

سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے احکام الٰہی کے حوالے سے یہود کے مبنی بر خیانت رویے کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اسی طرز عمل کے حامل ہیں اور ان کی خیانت کی مثالیں مسلسل تمھارے سامنے آتی رہیں گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہود کے عیب کھولنے اور ان کی خیانتوں کو زیادہ موضوع نہ بنایا جائے، بلکہ درگزر سے کام لیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَیَ خَآءِنَۃٍ مِّنْہُمْ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمُ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (آیت ۱۳)

’’اور تم مسلسل ان کی خیانتوں پر مطلع ہوتے رہو گے، ان میں سے تھوڑے ہی لوگ ہیں جو اس سے پاک ہوں۔ سو ان کو معاف کرتے رہو اور درگزر کرو۔ بے شک اللہ اچھا برتاؤ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اہل کتاب کے ساتھ دوستی یا دشمنی؟

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب میں قرآن کی دعوت پیش کی تو اس کا رد عمل مشرکین اور اہل کتاب کے مختلف گروہوں کی طرف سے مختلف انداز میں سامنے آیا۔ بعض نے کھلم کھلا دشمنی کا طریقہ اختیار کیا، بعض نے اہل اسلام کے ساتھ ہمدردی اور مشکل حالات میں ان کی مدد کا رویہ اپنایا، جبکہ بہت سے گروہوں نے غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔ 

اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ غیر مسلموں کو علی الاطلاق اسلام یا مسلمانوں کا دشمن قرار نہیں دیتا، بلکہ کسی بھی گروہ کے ساتھ تعلقا ت کی نوعیت کا فیصلہ خود اس گروہ کے رویے کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں قرآن مجید میں مختلف گروہوں کے اختیار کردہ رویے کے مطابق ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ چنانچہ مشرکین عرب کے جو گروہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور موقع ملنے پر انھیں نابود کر دینے کے خواب دیکھ رہے تھے، ان کے ساتھ کوئی ہمدردی یا تعلق خاطر رکھنے کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے منافی قرار دیا اور ان کے لیے محبت اور دوستی کے جذبات ظاہر کرنے والے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی۔ اس کے برخلاف جو گروہ اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی مسلمانوں کی جان ومال یا ان کے مذہب کے دشمن نہیں بنے، ان کے ساتھ مصالحانہ تعلقات اور اچھے برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ سورۂ ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

لَا یَنْھَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّنْ دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوھُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْھِمْ، إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ، إِنَّمَا یَنْھَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاھَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْھُمْ، وَمَن یَتَوَلَّھُمْ فَأُوْلَءِکَ ھُمُ الظَّالِمُونَ (آیت ۸، ۹)

’’اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ لڑائی نہیں کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے، تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو اور انصاف سے کام لو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھانے سے منع کرتا ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے پر ایک دوسرے کی مدد کی۔ اور جو ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں، وہی ظالم ہیں۔‘‘

مشرکین کی طرح اہل کتاب کے بیشتر گروہ بھی جزیرۂ عرب میں ایک نئے دین کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، خاص طو رپر ایسا دین جو ان کے غلط عقائد کی تردید اور احکام الٰہی سے ان کے انحرافات پر تنقید کرتا ہو۔ قرآن نے ان کے اسی رویے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’یہود ونصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی اختیار نہ کر لو۔‘‘ (البقرہ، آیت ۱۲۰) اپنے اسی رویے کی وجہ سے ان گروہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کو اپنا وتیرہ بنا لیا اور انھیں نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کی ہر ممکن سعی میں مصروف ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو ایسے گروہوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ بعض کمزور مسلمانوں نے ان گروہوں کے اثر ورسوخ سے مرعوب ہو کر یا بعض دوسرے اسباب کے تحت ان کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا چاہیں تو قرآن نے سخت الفاظ میں انھیں متنبہ کیا اور فرمایا کہ اسلام او رمسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے برعکس ان گروہوں سے دوستیاں بنانے والوں کا شمار اللہ کے نزدیک انھی میں ہوتا ہے اور ایسے لوگ یقیناًظالم ہیں۔ (سورۃ المائدہ، آیت ۵۱) 

تاہم عہد نبوی میں ہمیں ایسے اہل کتاب بھی ملتے ہیں جنھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ہمدردانہ اور دوستانہ طرز عمل اختیار کیا، بلکہ نازک مواقع پر مسلمانوں کی مدد بھی کی۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں مثال حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی ہے جس نے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مظلوم مسلمانوں کو اپنے ملک میں نہ صرف پناہ فراہم کی، بلکہ مشرکین کے مطالبے کے باوجود ان مسلمانوں کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً مکہ سے ہجرت کر کے جانے والے بہت سے مسلمان کئی سال تک امن وعافیت کے ساتھ حبشہ کی سرزمین میں مقیم رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تناظر میں صحابہ کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ آپ کے بعد جب مسلمان ارد گرد کے ممالک کو فتح کرنے کے لیے نکلیں تو اہل حبشہ جب تک مسلمانوں کے خلاف جنگ میں پہل نہ کریں، ان کے خلاف جنگ نہ کی جائے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، حدیث ۴۳۰۲)

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے اہل کتاب میں کچھ گروہ ایسے بھی تھے جو دیانت داری اور خدا خوفی جیسے اوصاف سے متصف تھے اور مذہبی تعلیمات کے اشتراک کی وجہ سے اسلام او رمسلمانوں کے ساتھ تعلق خاطر بھی محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے گروہوں کا ذکر تحسین کے انداز میں کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ مائدہ میں مسلمانوں کے بارے میں رویے کے حوالے سے یہود اور نصاریٰ کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا:

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا الْیَھُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُوا، وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوَا إِنَّا نَصَارَی، ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَاناً وَأَنَّھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (آیت ۸۲)

’’تم لوگوں میں اہل ایمان کے لیے دشمنی میں سب سے بڑھ کر یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے، جبکہ اہل ایمان کے لیے سب سے زیادہ قلبی محبت رکھنے والا ان کو پاؤ گے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علماء اور عبادت گزار لوگ ہوتے ہیں اور یہ کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ 

مفسر زمخشریؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے نرم رویے اور مسلمانوں کے ساتھ تعلق خاطر کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ان میں علماء اور عبادت گزار لوگ ہوتے ہیں اور وہ ایسی قوم ہیں جن میں تواضع اور عجز ہوتا ہے اور تکبر سے پاک ہوتے ہیں، جبکہ یہودیوں کی حالت اس کے برعکس ہے۔ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ علم کا حصول، یہاں تک کہ مسیحی علماء کا حصول علم، سب سے زیادہ نفع بخش اور خیر کی طرف راہ نمائی کرنے والا اور کامیابی کے راستے کی طرف لے جانے والا عمل ہے۔ یہی معاملہ آخرت کی فکر اور انجام کو یاد رکھنے کا ہے، چاہے وہ کسی راہب میں ہو۔ اسی طرح تکبر سے پاک ہونا ہے، چاہے یہ صفت کسی نصرانی میں ہو۔‘‘ ( الکشاف، )

خاص طور پر حضرت مسیح کے پیروکاروں میں نرم دلی اور ہمدردی کا جو وصف پایا جاتا ہے، اس کا قرآن مجید نے اچھے الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً سورۃ الحدید میں فرمایا کہ ’’ہم نے مسیح کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں نرم دلی اور رحمت رکھ دی۔‘‘ (آیت ۲۷)

سورہ آل عمران میں جہاں مالی خیانت کے معاملے میں بعض یہودیوں کے طرز عمل کو بے نقاب کیا گیا ہے، وہاں ان میں سے دیانت دار لوگوں کا ذکر بھی ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ’’اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس تم خزانے کا ایک ڈھیر بھی امانت رکھو تو وہ تمھیں پورا پورا واپس کر دیں گے۔‘‘ (آیت ۷۵)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گذشتہ سطور میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق اور برتاؤ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اہل کتاب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے میں ان تعلیمات اور اصولوں کا پورا پورا لحاظ رکھیں اور اللہ، اللہ کے پیغمبروں، آسمانی صحائف اور یوم آخرت پر ایمان کو ایک قیمتی اور مشترک اساس تصور کرتے ہوئے معاشرتی سطح پر اہل کتاب کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک کا خصوصی برتاؤ کریں۔ خاص طور پر مسلم معاشروں میں اہل کتاب کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی جذبات کے احترام کو یقینی بنائیں اور اختلافی امور پر بحث ومباحثہ کی نوبت آئے تو تہذیب و شائستگی اور حکمت وموعظہ حسنہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی غلطی کو ان پر واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ ہدایت پر قائم رکھے۔ آمین

شدت پسندی کا مقابلہ اور ریاستی ترجیحات

۶ ستمبر کی اخباری اطلاعات کے مطابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کو ایک خط لکھا ہے جس میں یونیورسٹی طلبہ کا ریکارڈ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دینے اور طلبہ کو داخلے کے وقت مقامی پولیس اسٹیشن سے حاصل کردہ کیرکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے طلبہ میں بے چینی اور خوف پھیلے گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں ادارے ریاست کے سخت ادارے ہیں اور ان اداروں سے طلبہ کے رابطے کے باعث طلبہ میں خوف اور بے چینی بڑھے گی۔ چیئرمین سینٹ نے تجویز کیا ہے کہ نوجوانوں میں انتہا پسندی اور تشدد کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں اور اس سلسلے میں طلبہ یونینز کی بحالی اور ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ سے (انتہا پسندانہ رجحانات کے مقابلے میں) ایک مختلف موقف جنم لے گا۔ 

ہمارے نزدیک چیئرمین سینیٹ نے ایک اہم اور نازک معاملے میں بر وقت توجہ دلا کر اپنے منصب کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کے احساس کا ثبوت دیا ہے اور اس حوالے سے ان کی جرات قابل داد ہے، تاہم یہ ایک جزوی اور وقتی مسئلہ نہیں، بلکہ بنیادی آئینی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ملک پہلے ہی ’’سیکیورٹی اسٹیٹ‘‘ کے بااعزاز لقب سے ملقب اور گم شدہ افراد (missing persons) جیسے سنگین آئینی وانسانی مسئلے سے نبرد آزما ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے اس صورت حال کی سنگینی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں وضع کی جانے والی پالیسیوں کو قومی فورمز پر ہر جگہ زیر بحث لائے جانے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ سیکیورٹی اداروں کا جبر اور خوف ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ 

مذاہب عالم