نومبر ۲۰۱۷ء

اہل کتاب سے متعلق اسلام کا زاویہ نظر

― محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ کو دنیا کی اقوام تک اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچانے کا جو منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ دراصل اسی ذمہ داری کا ایک تسلسل ہے جو اس سے پہلے یہود یوں اور مسیحیوں کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں گروہ رفتہ رفتہ راہ راست سے ہٹ گئے اور دین کی اصل اور حقیقی تعلیمات ان کے ہاتھوں بگاڑ کا شکار ہو گئیں۔ مذکورہ دونوں گروہوں سے متعلق قرآن مجید نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان کو سامنے رکھا جائے تو مذہبی اختلافات کے حوالے سے توازن اور اعتدال کا ایک حسین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۶)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۱) یستعتبون کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں لفظ یستعتبون تین مقامات پر آیا ہے، اور ایک مقام پر یستعتبوا آیا ہے۔ مختلف ترجموں کو سامنے رکھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو اس سلسلے میں کسی ایک مفہوم پر اطمینان نہیں تھا، اس لیے ایک ہی مترجم کے یہاں ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے ملتے ہیں۔ عربی لغات دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ استعتب کے لفظ میں وسعت ہے۔ اس لفظ کا مطلب فیروزآبادی یوں بیان کرتے ہیں: استَعتَبَہ: أعطاہ العُتبی،کأَعتَبہ، وطَلَبَ الیہ العُتبَی، ضِدٌّ. القاموس المحیط۔ اس لفظ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی سے کسی کی ناراضگی...

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۴)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

۲۔ اردو تراجم، شروحات وتعلقات اور درسی افادات وتقریرات۔ برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والا کام زیادہ تر اردو تراجم وشروحات(عربی شروحات کا بیان پچھلی قسط میں ہوچکا ہے ) اور درسی افادات و تقریرات پر مشتمل ہے ،ان میں درسی افادات و تقریرات زیادہ تعداد میں ہیں ،کیونکہ صحاح ستہ، موطا م امام مالک ،موطا امام محمد اور مشکوۃ المصابیح مدارس دینیہ کے نصاب میں داخل ہیں ،اس لئے ہونہار تلامذہ شیوخ الحدیث کی درسی تقاریر کو منضبط کرتے ہیں ،اور اسے مرتب کر کے افادہ عام کی خاطر شائع کرتے ہیں۔ برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والے کاموں کا ایک جائزہ لیا جاتا ہے۔ ۱۔...

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۲)

― مولانا عبید اختر رحمانی

فقہ راوی کی شرط کی بنیاد کیا ہے؟ رہ گئی یہ بات کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قلیل الفقہ کیوں کہاگیاہے۔اوران کی روایت کیوں مطلقاً قابل قبول نہیں ہے تواس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں۔ مع ھذا قد اشتھر من الصحابۃ رضی اللہ عنھم ومن بعدھم معارضۃ بعض روایاتہ بالقیاس، ھذا ابن عباس رضی اللہ عنھما لما سمعہ یروی ’’توضؤوا مما مستہ النار‘‘ قال: ارایت لو توضات بماء سخن اکنت تتوضا منہ؟ ارایت لو ادھن اھلک بھن فادھنت بہ شاربک اکنت تتوضا منہ؟ فقد رد خبرہ بالقیاس حتی روی ان ابا ھریرۃ قال لہ: یا ابن اخی، اذا اتاک الحدیث فلا تضرب لہ الامثال،...

دینی مدارس، دہشت گردی اور عالمی پالیسی ساز طاقتیں

― ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

(مصنف کی کتاب ?What is a Madarasa کی ایک فصل)۔ اکثر پالیسی ساز افراد اور ادارے جو فیصلے کرتے ہیں وہ یا تو ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر مبنی ہوتے ہیں یا پھر انٹیلی جنس کی گمراہ کن رپورٹوں پر۔ مسلمانوں کی مذہبی زندگی میں مدارس کا کردار کیا ہے، اگر مجھے اس کی تشریح و وضاحت کا موقع دیا جائے اور مجھے صدر امریکہ، امریکی کانگریس کے ارکان اور دنیا کی کسی بھی حکومت کو مدارس کے تعلق سے مشورہ دینا ہو تو میں اپنی کتاب ’’دینی مدارس:عصری معنویت اورجدید تقاضے‘‘ کا ایک نسخہ اس مکتوب کے ساتھ انھیں ارسال کرنا چاہوں گا: محترم صدر امریکہ اور امریکی کانگریس کے معزز ارکان!...

جنرل باجوہ اور بلوچستان

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

...

دینی مدارس کو درپیش آزمائش

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے ساتھ جو طرزِ عمل اختیار کیا گیا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اور کافی عرصہ سے سرکاری پالیسیوں کا رخ اسی طرف نظر آرہا تھا کہ دینی مدارس کی میڈیا پر مسلسل کردار کشی کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع آمدن پر قدغنیں لگا کر ان کی ’’سپلائی لائن‘‘ کاٹ دی جائے تاکہ دینی مدارس کے موجودہ معاشرتی کردار کو محدود کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی رپورٹ کے بعد اس بات میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ گیا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے مسلم معاشرہ میں دینی علوم کے...

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

23 ستمبر کو اپنے آبائی شہر گکھڑ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام منعقدہ ’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ میں حاضری زندگی کا ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ کے صدر میاں راشد طفیل کے والد گرامی میاں محمد طفیل مرحوم مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری کے حلقہ احباب میں شامل اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں ان کے سرگرم معاون تھے۔ جبکہ میاں محمد طفیل مرحوم کے بڑے بھائی میاں فاضل رشیدی مرحوم پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک پیپلز پارٹی گوجرانوالہ کے چیئرمین رہے ہیں۔ اور ان کے والد محترم ماسٹر...