مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پہلا عالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مسلمانان عالم کی دھماکہ خیز صورت حال، باہمی چپقلش اورداخلی نزاعوں کے عالم میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے دنیابھرکے مسلمانوں کے لیے مصالحت اورکلمہ کی بنیادپر وحدت کی آواز مسلسل بلند کی جارہی ہے۔ اس مقصد سے ۳۔۴ اپریل 2017 کو یونیورسٹی کے مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہندکی طرف سے پہلاعالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس ہوا۔ مذکورہ مرکز کے صدراوربرج کورس کے ڈائرکٹر پروفیسر راشدشاز، جواِس کانفرنس کے داعی اورروح رواں تھے،نے کانفرنس کے انعقادسے قبل اس کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک پریس بیان میں بتایاتھاکہ اس مفاہمتی کانفرنس کاتصوریہ ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ جب تک دنیابھرکے مسلمانوں کے مختلف دھڑے ایک مشترکہ جدوجہدکا ڈول نہیں ڈالتے، ہمارے لیے اقوام عالم کی قیادت کا حصول توکجا، خود اپنی بقا و وجود کو باقی رکھنا ممکن نہ ہوگا۔

ڈاکٹرشاز نے اپنے بیان میں کہاتھاکہ ہم نے اس سے قبل بھی دوکانفرنسیں کیں جن میں متعدد ممالک سے امت مسلمہ کے متفکر اور دردمند افراد علی گڑھ پہنچے اورسب کا مشترکہ خیال تھاکہ ایک نئی صبح کا آغاز پرانی ترکیبوں سے نہیں ہوسکتا۔ان کا احساس تھاکہ جب تک امت میں نفرت پر مبنی فتوے بازی ،شرانگیزتحریروں وتقریروں پر لگام نہیں لگائی جاتی، تب تک مسلمانوں میں کسی حقیقی اتحادکا قیام ممکن نہیں۔ڈاکٹرشازکااحساس تھاکہ اس پیغام کوزیادہ بڑے پیمانہ پر مسلمانوں تک پہنچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے تمام فرقے اورمکاتب فکرباہمی افہام وتفہیم کے لیے مسلسل ایک دوسرے سے ملتے رہیں۔چنانچہ۳ ،۴،اپریل کوہونے والی یہ عالمی کانفرنس اسی سلسلہ کی ایک پیش رفت تھی جس میں نہ صرف امت کے تمام گروہوں کے لیے باہمی ارتباط کا ایک موقع فراہم کیاگیابلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل کی کوشش کی گئی۔

اس دوروزہ اجلاس میں جن امورپر غورکیاگیا وہ یوں ہیں:

۱۔مسلمان،اہل کتاب اورشبہ اہل کتاب :مستقبل کا منظرنامہ 

۲۔ایک نئے علی گڑھ کی صورت گری :کیاایک دوسری علی گڑھ تحریک برپاکرنے کا وقت آگیاہے ؟

۳۔دینی مدارس میں سائنسی علوم کا مستقبل :ایک نئے قرطبہ ماڈل کا احیاء 

۴ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء :ایک نئے لائحہ عمل کی تلاش 

۵۔مفاہمتی اجلاس:اہم پالیسی اعلانات

اس کانفرنس میں ایک خاص سیشن برج کورس کے سابق فارغین اورموجودہ بیچ کے نوجوان علماء وعالمات کے لیے رکھاگیاتھاجس میں انہوں نے مذکورہ بالاچاروں عناوین اوران سے متعلقہ مختلف ذیلی مباحث پرامت مسلمہ کے مستقبل کے سلسلہ میں اپناوژن پیش کیا۔یادرہے کہ برج کورس گزشتہ چارسالوں سے ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے مدارس اسلامیہ کے طلبہ کویک سالہ پروگرام کے تحت جدیدعلوم کی تعلیم وتربیت دیتاہے ،جس کے بعدیہ طلبہ یونیورسٹی مین اسٹریم میں جانے کے لائق ہوجاتے ہیں۔اس نئے تعلیمی تجربہ کوملک وبیرون ملک میں خاصاسراہاجا رہاہے ۔اس کانفرنس کا انعقادبھی انہیں نوجوان طلباء کے فورم ’’انجمن علماء اسلام ‘‘کے پلیٹ فارم سے کیاگیاتھا۔

اس عالمی مصالحتی کانفرنس میں ملیشیا، ترکی وجاپان کے اسکالروں کے علاوہ ہندوستان کے ممتازعلما ودانشوران،ملی رہنماؤں، سماجی کارکنان،صحافیوں اورکالم نگاروں نے شرکت کی اوردودن تک کھلے طورپر اپنے خیالات کے اظہار اور بحث ومباحثہ کے ذریعہ نہایت علمی اورخوشگوارومتحرک ماحول بنائے رکھا۔واضح رہے کہ مذکورہ مرکزاس سے قبل بھی ملک وملت کے لیے حساس اورگرم موضوعات پر دوعالمی کانفرنسیں کرچکاہے۔اس کے پروگراموں کوشعوری طورپر اس طرح ترتیب دیاجاتاہے کہ رسمی طورپر صرف پیپرزکی خواندگی نہ ہوبلکہ مشارکین بھرپورتیاری کے ساتھ آئیں،اپنے مقالا ت تحریر کریں مگر کانفرنس میں اپناpresentation نہایت اختصارکے ساتھ کریں تاکہ ہرموضوع پر زیادہ سے زیادہ بحث ومباحثہ ہواورمشارکین نیز کانفرنس کے عام شرکاء کھل کراپنے خیالات کا اظہارکرسکیں۔یوں ایک نئی علمی طرح بھی علی گڑھ میں ڈالی جارہی ہے۔ 

کانفرنس کے افتتاحی جلسہ میں مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرجناب لیفٹیننٹ ضمیراالدین شاہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کی موجودہ صورت حال میں، جہاں کہ مرکزاورملک کی اکثربڑی ریاستوں میں ہندواحیائی قوتیں برسراقتدار آچکی ہیں، حوصلہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم ہندوستان میں ہم وطنوں سے مل جل کر رہیں گے لیکن اپنا مذہب اور تہذیب کو برقرار رکھیں گے۔ اسی طرح کانفرنس کے داعی اورمرکزکز برائے فروغ تعلیم مسلمانان ہند اوربرج کورس کے ڈائرکٹرپروفیسرراشدشاز نے امت مسلمہ کے تابناک ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ :جب مسلمان ایک امت تھے تو دنیا کا کوئی بڑا فیصلہ ہمارے بغیر نہیں ہوتا تھا۔ 

افتتاحی سیشن میں مرکز کے سینئر فیلو ڈاکٹر محمد زکی کرمانی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ جب کہ دوسری قومیں چاند ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں، ہم ابھی تین طلاقوں میں ہی الجھے بیٹھے ہیں۔ حیدر آباد سے آنے والی سماجی کارکن ڈاکٹر لبنیٰ ثروت کاکہناتھا ہم عورتوں کوتومسجدمیں جانے کی اجازت ہی نہیں مگرجولوگ جاتے ہیں، ان کوبھی کوئی پیغام نہیں مل پاتاہے کیونکہ وہ مسجد میں جاتے ہیں جہاں خطبہ اس زبان میں دیا جاتا ہے جسے لوگ سمجھتے نہیں، آخرہمارے فکراور تھیولوجی میں یہ جمودکیوں ہے؟ ڈاکٹر لبنیٰ نے سوال کیا کہ آج دنیا کو یا اپنے ملک کو ہم کیا پیغام دے رہے ہیں؟انھوں نے کہا کہ دنیا میں ماحولیات ، معاشیات،حقوق انسانی اورعام انسانوں کودرپیش مسائل پر بحث ومباحثہ میں ہم کہاں ہیں؟ برج کور س کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ نے مسلم خواتین کے حوالے سے قرآن واسوۂ رسول کی روشنی میں صحیح پوزیشن واضح کی اور مسلمانوں کی عملی صورت حال کا شکوہ کیا۔ انہوں نے سوا ل کیا کہ خواتین کو ناقص العقل قرار دینے والے کیا حضرت عائشہؓ و خدیجہؓ کو بھی ناقص العقل قرار دینے کی جرأت کریں گے؟

علماء کی عالمی انجمن(قطر) کے نمائندہ اورملی شخصیت ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے عرب ممالک میں مسلکی تشدد اور شام وعراق کی تباہ کن خانہ جنگی اورانتہاپسندانہ جنون کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے بڑے اطمینان کی بات ہے کہ عالم اسلام میں مصالحت کی یہ آواز ہندوستان سے اٹھ رہی ہے کہ ماضی میں بھی مسلمانان ہند امت مسلمہ کے حساس مسائل اورایشوزپر جرأت وحمیت کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں ۔انہوں نے یہ تجویزبھی پیش کی کہ ایک مجلسِ حکماء (Council of Elders (کی تشکیل کی جائے جومسلم حکمرانوں اورارباب حل وعقدکوصلاح ومشورے دے۔ 

جاپان کی مسلم ایسوسی ایشن میں نوجوانوں کے شعبہ کے ڈائرکٹر اورعالمی ادارہ برائے فکراسلامی واشنگٹن کے رکن ڈاکٹر احمد شیوزکی یوکی نے مشورہ دیا کہ دوسرے معاشروں کے مقابلے میں مسلم اقلیتوں کے لیے زیادہ ضروری ہے کہ اکثریتی قوموں کے ساتھ پر امن رہنے کے طریقے سیکھیں۔ شیعہ تھیولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید علی محمد نقوی نے امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے کے لیے چار اصول پیش کیے : دوسرے مسلک ومکتب فکرکوبرداشت کرنا ، تکفیر کا انکار ، بہتان طرازی سے پرہیز اوردوسروں کی اہانت ودل آزاری سے اجتنا ب۔

اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا)کے سیکریٹری مولانا امین عثمانی ندوی نے فرمایا کہ برج کورس سے مدارس کے طلبہ کو غیر معمولی فائدہ ہورہا ہے ۔ انھوں نے تاریخی طورپر اسلام میں اصلاح حال کے لیے تغییر ، تجدیداور تفکیر کے پراسس پر روشنی ڈالی اورماضی کی اس تابناک روایت کے احیاء کے لیے عقل کے استعمال پر زور دیا۔ 

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی شوری کے رکن مجتبیٰ فاروق نے بڑے دردسے کہاکہ ہندوستان میں یوپی کے حالیہ انتخابات میں مسلمانوں کی بری گت بن گئی ہے جبکہ اسی یوپی میں دیوبند بھی ہے، مسلم یونیورسٹی بھی، ندوۃ اور اشرفیہ بھی ، لیکن ہماری بصیرت جیسے کہیں کھوگئی ہے ۔ افتتاحی سیشن سے خاتو ن سماجی ایکٹیوسٹ سائرہ شاہ حلیم نے اپنے خطاب میں مشورہ دیا کہ ہمیں اکثریتی سماج کے لوگوں کو اپنے گھر بلانا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ ان سے میل جول بڑھایا جائے۔ہمیں چاہیے کہ اکثرتی سماج کوسمجھیں اس کے بعد ہی ہم امید کرسکتے ہیں کہ وہ بھی ہمیں سمجھیں گے۔ 

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے صدر مولانا اصغرعلی امام سلفی نے فرمایاکہ یہ مفاہمتی اجلاس وقت کی ضرورت ہے۔ آج خوارج کی فکرکی پھرسے تجدیدہورہی ہے جواسلام اورمسلمانوں کے لیے شدیدنقصانات کا باعث بن رہی ہے، اس کا مقابلہ کیاجاناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ یہ مفاہمتی اجلاس صحیح معنی میں تبھی کامیا ب ہوگا جب ہم سب لوگ عملاً اس اجلاس کے روح رواں اور داعی راشد شاز صاحب کا ان کے ملی کاموں میں ساتھ دیں گے۔

مرکز برائے فروغ تعلیم مسلمانان ہند کے ڈائریکٹر پروفیسر راشد شاز نے اپنے خطاب میں مسلمانان عالم کی ناگفتہ بہ صورت حال کا مختصراًجائزہ لیااوراس تجویز کا کہ علی گڑھ سے ایک عالمی سطح کی مجلس حکماکی تشکیل کی جائے اور اس کی ابتداء اسی کانفرنس سے ہو،خیرمقدم کیااوراس بارے میں اپنے پورے تعاون کایقین دلایا۔ وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے اپنے صدارتی خطے میں لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ اب فرقہ بندی کی دیواریں گرادی جائیں اور مدارس میں دنیاوی علوم بھی داخل کیے جائیں۔ انھوں نے طلباء اور طالبات کو نصیحت کی کہ صبح کے وقت کا صحیح استعمال کریں۔ مزیدبرآں برج کورس نے طلباء وطالبات کے مابین’’برج کورس میں میراعلمی سفر‘‘کے موضوع پر مضمون نگاری کا ایک مقابلہ کرایا تھا جس کے انعام یافتگان کو وائس چانسلر صاحب کے بدست انعامات کی تقسیم بھی کانفرنس کے پہلے سیشن میں عمل میں آئی۔ نیز وئس چانسلرصاحب کی خدمت میں سپاس نامہ بھی طلبۂ برج کورس نے پیش کیا۔

افتتاحی اجلاس کے بعدپہلے اوردوسرے دن اس کانفرنس کے اہم ترین موضوعات پر ورکنگ پیپرزپیش کیے گئے جن پر مشارکین نے گفتگواوربحث ومباحثہ کیا۔ دونوں دن مختلف سیشنوں میں اسکالرز اور مقررین نے ان موضوعات کا احاطہ کیا۔ مدارس میں سائنسی علوم کے مستقبل کے موضوع پربولتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ خاتون نے کہا کہ علم اسماء بعض مفسرین کے نزدیک خواص اشیاء کا نام ہے۔ اس سے استنباط کیاجاسکتاہے کہ ہمارانظام تعلیم ایسا ہوناچاہیے جس میں دینی و عصری علوم کا امتزاج ہو۔انہوں نے اقبال کا یہ شعرپڑھا: 

جوعالم ایجادمیں ہے صاحب ایجاد

ہردورمیں کرتاہے طواف اس کا زمانہ 

ڈاکٹر محمد عامر نے رائے دی کہ سائنس کے بارے میں زیادہ تر علماء یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس سے خدا بیزاری پیدا ہوتی ہے ، حالانکہ مطلقاًیہ بات درست نہیں ہے۔انیسویں صدی کی سائنس میں یہ رعونت پائی جاتی تھی مگراب سائنسی فکرخودخداکے وجودکوتسلیم کررہی ہے۔ مرکز برائے فروغ تعلیم مسلمانان ہندکے سینئر فیلواور سائنٹسٹ ڈاکٹرمحمد زکی کرمانی نے اپنے تعلیمی وسائنسی تجربات کی روشنی میں یہ رائے دی کہ ملک میں رائج آٹھویں درجہ کا جدید سائنسی نصاب مدارس میں داخل کیا جانا چاہیے اور اسی طرح مغربی تہذہب اورمغربی سائنسی فکر کا ابتدائی تعارف بھی کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مدارس کا جوآزادانہ نظام ہے، اس میں ایک مثبت پہلویہ ہے کہ وہ اس امکان کوروشن کرتاہے کہ گورنمنٹ کے سیکولرتعلیمی سسٹم کے پہلوبہ پہلوایک دوسراآزادانہ نظام بھی چل سکتاہے ۔ مدرسہ سراج العلوم سنبھل کے مہتمم مولانا محمد میاں قاسمی نے فرمایا کہ مدارس دراصل خود رروجنگل ہیں ان کا کوئی متحدہ سسٹم نہیں ہے۔ انھوں نے اہل مدارس سے سوال کیا کہ قرآن پاک میں تقریباً سولہ سو آیات ایسی ہیں جن میں کائنات کی نشانیوں کو بتایا گیا ہے اور سائنس کو جانے بغیر ان آیات کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے۔ 

پروفیسر راشد شاز نے مغربی نظام تعلیم کے بعض امریکی ناقدین کے حوالہ سے یونیورسٹیوں اورکالجوں میںآئے تحقیقی اوراکیڈمک انحطاط پر روشنی ڈالتے ہوئے اس پر زور دیا کہ مدرسہ سسٹم اور یونیورسٹی سسٹم دونوں میں بعض اچھائیاں اور بعض خرابیاں ہیں۔اس لیے دونوں کی خرابیوں سے بچتے ہوئے اوردونوں کی اچھائیوں کو جمع کرتے ہوئے ایک نیا تعلیمی ماڈل ترتیب دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارایہ پراناخواب ہے اوراب اس کوتعبیردینے کا وقت آن پہنچاہے۔

رٹائربینکرجناب نفاست یارخاں نے کہاکہ مسلمانان ہندکوسرسیدکے ماڈل کواختیارکرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کو خیربادکہتے ہوئے صرف تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ دینی تعلیم کے ساتھ مدارس میں شروع ہی سے انگریزی پڑھائیں۔ ڈاکٹرمحمدآصف خاں نے عالم اسلام کی دوسری مشہوراورقدیم یونیورسٹی جامعۃ القرووین کا تعارف پیش کیااوراس کی بانیہ فاطمہ الفہریہ کی حیات اورکارناموں پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹرشفیق الرحمان نے مدارس کے مختلف ٹرینڈز کا جائزہ پیش کیااوربتایاکہ مدارس کے تعلیمی دورانیہ میںیکسانیت نہیں جس سے عا لمیت وفضیلت کی سندوں میں بھی ٹیکنیکل پیچیدگیاں ہیں۔جولوگ مدارس سے یونیوسٹیوں میں آتے ہیں، ان کے لیے بڑے مسائل پیداہوجاتے ہیں۔اسی طرح انہوں نے حیرت ظاہرکی کہ گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے مدرسوں کوبھی اہل مدارس عموماً جامعہ بولتے ہیں جبکہ جامعہ کا اطلاق موجودہ دورمیں یونیورسٹی پرہوتاہے۔ کالم نگارڈاکٹرسلیم خاں نے ذریعہ تعلیم کے طورپر مادری زبان کی افادیت پرروشنی ڈالی اوردنیاکی ترقی یافتہ اقوام جرمن،فرنچ،جاپانی اورچینیوں کے حوالہ سے بتایاکہ مادری زبان میں پڑھنے سے تصورات زیادہ کلیرہوتے ہیں۔

مسلم پرسنل لاوالے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبندکے ایک بزرگ فاضل مولاناکبیرالدین فوزان قاسمی نے اپنی یہ تحقیق پیش کی کہ نکاح وطلاق اصلاً تعبدی نہیں، سماجی مسائل ہیں، اس لیے مسلمانوں کوطلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں بہت زیادہ حساسیت برتنے کی ضرورت نہیں اوران کوایسامعقول موقف اپناناچاہیے جس سے برادران وطن میں ہماری غلط شبیہ نہ بنے۔ مولانا اصغرعلی امام سلفی نے ملک کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے پس منظرمیں مسلم عائلی مسائل کے تحفظ پر زوردیالیکن انہوں نے کہاکہ اس کے لیے عوامی مہم چلانے سے منفی تاثر جاتا ہے، اس لیے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔

ایڈیٹرملی گزٹ ڈاکٹرظفرالاسلام خاں نے بتایاکہ ہندوستان میں رائج مسلم پرسنل لاء دراصل انگریزوں کا نافذکردہ مسلم لاء ہے اوریہ مسلمانوں کی نااہلی ہے کہ وہ ابھی تک اپنے عائلی قوانین کا جامع مجموعہ مرتب کرکے اسے انگریزی میںCoded اندازمیں پیش نہیں کرسکے ۔جوکوششیں کی گئی ہیں، وہ بہت ناقص ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کے ضمن میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے داخل کردہ حلف نامہ کوبھی نقائص سے پربتایااورمسلمانوں کواپنے کیس کو غلط طورپر ہینڈلنگ کرنے کے نتائجِ بدسے آگاہ کیا۔مولاناامین عثمانی ندوی نے اس سیشن کی صدرات کرتے ہوئے مسلم پرسنل لااوراس کوپیش کردہ خطرات وچیلنجوں کا ذکرکیا۔انہوں نے مفتی استنبول کے ایک فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ترکی میں فقہ حنفی رائج ہے، لیکن وہاں کے علما نے اس میں حالات کے مطابق ترمیم کی ہے اورطلاق ثلاثہ (یک بارگی )کوایک ہی طلاق کے حکم میں رکھاہے۔ 

کانفرنس کے تیسرے سیشن میں اہل کتاب سے تعلقات کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد محب الحق نے اس خیال کا اظہارکیا کہ کیتھولک عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں کو مذاکرات کی جو دعوت دی جاتی رہی ہے، اس کو ہمیں ویلکم کرنا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بین المذاہب مذاکرات مسلم یونیوسٹی کی بنیاد میں شامل ہے کیونکہ سرسید احمد خاں انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے بانی ہیں۔انہوں نے بائبل کی تفسیراوررسالہ طعام اہل کتاب لکھ کرگویااہل کتاب سے مکالمہ کی ابتداکی تھی۔ مولانا محمد میاں قاسمی نے اس سلسلہ میں رائے دی کہ اس کام کے لیے ہمیں انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے اور اللہ کے تصور پر ہم تمام انسانوں کو جمع کرسکتے ہیں۔جیساکہ قرآن کریم کاکہناہے کہ: تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لانعبد الا اللہ۔ مترجم قرآن جناب سکندراحمدکمال نے ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعاً کی روشنی میں تمام مسالک اورمکاتب فکرکواپنے رویوں کا احتساب کرنے کی دعوت دی۔نوجوان اسکالریاسرمحمودفلاحی نے قرآن اوراسوۂ رسول اورتاریخ میں امت مسلمہ کے اہل کتاب کے ساتھ مجموعی تعامل کوپیش کیااورموجودہ دورمیں اہل کتاب سے مسلمانوں کے عمومی نفرت کے رویہ کاناقدانہ جائزہ لیا۔اردوکے سینئرصحافی عالم نقوی نے طلبہ وطالبات پر زوردیاکہ وہ اپنے مسائل کا حل قرآن کی روشنی میں تلاش کریں اوربراہ راست قرآ ن سے اکتساب فیض کریں۔

مرکز کے سینئر فیلو ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ ہمارے ملک میں ماحولیا ت کے موضوع پر چار ہزار تنظیمیں کام کررہی ہیں،ہم کہیں نظر نہیں آتے، کم از کم ان کے ساتھ شامل تو ہوں۔ کلکتہ کے سماجی ایکٹوسٹ کاشف حسن کا کہناتھاکہ ہم مسلمانوں کواب مسلمہ امہ جیسی اصطلاحوں سے باہرنکل کروسیع انسانیت کے پس منظرمیں کام کرناچاہیے ،ملک میں اس وقت نیشنل از م پر جوبحث جاری ہے اس میں ہمیں سرگرم حصہ لیناچاہیے ۔انہوں نے بیوروکریسی میں مسلمانوں کی عدم موجودگی پر بھی بھی افسوس ظاہرکیا۔شیعہ تھیولوجی کے ڈین پروفیسر سید علی محمد نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب مذاکرات کا نظریہ ڈیولپ کیا جائے اور ہم سب کومشترک انسانی مقاصد کے لیے کا م کریں۔دوسری علی گڑھ تحریک کے سلسلے میں ڈاکٹرزکی کرمانی صاحب نے یہ تبصرہ کیا کہ علی گڑھ تحریک سے کوئی بڑا مفکر اور بڑا سائنٹسٹ اور اسکالر پیدا نہیں ہوا۔ اس لیے نئی سرسید تحریک میں ہمیں اس جہت کو بھی شامل کرنا چاہیے۔مذکورہ مرکزکے ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی نے سرسیداحمدخان کی مذہبی فکرکا مختصر تعارف کرایااوراس پر افسوس کا اظہارکیاکہ ان کے مذہبی فکرکواب تک تحقیقی وناقدانہ مطالعہ کاموضوع ہی نہیں بنایاگیااوراس کوکبھی منظرعام پر ہی نہیں آنے دیاگیا۔ 

اس دوروزہ کانفرنس کے شرکا جوش وولوے کے ساتھ پرعز م دکھائی دیے کہ کانفرنس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے وہ اپنی اپنی سطح پر فوری طور پر متحرک ہوں گے اور مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند کانفرنس کے منظور کردہ چاروں نکات پر عمل درامد کے لیے فی الفور اقدامات کرے گا۔ اختتامی سیشن میں یہ بات کانفرنس کے شرکاء نے منظورکی کہ جدید وقدیم کے جامع نئے تعلیمی منصوبے کے احیاء کے لیے المدرسہ یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔یوں عالمی سطح کی اپنی نوعیت کی دوسری High Profileکانفرنس اس علامیہ کے ساتھ ختم ہوئی کہ مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند کے تحت ایک مجلس حکماء بنائی جائے گی۔ (۲)

ایک نئے تعلیمی منصوبے کی نمائندہ المدرسہ یونیورسٹی کے لیے ایک نئے تعلیمی ماڈل (قرطبہ ماڈل)کی تیاری کی جائے گی۔ (۳) علی گڑھ تحریک کو ازسر نو پوری جامعیت کے ساتھ زندہ کیا جائے گا جس میں سرسید کی مذہبی فکر بھی منظر عام پر آئے۔(۴)اس کانفرنس کا احساس ہے کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں مسلمانوں کی نمائندگی صحیح طورپر نہیں ہورہی ہے۔ اس کی اصلاح ودرستگی کے لیے بھی مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہندمثبت اندازمیں کام کرے گا ۔یہ اعلان بھی کیا گیا کہ انجمن علماء اسلام طلبا ء کے مابین ایک نیا مقابلہ کرائے گی جس کی انعامی رقم دولاکھ کردی گئی ہے۔ 

اس بین الاقوامی کانفرنس کے لیے جاپان، ملیشیااور ترکی کے ممتازا سلامی اسکالروں نے مقالات لکھے اوربعض نے شرکت بھی کی۔ نیز ہندوستان کے کونے کونے سے علماء ، دانشور ، سماجی ایکٹیوسٹ اور دردمندافرادنے حصہ لیا۔ پوری دنیا میں مسلمان جس مسلکی ، گروہی، اور فرقہ وارانہ کشاکش کا شکار ہیں، اس میں اس کانفرنس نے مسلمانان عالم کو ایک مصالحت کا پیغام دیا اورشرکاء دینی وملی جذبہ سے سرشارہوکراورمختلف میدانوں میں نئے سرے سے سرگرم ہونے کاعزم لے کرلوٹے۔توقع کی جاتی ہے کہ مسلمانان عالم کے درمیان مصالحت کے لیے علی گڑھ سے لگائی جانے والی یہ دردمندانہ صدارائگاں نہ جائے گی اورایک انقلابی پہل ثابت ہوگی۔

اخبار و آثار