مئی ۲۰۱۷ء

اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء و فقہاء کا عملی کردار

― محمد عمار خان ناصر

مذاہب عالم کی تعلیمات میں آزادئ مذہب کا اصول اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم جس قدر وضاحت اور تاکید کے ساتھ اسلام میں ملتی ہے، کسی دوسری جگہ شاید نہیں ملتی۔ مسلم فقہاء نے اسی تعلیم کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کے شہری ومذہبی حقوق کے تحفظ سے متعلق نہایت واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے مرتب کیے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ایسی روشن مثالیں بکثرت ملتی ہیں جب علماء وفقہاء نے اللہ کے پیغمبر کی وراثت اور نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے اقلیتی گروہوں پر کی جانے والی کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف کلمہ حق بلند کیا اور زیادتی کی تلافی کے لیے حتی الوسع...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۰)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۱) علقۃ اور مضغۃ کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں علق کا لفظ ایک بار اور علقۃ کا لفظ متعدد بار آیا ہے، دونوں کا مطلب ایک ہے، اور وہ ہے جما ہوا خون، راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والعَلَقُ: الدّم الجامد ومنہ: العَلَقَۃُ التی یکون منھا الولد.المفردات. علقہ کی اردو تعبیر کے لیے مترجمین نے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں، جیسے، جنین، لوتھڑا، خون کا لوتھڑا، خون کی پھٹک، خون کی پھٹکی، خون کا تھکا۔ علقہ کے لیے جنین کا لفظ کسی طرح مناسب نہیں ہے، کیونکہ جنین کا عمومی اطلاق عربی میں بھی اور اردو میں بھی پیٹ کے بچے پر ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مرحلے میں ہو، جبکہ اردو میں...

اختلاف رائے اور رواداری ۔ اکابرین امت کے اسوہ کی روشنی میں

― مولانا محمود خارانی

علم و تحقیق کے سفر میں اختلاف رائے ایک ناگزیر امر ہے جو تحقیق و جستجو کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مسائل و مباحث کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، تحقیق طلب امور کے نئے گوشے وا ہوتے ہیں، فکر و نظر کے نئے زاویے کھل جاتے ہیں۔ مگر اس اختلاف رائے میں ان سلف صالحین اور اکابرین امت کا درخشاں طرز واسلوب اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے جن کے منہج و طرز فکر سے وابستگی دینی طبقے میں ایک لازمی امر کے طور پر متعارف ہے۔ یہ بجا طور پر آج کے پرفتن دور میں ایک محتاط اور قابل تحسین حکمت عملی ہے۔ دینی طبقہ کے "اکابر سے وابستگی" کے اس رجحان کے...

جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ عالمی اجتماع

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جمعیۃ علماء اسلام کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ میں شرکت کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف کو مولانا فضل الرحمان نے زبانی طور پر یہ کہہ کر دعوت دی تھی کہ آپ حضرات مہمان نہیں بلکہ میزبان ہیں اس لیے ہم دعوت نامہ اور انٹری کارڈ وغیرہ کے تکلف میں نہیں پڑے اور شریک ہونے کا پروگرام بنا لیا۔ چنانچہ مولانا عبدالرؤف ملک، جناب صلاح الدین فاروقی، مولانا احمد علی فاروقی، حافظ شفقت اللہ اور راقم الحروف کانفرنس میں حاضر ہوئے، پنڈال تک پہنچے، اس سے آگے جانے کے لیے ہم سے پاس طلب کیا گیا جو ہمارے پاس نہیں تھا...

مذہبی قوتوں کے باہمی اختلافات اور درست طرز عمل

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز نے پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر خلافت سنبھالی تھی، اس سے قبل حضرات صحابہ کرام کے درمیان جمل اور صفین کی جنگیں ہو چکی تھیں اور صلح کے باوجود نفسیاتی طور پر اس ماحول کے اثرات کسی نہ کسی حد تک باقی تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور وہ اموی خلافت کے تسلسل میں ہی برسراقتدار آئے تھے جبکہ بنو امیہ مذکورہ بالا جنگوں میں واضح فریق رہے ہیں۔ اس پس منظر میں حضرت عمر بن عبد العزیز سے ان دو جنگوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو اس خونریزی...

امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۱)

― مولانا عبید اختر رحمانی

نام ونسب: نام عیسیٰ، والد کانام ابان اورداداکانام صدقہ ہے۔ پورانسب نامہ یہ ہے: عیسیٰ بن ابان بن صدقہ بن عدی بن مرادنشاہ۔کنیت ابوموسیٰ ہے۔( الفہرست لابن الندیم ۱/۲۵۵، دار المعرفۃ بیروت،لبنان)۔ کنیت کے سلسلہ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقریباًسارے ترجمہ نگاروں نے جن میں قاضی وکیع،قاضی صیمری، خطیب بغدادی، ابن جوزی ،حافظ ذہبی ،حافظ عبدالقادر قرشی،حافظ قاسم بن قطلوبغا وغیرہ شامل ہیں، سبھی نے آپ کی کنیت ابوموسیٰ ذکر کی ہے، محض حافظ ابن حجر نے آپ کی کنیت ابومحمد ذکر کی ہے(لسان المیزان ۶/۲۵۶) اورکسی بھی تذکرہ نگار نے اس کی بھی صراحت نہیں کی ہے کہ...

جہادی بیانیے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

آج مذہبی عسکریت پسندی کے لا وارث بچے کو کوئی اپنے نام سے منسوب کرنے کو تیار نہیں، لیکن ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ جب اسے گود لینے کے لیے اہل مدارس میں مسابقت برپا تھی۔ یہ 80 اور 90 کی دہائی کی بات ہے جب صدر ضیاء الحق کے زیر سرپرستی جہادی بیانیہ قوم کا نصب العین بنایا جا رہا تھا۔ مساجد اورمدارس میں جہادی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، جہادی مقررین اپنی شعلہ بار تقاریر سے نوجوان طلبہ کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا کرتے تھے، طلبہ کومحاذ پر جانے کی بجائے مدرسے میں آرام سے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا خلافِ غیرت لگنے لگتا تھا،جہادیوں کے شانوں تک چھوڑے ہوئے...

علامہ اقبال اور شدت پسندی کا بیانیہ: ان کی جہادی اور سیاسی فکر کی روشنی میں

― مولانا سید متین احمد شاہ

جس طرح اردو کے مایہ ناز شاعر مولانا الطاف حسین حالی پر ’’ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے‘‘ کی مشق کی گئی، اسی طرح علامہ اقبال پر بھی اعتراضات کا سلسلہ دراز ہوا جو ان کی زندگی ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ یہ اعتراضات شخصی بھی ہیں، ان کے کلام کے شعری، لسانی اور عروضی پہلوؤں سے متعلق بھی، فکر کی تشکیل اور اس کے اجزا سے متعلق بھی اور دیگر مختلف جہات پر بھی۔ان اعتراضات میں بہت سے وقیع اور صائب ہیں، جب کہ بعض اعتراضات سوے فہم، بعض قلت فہم، بعض مخصوص ذہنی سانچوں اور بعض حسد اور عناد کے سبب ہیں۔ 1910ء میں اقبال کے سفرِ حیدرآباد میں اردو کے نامور محقق...

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پہلا عالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مسلمانان عالم کی دھماکہ خیز صورت حال، باہمی چپقلش اورداخلی نزاعوں کے عالم میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے دنیابھرکے مسلمانوں کے لیے مصالحت اورکلمہ کی بنیادپر وحدت کی آواز مسلسل بلند کی جارہی ہے۔ اس مقصد سے ۳۔۴ اپریل 2017 کو یونیورسٹی کے مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہندکی طرف سے پہلاعالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس ہوا۔ مذکورہ مرکز کے صدراوربرج کورس کے ڈائرکٹر پروفیسر راشدشاز، جواِس کانفرنس کے داعی اورروح رواں تھے،نے کانفرنس کے انعقادسے قبل اس کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک پریس بیان میں بتایاتھاکہ اس مفاہمتی کانفرنس کاتصوریہ...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter