اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء و فقہاء کا عملی کردار

محمد عمار خان ناصر

مذاہب عالم کی تعلیمات میں آزادئ مذہب کا اصول اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم جس قدر وضاحت اور تاکید کے ساتھ اسلام میں ملتی ہے، کسی دوسری جگہ شاید نہیں ملتی۔ مسلم فقہاء نے اسی تعلیم کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کے شہری ومذہبی حقوق کے تحفظ سے متعلق نہایت واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے مرتب کیے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ایسی روشن مثالیں بکثرت ملتی ہیں جب علماء وفقہاء نے اللہ کے پیغمبر کی وراثت اور نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے اقلیتی گروہوں پر کی جانے والی کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف کلمہ حق بلند کیا اور زیادتی کی تلافی کے لیے حتی الوسع کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔

اس حوالے سے تاریخ کے چند معروف اور مستند واقعات پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا:

۱۔ اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اپنے عہد حکومت میں مسیحیوں کا گرجا ان سے چھین کر اسے زبردستی دمشق کی جامع مسجد کا حصہ بنا دیا۔ تاہم جب عمر بن عبد العزیز کا دور حکومت آیا اور مسیحیوں نے ان کے سامنے یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا تو انھوں نے حکم دیا کہ مسجد کا وہ حصہ جو گرجے کی جگہ پر بنا ہوا ہے، ڈھا دیا جائے اور یہ جگہ دوبارہ مسیحیوں کے تصرف میں دے دی جائے۔ اس موقع پر مسلمانوں نے مسیحیوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور انھیں اس پر آمادہ کر لیا کہ وہ غوطہ کے تمام گرجے لے لیں اور اس کے بدلے میں دمشق کی جامع مسجد میں شامل اس حصے سے دست بردار ہو جائیں۔ چنانچہ مسیحیوں نے اپنی رضامندی سے یہ پیش کش قبول کر لی جس پر عمر بن عبد العزیز نے اپنا حکم واپس لے لیا۔ (بلاذری، فتوح البلدان ص ۱۳۲)

۲۔ اسی طرح خلیفہ ہادی کے زمانے میں مصر کے گورنر علی بن سلیمان نے کچھ گرجوں کو منہدم کرا دیا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد جب ہارون الرشید کا دور حکومت آیا اور مصر کی گورنری موسیٰ بن عیسیٰ کے سپرد کی گئی تو موسیٰ نے گرجوں کے انہدام کا مسئلہ علماء کے سامنے پیش کیا۔ علماء نے مسیحیوں کے حق میں فتویٰ دیا اور زبردستی گرجے منہدم کرنے کو ناجائز قرار دیا۔ چنانچہ حکومت نے اپنے خرچ پر ان منہدم شدہ گرجوں کو دوبارہ تعمیر کروایا اور انھیں مسیحیوں کے حوالے کر دیا۔ (الخطط المقریزیہ ۲/۵۱۱ بحوالہ رسائل شبلی ص ۷۰)

۳۔ عباسی دور کے معروف فقیہ قاضی ابو یوسف نے خلیفہ ہارون الرشید کی فرمائش پر امور سلطنت سے متعلق شرعی احکام ان کے لیے مرتب کیے تو اس میں خلیفہ کو یہ نصیحت بھی کی کہ

وقد ینبغی یا امیر المومنین ایدک اللہ ان تتقدم فی الرفق باہل ذمۃ نبیک وابن عمک محمد صلی اللہ علیہ وسلم والتفقد لہم حتی لا یظلموا ولا یؤذوا ولا یکلفوا فوق طاقتہم ولا یؤخذ شیء من اموالہم الا بحق یجب علیہم (الخراج، ص ۱۲۴)

’’اے امیر المومنین، اللہ آپ کی تائید ونصرت فرمائے، یہ مناسب ہوگا کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ جنھیں آپ کے نبی اور آپ کے چچازاد بھائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (جان ومال اور مذہب کی حفاظت کا) ذمہ دیا، حد درجہ نرمی سے کام لیں اور ان کی خبر گیری کرتے رہیں تاکہ ان پر نہ تو ظلم کیا جا سکے نہ انھیں اذیت پہنچائی جائے، نہ ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی بوجھ ڈالا جائے اور ان کے مال سے کسی واجب حق کے علاوہ کوئی چیز وصول کی جائے۔‘‘

۴۔ شام اور حجاز کی سرحد پر عیسائیوں کا ایک مشہور طاقت ور قبیلہ بنو تغلب تھا جس کے ساتھ حضرت عمر نے جان ومال کے تحفظ پر ایک پرامن معاہدہ کیا تھا۔ ہارون الرشید اپنی سیاسی مصلحت کی بنا پر اس کو توڑ دینا چاہتا تھا۔ ایک دن دربار میں جبکہ امام محمد بھی وہاں موجود تھے، ہارون الرشید آیا اور امام محمد کو تخلیہ میں بلا کر لے گیا اور کہا کہ میں بنو تغلب کے عیسائیوں کا معاہدہ ختم کر کے انھیں قتل کرا دینا چاہتا ہوں۔ امام محمد نے فرمایا کہ حضرت عمر نے انھیں امان دی ہے، اس لیے معاہدہ توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ حضرت عمر نے انھیں اس شرط پر امان دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا بپتسمہ نہیں کریں گے (یعنی انھیں عیسائی بنانے کی رسم نہیں ادا کریں گے)۔ امام محمد نے کہا کہ بپتسمہ کے باوجود حضرت عمر نے ان سے معاہدۂ امن برقرار رکھا تھا۔ اس پر ہارون الرشید نے کہا کہ حضرت عمر کو ان سے جنگ کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ امام محمد نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو اس کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی کو ان سے جنگ کرنی چاہیے تھی، حالانکہ ان لوگوں نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے بلا شرط ان کو امان دی تھی۔ جب ہارون سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو ان کو دربار سے نکلوا دیا مگر وہ معاہدہ نہ توڑ سکا۔ (بحوالہ ’’اسلام کے بین الاقوامی اصول وتصورات‘‘ از مولانا مجیب اللہ ندوی)

۵۔ ولید بن یزید نے قبرص کے مسیحیوں کو اس خدشے سے وہاں سے جلا وطن کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف رومی حکومت کی مدد کریں گے۔ مورخین بتاتے ہیں کہ اس فیصلے کو مسلمانوں نے بہت برا سمجھا اور فقہاء نے اس کو سخت نا انصافی قرار دیا۔ چنانچہ ولید کے بعد اس کا بیٹا یزید بن الولید حکمران بنا تو اس نے جلا وطن کیے جانے والے لوگوں کو دوبارہ قبرص میں آبا د کر دیا اور اس فیصلے کو مسلمانوں نے عدل وانصاف تصور کرتے ہوئے اس کی بہت تحسین کی۔ (بلاذری، فتوح البلدان، ص ۱۵۶)

۶۔ سیدنا معاویہ کے دور مسلمانوں اور جزیرہ قبرص کے باشندوں کے مابین اس بات پر صلح کا معاہدہ ہوا کہ وہ مسلمانوں اور سلطنت روم، دونوں کے ساتھ تعلقات رکھیں گے اور دونوں کو سالانہ خراج ادا کرتے رہیں گے۔ عبد الملک بن صالح کے زمانے میں قبرص کے کچھ لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو عبد الملک نے اسے علی الاطلاق نقض معاہدہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا۔ تاہم اس نے اس سلسلے میں شرعی پہلو سے وقت کے نامور فقہا سے رائے طلب کی جن میں لیث بن سعد، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، موسیٰ بن اعین، اسماعیل بن عیاش، یحییٰ بن حمزہ، ابو اسحاق فزاری اور مخلد بن حسین شامل تھے۔ ان میں سے سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے عبد الملک کی رائے سے اتفاق کیا، لیکن اکثریت کی رائے اس سے مختلف تھی۔ انھوں نے خلیفہ کو ان کے خلاف جنگ کرنے سے منع کیا اور کہا کہ چند لوگوں کی طرف سے خلاف ورزی کرنے پر سب لوگوں کو معاہدہ توڑنے کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ (ابو عبید، کتاب الاموال، ص ۲۶۸)

۷۔ امام اوزاعی کے زمانے میں جبل لبنان میں مقیم مسیحیوں میں سے کچھ لوگوں نے بعبلبک کے افسر محصولات سے کسی شکایت کی بنا پر بغاوت کر دی۔ مسلمان حاکم صالح بن علی بن عبد اللہ نے ان میں سے شر پسند عناصر کی سرکوبی کے بعد آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو، جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہاں سے جلا وطن کر دیا۔ (بلاذری، فتح البلدان، ص ۱۶۹) اس پر امام اوزاعی نے اسے تفصیلی خط لکھا جس کا کچھ حصہ امام ابوعبید نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں نقل کیا ہے۔ امام صاحب نے فرمایا:

’’جبل لبنان کے جن اہل ذمہ کو جلا وطن کیا گیاہے، ان کے بغاوت کرنے پر ساری جماعت متفق نہیں تھی، اس لیے ان میں سے ایک گروہ کو (جس نے بغاوت کی) قتل کرو اور باقی لوگوں کو ان کی بستیوں کی طرف واپس بھیج دو۔ کچھ افراد کے عمل کی پاداش میں سارے گروہ کو کیونکر پکڑا جا سکتا اور انھیں ان کے گھر بار اور اموال سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ .... یہ لوگ غلام نہیں ہیں کہ تمھیں ان کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ وہ آزاد اہل ذمہ ہیں (جو بہت سے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں میں ہمارے برابر ہیں، مثلاً) ان میں سے کوئی شادی شدہ فرد زنا کرے تو اسے رجم کیا جاتا ہے اور ان کی جن عورتوں سے ہمارے مردوں نے نکاح کیا ہے، وہ دنوں کی تقسیم اور طلاق وعدت میں ہماری عورتوں کے ساتھ برابر کی شریک ہوتی ہیں۔‘‘ (ابوعبید، کتاب الاموال، ص ۲۶۳، ۲۶۴)

۸۔ آٹھویں صدی کے عظیم مجدد اور مجاہد امام ابن تیمیہ کے زمانے میں جب تاتاریوں نے دمشق پر حملہ کر کے بہت سے مسلمانوں اور ان کے ساتھ دمشق میں مقیم یہودیوں اور مسیحیوں کو قیدی بنا لیا تو امام صاحب علما کا ایک وفد لے کر تاتاریوں کے امیر لشکر سے ملے اور اس سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاتاری امیر نے ان کے مطالبے پر مسلمان قیدیوں کو تو چھوڑ دیا، لیکن یہودی اور مسیحی قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔ ا س پر امام صاحب نے اس سے کہا کہ :

’’تمھیں ان تمام یہودیوں اور مسیحیوں کو جو ہمارے اہل ذمہ ہیں اور تمھارے قبضے میں ہیں، چھوڑنا ہوگا۔ ہم تمہارے پاس اپنا کوئی قیدی نہیں چھوڑیں گے، خواہ وہ مسلمان ہو یا اہل ذمہ میں سے۔ اہل ذمہ کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں اور ان کے فرائض بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ ۲۸/۶۱۷، ۶۱۸)

چنانچہ تاتاری امیر کو یہودی اور مسیحی قیدیوں کو بھی رہا کرنا پڑا۔

۹۔ بعض مسلم حکمرانوں نے بیت المقدس کی زیارت کے لیے جانے والے اہل ذمہ پر ایک خاص ٹیکس عائد کیا تو فقہا نے صراحتاً اس کے عدم جواز کا فتویٰ دیا۔ معروف حنفی فقیہ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

’’بیت المقدس کی زیارت کے لیے مسیحیوں سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے، وہ حرام ہے۔ یہ بات خیر الدین الرملی نے کہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل عمال جو حربی یا ذمی سے جزیہ کے علاوہ رقم لیتے ہیں تاکہ اسے بیت المقدس کی زیارت کرنے دیں، وہ حرام ہے۔‘‘ (رد المحتار، ۲/۳۱۳۔ ۴/۱۶۹)

۱۰۔ ماضی قریب میں ہمیں اسی کردار کا ایک نمونہ انیسویں صدی میں الجزائر کے جلیل القدر عالم اور مجاہد امیر عبدالقادر الجزائری کے ہاں دکھائی دیتا ہے جنھوں نے ۱۸۶۰ء میں دمشق میں ہونے والے مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے جاں نثار ساتھیوں کی مدد سے ہزاروں بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے بچانے کے لیے نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کیا تھا۔ 

الجزائری کے معاصر اور وسطی ایشیا کے عظیم مجاہد امام شامل نے اس واقعے میں الجزائری کے کردار کی تحسین اور مسلمانوں کے عمومی طرز عمل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی: 

’’میں ان حکام کی کور چشمی پر بھونچکا رہ گیا جنھوں نے ایسی زیادتیاں کیں اور اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث فراموش کردی کہ: ’’جس کسی نے بھی اپنے زیر امان رہنے والے کے ساتھ ناانصافی کی، جس کسی نے بھی اس کے خلاف کوئی غلط حرکت کی یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی، وہ جان لے کہ روز محشر میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔‘‘ (جان کائزر، امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان (اردو ترجمہ)، ص ۴۲۷)

اگر مذہبی معاشرہ یہی ہے تو ہمیں سیکولرزم کی ضرورت ہے

مشال خان کے دل دوز واقعے کی کچھ تفصیلات سوشل میڈیا پر دیکھیں، لیکن ویڈیو دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ گزشتہ دنوں ایک مجلس میں جناب افراسیاب خٹک، ڈاکٹر قبلہ ایاز، وسعت اللہ خان اور حسن خان (خیبر ٹی وی) جیسے باخبر حضرات کی زبانی صورت حال کے جو پہلو معلوم ہوئے، ان کی روشنی میں، واقعہ یہ ہے کہ اس قوم کی اجتماعی اخلاقی پستی بالکل ننگی ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ چند پہلو ملاحظہ ہوں:

یہ تو اب سب کو معلوم ہے کہ یہ قتل مشتعل طلبہ کے کسی ہجوم نے heat of the moment کے زیر اثر نہیں کیا، بلکہ اس میں یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامیہ اور اس سے بھی بڑھ کر مقامی پولیس ملوث ہے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے یہ اقدام کیا گیا۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ توہین مذہب کا الزام بے بنیاد تھا۔ قتل کے اصل محرک کے متعلق بعض واقفان حال کی رائے یہ ہے کہ مشال خان متعلقہ یونیورسٹی کے نظام، تعلیم کے معیار، اساتذہ وانتظامی عملہ کی تقرری میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی اقربا نوازی کا ناقد تھا اور انتظامیہ واساتذہ اس کے سوالوں کا جواب دینے سے خود کو عاجز پاتی تھی، چنانچہ اس سے نمٹنے کے لیے توہین مذہب کے الزام کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔

واقعے کے بعد میڈیا کی طرف سے خیبر پختون خوا کی ذمہ دار سیاسی قیادت سے (جس میں نہ صرف مذہبی بلکہ سیکولر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں) تبصرے کے لیے رجوع کیا گیا تو سب کا ابتدائی رد عمل، تبصرے سے اعراض کا تھا بلکہ بعض نے رابطہ کرنے والے رپورٹر کو بھی یہ ناصحانہ مشورہ دیا کہ بہتر ہے، آپ اس معاملے سے دور رہیں۔ وزیر اعلیٰ کو اس کی مذمت پر آمادہ ہونے میں بارہ گھنٹے لگے، جبکہ جناب وزیر اعظم کو (اطلاعات کے مطابق) کوئی تین دن کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ملک میں اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا ہے۔

میڈیا پر واقعہ کی اطلاع آنے کے ساتھ ہی مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے فوری طور پر اس قسم کی بے محل بیان بازی شروع کر دی گئی کہ توہین مذہب کے قانون میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی، جو دراصل دوسری طرف کے دباؤ کو تحلیل کرنے اور واقعے کی سنگینی کو ہلکا بنانے کا ایک آزمودہ طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ مقامی طور پر تمام مذہبی جماعتوں نے ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ مشال کے قاتلوں نے چونکہ مذہب کی محبت میں یہ اقدام کیا ہے، اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی جائے۔

اور اب واقعے کی ناقابل بیان وحشت ناکی کے تناظر میں رائے عامہ کے دباؤ کے تحت بظاہر انتظامی وقانونی کارروائی تو کی جا رہی ہے، لیکن چونکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نیز مقامی پولیس کی سطح پر ملوث تمام افراد ایسے ہیں جنھیں کسی نہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی پشت پناہی میسر ہے، اس لیے درون خانہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی ترجیح یہی ہے کہ ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچنے سے بچایا جائے۔

وسعت اللہ خان نے کہا کہ اس سارے معاملے میں امید کا ایک ہی پہلو سامنے آیا ہے، اور وہ یہ کہ جب قتل کے بعد مشال خان کے گاؤں کی مساجد میں مولوی حضرات نے یہ اعلان کروا دیا کہ مقتول کی نماز جنازہ پڑھنا حرام ہے تو مقتول کے والد کے چند دوستوں نے، جن کا تعلق اس گاؤں سے نہیں تھا، یہ طے کیا کہ جنازہ ہر حال میں پڑھا جائے گا اور اس کے لیے وہ اپنے گاؤں سے جنازہ پڑھنے کے لیے افراد کو لے کر آئے اور ان کی جرات اور حوصلے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ نماز جنازہ پڑھی گئی، بلکہ لوگوں کو اصل حقیقت حال سے باخبر کرنے کی راہ بھی ہموار ہوئی، ورنہ شاید پہلے مرحلے پر ہی یہ بات ہمیشہ کے لیے طے ہو جاتی کہ مقتول واقعی توہین مذہب کا مرتکب تھا اور یہ کہ اسے قتل کرنے والوں نے، ایسے ہر واقعے کی طرح، مذہبی حمیت میں یہ کار خیر انجام دیا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، اس نوعیت کا ہر واقعہ ہماری اجتماعی اخلاقی صورت حال کے حوالے سے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، لیکن اس واقعے نے تو اتمام حجت میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی۔ اس کا سب سے افسوس ناک پہلو، ہمارے معاشرے میں پست اخلاقیات اور غیر انسانی بلکہ حیوانی رویوں کے ساتھ نام نہاد مذہبی جذبات کا مل جانا اور مذہب کے نام پر سیاسی مفادات کے کھیل کو مقبولیت کا حاصل ہو جانا ہے۔ ہمیں سیکولر ریاست اور سیکولر معاشرے سے اصولی اور نظریاتی طور پر شدید اختلاف ہے، لیکن اگر ’’مذہبی معاشرے‘‘ کا نقشہ یہی ہے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اب سیکولرزم کی ضرورت ہے۔

آراء و افکار