نومبر ۲۰۱۶ء

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر / عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ / مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال

― محمد عمار خان ناصر

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر۔ انگریزی دور اقتدار میں برصغیر کی اقوام جمہوریت کے جدید مغربی تصور سے روشناس ہوئیں اور برطانوی حکمرانوں نے اسی تصور کے تحت ہندوستان کے سیاسی نظام کی تشکیل نو کے لیے اقدامات کا آغاز کیا تو یہاں کی دو بڑی قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین باہمی بے اعتمادی کی وجہ سے اپنے سیاسی اور اقتصادی حقوق کی حفاظت کے حوالے سے کشمکش اور تناؤ کی صورت حال پیدا ہو گئی جس نے آگے چل کر ایک باقاعدہ قومی تنازع کی شکل اختیار کر لی۔ اس صورت حال کے تجزیے اور ممکنہ حل کی تجویز میں مسلمان قیادت بھی باہم مختلف الرائے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۴)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۲) علی حبہ کا ترجمہ۔ علی حبہ قرآن میں دو جگہ آیا ہے، اس کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا ضروری ہوتا ہے کہ علی حبہ میں ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مرجع اللہ کو قرار دیا ہے، اس بنا پر وہ ترجمہ کرتے ہیں اللہ کی محبت میں۔ یہ ترجمہ بعض وجوہ سے کمزور ہے، ایک تو یہ کہ اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے علی حبہ کے بجائے فی حبہ یا لحبہ آتا ہے، جبکہ یہاں دونوں مقام پر علی حبہ ہے۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں مقامات پر قریبی عبارت میں لفظا اللہ کا ذکر نہیں ہے کہ اس کی طرف ضمیر کو لوٹایا جائے۔ یہ درست ہے کہ ضمیر کے مرجع کے لیے عہد ذہنی کا اعتبار ہوسکتا ہے، یا کچھ دور...

فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی: علماء کے مختلف متفقہ نکات و سفارشات پر ایک نظر

― ڈاکٹر محمد شہباز منج

برصغیر پاک و ہند میں فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی کے لیے متعدد علماے کرام نے یقیناًقابلِ قدر کوششیں کی ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے، جس کو ایک عام صاحبِ فہم بھی آسانی سے دیکھ اور محسوس کر سکتا ہے ، کہ ان کو ششوں کے باوجود مسئلہ حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہوا ہے۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق، متعدد دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ، مسئلے کا اہم اور قابل توجہ پہلویہ ہے کہ علما کی اس حوالے سے کی گئی کاوشوں میں بہت سطحیت پائی جاتی ہے۔ یہ سطحیت مختلف علمی و عملی ، سماجی وتحریکی اور نظری و دستاویزی وغیرہ رویوں میں سامنے آتی رہتی ہے۔ راقم الحروف نے ان رویوں کا تفصیلی...

اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب

― مولانا محمد عیسٰی منصوری

تمام انسانی تہذیبیں اور ثقافتیں زندہ مخلوق (نامیاتی اجسام) کے مانند ہوتی ہیں۔ جس طرح ہر جاندار مخلوق زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپا، پھر موت، یہی حال تمام انسانی تہذیبوں کا ہے۔ تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں، عروج پاتی ہیں، پھر زوال کا شکار ہو کر مٹ جاتی ہیں۔ دنیا کی جتنی بھی تہذیبیں ہیں، وہ تین چیزوں کا ملغوبہ ہوتی ہیں (۱) وہ گزشتہ تہذیبوں کے کھنڈرات پر قائم ہوتی ہیں یعنی گزشتہ تہذیبوں کے بچے کھچے آثار و باقیات یا تلچھٹ۔ (۲) ہر تہذیب کسی آسمانی وحی یا کچھ مفکرین و دانشوروں کے تصورات و افکار پر مبنی ہوتی ہیں۔ (۳) ہر تہذیب پر خطہ...

شرق اوسط کی صورتحال اور ایران کا کردار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے 16 اکتوبر کو یہ خبر شائع کی ہے کہ عرب ٹی وی کے مطابق امریکی فوج کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ ایران دنیا بھر میں شیعہ ملیشیاؤں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایران نہ صرف یمن میں حکومت کے خلاف سرگرم شیعہ باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے بلکہ وہ دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کو بھی بھاری جنگی ہتھیار مہیا کرتا ہے۔ یہ خبر چونکہ امریکی فوج کے ایک عہدہ دار کے حوالہ سے سامنے آئی ہے اس لیے اسے امریکی الزام یا پروپیگنڈا کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے ایک روز قبل عرب ممالک کی خلیجی تعاون کونسل اور...

حضرت مولانا مفتی محمود کا اسلوبِ استدلال

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کو ہم سے رخصت ہوئے چھتیس برس گزر چکے ہیں،لیکن ابھی کل کی بات لگتی ہے، ان کا چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے، وہ مختلف تقریبات میں آتے جاتے دکھائی دے رہے ہیں، ان کی گفتگو کانوں میں رس گھول رہی ہے، ان کے استدلال اور نکتہ رسی کی ندرت دل و دماغ کو سراپا توجہ کی کیفیت میں رکھے ہوئے ہے اور ان کی فراست و تدبر کے کئی مراحل ذہن کی اسکرین پر قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ مولانا مفتی محمودؒ کے بارے میں بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے اور بہت لکھنے کا ارادہ ہوتا ہے لیکن آج کل سماعت و مطالعہ کا ہاضمہ اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ...

کیا خاندانی نظام ظلم ہے؟ مارکیٹ، سوسائٹی، غربت اور خاندان کا تحفظ

― محمد زاہد صدیق مغل

کچھ روز قبل فیس بک پر خاندانی نظام کے غیر اسلامی ہونے کے حوالے سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کوئی اسلامی دلیل موجود ہی نہ تھی۔ اس تحریر کے استدلال کی کل بنیاد "بڑے بھائی پر ہونے والے مظالم" کا حوالہ تھی کہ اس پر خاندان کا بار گراں زیادہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ زیر نظر تحریر میں خاندانی نظام کو اس کے وسیع تر معاشرتی و سیاسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے اور جدید مارکیٹ سوسائٹی سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ مسئلے کے اس پہلو کو عام طور پر نظر انداز کرکے خاندانی نظام پر گفتگو کی جاتی ہے، لہٰذا یہاں اس کی کچھ تفصیلات دی جاتی ہیں۔ آج دنیا میں جس پیمانے پر...

فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

تیسرا سبب :عراق میں رائے و اجتہاد کی کثرت اور حجاز میں قلت۔ اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم کا ایک اہم سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عراق میں اجتہاد اور رائے کا استعمال بہت زیادہ تھا ،چنانچہ اہل عراق کثرت سے اصولوں پر تفریع کر کے نئے مسائل کا استنباط کرتے، مسائل کو فرض کر کے اس کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کے برعکس حجاز میں رائے و اجتہاد کی بجائے حدیث کی تعلیم زیادہ ہوتی تھی ، اہل حجاز صرف پیش آمدہ مسائل کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ،اور بغیر ضرورت کے تفریعات کرتے اور نہ ہی مسائل کو فرض کر کے اس پر بحث کرتے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عراق رائے...

مکاتیب

― ادارہ

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب دامت برکاتہم۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ ستمبر ۲۰۱۶ء کے ماہنامہ الشر یعۃ میں مفتی محمد رضوان صاحب کی تالیف ’’مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار اور تنظیمِ فکرِ ولی اللّٰہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ ‘‘ کے دوسرے ایڈیشن پر مولانا سیّد متین احمد شاہ صاحب کا فاضلانہ تبصرہ پڑھا۔ تبصرہ نگار ممکن حد تک غیر جا نبد ار رہے ہیں اور تبصرے کو کسی طور یک رخا نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال غالباً عجلت کے سبب چند غلطیاں تبصرے میں راہ پاگئی ہیں ۔ ریکارڈ کی درستی کے لیے انہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے: ۱۔مولانا سندھی مرحوم کے سب سے بڑے...

طلبہ کی نفسیاتی، روحانی اور اخلاقی تربیت ۔ ایک فکری نشست کی روئیداد

― مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

فی زمانہ جہاں طلباء کی ہمتیں پست اور ارادے شکست وریخت کا شکار ہیں، وہیں اساتذہ بھی پہلے جیسے اہل نہیں رہے ۔ اساتذہ طلباء کو پڑھانا تو شاید اپنا فرض سمجھتے ہیں، لیکن طلبہ کی نفسیات کو سمجھ کر ان کی اخلاقی و روحانی تربیت بالکل نہیں کرتے۔یہی غیر تربیت یافتہ طلباء جب فضلاء بنتے ہیں تو بجائے فائدہ کے نقصان کا باعث ہوتے ہیں، اپنی تربیت نہ ہونے کے سبب معاشرہ کی تربیت سے بالکل عاری ہوتے ہیں ، نتیجتاً معاشرے کی صحیح خطوط پر تربیت کے فرض کو کماحقہ پو رانہیں کر پا تے ہیں۔ اس تناظر میں الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۲؍اکتوبر کو علماء، فضلاء اور اساتذہ...

نومبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱۱

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر / عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ / مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی: علماء کے مختلف متفقہ نکات و سفارشات پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب
مولانا محمد عیسٰی منصوری

شرق اوسط کی صورتحال اور ایران کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا مفتی محمود کا اسلوبِ استدلال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کیا خاندانی نظام ظلم ہے؟ مارکیٹ، سوسائٹی، غربت اور خاندان کا تحفظ
محمد زاہد صدیق مغل

فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی

مکاتیب
ادارہ

طلبہ کی نفسیاتی، روحانی اور اخلاقی تربیت ۔ ایک فکری نشست کی روئیداد
مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter