سیرت کانفرنس پی سی بھوربن کے لیے سفر

محمد بلال فاروقی

استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی کو ۷ جنوری ۲۰۱۶ کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بھوربن میں منعقدہ سیرت کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ ۶ جنوری کو دوپہر کے وقت ہم اسلام آباد روانہ ہوئے۔ وہاں مولانا سید علی محی الدین کے ہاں قیام تھا۔ مولانا علی محی الدین چند دن پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کر کے لوٹے تھے جس پر مولانا زاہد الراشدی نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ عصر کی نماز کے بعد ایک نشست میں، میں نے سوال کیا کہ آپ نے اسلام اور سائنس کے حوالہ سے جو کالم لکھا ہے، اس پر جناب زاہد صدیق مغل نے اشکال کیا ہے کہ ’’ نہ جانے وہ کون سی سائنس ہے جو حقیقت تلاش کر رہی ہے۔ جدید سائنس، جس کا ظہور آج کی تاریخ میں ہوا، وہ کائنات کے ذرے ذرے کو سرمایے میں تبدیل کرکے نفع میں اضافے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ مجھے تو آج تک کوئی سائنس دان نہیں ملا جو اشیاء کی حقیقت تلاش کررہا ہو۔‘‘

استاذ محترم نے فرمایا: میں نے سائنس کی تعریف نہیں بیان کی بلکہ سائنس کا فنکشن بیان کیا ہے کہ سائنس کرتی کیا ہے۔ کائناتی قوانین کو دریافت کرنا، اشیاء کی حقیقت جاننا، ان کے استعمال کا طریقہ اور ان کی افادیت کے مختلف پہلو دریافت کرنا، اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچانا یہی سائنس کا فنکشن ہے اور اس سے اسلام کا کسی قسم کا کوئی تصادم نہیں۔ استعمال کرنے والے اگر غلط استعمال کرتے ہیں تو اس سے سائنس کے فنکشن کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً چاقو کا فنکشن کاٹنا ہے۔ اب یہ کاٹنے والے پر منحصر ہے کہ سیب کاٹتا ہے یا کسی کا ہاتھ۔ کاٹنے والے کے ناجائز استعمال کی بنیاد پر چاقو کی افادیت سے انکار کیونکر ہوسکتا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ دریافتوں سے نفع کا حصول بالکل جائز عمل ہے۔ شریعت نفع کے حصول سے ہرگز منع نہیں کرتی بلکہ ضرر پہنچانے سے منع کرتی ہے۔ سائنس کی بنیادیں تو ہم نے اپنے دورِ عروج میں فراہم کی ہیں۔ مغرب اسے غلط رخ پر لے گیا ہے تو کیا مغرب کے غلط رخ پر جانے کی وجہ سے ہم اپنی بنیادوں کا انکار کر دیں ؟

دوسرا سوال میں نے یہ کیا کہ الشریعہ کے اہداف، دائرء کار اور معیار کیا ہے؟ 

استاد محترم نے فرمایا: الشریعہ کا پہلے دن سے یہ ہدف طے ہے کہ علمی وفکری مسائل پر مکالمہ کا ماحول فراہم کیا جائے، وہی ماحول جو امام ابو حنیفہ کی مجلس میں تھا، جو فقہاء اور متکلمین کے ہاں تیرہ سو سال سے چلا آرہا ہے، وہی ماحول جو عقائد میں ماتریدیہ واشاعرہ کے مابین اور فقہ میں فقہاء کے درمیان ہمیشہ سے رہا ہے اور میرے نزدیک اس کا سب سے بہتر نمونہ طحاوی شریف ہے۔ طحاوی فقہی مکالمہ ومجادلہ کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔خصوصا جدید مسائل پر مکالمہ کا ماحول فراہم کرنا الشریعہ کا ہدف ہے اور مجھے امید ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ کی نئی ادارت اس کو قائم رکھے گی۔ الشریعہ کا دائرہ کار اہل سنت کے مسلمات ہیں۔ اہل سنت کے کلامی دائرہ میں اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظاہریہ، فقہی دائرہ میں احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ اور ظواہر جبکہ تصوف کے دائرہ میں نقشبندیہ ،قادریہ، سہروردیہ اور چشتیہ یہ سب اہل سنت میں شامل ہیں۔ مکالمہ میں علمی، فکری تنقید، سنجیدہ مجادلہ کو ہم نے ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے اور اس کو الشریعہ میں جگہ دی ہے، لیکن غیر سنجیدہ ، غیر علمی اور ’’مان نہ مان‘‘ قسم کا نقد، اس کا ہم نے نہ کبھی نوٹس لیا ہے، نہ جواب دیا ہے اور نہ ایسی تحاریر نوٹس لینے کے قابل ہوتی ہیں۔ 

اس پر میں نے سوال کیا کہ جدید مسائل پر بہت سی آرا ایسی ہیں جوالشریعہ میں شائع ہوتی ہیں اور وہ آپ کے بیان کردہ دائرہ کار سے ہٹ کر ہیں۔ استاد محترم نے جواب دیا کہ ان آرا کاآنا کوئی قابل اشکال بات نہیں، البتہ میں اہل سنت کے مسلمات سے ہٹ کر نئے اصولِ استدلال وضع کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔

اسی دوران مولانا سید علی محی الدین نے گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل میں زیر بحث آنے والے اس مسئلے کے متعلق سوال کیا کہ ’’قادیانیوں کی حیثیت کیا ہے؟‘‘ مولانا نے فرمایا کہ یہ بحث پہلے ہوچکی ہے اور علماء کا متفقہ فیصلہ آچکا ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کا مؤقف تھا کہ یہ مرتد ہیں یا کم از کم زندیق اور واجب القتل ہیں، جبکہ علامہ اقبال کا خیال تھا کہ یہ صورت آج کے دور میں قابل عمل نہیں ہے، اس لیے ان کو امت مسلمہ کے وجود سے الگ کرکے ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے دی جائے۔ چنانچہ تمام علماء نے ۵۳ء میں متفقہ طور پر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے اتفاق کیا اور اسی پر تمام مکاتب فکر کا اجماع ہو گیا۔ میرے خیال میں اس موضوع کو دوبارہ چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

نمازِ عشاء کے بعد جامع مسجد ہمک ماڈل ٹاؤن میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا بیان تھا جس میں استاد محترم نے اس نکتے کو واضح فرمایا کہ جس طرح رسول اللہ، اللہ کا پیغام قرآن مجید امت تک پہنچانے والے ہیں، ایسے ہی قرآن مجید کی تشریح کی بھی مطلق اتھارٹی ہیں۔ فرمایا، کامن سینس کی بات ہے کہ جب کسی کی بات سمجھ میں نہ آئے اور بات کرنے والا موجود ہو تو اس کی بات سمجھنے کے لیے اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ یا متکلم نے کوئی بات کی ہے اور آپ اس کا کچھ مطلب سمجھے ہیں جبکہ متکلم کا کہنا ہے کہ میرا یہ مطلب نہیں ہے تو متکلم کی بات ہی معتبر ٹھہرے گی۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارے لیے نازل ہوا ہے۔ اب قرآن مجید کی کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی یا پھر مغالطہ لگتا ہے تو متکلم اللہ تعالیٰ ہے، ان تک ہماری رسائی نہیں، لیکن ان کے نمائندہ رسول اللہ تک ہماری رسائی ہے۔ ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اس بات کو کیسے سمجھا ہے ؟ کیسے اس پر عمل کیا ہے؟ اس تک ہماری رسائی ممکن ہے اور چونکہ رسول اللہ، اللہ کے نمائندہ ہیں لہٰذا رسول اللہ آیت قرآنی کا جو مطلب سمجھائیں گے، وہی اللہ کی منشا ہوگی۔

صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست سامع تھے۔ صحابہ کو کئی مواقع پر بات سمجھ میں نہیں آئی یا مغالطہ لگ گیا یا کسی نے غلط فہمی ڈال دی تو صحابہ رسول اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس پر چند واقعات سنائے۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ جلیل القدر صحابی تھے۔ بہت منجھے ہوئے ڈپلومیٹ،سفارتکار اور بہادر جرنیل تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نجران بھیجا تاکہ ان کو اسلام کی دعوت دیں اور قرآن کریم سنائیں۔ حضرت مغیرہ سے جب نجران کے عیسائیوں نے قرآن کریم سنا تو حضرت مغیرہ کو مغالطہ میں ڈال دیا۔ اشکال کیا کہ قرآن مجید میں حضرت مریم کو حضرت ہارون کا بھائی کہاگیا ہے: یا اخت ھارون، جبکہ حضرت ہارون اور حضرت مریم کے زمانہ میں صدیاں حائل ہیں۔ حضرت مغیرہ پریشان ہوگئے اور جواب نہ دے سکے۔ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے او ر بتایا کہ حضور! انہوں نے اشکال کیا اور میں جواب نہیں دے سکا۔ نبی کریم نے فرمایا کہ خدا کے بندے ! سادہ سی بات تھی۔ وہ ہارون اور ہیں جبکہ یہ ہارون اور ہیں۔ بنی اسرائیل کا یہ رواج تھا کہ وہ انبیاء کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے تھے۔ مریم کے بھائی کا نام بھی حضرت ہارون کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اب یہ الجھن حضرت مغیرہ کو پیش ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی اور آپ نے اس الجھن کو صحیح معنی و مطلب سمجھا کر حل کر دیا۔

قرآن مجید نے رمضان المبارک میں سحری کی حد بیان کرتے ہوئے ایک محاورہ استعمال کیا: وَ کُلُوا وَ اشْرَبُوا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیطُ الاَبْیَضُ مِنَ الخَیْطِ الاَسْوَدِ مِنَ الفَجر۔ اب جن کا محاورہ تھا، وہ تو سمجھ گئے کہ اس سے مراد پوپھٹنا ہے، لیکن جو اس محاورہ سے ناواقف تھے، انہوں نے سفید اور سیاہ دھاگے کا مطلب حقیقی دھاگہ سمجھ لیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ بعض صحابہ نے کالی اور سفید ڈوریاں ٹانگوں کے ساتھ باندھ لیں اور جب تک ان میں فرق نظر نہیں آیا، تب تک سحری کھاتے رہے۔ ایک صحابی حضرت عدی بن حاتم نے اپنے سرہانے کے نیچے سفید اور کالے رنگ کی دو ڈوریاں رکھ لیں۔ ایک دن صبح موسم ابر آلود تھا اور کافی دیر بعد ان میں فرق نظرآیا تو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ آج سحری بہت لمبی تھی۔ حضور نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یوں سرہانے کے نیچے رکھے سفید و کالے دھاگے میں فرق دیر سے نظر آیا۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی! اس کا مطلب پوپھٹنا تھا، سفید اور کالا دھاگہ مراد نہیں تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دل لگی کا جملہ بھی فرمایا کہ: اذا لوسادتک عریض یا عدی۔ عدی! تیرا سرہانہ تو بہت چوڑا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی کا جو معنی متعین کردیا، وہی حتمی ہے۔اب اس کے بعد یہ کہنا کہ میں یہ سمجھا ہوں، اس کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔

اگلے دن صبح فجر کے بعد مولانا ثناء اللہ غالب کی مسجد میں استاذِ محترم نے درس قرآن ارشاد فرمایا اور ان کے ہاں ناشتہ کرنے کے بعد مولانا قاسم عباسی کے ہاں ان کے والد محترم کی تعزیت کے لیے گئے۔مولانا قاسم عباسی کے والد محترم حاجی محمد شعیب صاحب سنی بینک مری کے معروف بزرگ تھے۔ خدا ترس، عبادت گزار اور انتہائی مہمان نواز بزرگ تھے۔ ان کا گھر مہمانوں بالخصوص علماء کرام کے لیے ایک مستقل مہمان خانہ تھا۔ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر بھی ان کے ہاں کئی روز تک مہمان رہے۔ گزشتہ دنوں اس دار فانی سے انتقال فرماگئے۔ ان کے صاحبزادے مولانا محمد قاسم عباسی آجکل روالپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ان کے گھر حاضر ہو کر حاجی شعیب صاحب کی تعزیت کی۔ 

اس کے بعد مولانا نوید عباسی کے ساتھ مری کے لیے روانہ ہوئے۔سنی بینک مری سے مولانا سیف اللہ سیفی صاحب بھی ہمراہ ہو گئے۔ راستہ میں مرکزی جامع مسجد مری کے خطیب مولانا مفتی محمد خالد صاحب سے ان کے والد گرامی کی وفات پر تعزیت کی جس کے بعد پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بھوربن پہنچے جہاں پی سی کے مینیجر ذوالفقار ملک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ کانفرنس ہال میں پہنچے۔ یہ سیرت کانفرنس ہر سال پی سی کی انتظامیہ کی طرف سے منعقد کی جاتی ہے جس میں اس سال مہمان خصوصی مولانا زاہد الراشدی تھے۔

استاذِ محترم نے رسول اللہ کے طرز حکمرانی پر بات کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ فلاحی ریاست کی خصوصیات کو بیان فرمایا۔ فرمایا کہ نبی کریم نے صرف ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور نہیں دیا، صرف اس کی تعلیمات نہیں بیان کیں، بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیئس سال کی محنت کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے تو ایک فلاحی ریاست قائم ہوچکی تھی جسے آج کی دنیا بھی فلاحی ریاست مانتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول تھا کہ جب کسی مسلمان کی وفات ہوتی اور آپ سے تقاضا ہوتا کہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں تو رسول اللہ اس میت کے متعلق کچھ سوالات پوچھتے تھے۔ ایک سوال یہ ہوتا تھا کہ اس کے ذمہ کوئی قرضہ تو نہیں؟ اگر جواب نہ میں ہوتا تو جنازہ پڑھا دیتے۔ اگر مقروض ہوتا تو صحابہ سے پوچھتے کہ قرض کی ادائیگی کا کوئی بندو بست ہے؟ اگر ہوتا تو آپ جنازہ پڑھا دیتے۔ اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو خود جنازہ نہیں پڑھاتے تھے، صحابہ کو فرماتے کہ وہ نماز جنازہ پڑھ لیں۔ ایک صحابی کی وفات پر یہی واقعہ ہوا تو پتہ چلا کہ میت مقروض ہے اور قرضہ اتارنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ صحابہ سے فرمایا، بھئی! اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ ایک صحابی ابو قتادۃ نے عرض کی، یا رسول اللہ!ہمارا مسلمان بھائی ہے۔ اسے آپ اس سعادت سے محروم نہ کیجیے۔ آپ جنازہ پڑھائیں، قرضہ میں ادا کر دوں گا۔ حضور نے جنازہ پڑھا دیا۔ جنازہ پڑھانے کے بعد حضور نے ایک اعلان کیا جو ویلفیئر اسٹیٹ کی بنیاد ہے۔ فرمایا :

ما من مومن الا وانا اولی الناس بہ فی الدنیا والآخرۃ، اقرء وا ان شئتم (النبی اولی بالمومنین من انفسھم)، فایما مومن ترک مالا فلیرثہ عصبتہ من کانوا، فان ترک دینا او ضیاعا فلیاتنی فانا مولاہ۔

اگر کوئی مسلمان قرضہ یا بے سہارا خاندان چھوڑ کر فوت ہوا ہے، فالی وعلی، وہ میرے پاس آئے گا، وہ میری ذمہ داری ہے۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میری رائے ہی کہ ’’الی‘‘ کی بات تو بہت لوگوں نے کی ہے کہ کوئی ضروت مند ہو تو میرے پاس آئے، لیکن ’’علی‘‘ کہ اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے، یہ بات تاریخ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ رسول اللہ نے یہ پالیسی دی کہ ریاست کے نادار، معذور، غریب اور ضرورت مند لوگ ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا ماحول یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص آتا اور کسی ضرورت کا تقاضا کرتا تو رسول اللہ ارشاد فرماتے! بھئی، اس کو بیت المال میں سے دے دو۔ رسول اللہ نے ایسا سسٹم بنا لیا تھا کہ جو بھی ضرورت مند آتا، اس کی ضرورت پوری ہوتی تھی۔اس حوالے سے دو واقعات بیان کیے۔

ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور عرض کی، یا رسول اللہ! میرا اونٹ فوت ہوگیا ہے۔ گھر سے دور ہوں۔ مجھے سواری عنایت فرمائیں تاکہ میں گھر جا سکوں۔ رسول اللہ نے فرمایا! بیٹھو، تمہیں اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔ وہ حیران ہوا کہ مجھے سواری چاہیے، اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا؟ صحابی نے دوبارہ عرض کی، یا رسول اللہ! مجھے سواری چاہیے، میں نے گھر جانا ہے۔ فرمایا، بھئی کہا تو ہے کہ تمہیں اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔ وہ پھر پریشان ہوئے اور عرض کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا، بھئی اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔اور پھر ایک اونٹ منگوا کر ان کے حوالے کیا اور فرمایا کہ یہ بھی کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش مزاج بزرگ تھے اور کبھی کبھی اس قسم کی دل لگی فرما لیا کرتے تھے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر ہمارے خاندان والوں نے سفر پر جانا تھا۔ ہمیں اونٹوں کی ضرورت تھی۔ اس وقت کا ماحول دیکھیے! ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی۔ ہمیں پتہ تھا کہ رسول اللہ کی بارگاہ میں جائیں گے تو مایوس نہیں لوٹیں گے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کی، یارسول اللہ! سواری کے لیے اونٹ چاہییں۔ آپ نے انکار فرما دیا اور قسم اٹھا لی کہ نہیں دوں گا۔ ابو موسیٰ اشعری خود فرماتے ہیں کہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے جاتے ہی مجلس کے ماحول کا لحاظ کیے بغیر اپنی ضرورت پیش کردی۔ رسول اللہ کسی وجہ سے غصے میں تھے، اس لیے انکار فرما دیا۔ یہ واپس آگئے اور خاندان والوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا ہے۔ اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور ابوموسیٰ اشعری کو بتایا کہ آپ کو رسول اللہ یاد فرمارہے ہیں۔ یہ پہنچے تو دیکھا کہ رسول اللہ کے سامنے اونٹوں کی دو جوڑیاں کھڑی تھیں۔ آپ نے فرمایا یہ لے جاؤ۔میں نے اونٹ پکڑے اور چل پڑا۔ راستے میں خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھا لی تھی۔ اب اس حالت میں اگر میں نے اونٹ لے لیے تو اس میں کیا برکت ہوگی۔ میں واپس گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کے پاس تو اونٹ نہیں تھے اور آپ نے مجھے اونٹ نہ دینے کی قسم اٹھا لی تھی۔ فرمایا کہ اس وقت میرے پاس اونٹ نہیں تھے۔ یہ قیس بن سعد کے باڑے سے ادھار منگوائے ہیں۔ انہوں نے پھر سوال کیا کہ آپ نے تو قسم اٹھا لی تھی۔ فرمایا کہ مجھے قسم یاد ہے، لیکن میرا معمول ہے کہ اگر کوئی قسم اٹھا لوں اور مجھے خیال ہو کہ جس کام کے نہ کرنے کی قسم اٹھائی ہے، وہ خیر کا کام ہے تو میں قسم کو خیر کے کام میں رکاوٹ کا ذریعہ نہیں بننے دیتا اور کفارہ ادا کرتا ہوں۔ 

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور کا یہ ماحول تھا۔فلاحی ریاست کی یہ صورتحال تھی۔ 

سیرت کانفرنس میں مری کے علاقہ کے سرکردہ علماء کرام بڑی تعداد میں شریک تھے جنھوں نے اس خطاب پر خوش گوار تاثرات کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کے ماحول میں انسانی سوسائٹی کی ضروریات کے حوالے سے اس قسم کے خطابات کی زیادہ ضرورت ہے۔

اخبار و آثار