ڈاکٹر طہ جابر العلوانی ۔ شخصیت اور فکر

مولانا سید متین احمد شاہ

4 مارچ 2016ء بروز جمعہ کو عالم اسلام کے نام ور مفکر اور مصنف ڈاکٹر طہ جابر العلوانی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 81 سال تھی۔ آپ کی پیدائش 1935ء میں عراق کے شہر فلوجہ میں ہوئی۔ آپ نے عراق میں اعلیٰ سطح کے اہل علم سے تعلیم حاصل کی اور جامعہ ازہر سے 1973ء میں اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ء سے آپ نے جامعۃ الام محمد بن سعود الاسلامیہ میں اصول فقہ کے استاد کے طور پر دس سال تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ 1981ء میں عالمی ادارہ فکر اسلامی (المعھد العالمی للفکر الاسلامی / The International Institute of Islamic Thought)  امریکا میں قائم کیا گیا جس کے اول بنیاد گزاروں میں ڈاکٹر طہ جابر بھی تھے۔ اس کے پہلے صدر معروف اسلامی مفکر ڈاکٹر اسماعیل راجی فاروقی (1921ء ۔ 1986ء) تھے۔ ان کی شہادت کے بعد اس ادارے کی سب سے نمایاں شخصیت ڈاکٹر طہ جابر ہی کی رہی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی (Muslim World League) کی مجلس تاسیسی کے بھی آپ رکن تھے۔اس کے علاوہ کئی دیگر اداروں سے آپ کی وابستگی رہی ہے۔ آپ کی اہلیہ ڈاکٹر منیٰ ابوالفضل کا انتقال 23 ستمبر 2008ء کو ہوا تھا جو خود بہت صاحبِ فضل خاتون اور انگریزی اور عربی میں کئی کتابوں کی مصنف تھیں۔ڈاکٹر طہ جابر نے مختلف علمی اور فکری موضوعات پر کتابیں بھی لکھیں جن میں سے نمایاں کتابیں حسب ذیل ہیں :

1۔ ادب الاختلاف فی الاسلام (اس کتاب کا اردو میں بھی ترجمہ "اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب " کے نام سے ہو چکا ہے۔)

2۔ تحقیق و تدوین المحصول فی علم اصول الفقہ (امام رازی)، 

3۔ الازمۃ الفکریۃ المعاصرۃ 

4۔ الامام فخر الدین الرازی ومصنفاتہ

5۔ الجمع بین القراء تین: قراء ۃ الوحی وقراء ۃ الکون 

6۔ الخصوصیۃ والعالمیۃ فی الفکر المعاصر 

7۔ الوحدۃ البنائیۃ للقرآن المجید 

8۔ لا اکراہ فی الدین: اشکالیۃ الردۃ والمرتدین من صدر الاسلام الی الیوم 

9۔ لسان القرآن ومستقبل الامۃ القطب 

10۔ مقاصد الشریعۃ 

11۔ مقدمۃ فی اسلامیۃ المعرفۃ

اس کے علاوہ عالمی ادارہ فکر اسلامی سے شائع ہونے والی کئی کتابوں پر آپ کے علمی مقدمات قابل مطالعہ ہیں۔

بعض فکری خدوخال

علم کی اسلامی تشکیل

 ڈاکٹر طہ جابر امت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے آرزو مند مفکرین میں سے تھے۔یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں علوم کے اسلامیانے کی تحریک سے ان کا ہمیشہ تعلق رہا اور عالمی ادارہ فکر اسلامی (IIIT) سے ان کی عربی اور انگریزی میں کئی کتابیں منصہ شہود پر آئیں۔

علم کی اسلامی تشکیل کا مسئلہ بیسویں صدی میں کثرت سے معرضِ بحث آنے والے موضوعات میں سے ہے تاکہ مغرب کے فکری اور سیاسی غلبے کے اس شدید جبر میں امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے جدید خطوط پر کام کیا جا سکے۔علم وتحقیق چوں کہ کسی بھی قوم کی مادی اور ذہنی اٹھان کا نشان ہوتے ہیں، اس لیے مسلم مفکرین نے اس بات پر شدت سے توجہ مبذول کی کہ مسلمانوں کو علمی اور فکری میدان میں تیار کیا جائے اور جدید علوم، جو مغرب کی گود میں تیار ہوئے ہیں اور وحی اساس نہیں ہیں، لیکن انسانیت کے قافلے کے حدی خواں بہرحال بن چکے ہیں، انھیں اسلام کے مابعد الطبیعی افکاراور نظامِ اخلاق کی اساسات پر استوار کیا جا سکے۔ یہ فکر اصل میں مسلم دنیا میں مغرب کے ساتھ تعامل میں مکمل سپردگی اور قبول کے اس تصور کے خلاف ایک نظرثانی کے رجحان (Rethinking Trend) کے طور پر سامنے آئی جس کے حاملین میں ہمارے ہاں سرسید احمد خان اور عرب دنیا میں محمد عبدہ جیسے لوگوں کو شمار کیا جاتا ہے۔ علم کی اسلامی تشکیل کے حامیوں نے یہ بنیادی تصور پیش کیا کہ علوم وافکار کسی تہذیب کے تصورِ کائنات سے جدا نہیں ہوا کرتے، اس لیے انھیں انسانیت کے لیے حقیقی معنوں میں کارآمد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے غیر صالح اجزا کی اصلاح کی جائے۔(۱) اس تصور میں علم کی ثنویت (عقلی اور نقلی کی تقسیم ) کی نفی بھی ملتی ہے۔

عالمی ادارہ فکر اسلامی نے عالم عربی کو اس مسئلے سے متعارف کروانے کے لیے ایک مجلہ اسلامیۃ المعرفۃ کے نام سے شائع کرنا شروع کیا۔اس مجلے کے پہلے شمارے میں ڈاکٹر طہ جابر اس کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’مجلہ اسلامیۃ المعرفۃ ایک دو گونہ اور نہایت بھاری اور مشکل ذمے داری سے عہدہ برآ ہونے کی کاوش ہے۔ وہ ذمے داری یہ ہے کہ مسلمانوں کی قرآنِ کریم سے دوری کی موجودہ صورتِ حال کو ختم کیا جائے اور ان میں اپنے منہجی اور علمی خصائص کے ساتھ شعوروآگہی پیدا کی جائے تاکہ انھیں پتہ چلے کہ قرآن کو کس طرح اپنے زمانی کی سطح پر پڑھا جائے اور اس کے ساتھ کائنات کے مطالعے کو جمع کیا جائے؛ تاکہ وہ اس کے وجود کو ختم کرنے والی ان کارروائیوں کے مقابلے میں اپنے تشخص کی حفاظت کر سکے جن کی زمامِ کار مغرب کے ہاتھ میں ہے اور وہ دنیا کو اپنے تصورِ حیات اور اقتدار کے مطابق ڈھالنے کے درپے ہے۔‘‘(۲)

اس سلسلے میں وہ علم وحی اور علم جدید سے برابر استفادے کے داعی تھے اور اپنی کئی تحریروں میں اس پر زور دیا ہے۔ تجددِ محض اور تجمد محض کی دو انتہاؤں پر گفت گو کرتے ہوئے علم کی اسلامی تشکیل (Islamization of Knowledge یا اسلامیۃ / اسلمۃ المعرفۃ) کی تحریک کے نشو وارتقا کے بارے میں لکھتے ہیں: 

’’ایک منہجی نقطہ نظر کی ضرورت کے تحت علم کی اسلامی تشکیل کا تصور سامنے آیا۔ یہ ایک فکری سرگرمی اور علمیاتی زاویہ نظر ہے جو انسانی اور طبعی دونوں طرح کے علوم کی تشکیلِ جدید کی کوشش ہے اور اپنے اہداف، نتائج اور تطبیق کے اعتبار سے اسلامی اصولوں پر استوار ہے۔ یہ تصور مطالعہ وحی اور مطالعہ کائنات کے درمیان حائل ہونے والی خلیج کو پاٹنے کی سعی ہے؛ کیوں کہ صرف وحی کی تعلیمات پر اکتفا کرلینا اور کائنات سے صرفِ نظر کر لینا پیش آمدہ صورتِ حال ، فطرت اور زندگی کے ادراک کے باب میں پسپائی کا سبب بنا ہے اور صرف تجربے اور مشاہدے پر انحصار دین و دنیا کی جدائی کے ان مظاہر کا سبب بنا جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔‘‘ (۳)

اپنی کتاب الازمۃ الفکریۃ المعاصرۃ (موجودہ فکری بحران) میں انھوں نے اسلام اور مغرب کی کشمکش کے مختلف مراحل اور ان کے مقابلے میں مسلم دنیا میں پیدا ہونے والے رویوں اور رجحانات کو جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ موجودہ چیلنج کے فیصلہ کن مرحلے کو واضح کرتے ہوئے وہ اس بات پر پر اعتماد ہیں کہ اسلام ہرزمان ومکاں میں راہ نمائی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تاہم عملی طور پر ہمارے لیے صرف دو ہی صورتیں ہیں:یا تو ہم امت کو اس بات پر اعتماد بخش سکیں کہ انسانیت کے لیے مغرب کے مقابلے میں ہم ہی مناسب متبادل ہیں اور صحیح اور درست ثقافت پیش کرسکتے ہیں یا پھر ہم پسپائی اختیار لیں۔ ہمارے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ مغرب نے زندگی کے کئی میدانوں میں جو غیر معمولی برتری کا لوہا منوایا ہے اور بعض میں وہ ناکام ہوا ہے، ہم فکر، کلچر، تہذیب اور علم کے میدانوں میں متبادل فراہم کریں۔(۴)

ڈاکٹر طہ جابر کے نزدیک علم کے اسلامیانے کا تصور کوئی اجنبی چیز نہیں ہے بلکہ قدما میں محاسبی، ابن عربی اور امام رازی وغیرہ کے ہاں اس کی بنیادیں ملتی ہیں۔(۵)

تدبرِقرآن کا منہج

قرآنِ کریم کے تعلق سے اس کتاب پر تدبر کا ان کا ایک خاص زاویہ نظر تھا۔وہ اس کتاب پر تدبر کے لیے موضوعی وحدت کے منہج کے داعی تھے جس کی بنیادی فکر اپنی کتاب الوحدۃ البنائیۃ فی القرآن میں پیش کی ہے۔ قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ قرآنی سورتوں کے اجزا کو منتشر اکائیوں کی شکل میں نہ دیکھا جائے بلکہ ہر سورت کا ایک مرکزی مضمون ہوتا ہے اور باقی اجزا اس کے ساتھ حکیمانہ طور پر مربوط ہوتے ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی نے" الفاروق "میں ایک اہم تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’تمدن کے زمانے میں جو علوم وفنون پیدا ہو جاتے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کا ہیولیٰ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ تمدن کے زمانے میں وہ ایک موزوں قالب اختیار کر لیتا ہے اور پھر ایک خاص نام یا لقب مشہور ہو جاتا ہے۔‘‘ ( ۶) اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے تو قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کی فکر کی بنیادیں ہمیں قدما کے ہاں ملتی ہیں، لیکن ایک مربوط فن کی حیثیت سے یہ طرز بیسویں صدی میں سامنے آیا ہے۔ اس طریقِ تفسیر کو سب سے مربوط اور جامع شکل میں مولانا حمید الدین فراہی نے پیش کیا اور اس کو نہ صرف عملاً برت کر دکھایا بلکہ اس کے لیے اصول بھی وضع کیے۔( ۷) عرب دنیا میں سید قطب اور شیخ سعید حویٰ کا طریق تدبر بھی اس نہج کا جز ہے اور اب مسلم دنیا بڑے پیمانے پر اس طرزِ تفسیر کی طرف متوجہ ہو چکی ہے۔ ایران میں خاص طور پر علامہ باقر الصدراور شیخ حسین الطباطبائی کے نام اس سلسلے میں لیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طہ جابر نے اس فکر کی بنیادیں قدما میں عبدالقاہر جرجانی اور ابو علی فارسی کے ہاں تلاش کی ہیں۔

قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کے داعی مفسرین یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ اس طریق تفسیر سے ایک ایک آیت کے کئی کئی احتمالات اور تفسیروں میں سے راجح ترین تفسیر کا انتخاب آسان ہوتا ہے اور یہ طرز آپس کے اختلافات کو دور کرنے کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔ اسی طرزِ تدبر کے باعث ڈاکٹر طہ جابر قرآنِ کریم کو "حمال ذو وجوہ" تسلیم کرنے میں متردد ہیں۔اس کو دوسرے الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ وہی بات ہے جسے مولانا فراہی قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے سے یاد کرتے ہیں۔( ۸) چند سال قبل ڈاکٹر طہ کے چھوٹے بھائی مصطفی جابر فیاض العلوانی کی ایک کتاب عالمیۃ الخطاب القرآنی، دراسۃ تحلیلیۃ فی السور المسبحات کے نام سے شائع ہوئی جس پر ڈاکٹر طہ جابر نے پیش لفظ تحریر کیا ہے۔(۹) اس میں ایک جگہ لکھا ہے:

’’روایت کی نسل نے علم ، فقہ کی نسل کے ہاتھ میں تھمایا اور فقہ و افتا کے حاصلات ظہور پذیر ہونے لگے جن کے ساتھ کچھ غلط افکار بھی در آئے، جیسے یہ اصول کہ "نصوص محدود ہیں جب کہ حوادث غیر متناہی ہیں" اور یہ اصول کہ " قرآن کئی وجوہ کی محتمل کتاب ہے۔‘‘ (۱۰)

قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کی دعوت کے ساتھ ڈاکٹر طہ جابر قرآنِ کریم کو علم جدید کے ساتھ مربوط کر کے دیکھنے کے داعی ہیں۔ اپنی کتاب الجمع بین القراء تین: قراء ۃ الوحی وقراء ۃ الکون (۱۱ )میں انھوں نے یہی تصور پیش کیا ہے۔ڈاکٹر طہ جابر نے "فقہ الاقلیات"(جس کا ذکر آگے آتا ہے) کے اصولوں میں بھی اس اصل کو بنیادی حیثیت دی ہے۔ 

قرآنِ کریم کے بارے میں یہ معروف اصول ہے کہ القرآن یفسر بعضہ بعضًا، یعنی قرآن خو د اپنی تفسیر آپ کرتا ہے، تاہم اس اصول کو برتنے کے مختلف پہلوؤں کی طرف جدید دور میں زیادہ توجہ مبذول ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم کی زبان کے اسالیب اور اس کے بلاغی خصائص کے لیے بھی ڈاکٹر طہ جابر کے نزدیک خودقرآن ہی کی زبان کو حاکم بنانا ضروری ہے نہ کہ اس کے باہر طے کیے گئے لسانی اصولوں کو؛ اس اصول کو نظر انداز کرنے کی عملی خرابی یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی بعض آیات کی نحوی تالیف کے بارے میں قدیم دور سے لے کر آج تک مستشرقین کو اعتراضات کا موقع ملا ہے۔( ۱۲) ڈاکٹر طہ جابر سے پہلے یہی بات امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے بھی لکھی ہے۔ ( ۱۳)

اختلاف و افتراق

امت کا سب سے بڑا مسئلہ: امت مسلمہ کے جن مسائل پر ڈاکٹر طہ جابر فکر مند تھے، ان میں سے باہمی اختلاف و انتشار کا مسئلہ ان کے نزدیک بڑے مسائل میں تھا۔ اسلام میں اختلاف کی حدود و آداب اور اس کے تعامل پر ایک عمدہ کتاب ادب الاختلاف فی الاسلام تحریر کی۔ اس کے مقدمے میں لکھتے ہیں: 

’’امت مسلمہ کو جو سب سے خطرناک مرض لاحق ہوا ہے، وہ اختلاف اور مخالفت ہے۔یہ وہ شدید اور متعدی مرض ہے جو ہر میدان، علاقے اور سماج پر سایہ فگن ہے اور اس نے سوچ، عقیدے، تصورات، آرا، ذوق، چلن، طرزِ عمل، اخلاق، طرزِ زندگی، طریق تعامل، طرزِ گفت گو، تمناؤں اور قریب ودورکے مقاصد کو اپنے مکروہ دائرے کی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہاں تک کہ اس نے اپنی سیاہ ڈائن کو دلوں کی دنیا پر محیط کر دیا ہے جس کے نتیجے میں فضا، اوہام کے بادلوں سے ابر آلود کر بنجر دلوں کی سرزمین پر مصروفِ بارش ہے جس نے باہم برسر پیکار اور جوتم پیزار میں مشغول لوگوں کو وجود بخشا ہے ؛ گویا اس امت کے پاس جتنے بھی اوامر ونواہی اور تعلیمات ہیں، بس اختلاف ہی کو ہوا دیتے ہیں اور باہمی لڑائی اور جھگڑے ہی کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘ (۱۴)

کتاب میں اختلاف کی حقیقت، اس کی اقسام ، مسلم تاریخ میں واقع ہونے والے عہد بہ عہد اختلافات ، ائمہ فقہا کے اختلافات اور ان کی نوعیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد قرونِ خیر کے بعد کے اختلافات کی حقیقت پر گفت گو کی ہے کہ کس طرح یہ اختلاف محمود سے مذموم کے دائرے میں داخل ہوتے چلے گئے اور پھر وہ صورتِ حال سامنے آئی جس کا سامنا اس وقت ہم سب کو ہے۔ موجودہ اختلافات و انتشار کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آج مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے سب سے اہم اور نمایاں اسباب اسلام سے ناواقفیت یا اس کا ناقص علم ہے۔( ۱۵) اس کی بنیادی وجہ ظاہر ہے علم دین کی ناقدری ہے۔ اس صورتِ حال پر ان کا تبصرہ حقیقت پسندانہ ہے اور آج اگر ہم دینی مدارس کے فضلا کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بات بالکل بجا محسوس ہوتا ہے؛ لکھا ہے: 

’’اکثر اسلامی ممالک میں دینی تعلیم کے طالب علم کم ہو گئے اور اس کا معیار پست ہو گیا اور اس طرف رخ کرنے والوں میں سے اکثر کی صورتِ حال اس شخص کی سی ہو گئی جو زمین میں کاشت کاری کرے لیکن اسے اس کا پھل پانے کی امید نہ ہو۔اس تعلیم کی طرف خاص حالات ہی انھیں متوجہ کرتے ہیں اور فراغت کے بعد بھی انھیں ان حالات کے جبر سے رست گاری نہیں مل پاتی؛ چناں چہ ان کے دروازے بند ہوتے ہیں اور وہ معاشرے میں ایک عالم کو جو کردار ادا کرنا چاہیے، وہ اسے ادا کرنے اور اس سے مربوط پیغام کے ابلاغ سے قاصر ہوتے ہیں ۔ان بند دروازوں کے سامنے ان کی استقامت جواب دے جاتی ہے ، شخصیت ماند پڑ جاتی ہے اور ناچار وہ سرکاری طور پر قائم شدہ اداروں کے نظام میں بندھ جاتے ہیں جو خاص سرکاری اہداف کو پورا کرنے کے لیے بنائے گئے ہوتے ہیں اور وہ ان سے تجاوز نہیں کر سکتے، چنانچہ ان کے اور سماجی کردار کی ادائیگی میں رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور لوگوں کا ان پر اعتماد بھی باقی نہیں رہتا۔‘‘ ( ۱۶)

اس کتاب میں ڈاکٹر طہ جابر چوتھی صدی کے بعد مسلم امت میں اجتہاد کا دروزہ بند ہونے کا درد کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور امت مسلمہ کے موجودہ دور تک پہنچنے میں اس عنصر کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چوتھی صدی ہجری سے اجتہاد ختم ہوگیا اور اس کا آفتاب غروب ہوگیا اور تقلید عام ہو گئی۔ ( ۱۷)اس کے بعد اس کے نتائج اور عواقب پر تفصیل سے گفت گو کی ہے۔ ان کی دیگر تحریروں میں بھی اس بات کا تکرار ملتا ہے۔

یہ بات اس وقت عام طور پر جدید دانش ور طبقے کے ہاں معروف ہے کہ چوتھی صدی کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔ اس سے پیدا ہونے والی مایوسی کے آثار اس طرح کے مفکرین کی تحریروں میں بہ کثرت ملتے ہیں اور ڈاکٹر طہ جابر کی تحریروں میں بھی یہی عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مسلم دنیا کے سنجیدہ اہلِ علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس بات کا سب سے زیادہ پروپیگنڈا اہل مغرب نے کیا تاکہ اسلامی قانون کو ایک جامد چیز ثابت کیا جائے جو ہرزمان و مکاں میں رہ نمائی کی صلاحیت سے عاری ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے معروف خطبات میں کہا تھا : The closing of the door of Ijhtihad is pure fiction. یعنی بابِ اجتہاد بند ہونے کی بات نرا افسانہ ہے۔ معروف اقبال شناس جناب سہیل عمر نے اقبال کے اس نکتے پر اپنی مختصر کتاب "زنجیر پڑی دروازے میں" میں عمدہ گفت گو کی ہے اور امت میں اجتہاد کے عمل کے جاری رہنے کو عمدگی سے واضح کیا ہے۔ ( ۱۸) اس کے علاوہ اس افسانے کی تردید میں بعض غیر مسلم اہل علم نے بھی قلم اٹھایا ہے۔ فقہ اسلامی کی تاریخ کے نام ور عیسائی مصنف Wael B. Hallaq کا ایک تفصیلی مضمون اس سلسلے میں قابلِ مطالعہ ہے۔ ( ۱۹) مولانا ابوالحسن علی ندوی نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" پر تنقید کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا تھا کہ:

’’ان عبارتوں کا پڑھنے والا جس کا مطالعہ وسیع اور گہرا نہیں ہے اور جو اس حقیقت سے واقف نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عام گمراہی اور دین سے ایسی ناشناسائی سے محفوظ رکھا ہے جو زمان و مکاں کی حدود سے بے نیاز ہو کر ساری امت پر سایہ فگن ہو، یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقت اس طویل مدت تک امت کی (یا زیادہ محتاط الفاظ میں امت کے اکثر افراد کی ) نگاہوں سے اوجھل رہی اور امت بحیثیت مجموعی ان بنیادی الفاظ کی حقیقت ہی سے بے خبر رہی۔ ۔۔۔یہ نتیجہ اگرچہ بادی النظر میں کچھ زیادہ اہم اور سنگین نہ معلوم ہو، لیکن اس کے اثرات ذہن ودماغ اور طرزِ فکر پر بڑے گہریا ور دوررس ہیں، اس لیے کہ یہ اس امت کی صلاحیت ہی میں شک و شبہ پیدا کر دیتا ہے۔ ۔۔۔ اور اس سے اس امت کی گذشتہ تاریخ ، اس کے مجددین، مصلحین اور مجتہدین کے علمی وعملی کارنامے بھی مشکوک اور کم قیمت ہو جاتے ہیں۔‘‘ ( ۲۰)

بعض فقہی مسائل میں اجتہادی زاویہ نظر

سزاے مرتد کا مسئلہ

عصر حاضر میں جو مسائل کثرت سے زیر بحث آئے ہیں، ان میں اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کو اختیار کرنے (ارتداد) کی سزا کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے روایتی فقہی موقف میں اس کی سزا، جیسا کہ معروف ہے، قتل ہے۔( ۲۱) ڈاکٹر طہ جابر فیاض کی فقہی موضوعات پر لکھی تحریروں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض مسائل میں جمہور کی رائے سے ہٹ کر آرا کے حامل ہیں۔ دورِ حاضر کے معروف مصنفین میں حسن الترابی کا نقطہ نظر بھی ہے جو اسی دن فوت ہوئے جس دن ڈاکٹر طہ جابر کا انتقال ہوا۔ مثال کے طور پر مرتد کی سزا کے مسئلے میں ان کا موقف عام نقطہ نظر کے برعکس ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرتد کی سزا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی احادیث سے ثابت نہیں ہے اور آپ کے زمانے میں اس قتل کا عملی واقعہ کوئی بھی نہیں ملتا۔ وہ اس سلسلے میں کسی اجماع کا انکار کرتے ہیں۔( ۲۲) ڈاکٹر طہ جابر کی اس کتاب کے مشمولات پر مختلف پہلوؤں سے نقدو نظر ممکن ہے، چنانچہ اس کتاب پر ایک ضمیمہ شیخ عبداللہ ابن شیخ المحفوظ بن بیہ کا ہے جس میں انھوں نے بعض باتوں سے اختلاف کیا ہے۔ڈاکٹر طہ جابر کی فکر میں اس طرح کے مسائل کی وجہ سے وہ عرب اہل علم کے ہاں نقدونظر کا موضوع رہے ہیں۔

فقہ الاقلیات

ڈاکٹر طہ جابر کے فکری امتیازات میں "فقہ الاقلیات" کا جامع اور مربوط تصور بھی ہے۔ دورِ جدید کی تمدنی ضروریات کے تحت کئی مسلمان ہجرت کر کے غیر مسلم ممالک میں جا بسے ہیں اور انھیں وہاں رہتے ہوئے کئی نسلیں گزر گئی ہیں۔ یہ مسلمان وہاں کی غالب اکثریت کے مقابلے میں اقلیت میں ہیں۔وہاں کے سیاسی اور تمدنی مسائل میں مساوات ان اقلیتوں کا ایک بنیادی مطالبہ ہے۔اس کے ساتھ عالم گیریت کے تقاضوں کے نتیجے میں اب بہت سے مسائل ہمیں اپنے دیار میں رہ کر درپیش ہیں۔ اسلامی طرزِ زندگی، اس کی مابعدالطبیعی اساسات اور نظامِ اخلاق کے پیش نظر غیر مسلم معاشروں میں ان مسلمانوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مسلم سماج میں رہ کر پیش نہیں آتے۔ اس لیے ان کے لیے ایک جامع نظامِ فکر کی تدوین کو ڈاکٹر طہ جابر جیسے مفکرین نے ضروری قرار دیا۔ اس متنوع الابعاد نظام کو دیکھتے ہوئے ظاہر ہے کہ "فقہ الاقلیات" میں "فقہ" سے مراد صرف اسلامی قانون کے مسائل نہیں ہیں، بلکہ اس کی حیثیت "فقہ اکبر " کی ہے جو عقائد، نظم زندگی اور دیگر امور کی تعبیر نو اور تشکیل جدید سے تعلق رکھتی ہے۔ ( ۲۳) اس اعتبار سے ڈاکٹر طہ جابر فقہ اسلامی کی تجدید کے داعی مفکرین میں سے تھے جن کے پیش نظر اصل چیز "فقہ الواقع" تھی۔ 

اصولِ فقہ کے میدان میں خدمات

اصولِ فقہ آپ کا خاص میدان تھا اور پی ایچ ڈی اسی میدان میں کی۔پی ایچ ڈی میں آپ کی تحقیق کا موضوع امام فخر الدین رازی کی اصولِ فقہ پر کتاب ’’المحصول فی علم اصول الفقہ‘‘ کی تحقیق و تدوین تھی جسے جامعۃ الامام محمد بن سعود (ریاض) نے شائع کیا۔ آج ڈاکٹر طہ جابر کا چھے جلدوں میں تحقیق شدہ نسخہ عرب دنیا میں سب سے معتبر سمجھا جاتا ہے۔اس کتاب کا ایک مبسوط مقدمہ انھوں نے قلم بند کیا تھا لیکن جامعہ میں اس کی اشاعت سے اس لیے انکار کر دیا گیا کہ اس میں مصنف نے امام رازی کو امام ابن تیمیہ پر فضیلت دی ہے جو کہ اس کے اشعری ہونے کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ محسن ترکی نے اس معاملے کو ہاتھ میں لیا اور یہ حصہ کہیں اور طبع کرنے کی تجویز دی جو اب مستقل کتاب کی شکل میں دارالسلام قاہرہ سے شائع ہوتا ہے۔ ( ۲۴) 

اصولِ فقہ سے گہری وابستگی کے باعث ڈاکٹر طہ جابر کی تحریروں میں بعض بڑے عمدہ نکات ملتے ہیں جو مستقل تحقیق کا موضوع بن سکتے ہیں۔ آپ کے ایک بھائی جابر فیاض العلوانی کی اس سے پہلے وفات(5 مارچ 1987ء) ہو چکی ہے۔ ان کی کتاب "الامثال فی القرآن الکریم" پر ڈاکٹر طہ جابر کا پیش لفظ ہے۔ اس میں انھوں نے قرآنی امثال کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ امثال احکام شرعیہ کا ایک مصدر ہیں۔ان امثال میں حسن و قبح کا پہلو بھی ملتا ہے جس سے حلت ، حرمت اور کراہت کے فقہی موضوعات کو مربوط کر کے دیکھنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے امام شافعی نے امثالِ قرآنی کی معرفت کو مجتہد کے لیے لازم قراردیا ہے۔ان امثال کا دوسرا پہلو "قیاسِ اصولی" کا ہے جس پر سائنس کے تجربی منہج کی اٹھان ہوئی ہے، اس لیے امثالِ قرآنی کے ان پہلوؤں پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔ ( ۲۵)

حواشی

۱۔ انیسویں صدی میں یہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے بارے میں قدر آزاد (Valure free)نظریے کا عمومی چلن تھا، لیکن بیسویں صدی میں اس نقطہ نظر میں تبدیلی آئی اور جدید سرمایہ دارانہ علمیت کے ناقدین نے یہ قرار دیا کہ یہ چیزیں کسی طرح بھی قدر آزاد نہیں ہیں۔اگرچہ یہ نظریہ اب تقریباً مکمل طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے، تاہم مسلم دنیا کے بعض مفکرین ابھی بھی مغربی ٹیکنالوجی کے ایک حصے کے بارے میں رائے رکھتے ہیں کہ اسے بلاجھجک قبول کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے؛ چنانچہ نام ور مصنف اور مفکر سید حسین نصر کہتے ہیں :

I am the last person in the world to think that Islamic civilization can choose a part of Western technology which is considered good, claim it is completely harmless, and then reject another part.

(میں اسلامی دنیا کا شاید واحد فرد ہوں جو یہ رئاے رکھتا ہے کہ اسلامی تہذیب مغربی ٹیکنالوجی کے ایک حصے کواپنا سکتی ہے جو کہ اچھا ہے اور اس کے بارے میں یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ وہ مکمل طور پر بے ضرر ہے، جب کہ دوسرے حصے کو مسترد کر دے۔)

(Seyyed Hossein Nasr in Conversation with Muzaffar Iqbal, Islam, Science, Muslims and Technology (Islamabad: Dost Publications, 2007), 57.) 

۲۔ طہ جابر العلوانی، لما ذا اسلامیۃ المعرفۃ؟ در اسلامیۃ المعرفۃ، العدد الاول،ص 29۔

۳۔ طہ جابر العلوانی، مقدمۃ فی اسلامیۃ المعرفۃ (بیروت: دار الہادی للطباعۃ والنشر، 2001ء)،ص 186۔ 

۴۔ طہ جابر العلوانی، الازمۃ الفکریۃ المعاصرۃ (ورجینا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، 1994ء)، 24۔ 

۵۔ نفس مصدر۔

۶۔ شبلی نعمانی،الفاروق (کراچی: دارلاشاعت، 1991ء )، ص 22۔

۷۔ مولانا فراہی نے قرآن میں موضوعی وحدت کو نظم یا نظام کا نام دیا ، اس کے لیے ان کے اصول ان کی کتابوں دلائل النظام، التکمیل فی اصول التاویل اور ان کی ناتمام تفسیر نظام القرآن وتفسیر الفرقان بالفرقان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے انھی اصولوں کو بڑھاتے ہوئے اردو میں اپنی معروف تفسیر تدبرِ قرآن تحریر کی۔ 

۸۔ حمید الدین فراہی،مقدمہ تفسیر نظام القران،ترجمہ: امین احسن اصلاحی(اعظم گڑھ: دائرۂ حمیدیہ، س۔ن)، ص 45۔

۹۔ مصطفی جابر فیاض العلوانی، عالمیۃ الخطاب القرآنی، دراسۃ تحلیلیۃ فی السور المسبحات،پیش لفظ ا۔د۔ طہ جابر العلوانی (ورجینا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، 2012ء)، 14۔ 

۱۰۔ یہاں یہ بات پیشِ نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر طہ جابر نص قرآنی کے "ثابت" اور "متغیر" معانی میں فرق کرتے ہیں اور دوسری نوع کے پہلو سے قرآنِ کریم کی "قراء تِ مفاہیمہ" کی ایک معجم تیار کرنے کے عمل کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی اس فکر میں مطالعہ نص میں جدید Semantics کے اصولوں کا لمس کارفرما نظر آتا ہے اور جس کی بنیادیں اسلامی تراث میں علامہ شاطبی جیسوں کے ہاں ملتی ہیں۔ 

۱۱۔ اس کتاب کے نام سے ہمارے یہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب "دو قرآن" کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔ برق لکھتے ہیں :"دو قرآن میں جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے، بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک نہیں، دو ہیں۔ایک وہ جو کتاب کی شکل میں ہر مسلمان کے گھر میں موجود اور ہر حافظ کے سینے میں محفوظ ہے اور دوسرا وہ کائناتِ ارض و سما کی شکل میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔۔۔ ایک قرآن میں لکھی ہوئی آیتیں ہیں اور دوسرے میں عمل وحرکت کرتی ہوئی آیتیں؛ ایک قرآن اصول و قوانین کا ضابطہ ہے اور دوسرا اس کی عملی تشریح۔"(غلام جیلانی برق، دو قرآن(لاہور: الفیصل)، ص 10۔ 

۱۲۔ اس سلسلے میں پانچ آیات ایسی ہیں جن کو قدیم دور میں بھی موردِ طعن بنایا گیا جن کا جواب دینے کے لیے امام رازی نے بھی تعرض کیا۔البقرۃ177، النساء 162، المائدۃ69، ط?6، المنافقون10۔ 

۱۳۔ شاہ ولی اللہ دہلوی، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، تعریب: مولانا انور بدخشانی (کراچی: بیت العلم، 2006ء)، ص 101۔ 

۱۴۔ طہ جابر العلوانی، ادب الاختلاف فی الاسلام (ورجینیا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، 1992ء )، 8۔

۱۵۔ ادب الاختلاف فی الاسلام، 150۔

۱۶۔ نفس مصدر، 151۔ 152۔

۱۷۔ نفس مصدر، 135۔

۱۸۔ دیکھیے: سہیل عمر، زنجیر پڑی دروازے میں(لاہور: اقبال اکادمی، 2010ء4 )۔

19 - Wael B. Hallaq, "Was the Gate of Ijtihad Closed?" in International Journal of Middle East Studies (March 1984), pp. 3- 41.

انٹرنیٹ پر یہ مقالہ دست یاب ہے۔ 

۲۰۔ ابوالحسن علی ندوی، عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح(کراچی: مجلس نشریاتِ اسلام)، ص 34۔ 

۲۱۔ اردو میں اس نقطہ نظر کے ایک جامع مطالعے اور دلائل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، مرتد کی سزا (لاہور:اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ)۔

۲۲۔ دیکھیے: طہ جابر العلوانی، لا اکراہ فی الدین: اشکالیۃ الردۃ والمرتدین من صدر الاسلام الی الیوم (ورجینیا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، قاہرۃ: مکتبۃ الشروق الدولیۃ، 2006ء )۔ 

۳۳۔ فقہ الاقلیات پر ڈاکٹر طہ جابر نے فی فقہ الاقلیات نامی مختصر کتاب تحریر کی ہے۔ 

۳۴۔ دیکھیے: طہ جابر العلوانی، فخر الدین الرازی ومصنفاتہ (قاہرہ: دارالسلام، 2010ء )، ص 6۔

۳۵۔ دیکھیے: محمد جابر الفیاض، الامثال فی القرآن الکریم، پیش لفظ، طہ جابر العلوانی (ریاض: الدار العالمیۃ للکتاب الاسلامی، 1995ء)، ص 13۔ 14۔

اخبار و آثار