ڈاکٹر حسن ترابی رخصت ہوئے

خورشید احمد ندیم

ڈاکٹر حسن ترابی دنیا سے رخصت ہوئے۔یہ حسن ترابی کون تھے؟

2001ء میں امریکہ سے ایک کتاب شائع ہوئی: 'معاصر اسلام کے صورت گر‘ (Makers of Contemporary Islam)۔ اس کتاب میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جن کی تفہیم دین نے دورِ حاضرکی مسلم فکر کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور جنہوں نے عصری اسلوب میں اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حسن ترابی ان ہی میں سے ایک تھے۔ دورِ حاضرمیں مو لانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سید قطب جیسے اہل فکر کے زیراثر جو اسلامی تحریکیں برپا ہوئیں، انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔چونکہ ان شخصیات نے برصغیر اور مشرقِ وسطیٰ میں جنم لیا، اس لیے،ان تحریکوں کے سب سے زیادہ اثرات بھی یہیں محسوس کیے گئے۔یہ تحریکیں اگر چہ اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے برپا ہوئیں، لیکن ابتدائی عہد میں ان کا پیغام ہمہ جہتی تھا۔اسلام کا فکری وعلمی احیا بھی ان کے مقاصد میں شامل تھا۔ مو لانا مودودی کے الفاظ میں ’تجدید و احیائے دین‘۔

ڈاکٹر حسن ترابی سوڈان کے وہ صاحبِ علم تھے جو اس فکر سے متاثر ہوئے۔وہ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ لندن اور فرانس کے جدید تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔پی ایچ ڈی فرانس سے کیا۔ فرنچ، جرمن، انگریزی کے ماہر تھے۔عربی تو ان کی اپنی زبان تھی۔قانون ان کا شعبہ تھا۔اسلامی قانون اور فقہ کی روایت پر گہری نظر رکھتے تھے۔ سوڈان کی سیاست میں بہت متحرک رہے۔نمیری کی حکومت میں اٹارنی جنرل تھے۔عمر البشیر کے عہد اقتدار میں اسمبلی کے سپیکر رہے اور وزیر خارجہ بھی۔سوڈان کے آئین کی اسلامی تشکیل ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔اس کی ابتدا میں پاکستان کے آئین کی بنیاد ،قراردادِ مقاصد کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔

وہ سوڈان کے واحد رہنما تھے جنہوں نے اس مطالبے کی حمایت کی کہ جنوبی سوڈان میں مبینہ جنگی جرائم کے جرم میں، عمر البشیرکو انصاف کی بین الاقوامی عدالت کے سامنے پیش ہو نا چاہیے۔فوجی آمرعمرالبشیرنے اقتدار پر قبضہ کیاتو اسے انقلاب کہا گیا جس کے فکری قائد حسن ترابی تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ اسی اقتدار کے ہاتھوں جیل بھیج دیے گئے اور اذیتیں اٹھائیں۔اس قلب ماہیت پر ان کا تبصرہ بڑا بلیغ تھا: ’’ یہ تو سن رکھا تھا کہ انقلاب اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے۔یہ پہلی دفعہ دیکھا کہ ا نقلاب اپنے باپ کو کھا گیا۔‘‘ تاہم بعد میں تعلقات کچھ بہتر ہوئے۔انہوں نے عمر البشیر کے انتخاب کو دھاندلی زدہ قرارد یا، لیکن سیاسی تسلسل کے لیے نتائج کو تسلیم کیا۔سنیچر کی صبح انہیں دل کا دورہ پڑا اور شام ان کا انتقال ہوگیا۔عمر البشیرعیادت کے لیے دو دفعہ ہسپتال گئے۔

اسلامی تحریکیں، وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی تبدیلی کے لیے یک سو ہو گئیں۔یوں وہ روایتی سیاسی جماعتوں میں تبدیل ہوگئیں۔ تجدید دین اب ایک قصہ پارینہ تھا۔تاہم ان تحریکوں کی ابتدائی نسل میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اس سبق کو فراموش نہیں کیا، جیسے یوسف القرضاوی، محمد الغزالی،راشد الغنوشی،خرم مراداورمحمد قطب۔ ان میں حسن ترابی بھی تھے۔ اب میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے سیاسی جدو جہد سے علیحدگی اختیار کر لی اور خود کو علمی کام کے لیے خاص کر لیا، جیسے مصر کے محمد الغزالی۔کچھ وہ تھے جنہوں نے سیاسی میدان میں متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ،تجدید و احیائے دین کی اہمیت کو بھی سمجھا اورعلمی میدان میں بھی بروئے کار آئے، جیسے تونس کے راشد الغنوشی اور سوڈان کے حسن الترابی۔

ڈاکٹر حسن ترابی ان افرادمیں نمایاں تر ہیں۔ان کے اجتہادات تو ایسے تھے کہ اسلامی تحریکیں ان کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ ترابی اگرچہ بنیادی طور پر اْسی فکر کے علم بردار تھے جسے اس دور میں ’سیاسی اسلام‘ سے تعبیر کیا جاتاہے مگر اس میں وہ روحِ عصر کو نظر انداز کر نے کے قائل نہیں تھے۔سید قطب کے ہاں تو جومسلمان حکمران اسلام کی سیاسی حکمرانی نہیں مانتے، وہ ’ طاغوت‘ ہیں اور ان کے خلاف اْٹھنا لازم ہے۔حسن ترابی اس کے قائل نہیں تھے۔وہ موجود نظام کو قبول کرتے ہوئے، اس میں راستہ بنانے کو درست سمجھتے تھے۔اگر چہ انہوں نے سوڈان میں اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور اس نقطہ نظر کے لوگوں کو مدعو بھی کیا لیکن وہ خود جمہوری جدو جہد کو درست سمجھتے تھے۔

خواتین کے بارے میں ان کے خیالات غیر معمولی ندرت لیے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی و سماجی معاملات میں ایک متحرک کردار ادا کر نا چاہیے۔اس مو ضوع پر انہوں نے ایک کتاب لکھی اور بہت سے مضامین بھی۔ وہ خواتین کے پردے کے لیے حجاب کی اصطلاح کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک حجاب گھروں میں لٹکائے جانے والے پردے کو کہتے ہیں۔اس کے لیے درست لفظ' خمار‘ ہے۔یہ ایک باوقار اور مہذب لباس ہے جو مسلم خاتون کو پہننا چاہیے۔ حسن ترابی غیر مسلم مرد کے ساتھ مسلمان عورت کے نکاح کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں کہیں اس کی ممانعت نہیں آئی۔وہ خواتین کی آدھی گواہی کے تصور کو بھی دین کی درست تفہیم نہیں سمجھتے تھے۔ان کی دلیل یہ تھی کہ قرآن مجید میں قرض کی دستاویز کے حوالے سے اس کا ذکر ہواہے، گواہی کے عمومی قانون کمے حوالے سے نہیں۔ یہ عدالت کی صواب دید ہے کہ وہ کس کی گواہی قبول کرتی ہے اور کس کی رد۔اس کا تعلق صنف سے نہیں، گواہی کے معتبر ہونے سے ہے۔ایک مرد کی گواہی رد ا ور عورت کی قبول کی جا سکتی ہے۔وہ مردوں کے لیے خواتین کی امامت کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ 

حسن ترابی سید نامسیح علیہ السلام کے نزولِ ثانی کے بھی قائل نہیں تھے۔وہ اس کے لیے قرآن مجید سے استدلال کرتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ قرآن مجید میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بارے میں سیدنا مسیح کی پیش گوئی کا ذکر ہے۔قرآن نے سیدنا مسیح کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’میرے بعد ایک رسول آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ ’’میرے بعد’’ سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح سے پہلے نہیں، بعد میں تشریف لائیں گے۔ اسی طرح قرآن مجید سیدنا محمد کو آ خری نبی کہتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید سے ان کی آ مد ثانی کا عقیدہ ثابت نہیں۔ جب ان سے بعض روایات کا ذکر کیا گیا جن میں سیدنا مسیح کی دوبارہ آمد کا ذکر ہے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’’حدیث قرآن کی ناسخ نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ مرتد کے لیے موت کی سزا کے بھی قائل نہیں تھے۔

ڈاکٹر حسن ترابی کے ان نظریات کا ذکر ان کے ایک انٹرویو میں یک جا ہے جو 'الشرق الاوسط‘ میں 24 اپریل 2006ء کو شائع ہوا۔یہ انٹرویو اخبار کی ویب سائٹ پر محفوظ ہے۔اس کالم میں ان نظریات کی تصدیق یا تردید مقصود ومطلوب نہیں، صرف یہ واضح کر نا ہے کہ مرحوم کے ہاں غور وفکر کا عمل کس نہج پر آگے بڑھ رہا تھا۔اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اسلامی تحریکوں کے عمومی رویے کے برخلاف،وہ سیاسی جدو جہد کے ساتھ فکری ارتقا کے عمل سے بھی گزر رہے تھے جس کے بغیرتجدید و احیائے دین کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر صاحب اس پر بھی پوری طرح واضح تھے کہ قدیم فقہی ذخیرہ دورِ جدید میں مسلم سماج کے کام نہیں آ سکتا۔ہمیں قرآن وسنت پر براہ راست غور کرتے ہوئے،ان کی نئی تعبیر کر نی ہے۔وہ معاشرتی روایات کو دین کے الہامی ماخذ سے جدا کر کے دیکھتے تھے۔

آج حسن ترابی اس دنیا میں نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ معاصر اسلام کے صورت گروں میں بہت نمایاں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول کرے اور ان کی فروگزاشتوں کو معاف کرے۔ آمین۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

اخبار و آثار

(اپریل ۲۰۱۶ء)

Flag Counter