عذابِ قبر اور قرآنِ کریم (۱)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنی چاہئے کہ اسلام نے جتنا زور بعث بعدالموت اور آخرت کی زندگی پر دیا ہے، اتنی شدومد سے قبر کے احوال کو بیان نہیں کیا۔ قرآنِ مجید نے عموماً ’الیوم الآخر‘ (روزِ قیامت) کا ذکر کیا ہے ، اسی پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے، اسی سے ڈرنے اور اس کی فکر کرنے کی تلقین کی ہے، اسی کے احوال کو پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اور ایمان کی تعریف میں رب، رسول، ملائکہ اور کتبِ الہیہ کے ساتھ ساتھ صرف ’الیوم الآخر‘ اور بعث بعد الموت کا ذکر کیا گیاہے۔ حتی کہ روایت ہے کہ’جب ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہودی عذابِ قبر کا ذکر کرتے ہیں، کیا یہ بات درست ہے کہ قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔‘ ( مسند احمد، حدیث ۲۴۵۲۰) حافظ ابنِ حجر نے اس حدیث کی سند کو بخاری کے معیار کی سند قرار دیا ہے۔ (فتح الباری ۳/ ۳۰۲) یوں تو حضرت عائشہ کا اس بابت استفسار کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قبر کی جزاؤ سزا کا قرآن اور وحیِ الہی نے اتنا ذکر نہیں کیا کہ ہر خاص وعام کے علم میں یہ بات ہوتی، ورنہ حضرت عائشہؓ جیسی عالم اورفقیہہ تو کم ازکم اس سے ہرگز لاعلم نہ ہوتیں۔ لیکن یہاں تو اس سے بھی دوقدم آگے بڑھ کر یہ نظر آتا ہے کہ خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں بھی پہلے یہ بات نہ تھی۔ تاہم جب بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات آگئی توآپ نے ایک اور موقع پر اس کی وضاحت بھی فرمادی۔ (مسند احمد حوالہ مذکور، صحیح البخاری، حدیث۱۳۷۲) حافظ ابنِ حجر اور ابنِ کثیر نے قرائن سے اندازہ لگایا ہے کہ مدنی دورکے بھی آخر میں آپ کو عذابِ قبر کا علم ہوا، اس سے پہلے آپ کو اس کا علم نہیں تھا۔ تاہم ابنِ حجر نے خیال ظاہر کیاہے کہ یہ لاعلمی صرف مؤمنین کے عذابِ قبر کے حوالہ سے ہوگی، ورنہ کفار کے لیے برزخی عذاب کا ذکر مکہ میں نازل ہونے والی دو آیات میں ہی ملتا ہے۔ (فتح البار ی حوالہ مذکور) 

راقم کی نظر میں یہ خیال بظاہر درست نہیں کیونکہ اگر کفار کے لیے عذابِ قبر کا آپ کو پہلے سے علم ہوتا تو حضرت عائشہؓ کے جواب میں آپ اس کی وضاحت فرماتے اور عذابِ قبر کا مطلقًا انکار نہ کرتے۔ باقی رہیں وہ دو آیات جن کے بارہ میں اشکال کیا گیا ہے کہ وہ مکہ میں نازل ہوئیں اور ان میں برزخی جزاؤ سزا کا ذکر ہے تو وہ دو آیات یہ ہیں: (۱)المومن: ۴۶(۲) ابراہیم: ۲۷ ۔ ان میں سے پہلی آیت کے اندر آلِ فرعون کو صبح وشام جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ دوسری آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی دنیا وآخرت میں اپنے مومن بندوں کو کلمہ توحید کے ساتھ ثابت قدمی عطا فرمائے گا(اور پھسلنے سے ان کی حفاظت فرمائے گا) جبکہ کافروں کو بھٹکا دے گا۔ پہلی آیت سے بظاہر صرف آلِ فرعون کے بارہ میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ قیامت سے پہلے ہی ایک اذیت ناک عذاب میں مبتلا ہیں، کافروں کے لیے عذابِ قبر کا مطلق اثبات اس سے نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا علم تو رہا ہو، مگر مطلق عذابِ قبر کا نہیں۔دوسری آیت میں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، برزخ کے جزاؤ سزا کا کوئی صریح بلکہ مبہم اشارہ بھی نہیں ہے جو عقل کی مدد سے معلوم ہوسکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابنِ کثیر نے مذکورہ اشکال صرف اول الذکر آیت کی بنیاد پر اٹھایا ہے اور دوسری آیت کا حوالہ اس ضمن میں دیا ہی نہیں کہ اس سے بھی عذابِ قبر کا اثبات ہوتا ہے۔(تفسیر ابنِ کثیر، المومن:۴۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احوال قبر اور منکر ونکیر کے سوال وجواب کا ذکر فرمانے کے بعد بعض احادیث میں جس طرح یہ آیت تلاوت فرمائی، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ اس کو حیاتِ برزخ یا عذابِ قبر کے اثبات کے لیے تلاوت نہیں فرمارہے، بلکہ محض یہ بتانے کے لیے تلاوت فرمارہے ہیں کہ اللہ تعالی نے جو دنیاو آخرت میں مسلمان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے، وہ قبر میں منکر نکیر کی آمد پر بھی پورا ہوگاجو آخرت کی گھاٹیوں میں سے پہلی گھاٹی ہے اوراسی طرح کافروں کے بارہ میں مدد نہ کرنے کا جو فیصلہ فرمایا ہے ، وہ بھی قبر میں بھی پورا ہوگا کہ کافر منکر ونکیر کے امتحان میں ناکام ہوگا۔ 

باقی صحیح البخاری (حدیث۱۳۶۹) وغیرہ میں جو یہ مذکور ہے کہ ’نزلت فی عذاب القبر‘ یعنی ’ یہ آیت عذابِ قبر کے بارہ میں نازل ہوئی ‘ تو علوم القرآن کی کتابوں میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ ’نزلت فی کذا‘ یعنی ’ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی‘ کا اسلوب کسی آیت کے بارہ میں صریحاً یہ نہیں بتاتا کہ اس آیت کا شان نزول بھی یہی معاملہ ہے اور یہ آیت اسی معاملہ کے اثبات کے لیے نازل ہوئی، بلکہ علامہ زرکشی کے مطابق تو صحابہ و تابعین کی عادت ہی یہ تھی کہ وہ ’نزلت فی کذا‘ کا اسلو ب وہاں اختیار کرتے تھے جہاں مذکورہ معاملہ آیت کا شانِ نزول نہ ہوتا،بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہوتا کہ آیت کے مفہوم کا فلاں معاملہ پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ (التبیان۔ صفحہ۲۳) اس لیے ضروری نہیں کہ جب آیت نازل ہوئی ہو تو’نزلت فی کذا‘ کے ساتھ بیان کیا گیا مخصوص معاملہ بھی اسی وقت ثابت ہوگیا ہو، بلکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ معاملہ اس وقت کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ رہا ہو۔’نزلت فی کذا‘ کی ایسی کئی مثالیں علوم القرآن کی کتابوں میں موجود ہیں۔ (الاتقان ۱/۳۲) لہذا یہ ممکن ہے کہ سورۃ ابراہیم کی آیت۲۷ تو پہلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں رہی ہو، مگر عذابِ قبر پہلے آپ کے علم میں نہ رہا ہو۔ بعد میں جب آپ کے علم میں یہ بات آگئی تو آپ نے احوال قبر کے ساتھ اس آیت کو تلاوت کرکے محض یہ بتا یا کہ آیت میں مومنوں کی مدد اور کافروں کی ہلاکت کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ قبر میں بھی پورا ہوگا اور منکرو نکیر کے امتحان میں مسلمان کامیاب جبکہ کافر ناکام ہوگا۔ ’نزلت فی عذاب القبر‘ کو بھی اسی پر محمول کرنا چاہئے۔ اگر ’نزلت فی عذاب القبر‘ کا یہ معنی ہوتا کہ آیت کا شان نزول بھی عذاب قبر ہے اور آیت کے اترتے ہی عذابِ قبر کا علم بھی حاصل ہوگیا ہوگا تو کم ازکم’اسباب النزول‘ کی مخصوص کتابوں (لباب النقول وغیر ہ ) میں بھی مذکورہ آیت کے ساتھ اس کا یہ شانِ نزول بیان ہوتا ، لیکن اسباب النزول کی کتابوں میں اس آیت کے ساتھ ’نزلت فی عذاب القبر‘ کا ذکر نہ ہونااس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے ہاں بھی ’نزلت فی عذاب القبر‘ کا معنی آیت کا شانِ نزول نہیں سمجھا گیا۔ واللہ اعلم 

خیر ، ثابت یہ کرنا مقصود ہے کہ اسلام نے قبروبرزخ کے احوال پر وہ زور نہیں دیا جو پہلے ہی دن سے قیامت، آخرت اور بعث بعد الموت پر دیا ہے۔ اسلام کی کامل پیروی اسی میں ہے کہ اسلام نے جس چیز کا بار بار تکرار کیا ہے، اس کا تکرار اور بار بار مذاکرہ کیا جائے جبکہ جس چیز کو نسبتاً کم دفعہ بیان کیا ہے، ہمیں بھی اس کو بہت زیادہ دفعہ بیان نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے بعد مطلوبہ تنائج کو اللہ کے سپرد کردینا چاہئے۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس سے اسلام کے مٹے ہوئے نقوش اور شعائر خودبخود زندہ ہونے لگیں گے۔ (یہ نکتہ قدرے زیادہ تفصیل سے میرے ایک اور مضمون میں بیان ہوگا۔)حساب وکتاب کا احساس اور خوف پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ کثرت سے وہ مضامین بیان کیے جائیں جن پر خود اسلام نے پہلے دن سے زیادہ زور دیا ہے اور اسلوب بدل بدل کر ان کو قرآن میں بیان کیا ہے تاکہ ان کی تلاوت کی جائے، بار بار پڑھا جائے، سنا جائے اور تکرار کیا جائے۔ قبر کی جزاؤ سزا کا علم بھی ہمیں قرآن وحدیث کے ذریعہ ملا ہے، لیکن اسلام میں اس کے احوال پر وہ زور نہیں جو احوالِ قیامت پر دیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ افراط وتفریط سے پیدا ہوا۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیاکہ اگر قبر کی زندگی کی کوئی حقیقت ہوتی تو قرآن عموماً صرف آخرت پرہی کیوں زور دیتا ہے؟ اس کے نتیجہ میں وہ انکارِ حدیث تک جا پہنچے۔ دوسری طرف بعض لوگوں نے جب دیکھا کہ انسان کے لیے جزاؤسزا کا سلسلہ قبر سے ہی شروع ہورہا ہے تو انہوں نے قیامت سے زیادہ قبر پر ہی زور دینا شروع کردیا۔ اسی کے احوال کو اس کثرت اور شدومد کے ساتھ بیان کیا ، جس شدومد اور کثرت کے ساتھ قرآن قیامت کی احوال پر زور دیتا ہے۔

عذابِ قبر اور منکرین کے شبہات

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قبر اور برزخ کو ہم ایک ہی مفہوم میں استعمال کریں گے۔ موت کے بعد صورِ اسرافیل تک جو دورانیہ ہے ، قرآن میں اس کے لیے برزخ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ (المومنون:۱۰۰) ’برزخ‘ کے معنی حدفاصل کے ہیں۔ چونکہ یہ دورانیہ دنیا کی زندگی اور بعث بعد الموت کے بعد حاصل ہونے والی زندگی کے درمیان حائل حد فاصل ہے، اس لیے اسے برزخ کہا گیا ہے۔ احادیث میں جو اس دورانیہ کے دوران رونما ہونے والی کیفیات کو قبر کی طرف منسوب کیا گیا ہے جیسے عذابِ قبر وغیرہ، تو وہ تغلیباً ہے کیونکہ اکثر لوگوں کا یہ دورانیہ قبر میں ہی گزرتا ہے۔ واللہ اعلم! ورنہ اسی دورانیہ کے کئی احوال قرآن وحدیث میں ایسے مذکور ہیں، جن کے ساتھ قبر کا قطعا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن وحدیث میں قبر کے عذاب کے ساتھ ساتھ اس کی نیک جزاء کا بھی ذکر ہے۔ فریقین کے درمیان تنازعہ کا عنوان اگر چہ عذابِ قبر رہا ہے، مگر یہ تنازعہ صرف عذابِ قبر کے بارہ میں نہیں۔ جو عذابِ قبر کو مانتے ہیں، وہ قبروبرزخ کے باقی احوال کو اور اس کی نیک جزاء کو بھی مانتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ عذابِ قبر کا انکار کرتے ہیں، وہ باقی احوال کا اور اس دورانیہ کی نیک جزاء کا بھی انکار کرتے ہیں۔ 

احوال برزخ اور قبر کے عذاب وجزاء کا انکار کوئی آج کی بات نہیں، صدیوں پہلے روافض، خوارج اور بعض معتزلہ بھی اس کے منکر رہے ہیں۔ ان کے اعتراضات جو ابنِ قیم کی کتاب ’الروح‘ سے نقل کیے گئے ہیں، کچھ اس طرح کے تھے:

(۱) جو احوالِ برزخ احادیث میں تفصیل سے مذکور ہیں، وہ قرآن میں کیوں مذکور نہیں؟ (الروح۔ صفحہ ۷۱)

(۲) قبر کے جزاؤ سزا کا تصور نہ صرف یہ کہ قرآن میں نہیں ہے، بلکہ یہ قرآن کے خلاف بھی ہے کیونکہ جزاؤ سزا کے احساس کے لیے زندگی ضروری ہے اور قرآن کی رو سے زندگیاں صرف دو ہیں۔ ایک دنیا میں اور دوسری صورِ اسرافیل کے بعد جو تاابد جاری رہے گی اور جسے بعث بعد الموت کا نام دیا گیا ہے۔ عذابِ قبر کا اثبات دراصل ایک تیسری زندگی کا اثبات ہے، جوکہ قرآن کے خلاف ہے۔ (صفحہ۴۲)

(۳) قبر کے احوال جو احادیث میں مذکور ہیں، وہ خلافِ عقل بھی ہیں کیونکہ اگر میت کو دفن کرنے کے کچھ عرصہ بعد قبر کو کھولا جائے تو میت کو جیسے دفن کیا گیا ہوتا ہے، وہ ویسے کا ویسے پڑا ہوتا ہے۔ جزاؤ عذاب کی جن کیفیات کا ذکر احادیث میں ہے ، ان میں سے کوئی بھی کیفیت وہاں نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کے کوئی آثار ملتے ہیں۔ (صفحہ۵۹)

(۴) اگر قبر میں جزاؤ عذاب کا تصور حق ہے تو جولوگ پانی میں ڈوب کر، پھانسی پہ چڑھ کریا کسی جان ور کے پیٹ کی غذاء بن کر مرجاتے ہیں اور انہیں دفن کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی تو منکر نکیر ان سے سوال کیسے کریں گے اور انہیں جزاؤ سزا کا احساس کیسے ہوگا۔ (صفحہ۶۹)

آج کے دور میں جو لوگ عذابِ قبر کا کلیتاً انکار کرتے ہیں، وہ بھی کم وبیش یہی اعتراضات کرتے ہیں۔ چنانچہ الشریعہ کے شمارہ اپریل ۲۰۱۳ء میں شائع ہونے والے امتیاز احمد عثمانی کے مکتوب کو دیکھا جاسکتا ہے ، جس کی ساری گفتگو انہی نکات کے گرد گھومتی ہے۔ اگریہ انکار اس وجہ سے ہوتا کہ ان لوگوں تک نبوی احادیث نہیں پہنچیں تو ان کا یہ انکار کسی حدتک قابلِ فہم ہوتا، مگر یہاں ایسی کوئی بات نہیں۔ صریح احادیث کے پہنچنے کے بعد ان کا انکار کیا جارہاہے۔ ذہنِ جدید کی الجھنوں کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم ان سوالات پر بالترتیب غور کرتے ہیں جو منکرینِ برزخ (عذابِ قبر کے منکرین) کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں۔ 

پہلا سوال

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اس کے پسِ پردہ کارفرما سوچ کا مختصر محاکمہ ضروری ہے۔ عموماً جو لوگ سنت کی تخفیف کرتے ہیں اور ہر بات کا حوالہ قرآن سے مانگتے ہیں، ان کا نکتۂ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ احادیث ’وحی‘ نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن فہمی کا نتیجہ ہیں، لہذا اصل چیز قرآن ہے۔ پس حدیث کی صحت وسقم کو جانچنے کا اصول ان کے نزدیک یہ ہے کہ جس حدیث کا ماخذ انہیں (بزعمِ خود) قرآن میں مل جائے ، اس کو تو حدیث تسلیم کرلیا جاتا ہے اور نبوی قرآن فہمی کی حیثیت سے اسے دیکھا جاتا ہے، جبکہ جس حدیث کا ماخذ انہیں قرآن میں نہ ملے، اس کے بارہ میں باور کرلیا جاتا ہے کہ راویوں نے یہ حدیث غلط طور پر آنحضور کی طرف منسوب کردی ہے۔ ہمارے خیال میں اس نکتہ کی کوئی وقعت نہیں۔ یوں تو ہمیں خود قرآن نے جس طرح نبی کی غیر مشروط اطاعت کا حکم دیا ہے، اس کے بعد ہمیں اس بات سے سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ نبی کی کونسی بات کیسے اور کون سے ذریعہ سے ماخوذ ہے؟ آیا قرآن سے ؟ کسی خواب سے؟ یا کسی فرشتہ کے اطلاع دینے سے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ نبی کی ساری احادیث محض ’’قرآن فہمی‘‘ کا درجہ ہی رکھتی ہیں (اگر چہ اس مفروضہ کی کوئی دلیل نہیں اور فضائلِ اعمال کی اکثر احادیث اس مفروضہ کی نفی کرتی ہیں)تو پھر بھی ضروری نہیں کہ نبی کے ہر فرمان کا ماخذ صاف صاف ہمیں بھی قرآن میں نظر آجائے۔ یہ عین ممکن ہے کہ نبی نے اپنی شانِ عبدیت اور خداداد بصیرت کے ساتھ اپنے رب کے کلام سے کوئی ایسی بات سمجھی ہوجو ہم جیسے سیاہ کار اور دنیادار رہتی دنیا تک نہ سمجھ سکیں اور نبی کی قرآن فہمی کوئی معمولی قرآن فہمی نہیں کہ مودودی اوراصلاحی کی قرآن فہمی کی طرح اس سے اختلاف کیا جاسکے۔ لہذا صحیح سند سے ثابت ہونے والی اور تاریخی تنقید کے اصولوں پر پورا اترنے والی کسی حدیث کو محض اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیں اس کا ماخذ اور مستنبط قرآن میں نہیں مل رہا۔ باقی یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ قرآن میں کسی بات کا مذکور نہ ہونا اور قرآن کا کسی بات کی مخالفت کرنا‘ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ایک بات کا ذکر قرآن میں نہیں ہے تو ضروری نہیں کہ قرآن اس کا منکر اور مخالف بھی ہو۔ 

چنانچہ اگر فرض کرلیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروبرزخ کے تمام احوال قرآن ہی سے سمجھے، مگر ہمیں یہ استدلال اور استنباط سمجھ نہیں آرہا یا پھر واقعی قرآن میں قبروبرزخ کے جزاؤ عذاب کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر قرآن اس کا انکار بھی نہیں کرتاتو ان دونوں صورتوں میں قرآن ہی کی پیروی کا یہ تقاضا ہے کہ احوالِ برزخ کو نبی پر اعتماد کرتے ہوئے تسلیم کیا جائے یا کم ازکم اس حوالہ سے سکوت اختیار کیا جائے جس طرح کہ ’’اہلِ قرآن‘‘ کو قرآن اس حوالہ سے ساکت نظر آتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں قرآن کے نام پر برزخی جزاؤ عذاب کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ 

اس ابتدائی تمہید کے بعد ہم اصل سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔ اگر چہ کسی چیز کا اس وجہ سے انکار کرنا درست نہیں کہ اس کا ذکر صرف احادیث میں کیوں ہے اور قرآن میں کیوں نہیں، مگر عذابِ قبر اور برزخی جزاؤ سزا کے بارہ میں حقیقت یہ ہے کہ قرآن بھی ان کے ذکر سے خالی نہیں، لیکن انداز ایسا ہے کہ بقول سیدسلیمان ندوی’اس سے عذابِ قبر کی طرف ذہن بتصریح منتقل نہیں ہوتا۔‘ (سیرتِ سیدہ عائشہ۔صفحہ۱۹۵)تاہم جن لوگوں کو احادیث کے مفاہیم قرآن میں تلاش کرنے کا شدید شوق لاحق ہے، انہیں اِ ن آیات پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ 

(۱) ’النار یعرضون علیہا غدوا وعشیا ویوم تقوم الساعۃ أدخلوا آل فرعون أشد العذاب‘ (المومن:۴۶)
یعنی ’آلِ فرعون صبح و شام جہنم کے روبرو پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا جائے گاکہ آلِ فرعون کو جہنم میں ڈال دو۔‘ 

آیت کے اپنے الفاظ صاف گواہی دے رہے ہیں کہ جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا عذاب قیامت سے پہلے ہی آلِ فرعون کو ہورہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا تعلق برزخ کے دورانیہ سے ہی ہے۔ آیت میں اگر چہ صرف آلِ فرعون کے لیے عذابِ برزخ کا ذکر ہے، مگر منکرینِ برزخ آلِ فرعون کے حق میں بھی اس عذاب کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ آیت کے ترجمہ میں ’ پیش کیے جاتے ہیں‘ کی بجائے ’پیش کیے جائیں گے‘ کہا جائے اور پھر ’پیش کیے جائیں گے‘ کا معنی ’قیامت کے دن پیش کیے جائیں گے‘لیا جائے۔ دلیل میں شاہ رفیع الدین ؒ وغیرہ کا ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی ’پیش کیے جائیں گے‘ کا ترجمہ کیا ہے۔نیز سورۃ الاحقاف کی آیت۲۰،۳۴ کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ وہاں قیامت کے دن کافروں کو جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا ذکر ہے، لہذا مذکورہ آیت میں بھی پیشی سے مراد قیامت کے دن کی پیشی مراد ہونی چاہئے۔ (دیکھئے : الشریعہ اپریل ۲۰۱۳ء۔صفحہ ۵۴)

ان حضرات کی خدمت میں گذارش ہے کہ شاہ رفیع الدین نہ عذابِ قبر کے منکر ہیں اور نہ ہی منکرحدیث، جبکہ احادیث (جن کو منکرینِ حدیث مجبوراً نبوی فہمِ قرآن کہتے ہیں)میں آیت کا یہی معنی لیا گیا ہے کہ آلِ فرعون کو جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کا عذاب قیامت سے پہلے ہی ہورہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) لہذا شاہ رفیع الدین کے ترجمہ میں کوئی توجیہ کرنی چاہئے جو ان توجیہات میں سے کوئی بھی توجیہ ہوسکتی ہے:

  • اردوایک نوزائیدہ زبان ہے۔ اب اگرچہ یہ کافی ترقی کرچکی ہے، لیکن شاہ رفیع الدین کے زمانہ تک اس کے قواعد ضوابط زیادہ منضبط نہیں تھے۔ اس لیے اس دور کی غیر ادبی اردو میں معمولی اونچ نیچ کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان کے ترجمہ میں اگر ’پیش کیے جائیں گے‘ کا مطلب ’پیش کیے جاتے رہیں گے (قیامت تک)‘ لیا جائے تو یہ زیادہ مناسب ہے۔ 
  • کاتب کے سہو کے امکان کوبھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اصل میں جملہ ’پیش کیے جاتے رہیں گے‘ ہی ہو ، مگر کاتب کی غلطی سے ’پیش کیے جاویں گے‘ بن گیا ہو۔ 
  • ممکن ہے کہ واقعاتی انداز اختیار کرتے ہوئے یہ ترجمہ کیا گیا ہو۔ واقعاتی اندا ز میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قاری ماضی کے ایک واقعہ کو سنتے ہوئے گویا خود بھی اس واقعہ کا حصہ بن گیا ہے اور ماضی میں پہنچ گیا ہے۔ چونکہ آیت مذکورہ سے پہلے موسی علیہ السلام، ان کے ساتھی اور فرعون کا قصہ بیان ہورہا ہے اور آخر میں ان کا انجام بیان کیا گیا ہے،لہذا واقعاتی انداز اختیار کرتے ہوئے آخری آیات کا ترجمہ یوں ہوسکتا ہے کہ ’اللہ نے موسی کے ساتھی کو فرعونیوں کی سازشوں کے شر سے محفوظ فرمایا اور آلِ فرعون پر برا عذاب نازل ہوا، (اب قیامت تک کے لیے) دوزخ ہے جس پر وہ صبح شام پیش کیے جائیں گے اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا ۔۔۔‘ اس توجیہ کی رو سے مستقبل کا معنی لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ 
  • فرض کیجئے کہ آیت کا ترجمہ لکھتے وقت وہ برزخی عذاب کے منکر بھی رہے ہوں اور نظمِ قرآنی کو سمجھنے میں ان سے چوک رہ گئی ہو تو یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تب تک ان کے علم میں صریح احادیث نہیں آئی ہوں گی۔ 

شاہ رفیع الدین کے علاوہ بھی جس کسی نے مستقبل کا معنی لیا ہے اور وہ منکرِ حدیث نہیں ہے تو اس کے بارہ میں بھی انہی توجیہات میں سے کوئی کار آمد توجیہ اختیار کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیث سے صرفِ نظر کر کے بھی دیکھا جائے تو آیتِ مذکورہ کے اندر قیامت کا ذکر بعد میں الگ سے ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جہنم کے رو برو پیش کیے جانے کا عذاب وقوعِ قیامت سے پہلے ہی ہورہا ہے ورنہ اس عذاب کے ذکر کے بعد یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ ’اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔‘ اگر دونوں عذابوں کا تعلق روزِ قیامت سے ہے تو وقوعِ قیامت کی بات دونوں عذابوں کے ذکر سے پہلے ہونی چاہئے تھی۔ اسی طرح اگر جہنم کے روبرو پیش ہونے کے عذاب کا تعلق روزِ قیامت سے ہو تو ’صبح شام پیش کیے جائیں گے ‘ کا کیا مطلب؟ کیا قیامت کی صبح وشام مراد ہے؟ اگر ہاں تو اب آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ ’آلِ فرعون قیامت کے دن صبح شام جہنم کے روبروپیش کیے جائیں گے اور جب قیامت واقع ہوگی تو کہا جائے گا کہ آلِ فرعون کو جہنم میں ڈال دو۔‘ اگر قیامت کی صبح سے لے کر شام تک آلِ فرعون کو صرف جہنم کے روبرو پیش کیے جانے کاعذاب ہی ہوگا تو اگلی کلام پھر یوں ہونی چاہئے تھی کہ ’اور جب قیامت کی شام بھی ڈوب جائے گی تو ۔۔۔‘ اگر کوئی سمجھنا چاہے تو اس کے لیے یہی وضاحت ہی کافی ہے اور جو نہیں سمجھنا چاہتا تو اسے نہ قرآن کا اپنا اسلوب مطمئن کرسکتا ہے اور نہ ہی احادیث۔بس اس کی جمع پونجی وہی مفروضات ہیں جو اس نے اپنے دماغ میں قائم کر رکھے ہیں۔جو لوگ منکرِ حدیث نہیں ، وہ نہ صرف یہ کہ آلِ فرعون کے لیے برزخی عذاب کو تسلیم کریں گے، بلکہ وہ تو اس حدیث کو بھی تسلیم کریں گے کہ نہ صرف آلِ فرعون ، بلکہ ہر مومن اور ہر کافر کو مرنے کے بعد اور وقوعِ قیامت سے پہلے جنت یا جہنم میں اپنا مخصوص ٹھکانہ صبح وشام دکھایا جاتا ہے اور وہ اس کے روبروپیش کیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری۔ حدیث۳۲۴۰) باقی سورۃ الاحقاف کی آیت۲۰ اور ۳۴ یعنی ’ویوم یعرض الذین کفروا علی النار‘ میں جو کافروں کو جہنم کے روبروپیش کیے جانے کا ذکر ہے تو نہ وہاں صبح شام کا ذکر ہے اور نہ ہی اس ’’پیشی‘‘ کے بعد قیامت کا الگ سے ذکر کیا گیا ہے۔ وہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں جو مجبور کرے کہ اس ’پیشی‘ سے ’برزخی پیشی‘ ہی مراد لی جائے، اس لیے وہاں قیامت کے دن کی پیشی بھی مراد ہوسکتی ہے کیونکہ بہرحال جہنم میں گرائے جانے سے قبل کفار کو جہنم کے روبرو ہی پیش ہونا ہوگا۔ تاہم ضروری نہیں کہ اگر سورۃ الاحقاف کی آیت میں روزِ قیامت کی پیشی مراد ہے تو آلِ فرعون کے لیے بھی یہی پیشی مراد ہو۔ ایسا سمجھنے والوں کی ’قرآن دانی‘ اور ’عربی دانی‘ ہمارے فہم سے بالاتر ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ دونوں مقامات پر آیات کے اپنے اسلوب کی رعایت کی جائے گی اور صاحبِ قرآن کی احادیث کو بھی دیکھا جائے گا جو قرآن ہی کی تائید کرتی ہیں۔ ’آلِ فرعون‘ والی آیت سے ان لوگوں کے شبہ کا بخوبی ازالہ ہوجاتا ہے جو برزخی عذاب کی کلیتا تردید کرتے ہیں۔

(۲) حیاتِ شہداء والی آیات (البقرۃ:۱۵۴، آل عمران:۱۶۹) بھی اپنے مضمون میں بالکل واضح ہیں کہ’ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس ہیں، کھلائے پلائے جاتے ہیں، اللہ کی عنایت پر خوش ہیں، پیچھے رہنے والے اپنے ساتھیوں کے بارہ میں تسلی رکھتے ہیں کہ ان کے لیے بھی اچھا انجام ہے۔‘ اگر خالی الذہن ہوکر دیکھا جائے تو آیت کا اپنا اسلوب بتار ہا ہے کہ اللہ کے ہاں ان کا اعزاز واکرام قیامت سے قبل ہی ہورہا ہے توظاہر ہے کہ اس کا تعلق بھی برزخ سے ہوگا۔ آیت میں اگرچہ صرف شہداء کے لیے برزخی انعام واکرام کا ذکر ہے ،مگر منکرینِ برزخ شہداء کے حق میں بھی اس اعزاز واکرام کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ قرآن سے کہیں ثابت نہیں کہ صورِ اسرفیل پر ہونے والے بعث بعد الموت سے شہداء مستثنی ہیں اور عمومی بعث بعد الموت سے پہلے ہی ان کو زندگی مل چکی ہے۔ لہذا جب شہداء کی زندگی بھی بعث بعد الموت کے بعد شروع ہوگی تو آیتِ شہداء میں اسی زندگی کا ذکر ہے جو بعث بعد الموت کے بعد ان کو حاصل ہوگی۔ اب مذکورہ آیات کے ترجمہ میں ’زندہ ہیں‘ کی بجائے ’زندہ ہوں گے (مستقبل میں)‘ کہا جائے۔ (الشریعہ اپریل ۲۰۱۳ء۔ صفحہ ۵۱) 

نہ جانے اس قبیل کے لوگوں کو حدیثِ نبوی سے کیا چڑ ہوتی ہے کہ وہ اس کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے؟یہ بات ٹھیک ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو صرف دو زندگیاں عطا فرمائی ہیں، ایک دنیاوی اور دوسری صورِ اسرافیل کے بعد۔ (اس پر تفصیلی کلام ان شاء اللہ دوسرے سوال کے جواب میں ہوگی)اسی طرح یہ بھی ٹھیک ہے کہ شہداء عمومی بعث بعد الموت میں باقی لوگوں کے ساتھ کھڑے کیے جائیں گے اور ان کے لیے بھی دو ہی زندگیاں ہیں جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ احادیث بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ ابن عساکر کی روایت میں صراحت ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن شہید کو بھی زندہ فرمائیں گے (کنز العمال، حدیث۱۱۷۳۸) جس سے اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ شہداء عمومی بعث بعد الموت سے مستثنی ہیں۔ اس کے بعد اگر امتیاز عثمانی صاحب کے دل میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آیتِ شہداء میں شہداء کے لیے تیسری زندگی کا ذکر کہاں سے آگیاتو اس اشکال کا حل یہ نہیں کہ شہداء کی حیاتِ برزخی کا انکا رکردیا جائے جس کا اعلان آیتِ شہداء کر رہی ہے۔ بعث بعد الموت اور دو زندگیوں کا ذکر اگر قرآن میں ہے تو صورِ اسرافیل سے قبل شہداء کو حاصل زندگی کا غیر مبہم بیان بھی اسی قرآن میں ہے۔ ’نظائرِ قرآنی‘ کے نام پر ہمیں قرآن کی پیوند کاری سے باز رہنا چاہئے۔ اجمالی ایمان کے لیے تو اتنی بات کافی ہے کہ قرآن میں دونوں باتوں کا ذکر ہے لہذا دونوں ہی حق ہیں، لیکن اگر برزخی جزاؤ سزا کا انکا ر کرنے والوں کو اس پہ کوئی اشکال ہے ہی تو انہیں اپنے اس اشکال کا جواب حدیثِ نبوی میں مل سکتا تھا ، بشرطیکہ وہ احادیث کو دیکھ لینے کے ہی روا دار ہوتے۔ قرآن میں جن دو زندگیوں کا ذکر ہے، ان سے مراد جیتی جاگتی انسانی زندگیاں ہیں، جبکہ احادیث بتاتی ہیں کہ شہداء کی برزخی حیات سے مراد کوئی جیتی جاگتی انسانی زندگی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں میں ڈال کر جنت میں گھومنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔(صحیح مسلم۔ حدیث۱۸۸۷) لہذا یہ اعتراض ختم ہوجاتا ہے کہ قرآن میں تو دو زندگیوں کا ذکر ہے، جبکہ حیاتِ شہداء سے ایک تیسری زندگی کا اثبات ہوتا ہے۔ آیت کے ترجمہ میں ’بل أحیاء‘ کا معنی ’زندہ ہیں‘ کی بجائے’زندہ ہوں گے‘ بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بعد جو ان کے باقی احوال بتائے گئے ہیں، ان میں ایک حال یہ بھی ہے کہ ’پیچھے رہنے والے اپنے ساتھیوں کے بارہ میں وہ تسلی رکھتے ہیں کہ ان کے لیے بھی اچھا انجام ہے۔‘ ظاہر ہے کہ پیچھے رہنے والوں کے بارہ میں یہ تاثر برزخ میں ہوسکتا ہے، صورِ اسرافیل کے بعد نہیں جب سب لوگ ہی دوبارہ زندہ ہوچکے ہوں گے اور’پیچھے رہنے والے ساتھی‘کوئی نہیں ہوں گے جن کے بارہ میں یہ تاثر پیدا ہوسکے۔

امتیاز صاحب نہ تو قرآن کے مفہوم کو اس کے اپنے الفاظ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی قرآن فہمی کے لیے احادیث کو دیکھنے کے روا دار ہیں۔ آلِ فرعون کے عذاب سے متعلق گذشتہ آیت کے بعد اب آیتِ شہداء کے ضمن میں بھی ان کاطرزِ فکر کھل کر نظر آرہا ہے کہ قرآن مجید بعث بعدالموت سے پہلے ہی شہداء کو حاصل زندگی کو ظاہر کرتا ہے، مگر ان کو اس ظاہر وبارز مفہوم پر اشکال ہے۔ پھر اس اشکال کا جواب جو حدیث میں ملتا ہے، وہ بھی ان کے حلق سے نہیں اترتا۔ آخر وہ چاہتے کیا ہیں کہ قرآنی مضامین کو ان کے عقلِ سلیم اور قلبِ منیب کے سہارے چھوڑ دیا جائے؟مجھے امتیاز صاحب سے ہمدردی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جو حدیث کانام سنتے ہی بدک جاتے ہیں۔

گذشتہ دونوں آیات سے ثابت ہوا کہ برزخ کے عذاب وجزاء کا کلیتا انکار کرنے والوں کا یہ دعوی درست نہیں کہ برزخی جزاؤ سزا کا ذکر قرآن میں بالکل نہیں ہے۔ اہلِ سنت نے اگر چہ برزخی عذاب وجزا کے اثبات کے لیے بعض دیگر قرآنی آیات سے بھی استدلال کیا ہے، مگر میرے خیال میں ان دو آیات سے زیادہ صریح آیت شاید کوئی نہ ہو۔ اس لیے ہم انہی دو پر قناعت کرتے ہیں۔ زاہد صدیق مغل صاحب نے ’الشریعہ فروری ۲۰۱۳ء‘ میں برزخی جزاؤسزا کے اثبات کے لیے البقرۃ کی آیت ۲۸ سے استدلال کیا ہے جو ہماری نظر میں بالکل درست نہیں۔ (واللہ اعلم) اس استدلال پر تفصیلی گفتگو ہم چند سطروں بعد کریں گے۔ 

دوسرا سوال

یہ بات درست ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو، وہ قابلِ قبول نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے خلاف کوئی بات ارشاد نہیں فرما سکتے۔ کسی روایت کو خلافِ قرآن کہنے سے مقصود اس کے راوی کو قصور وار ٹھہرانا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے، یا وہ پوری روایت کو محفوظ نہیں رکھ سکا یا پھر ’غیر حدیث‘‘ کو غلطی سے حدیث سمجھ بیٹھا۔ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام عائد نہیں کیا جارہا ہوتا کہ انہوں نے کوئی بات قرآن کے خلاف کہہ دی۔ اس کے بعد یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ راوی اور ناقل کو نقلِ روایت میں تبھی قصور وار ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ جب وہاں قصور رہ جانے کا امکان بھی ہو۔ مثلا یہ کہ اس کے راوی اکا دکا ہوں جسے ’خبرِ واحد‘ کہا جاتا ہے اور یہ ممکن ہو کہ وہ راوی جھوٹ پر اتفاق کر لیں یا انہیں ’غیرِ حدیث‘ کو حدیث سمجھنے کا ایک جیسا مغالطہ لاحق ہوجائے۔ لیکن اگر فرض کیجئے کہ اس کے راوی اتنی تعداد میں ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث اور معاملہ کی نسبت تواتر اور قطعیت کے ساتھ ثابت ہوجائے اور کثیر التعداد راویوں کے بارہ میں یہ تصور کرنا عقل سے بعید ہو کہ انہوں نے ایک جھوٹ کو پھیلانے پر اتفاق کرلیا ہوگا یا ان سب کو حدیث کے سمجھنے میں ایک جیسی غلطی لگی ہوگی تو اس صورت میں اس حدیث اور معاملہ کو خلافِ قرآن کہنے کا مطلب براہِ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قصوروار ٹھہرانا ہوگا کیونکہ نبی کی طرف اس بات کی نسبت قطعیت سے ثابت ہوچکی ہے اور واقعہ کی دنیا میں ایسے کسی معاملہ کے اندر راویوں سے قصور رہ جانے کا امکان نہیں ہوتا۔

خلاصہ یہ کہ اگر روایت متواتر ہو تو اس صورت میں اس کو خلافِ قرآن کہنے کا مطلب نبی کوقصور وار ٹھہرانا ہوگا کیونکہ جب خبر حد تواتر تک پہنچ جائے تو راویوں اور ناقلوں کو غلط بیانی اور غلط فہمی کا ذمہ درا نہیں ٹھہرایا جاتا۔اس صورت میں اگر کسی کو اس حدیث کے ساتھ اختلاف ہوتو سیدھے لفظوں میں یہ نبی کے ساتھ اختلاف ہوگا۔ پس کسی حدیث یااحادیث سے ثابت کسی معاملہ کو ’خلافِ قرآن‘ کہنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ وہ حدیث یا معاملہ متواتر تو نہیں اورکہیں اس روایت کی نسبت آنحضور کی طرف قطعیت کے ساتھ تو ثابت نہیں ہوچکی۔ اگر ایسی صورت میں کسی کو قرآن اور حدیثِ متواتر کے درمیان تضاد محسوس ہوتا ہی ہے تو احترامِ رسول کا تقاضاہے کہ وہ حتی المقدور ان کے درمیان تطبیق کی صورت پیدا کرے یا تقابلی جائزہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے فہم کو قصور وار ٹھہرائے اور دونوں پر اجمالی ایمان رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کبھی ہوگا ہی نہیں کہ قرآن اور حدیثِ متواتر کے درمیان کوئی ایسا اختلاف پیدا ہوجائے جس کو دور کرنے کے لیے تطبیق کی کوئی صورت ہی نہ ہو، بشرطیکہ دیکھنے والے کی بنیادی نفسیات درست ہو۔ 

احادیث میں مذکور برزخی جزاؤ سزا اور دیگر احوالِ برزخ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں۔ایک ایک جزئی روایت تو شاید متواتر نہیں، مگر ان کا مجموعی مفہوم اور ان کی قدرِ مشترک (جس کا انکار منکرینِ برزخ کرتے ہیں) وہ تواتر کی حد تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ صرف صحابہ میں سے جن افراد نے احوالِ برزخ کوروایت کیا ہے، ان کی تعداد ایک اندازہ کے مطابق ۱۹؍ تک پہنچتی ہے اور ان کے نام یہ ہیں:۔۔۔ ۱۔حضرت عمر۲۔ حضرت عثمان ۳۔ انس بن مالک ۴۔ براء بن عازب ۵۔ تمیم داری ۶۔ ثوبان ۷۔ جابر بن عبداللہ ۸۔ حذیفہ بن یمان ۹۔ عبادۃ بن صامت ۱۰۔ عبداللہ بن رواحہ ۱۱۔ عبداللہ بن عباس ۱۲۔ عبداللہ بن عمر ۱۳۔ عبداللہ بن مسعود ۱۴۔ عمرو بن عاص ۱۵۔ معاذ بن جبل ۱۶۔ ابو امامہ ۱۷۔ ابو الدرداء ۱۸۔ ابوہریرہ۱۹۔ حضرت عائشہ (النبراس۔ صفحہ ۳۲۰) تحقیق کی جائے تو شاید اس تعداد میں مزید بھی اضافہ ہوجائے۔ پھر یہ تعداد صرف صحابہ کی ہے، بعد میں ان سے نقل کرنے والوں کی تعداد تدریجاً بے حدوبے حساب ہوتی چلی جاتی ہے۔ ظاہر ہے ان سب راویوں کے بارہ میں یہ تصور کرلینا کہ انہوں نے ایک ہی جھوٹ پر ایکا کرلیا ہوگایا سب کو ادھوری حدیث یادر ہ گئی ہوگی یا سب ہی لوگ عذاب قبر کے بارہ میں ’’غیر احادیث‘‘ کو احادیث سمجھنے کے ایک جیسے مغالطہ کا شکار ہوئے ہوں گے، یہ ممکن نہیں۔ اگر کوئی ان سب روایات کو ’خلافِ قرآن‘ کہتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ بالواسطہ آنحضور کو قصور وار ٹھہرا رہا ہے کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کئی باتیں کہہ دیں حالانکہ نبی کی بات کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ 

اجمالی ایمان کے لیے تو اتنی بات ہی کافی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث میں قبر کے جزاؤ عذاب کا ذکر ہے، اس لیے وہ حق اور سچ ہے۔ اگر قرآن سے تقابلی مطالعہ کا ضرور ہی شوق ہو تو جو آدمی احادیث کو قرآن کے مطابق دیکھنا ناپسند نہیں کرتا، اسے قرآن میں بھی اس کے کئی اشارے مل جائیں گے جیسا کہ اہلِ سنت کو ملتے رہے ہیں اور گذشتہ سطور میں ہم نے بھی ان میں سے دو ناقابلِ تردید آیات نقل کی ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ نفسیات ہی یہ بن چکی ہو کہ اپنے عقلی مفروضات سے قرآن کی مطابقت پیدا کرنے کے لیے تو قرآنی مضامین میں جیسی تیسی تاویل بھی کردینی ہے او راحادیث سے قرآن کی مطابقت کو سمجھنے کے لیے قرآن کے تائیدی اشاروں کو بھی قبول نہیں کرنا، بلکہ کسی ایسی آیت کا مطالبہ جاری رکھنا ہے جو سو فی صد وہ بات کہہ رہی ہو جو حدیث میں گئی ہے، تو ایسی نفسیات کا کیا علاج ہوسکتا ہے؟ برزخی جزاؤ سزا کے بارہ میں قرآن کے تائیدی اشاروں کو در خورِ اعتناء نہ سمجھنے والے امتیاز صاحب ایک سائنسی انکشاف کی قرآن سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کس طرح قرآن میں تاویل کرتے ہیں، ذرا دیکھئے: ’روح سے مراد جان ڈالنا نہیں ہوسکتا کیونکہ جان تو پہلے ہی دن سے تھی جب نطفہ علقہ بنا تھا۔ اگر جرثومہ بے جان ہو تو انسان پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ ‘ ( الشریعہ اپریل ۲۰۱۳ء۔ صفحہ۵۳)

(باقی)

قرآن / علوم قرآن

(ستمبر ۲۰۱۳ء)

Flag Counter