دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار

مولانا امین احسن اصلاحیؒ

انبیاء علیہم السلام نے جس طرح طہارت و عبادت اور معاشرت و معیشت سے متعلق ہماری رہنمائی کے لیے اپنی سنتیں چھوڑی ہیں، اسی طرح اصلاح معاشرہ، اقامت دین یا اسلامی نظام کے طریقہ قیام سے متعلق بھی اپنی نہایت واضح سنتیں چھوڑی ہیں جن کو اختیار کیے بغیر اقامت دین کے نصب العین کے لیے کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے ہٹ کر جو کوشش بھی اس مقصد کے لیے کی جائے گی، وہ بالکل بے برکت اور بے نتیجہ ثابت ہوگی۔ ۔۔۔ یہاں ہم اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھنے کے لیے گنجائش نہیں رکھتے۔ صرف چند اصولی باتوں کی طرف اشارہ کریں گے جس سے فی الجملہ یہ اندازہ ہو سکے گا کہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ کار کن خاص پہلوؤں سے اہل سیاست کے طریقوں سے مختلف ہوتا ہے۔

پہلی خصوصیت: قول اور عمل کا توافق 

سب سے پہلی چیز جو انبیاء علیہم السلام اور ان کے طریق کار کو دوسروں سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء جن باتوں کے داعی بن کر اٹھتے ہیں، ان کے سب سے بڑے عملی مظہر وہ خود ہوتے ہیں۔ وہ جن نیکیوں کے مبلغ ہوتے ہیں اگر دوسروں سے ان پر پاؤ سیر عمل کا مطالبہ کرتے ہیں تو خود ان پر پورا سیر بھر عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح جن برائیوں سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کرتے ہیں ان کے بارے میں وہ دوسروں سے اگر صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان سے احتراز کریں تو اپنے لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کی پرچھائیں بھی ان پر نہ پڑنے پائے۔ برعکس اس کے اہل سیاست کا عام طریقہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے بقول یہ ہوتا ہے کہ جس بوجھ کے اٹھانے میں وہ اپنی انگلی کا بھی سہارا نہیں دینا چاہتے اس کو وہ پورے کا پورا دوسروں کی کمر پر لاد دیتے ہیں۔ قرآن کریم نے علمائے یہود کے بارے میں فرمایا ہے کہ کہ تم دوسروں کو تو نیکی کا درس دیتے ہو لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ اسی طرح اہل سیاست جن باتوں سے خود کوسوں دور ہوتے ہیں ان کی منادی وہ اپنی ہر تحریر اور تقریر میں کرتے پھرتے ہیں، وہ اپنے قول ہی کو عمل کا قائم مقام سمجھتے ہیں اور محض زبان کے پھاگ سے وہ ثمرات و نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں جو نتائج خون اور پسینہ ایک کر دینے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کے لیے آدمی کو اپنے ایک ایک بن مُو کو گواہ بنانا پڑتا ہے۔ اگر آپ ایمانداری سے اپنے حالات کا جائزہ لیں گے تو ہماری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ ہماری قوم کو ایک مدت دراز سے ایسے ہی طبیبوں سے سابقہ ہے جو خود سو مریضوں کے مریض ہونے کے باوجود قوم کے علاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جو اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے شہتیر چھپائے رکھنے کے باوجود دوسروں کی آنکھوں کے تنکے تلاش کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ___ ایسے طبیبوں کی سعی علاج کا جو نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے وہ معلوم ہے۔ 

دوسری خصوصیت: سیاسی تبدیلی سے پہلے معاشرے کی اصلاح 

دوسری چیز جو حضرات انبیاء کے طریقہ کو دوسروں کے طریقہ سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء سیاسی اقتدار کے حصول پر اصلاحِ معاشرہ کے کام کو منحصر نہیں قرار دیتے بلکہ معاشرہ کی اصلاح کو نظام سیاسی کی اصلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے طریقہ کار میں اصل اہمیت جس چیز کو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کے دل و دماغ اور اعمال و اخلاق تبدیل ہوں اور برائی سے لڑنے اور بھلائی کو قائم کرنے کے لیے ان کے ضمیر پوری طرح بیدار ہو جائیں۔ یہ بیداری پیدا کرنے کے لیے وہ جدوجہد کرتے ہیں اور یہ جدوجہد وہ مسلسل جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ظاہر ہو کر رہی ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں سے ایک صالح معاشرہ کھڑا کر دیا اور اس معاشرہ کے ہاتھوں ایک صالح نظام قائم ہوگیا ہے یا اسی مقدس کام میں ان کی زندگیاں ختم ہوگئیں اور چند نفوس کے سوا کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ حضرات انبیاء کی زندگیوں میں ان دونوں ہی چیزوں کی کی مثالیں ملتی ہیں اور اس دوسری چیز کی مثالیں کم نہیں بلکہ پہلی چیز کے مقابل میں کچھ زیادہ ہی ملتی ہیں لیکن کسی ایک نبی کی زندگی میں بھی اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اس نے معاشرہ کی اصلاح کو نظام کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس مقصد کے لیے دعوت دینا شروع کر دی ہو کہ پہلے جس طرح بنے اقتدار پر قبضہ کرو اور پھر اس اقتدار کو اصلاح معاشرہ کا ذریعہ بناؤ۔

اس کے بالکل برعکس سیاسی طور پر کام کرنے والوں کی ساری بھاگ دوڑ حصول اقتدار کے لیے ہوتی ہے، بعض اس اقتدار کے حصول کے لیے آئینی طریقے اختیار کرتے ہیں، بعض غیر آئینی راستے اختیار کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں محسوس کرتے۔ جو لوگ آئینی طریقے اختیار کرتے ہیں ان کا سارا اعتماد اس بات پر ہوتا ہے کہ ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ان کے ساتھ ہو۔ اس وجہ سے ان کی توجہ رات دن ووٹروں کے ساتھ جوڑ توڑ پر صرف ہوتی ہے۔ ان کو ساتھ ملانے کے لیے وہ سارے جتن کر ڈالتے ہیں، یہاں تک کہ اس سرگرمی میں وہ جائز اور ناجائز کی بھی کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔ کوئی بات اگر انہیں ناجائز محسوس ہوتی بھی ہے تو یہ خیال کر کے اپنے اس ناجائز کو بنا لیتے ہیں کہ کسی بڑے مقصد کے لیے کسی چھوٹے ناجائز کو جائز کر لینے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ووٹروں سے ان کا سارا یارانہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ ان کے خیر و شر سے انہیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ اگر وہ اپنے ووٹ انہیں دے دیں تو ان کے نقطہ نظر سے وہ معاشرہ کے بہترین افراد ہیں اگرچہ وہ فی الواقع اتنے برے ہوں کہ ان کے فتنوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہو۔ اس طرز کے لوگ اگر معاشرہ کی خدمت اور اصلاح کا کوئی چھوٹا بڑا کام کرتے بھی ہیں تو اس میں بھی خلوص اور للہیت کا حصہ بہت کم ہوتا ہے۔ اصل پیش نظر مقصد وہی ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے، یعنی یہ کہ ان کی ان خدمتوں سے متاثر ہو کر انتخابات میں لوگ اپنے ووٹ ان کے حق میں استعمال کریں۔ یہ مقصد اس گروہ پر اتنا غالب ہوتا ہے کہ اگر کہا جائے کہ یہ حضرات اپنے انتخابی حلقوں میں نماز بھی اگر پڑھتے ہیں تو اس ووٹ کے مقصد ہی سے پڑھتے ہیں تو شاید اس میں بھی کوئی مبالغہ نہ ہو۔ پھر خاص بات یہ ہے کہ ان سیاسی کار فرماؤں کا سارا جوش کار صرف اس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک ان کے لیے برطانوی طرز کا پارلیمانی نظام ملک میں قائم رہے۔ اگر یہ نظام قائم نہ ہو تو ان کا سارا جوشِ جہاد و اصلاح اس طرح ٹھنڈا پڑ جاتا ہے گویا سو مُردوں کے یہ ایک مردہ ہیں۔ یہ ساری خرابی در حقیقت ان کے طریق کار کی ہے ورنہ انبیاء علیہم السلام اس بات کے محتاج کب رہے ہیں کہ ملک میں امریکی یا انگریزی طرز کا نظام ہو تب وہ کام کریں ورنہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ 

یہ ذکر آئینی طریقہ پر کام کرنے والوں کا تھا، جو لوگ غیر آئینی طریقہ پر کام کرتے ہیں ان کا اعتماد خفیہ سازشوں پر ہوتا ہے۔ وہ اپنے نظریات کھلے میدان میں عقل اور استدلال کی راہ سے منوانے پر اعتماد نہیں رکھتے، اس وجہ سے سازشی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ اس راہ سے اقتدار حاصل کرنے میں اگر ان کو کامیابی ہو جاتی ہے تو پھرسیاسی جبر کے ذریعے سے وہ معاشرہ پر اپنے نظریات مسلط کر دیتے ہیں۔ اشتراکیت کے علمبرداروں کا طریق کار یہی ہے۔ ظاہر ہے یہ طریق کار انبیاء کے طریق کار سے پہلے طریقہ سے بھی زیادہ دور ہے، اس لیے کہ اس کی بنیاد جبر پر ہے اور انبیاء کے طریقہ میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خواہ یہ جبر آئین کے ذریعہ سے حاصل کردہ اقتدار کے ہاتھوں استعمال ہو یا سازش کے ذریعہ سے حاصل کردہ اقتدار کے ذریعہ سے۔ ہاتھوں کے اختلاف سے اصل حقیقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام کوئی مجبوری کا سودا نہیں ہے بلکہ آزادانہ ایمان و اسلام کا معاملہ ہے اور اس کے لیے واحد پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ ایک آزاد اسلامی معاشرہ میں اس کی آزادانہ مرضی اور آزادانہ رائے سے قائم ہو۔ وہ لوگ اس کو قائم کریں جنہوں نے عقل سے اس کو قبول کیا ہو، دل سے اس کو مانا ہو اور عمل سے اس کی گواہی دے رہے ہوں۔ 

بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ اگر اسلامی نظام کا قیام معاشرہ کی اصلاح ہی پر منحصر ہے اور اس کے لیے اہل سیاست کے سے طریقے نہیں اختیار کیے جا سکتے تو پھر یہ بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ ان کے خیال میں یہ طریق کار اتنی طویل مدت چاہتا ہے کہ جب تک معاشرہ کی اصلاح ہوگی، اس وقت تک جو خرابیاں آج پاؤ سیر ہیں موجودہ نظام کے زیر سایہ پرورش پا کر من بھر ہو جائیں گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آج اگر اسلام کا نام لینے کا موقع ہے تو کل یہ نام لینے کا بھی امکان باقی نہیں رہے گا۔ یہ بات بہت سے لوگوں کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے لیکن ہمارے خیال میں اس میں کئی مغالطے چھپے ہوئے ہیں۔ 

اس میں پہلا مغالطہ تو یہ ہے کہ یہ حضرات اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ اگر ایک صحیح کام صحیح طریقہ پر کرنے میں بہت دیر لگنے کا اندیشہ ہے تو اس کی تلافی کا یہ کون سا دانشمندانہ طریقہ ہے کہ ایک غلط کام بالکل غلط طریقہ ہی پر کر ڈالا جائے، غلط کام بہرحال غلط ہے۔ وہ اس وجہ سے صحیح نہیں بن جائے گا کہ وہ جلدی سے انجام پاجاتا ہے۔ ہر کام کی ایک مخصوص فطرت ہوتی ہے اور وہ نتیجہ خیز اسی صورت میں ہوتا ہے، جب اس کو اس کے مخصوص ڈھب پر انجام دیا جائے، اگرچہ اس میں کتنا ہی وقت لگے۔ 

دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ بعض لوگ زبان کے پھاگ اور عمل کے جہاد میں اثرات و نتائج کے لحاظ سے جو فرق ہے اس کو نہیں سمجھتے۔ اگر اسلامی نظام کا دعویٰ محض زبان اور قلم پر ہو، عملی زندگی اسلام کے حقیقی رنگ میں رنگی ہوئی نہ ہو تو اسلامی نظام تا قیامت قائم نہیں ہو سکتا، اگرچہ آپ کو سیاسی اقتدار حاصل ہی کیوں نہ ہو جائے۔ سیاسی اقتدار دنیا میں اسلام کے بہت سے مدعیوں کو حاصل ہوا لیکن اسلام کے لیے وہ اگر کچھ مفید ہوا تو اسی شکل میں ہوا جب اقتدار والوں کی عملی زندگیوں میں اسلام کا کچھ اثر رہا۔ برخلاف اس کے ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے اشخاص دیکھے ہیں، جنہوں نے چند سالوں کے اندر اندر معاشرہ کے معاشرہ کو اپنے رنگ میں رنگ ڈالا اور ملکوں اور قوموں کی قسمتیں بدل دیں۔ حالانکہ جب انہوں نے یہ کام کیے ان کو سیاسی اقتدار حاصل نہیں تھا۔ اگر ان کو کوئی چیز حاصل تھی تو صرف یہ تھی کہ وہ اپنے اصولوں، نظریات اور اپنے دعاویٰ کے فی الواقع عملی مظہر تھے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک ان کے بہت سے نظریات صحیح نہیں تھے، لیکن کردار کا جادو وہ چیز ہے کہ بسا اوقات یہ کنجشک فرومایہ کو بھی عقاب و شاہین کی سرعت بخش دیتا ہے۔ 

تیسرا مغالطہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر اقتدار پر قبضہ کر کے برائی کے پھیلانے والے طاقتور ہاتھوں کو معطل نہ کر دیا جائے تو بھلائی کے پھیلانے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ ہمارے نزدیک یہ بات بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی معاشرہ میں برائی پھیلنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ برائی پھیلانے والے ہاتھ بڑ ے زور دار اور مؤثر ہیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ان برائیوں کی برائی سے لوگوں کو آگاہ کرنے والے یا تو موجود ہی نہیں ہوتے یا موجود تو ہوتے ہیں لیکن ان میں اخلاص، دلسوزی، درد مندی اور عزیمت نہیں ہوتی۔ اگر کسی معاشرہ کے اندر معاشرہ کا سچا درد رکھنے والے، برائیوں پر تڑپ جانے والے، علم و دلیل کے ساتھ بات کرنے والے اور ہر برائی کے مقابل میں صداقت و عزیمت کے ساتھ ڈٹ جانے والے موجود ہوں تو وہ کسی سیاسی طاقت کے بغیر برائی کے طاقتور سے طاقتور ہاتھوں کو بھی معطل کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ایسے مردانِ حق کے سامنے برائی خود کتنے ہی زور اور دبدبہ کے ساتھ آئے لیکن وہ بھلائی کو مغلوب کرنے کے بجائے خود اپنے آپ کو عریاں کرتی ہے اور بالآخر اسے میدان سے پسپا ہونا پڑتا ہے۔ اس کے خلاف اگر کوئی شہادت ہمیں ملتی ہے تو صرف ایسے معاشرہ کے اندر ملتی ہے جس کا فساد اس قدر بڑھ چکا ہو کہ قدرت کی طرف سے اس کے لیے ہلاکت مقدر ہو چکی ہو ورنہ معاشرہ کے اندر اگر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے تو صحیح طور پر کام کرنے والوں نے ان مظالم کو بھی حق کے لیے غذا بنا دیا ہے، جو طاقتور ہاتھوں نے باطل کی حمایت میں کیے ہیں۔ تنور میں آگ زوردار ہو تو گیلی لکڑی بھی اس کو بجھانے کے بجائے اس کے لیے ایندھن کا کام دے جاتی ہے۔ 

تیسری خصوصیت: الحب للہ والبغض للہ 

انبیاء علیہم السلام کے طریق کار کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان کی مخالفت و موافقت جو کچھ بھی ہوتی ہے للہ و فی اللہ ہوتی ہے۔ ان کی محبت بھی اللہ کے لیے ہوتی ہے اور دشمنی بھی صرف اللہ کے لیے، وہ حق کے ساتھی ہیں، خواہ ان کے دشمن ہی کے اندر پایا جائے اور باطل کے وہ مخالف ہوتے ہیں، اگرچہ وہ ان کے کسی ہواخواہ کے اندر ہی کیوں نہ پایا جائے۔ انہیں کسی خاندان، کسی گروہ، کسی پارٹی اور کسی قوم سے محض اس کے ایک مخصوص گروہ یا خاندان یا پارٹی ہونے کے سبب سے نہ دشمنی ہوئی اور نہ دوستی۔ دشمنی اور دوستی جو کچھ انہیں ہوتی ہے وہ اصول و عقائد اور اعمال و اخلاق کی بناء پر ہوتی ہے۔ وہ اپنے مخالف کی خوبیوں کا بھی اسی فیاضی کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں جس فیاضی کے ساتھ اپنے موافق کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں، اور اسی طرح اپنے موافق کی برائیوں پر بھی اسی شدت کے ساتھ نکیر کرتے ہیں جس شدت کے ساتھ اپنے کسی مخالف کی برائیوں پر نکیر کرتے ہیں۔

برعکس اس کے جو لوگ سیاسی طریقوں پر کام کرتے ہیں، ان کی دوستی اور دشمنی ان کے گروہی مفاد اور سیاسی مصالح و اغراض پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کی تمام جدوجہد کا محور صرف اقتدار ہوتا ہے، اس وجہ سے ان کی یہ فطرت بن جاتی ہے کہ جو اقتدار سے محروم ہوں وہ اصحاب اقتدار کے اندر کسی خوبی کا اقرار نہ کریں اگرچہ وہ خوبی سورج کی طرح روشن ہو اور جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوں وہ اقتدار سے محروم جماعتوں کی کسی خوبی کا اعتراف نہ کریں اگرچہ وہ خوبی اندھوں کو بھی نظر آرہی ہو۔ جس طرح ہم نے آج تک کسی ہڈی کی موجودگی میں دو کتوں کو ایک دوسرے کے لیے انصاف پسند اور خیر خواہ نہیں پایا اسی طرح اقتدار کی استخوان نزاع کی موجودگی میں اقتدار کے حاملین اور اقتدار سے محرومین کو کبھی ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ اور انصاف پسند نہیں پایا۔ اختلاف برائے اختلاف ان کا دین ہوتا ہے اور اپنے اس دین کی پیروی وہ بہ حالت ہوش و حواس اور بہ ثبات عقل و اختیار کرتے ہیں اور اس احمقانہ رویّہ کو اپنی سیاسی زندگی کی ایسی ناگزیر ضرورت بتاتے ہیں جس سے ان کے نزدیک مفر کی کوئی صورت ہی باقی نہیں ہے۔ 

چوتھی خصوصیت: اصل نہج تبلیغ و شہادت 

انبیاء علیہم السلام دنیا میں اللہ کا دین قائم کرنے کے لیے آئے، اور اس مقصد کے لیے جس چیز کو انہوں نے ذریعہ اور وسیلہ بنایا وہ تبلیغ و شہادت ہے۔ تبلیغ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دین ان پر اتارا، انہوں نے بغیر کسی کمی بیشی، بغیر کسی دخل و تصرف اور بغیر کسی رد و بدل کے پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ خلق خدا کو پہنچا دیا۔ نہ اس کے مزاج میں کوئی تغیر ہونے دیا، نہ اس کے مواد میں، نہ اس کے انداز میں کوئی تبدیلی پیدا کی، نہ اس کی تدریج میں۔ وہ اللہ کے دین کے امین تھے، اس کے موجد اور مصنف نہیں تھے۔ اس وجہ سے اپنی ذمہ داری انہوں نے ہر طرح کے حالات میں صرف یہ سمجھی کہ اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ انہوں نے اس بات کی پروا کبھی نہیں کی کہ اس دین کی تبلیغ حالات و مصالح کے مطابق ہے یا نہیں اور لوگ اس کو رد کریں گے یا قبول کریں گے۔ اگر مصلحت کے پرستاروں کی طرف سے کبھی یہ اصرار کیا گیا کہ فلاں بات میں اگر یہ ترمیم و اصلاح کر دی جائے تو وہ پورے دین کو بخوشی قبول کر لیں گے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم اپنی جانب سے اس میں کسی رد و بدل کے مجاز نہیں ہیں جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے، جس کا جی نہ چاہے وہ رد کر دے۔ 

شہادت کا مطلب یہ ہے کہ دل سے، زبان سے، قول سے، عمل سے، خلوت سے، جلوت سے، زندگی سے، موت سے، غرض اپنی ایک ایک ادا سے انہوں نے اسی دین کی گواہی دی جس کے وہ داعی بن کر آئے۔ ان کی زندگی کی کتاب اور ان کی دعوت کی کتاب میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ انہوں نے جس چیز سے دوسروں کو روکا، اس سے پوری شدت کے ساتھ خود پرہیز کیا۔ جس چیز کا دوسروں کو حکم دیا اس پر خود پوری قوت و عزیمت کے ساتھ عمل کیا۔ ان کی دعوت اور ان کی زندگی کی یہی مکمل مطابقت در حقیقت ان کی دعوت کی صداقت کی وہ دلیل بنی جس کو ان کے کٹر سے کٹر دشمن بھی جھٹلانے کی جرأت نہ کر سکے۔ 

اس کے بالکل برعکس معاملہ اہل سیاست کا ہے۔ اہل سیاست خدا کا دین نہیں قائم کرتے بلکہ تحریک چلاتے ہیں۔ اگر وہ دین کا نام لیتے بھی ہیں تو وہ دین بھی ان کی تحریک ہی کا ایک جزو ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جس وادی میں ان کی تحریک ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے، ان ساری وادیوں میں ان کا دین بھی بھٹکتا پھرتا ہے۔ ایک تحریک کے لیے تبلیغ اور شہادت کے معصوم ذریعے بالکل بیکار ہیں۔ اس لیے اہل سیاست کا سارا اعتماد اپنے مقصد کی کامیابی کی راہ میں پروپیگنڈے پر ہوتا ہے۔ پروپیگنڈے اور تبلیغ میں صرف انگریزی اور عربی ہی کا فرق نہیں ہے بلکہ روح اور جوہر کا بھی فرق ہے۔ تبلیغ تو جیسا کہ واضح ہو چکا ہے صرف اللہ کے دین کو پورا پورا پہنچا دینا ہے، لیکن پروپیگنڈے کا مقصود پیش نظر تحریک کو کامیاب بنانا ہوتا ہے، یہ کامیابی جس طرح بھی حاصل ہو۔ پروپیگنڈا ایک مستقل فن ہے جس کو زمانہ حال کی سیاسی تحریکات نے جنم دیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان تمام اخلاقی حدود و قیود سے بالکل آزاد ہوتا ہے جن کی پابندی حضرات انبیاء علیہم السلام نے اپنے اقامت دین کے کام میں واجب سمجھی ہے۔ 

مناسب ہوگا کہ ہم مختصر طور پر پروپیگنڈے کی چند خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کر دیں تاکہ سیاسی تحریکات کے اس سب سے بڑے وسیلۂ کار اور تبلیغ کے درمیان جو فرق ہے، وہ واضح ہو کر سامنے آجائے۔ 

پروپیگنڈے کے اجزائے ترکیبی پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس کے اندر جزو اکبر کی حیثیت مبالغہ کو حاصل ہوتی ہے۔ بات کا بتنگڑ اور رائی کا پربت بنانا اس کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ کوئی مجمع ۵ سو کا ہوگا تو وہ اس کی بدولت اخبارات کی شہ سرخیوں میں ۵ ہزار کا بن جائے گا۔ کسی کا استقبال دس آدمی کریں گے تو یہ دس آدمی اس پروپیگنڈے کی کرشمہ سازی سے دس ہزار بن جائیں گے۔ کسی بستی یا شہر کے دو چار آدمی اگر کسی مسلک سیاسی کے ساتھ ذرا سی ہمدردی کا بھی اظہار کر دیں گے تو اس مسلک کے حامی اپنے اخبارات و رسائل میں یوں ظاہر کریں گے کہ گویا وہ پورے کا پورا شہر ان کی تائید و حمایت میں دیوانہ وار اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر کسی باہر کے ملک سے تائید و ہمدردی کا ایک کارڈ بھی آجائے گا تو پریس میں اس کی تشہیر یوں ہوگی کہ فلاں ملک کو فلاں تحریک نے بالکل مسخر کر لیا ہے۔ اگر کوئی خدمت حقیقت کے ترازو میں چھٹانک ہوگی تو پروپیگنڈے کی مشینری کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کو کم از کم من بھر دکھائے۔ اس جھوٹ اور مبالغہ آرائی کو موجودہ زمانہ میں ہمارے اہل سیاست نے اس طرح اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے کہ اب اس کے برائی ہونے کا شاید لوگوں کے اندر احساس بھی مردہ ہوگیا ہے۔ اس کوچہ میں بدنام تو اکیلا غریب گوئبلز ہے (اور اس کی یہ بدنامی بھی پروپیگنڈے ہی کا کرشمہ ہے) لیکن حقیقت اور انصاف یہ ہے کہ اس سیاست کے حمام میں سب کو گوئبلز ہی کے اسوہ کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ خواہ کوئی شخص دنیا کا نام لیتا ہوا اس میں داخل ہوا یا دین کا کلمہ پڑھتا ہوا داخل ہوا۔ 

اس جھوٹ اور مبالغہ ہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اپنے موافق کو مدح و توصیف سے آسمان پر پہنچایا جائے، اور جس کو مخالف قرار دے لیا جائے اس کے خلاف اتنے جھوٹ اور اتنی تہمتیں تراشی جائیں کہ وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہ جائے۔ اسلام میں تو مدح و ذم اور تعریف و ہجو دونوں کے لیے سخت حدود و قیود ہیں، اور کوئی شخص دین سے بے قید ہوئے بغیر اپنے آپ کو ان حدود و قیود سے آزاد نہیں کر سکتا۔ لیکن سیاست میں صرف ایک ہی اصول چلتا ہے، وہ یہ کہ اپنے موافق کو آسمان پر پہنچاؤ اور اپنے مخالف کو تحت الثرٰی میں گراؤ۔ اور اس مقصد کے لیے جس قسم کے جھوٹ اور جس نوع کے افترا کی ضرورت پیش آئے اس کو بے تکلف گھڑو اور بالکل بے خوف ہو کر اس کو لوگوں میں پھیلاؤ۔ صحیح اسلامی نقطہ نظر سے یہ بات کتنی ہی بے حیائی اور بے شرمی کی سمجھی جائے، لیکن اہل سیاست اپنی تحریکات کی کامیابی کے لیے اس چیز کو ناگزیر خیال کرتے ہیں، ان کے نزدیک اسی طرح وہ اشخاص اٹھتے ہیں جو تحریک کی گاڑی کو چلاتے ہیں، اور اسی طرح وہ اشخاص گرتے ہیں جو تحریک کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہ خفض و رفع کا فلسفہ ایک مستقل فلسفہ ہے جس کے تحت کتنے بے علم ہیں جو مولانا اور علامہ کا مقام حاصل کر لیتے ہیں، اور کتنے صاحب علم و تقویٰ ہیں جن کی پگڑیاں اچھلتی رہتی ہیں۔ 

پانچویں خصوصیت: مقصودِ حقیقی صرف فلاح اخروی

ایک اور چیز جو انبیاء علیہم السلام کے طریق کار کو عام اہل دنیا کے طریقہ ہائے کار سے نمایاں کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی تمام جدوجہد میں مطلوب و مقصود کی حیثیت صرف خدا کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس چیز کے سوا کوئی اور چیز ان کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی جدوجہد کی کامیابی سے اللہ کے دین کو اور دین کے لیے کام کرنے والوں کو دنیا میں بھی غلبہ اور تفوق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس بات کی دعوت کبھی نہیں دیتے کہ آؤ حکومت الٰہیہ قائم کرو یا اقتدار حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ بلکہ دعوت صرف اللہ کے دین پر چلنے اور اس پر چلانے ہی کی دیتے ہیں۔ اس لیے کہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے خدا کے دین پر چلنا اور اسی پر دوسروں کو بھی چلنے کی دعوت دینا شرط ضروری ہے۔

اس کے برعکس اہل سیاست کی ساری تگ و دو کا مقصود اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ وہ اسی اقتدار کے حصول کے لیے اپنی تنظیم کرتے ہیں، اور اسی کے لیے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہ مقصود ایک خاص دنیوی مقصود ہے لیکن بعض لوگ اس پر دین کا ملمع کر کے اس چیز کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ یہ اقتدار اپنے لیے نہیں چاہتے بلکہ خدا کے لیے یا اس کے دین کے لیے چاہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ ان کی نیتوں پر شبہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ خدا ہی کے لیے استعمال کریں، لیکن اس سے جدوجہد کا نصب العین بالکل تبدیل ہو جاتا ہے اور اس نصب العین کی تبدیلی کا جدوجہد کی مزاجی خصوصیات پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ سچ پوچھئے تو یہ نصب العین کی تبدیلی سارے کام ہی کو بالکل درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔

ہم جس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ اچھی طرح واضح اس طرح ہوتی ہے کہ اہل سیاست جس دنیوی اقتدار کے حصول کو تمام خیر و فلاح کا ضامن سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ دین کی خدمت کا کوئی کام بھی ان کے نزدیک اس وقت تک انجام ہی نہیں دیا جا سکتا جب تک اقتدار حاصل نہ ہو جائے۔ اس اقتدار کو انبیاء علیہم السلام نے اس نصب العین کے لیے نہایت خطرناک سمجھا ہے جس کے داعی وہ خود رہے ہیں۔ چنانچہ متعدد احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آپؐ نے صحابہؓ کو اس بات سے آگاہ فرمایا کہ میں تمہارے لیے فقر و غربت سے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا کی عزت و ثروت تمہیں حاصل ہوگی اور تم اس کے انہماک میں اصل نصب العین یعنی آخرت کو بھول جاؤ گے۔ آپ کا ارشاد ہے، خدا کی قسم میں تمہارے لیے فقر سے نہیں ڈرتا، بلکہ جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ دنیا جس طرح تم سے پہلے والوں کے لیے کھول دی گئی، اسی طرح تمہارے لیے بھی کھول دی جائے گی، پھر جس طرح وہ اس کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگئے، اسی طرح تم بھی اس کے لیے بھاگ دوڑ میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ پھر یہ تمہیں بھی اسی طرح ہلاک کر چھوڑے گی جس طرح اس نے تمہارے پہلوں کو ہلاک کر چھوڑا۔

مذکورہ حدیث سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد میں اصل مطمح نظر کی حیثیت آخرت کو حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کا اقتدار اس نصب العین کے لیے مفید بھی ہو سکتا ہے اور مضر بھی، بلکہ مضر ہونا زیادہ اقرب ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ انبیاء علیہم السلام کے طریقہ پر کام کرتے ہیں وہ اس اقتدار کو بھی خدا کی ایک بہت بڑی آزمائش سمجھتے ہیں، اور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جس طرح غربت اور فقر کے دور میں انہیں آخرت کے لیے کام کرنے کی توفیق حاصل ہوئی ہے، اسی طرح امارت و سیادت کے دور میں بھی اس نصب العین پر قائم رہنے کی سعادت حاصل ہو۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں اس امر کا کوئی ادنیٰ نشان بھی نہیں ملتا کہ اقتدار کو انہوں نے اصل نصب العین سمجھا ہو یا اصل نصب العین کے لیے اس کو کوئی بڑی سازگار چیز سمجھا ہو۔

ہماری اس تقریر سے کسی صاحب کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ رہبانیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہم رہبانیت کی دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تمام جدوجہد کا مقصود آخرت ہوتی ہے، وہ اسی کے لیے خلق خدا کو دعوت دیتے ہیں، اسی کے لیے لوگوں کو منظم کرتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں، اور اسی کے لیے مرتے ہیں، اسی چیز سے ان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے، اور اسی چیز پر اس کی انتہا ہوتی ہے، ان کی تمام سرگرمیوں میں محرک کی حیثیت بھی اسی چیز کو حاصل ہوتی ہے، اور غایت و مقصود کی حیثیت بھی اسی کو حاصل ہوتی ہے، وہ دنیا کو آخرت کے منافی نہیں قرار دیتے، بلکہ دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیتے ہیں۔ ان کی دعوت یہ نہیں ہوتی کہ لوگ دنیا کو چھوڑ دیں، بلکہ اس بات کے لیے ہوتی ہے کہ وہ اس دنیا کو آخرت کے لیے استعمال کریں۔

ان کے ہر کام پر ان کے اس نصب العین کے حاوی ہونے کا خاص اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں کسی ایسی چیز کو کبھی گوارا نہیں کرتے جو ان کے اس اعلیٰ نصب العین کی عزت و حرمت کو بٹہ لگانے والی ہو۔ ان کے مقصد کی طرح ان کے وسائل و ذرائع بھی نہایت پاکیزہ ہوتے ہیں۔ وہ کامیابی حاصل کرنے کی دھن میں کبھی ایسی چیزوں کا سہارا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، جن کی پاکیزگی مشتبہ اور مشکوک ہو۔ ان کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرنے والی میزان بھی چونکہ اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہے، اسی وجہ سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے معیارات بھی عام اہل سیاست کے معیارات سے بالکل مختلف ہیں۔ اہل سیاست کے ہاں تو کامیابی کا معیار ان کے نصب العین کے لحاظ سے یہ ہے کہ ان کو دنیا میں اقتدار حاصل ہو جائے۔ اگر یہ چیز ان کو حاصل نہ ہو سکے تو پھر وہ ناکام و نامراد ہیں، لیکن انبیاء کے طریقہ پر جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی کامیابی کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے کام کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ اسی حالت پر ان کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر یہ چیز ان کو حاصل ہوگئی تو وہ کامیاب ہیں، اگرچہ ان کے سایہ کے سوا کوئی ایک متنفس بھی اس دنیا میں ان کا ساتھ دینے والا نہ بن سکا ہو، اور اگر یہ چیز ان کو حاصل نہ ہو سکی تو وہ ناکام ہیں، اگرچہ انہوں نے تمام عرب و عجم کو اپنے اردگرد اکٹھا کر لیا ہو۔ 

بہرحال ہمارے نزدیک اسلام اور اسلامی زندگی کے احیاء کے لیے کام کرنے والوں کو اہل سیاست کے طریقوں سے کلیۃً پرہیز کرنا چاہیے۔ انہیں حصول اقتدار کی خواہش، ووٹ حاصل کرنے کی غرض اور سیاسی جوڑ توڑ کے ہر شعبہ سے پاک اور بالاتر ہو کر عوام کے پاس صرف ان کی خدمت اور ان کی مذہبی و اخلاقی اصلاح کے لیے جانا چاہیے۔ جو برائیاں اس وقت معاشرے میں عام ہو رہی ہیں ان کے دنیوی اور اخروی نقصانات دلسوزی اور ہمدردی کے ساتھ انہیں بتانے چاہئیں۔ جن فضول قسم کے مذہبی مناقشات میں اس وقت ہمارا دینی طبقہ الجھا ہوا ہے، علماء اور عوام دونوں کو ان کے مضر نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے، اور یہ کام ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو خود دینی رنگ میں گہرے طور پر رنگے ہوئے ہوں، اسلام کا نام محض ان کی زبانوں ہی پر نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں بھی اترا ہوا ہو، اور جو صرف لٹریچر اور پروپیگنڈے ہی کو حصول مقصود کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اپنے عمل اور اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیں۔

اس وقت کرنے کا کام 

اس وقت سب سے اہم کام کرنے کا یہ ہے کہ جدید فکر و فلسفہ کی بدولت اسلام کے خلاف خود مسلمانوں ہی کے ایک طبقہ کے اندر جو ذہنی اور عملی بغاوت پھل رہی ہے، اس کو روکنے کی ہر ممکن سعی کی جائے۔ اس کو روکنے کے لیے کوئی ہنگامی اور وقتی تدبیر کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایک سے زیادہ ایسے علمی و تحقیقی اداروں کی ضرورت ہے جو اسلام کی خدمت کے لیے ذہین اور صالح فطرت نوجوانوں کی تربیت بھی کریں اور جو ان تمام مسائل پر بلند پایہ علمی اور تحقیقی لٹریچر بھی تیار کریں جو مغربی فکر و فلسفہ کی فتنہ انگیزیوں سے اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اور جن سے ہمارا پورا جدید تعلیم یافتہ طبقہ اس وقت بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا اب ہمیں اعتراف کر لینا چاہیے کہ ہمارے موجودہ مذہبی طبقے کے اندر اس فتنہ کے مقابلہ کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ اس کام کے لیے، ایسے رجال فکر تیار کرنے کی ضرورت ہے، جو اسلام کی حمایت و مدافعت کے لیے جدید اسلحہ سے مسلح ہوں۔ اگر اس قسم کے اشخاص پیدا کرنے کا جلدی سے جلدی کوئی انتظام نہ ہوا تو ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس ملک میں اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ یہ بات اگرچہ نہایت ہی درد انگیز ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے، اس وجہ سے ہمیں کہنی پڑتی ہے، اور خاص طور پر اس وجہ سے کہنی پڑتی ہے کہ جس چیز پر اس ملک میں اسلام کا انحصار ہے، اس کے لیے کوئی عملی اقدام تو درکنار اب تک اس کا کوئی احساس بھی ہماری قوم کے اندر نہیں پایا جاتا۔ 

اس چیز کے مفید تر بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ یہ کام ایسے لوگوں کے ہاتھوں انجام پائے، جن پر کسی خاص پارٹی یا جماعت کا لیبل لگا ہوا نہ ہو ، تاکہ ہماری قوم کا ہر طبقہ بغیر کسی شک اور بد گمانی کے اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے کہ نہایت اعلیٰ مذہبی اور عملی خدمات محض اس وجہ سے شکوک اور بد گمانیوں کی نذر ہو جاتی ہیں، اور لوگوں کے اندر ان کے خلاف تعصبات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ان خدمات کے انجام دینے والوں پر کسی خاص پارٹی یا جماعت کا لیبل لگا ہوا ہوتا ہے۔ بعض حالات میں اس بدگمانی کے لیے نہایت معقول اسباب بھی ہوتے ہیں، تجربہ گواہ ہے کہ پارٹیوں اور جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہوجانے کے بعد پارٹی کے طرز فکر اور جماعت کے مخصوص رجحانات کا اتنا غلبہ ہو جاتا ہے کہ آدمی کے سوچنے کا انداز علمی کی بجائے بالکل سیاسی ہو جاتا ہے۔ اس کے متعلق یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس کے فکر کا کتنا حصہ بے آمیز اور خالص ہے اور کتنا اس کے اپنے جماعتی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ جماعتی عصبیت کے مریضوں نے حقائق کو مسخ کرنے اور ہر چیز کو (یہاں تک کہ اللہ و رسول کو بھی) اپنے رنگ میں دکھانے کی ایسی مکروہ کوششیں کی ہیں کہ ان کے کسی کام کو بھی جنبہ داری سے بالاتر سمجھنا مشکل ہوگیا ہے۔ 

ممکن ہے کسی کے ذہن میں اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہو کہ یہ فکر دینے والا گروہ اگر ہر قسم کی سیاسی تنظیمات سے بالکل الگ تھلگ رہے تو اس فکر سے اجتماعی زندگی متاثر کس طرح ہوگی اور اس سے کوئی انقلاب کس طرح رونما ہوگا؟ یہ شبہ جن لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ دنیا کے انقلابات کی تاریخ اور ان کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ یہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ جو اشخاص فکر دیں، وہی انقلاب کا چکر بھی گھمائیں، ایک صحت مند اور طاقت ور فکر خود اپنے حامی اور علمبردار پیدا کر لیتی ہے اور وقت آنے پر اس کے لیے کام کرنے اور اس کو عملاً برپا کر دینے والے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ روح انسانی آج جس چیز کے لیے بے چین ہے، آپ اس کے مہیا کرنے کا سامان کیجیے، اس میں اگر زندگی ہوگی تو قبرستان کے مردوں کو بھی اپنی حمایت میں اٹھ کھڑا کرے گی۔

ملک کے حالات پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ آج ہر چیز نہایت تیزی سے بدل رہی ہے، معاشرے کی اخلاقی و مذہبی حالت روز بروز گرتی جا رہی ہے۔ ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر مغربی رنگ چھائے جا رہا ہے۔ تعلیم میں، تمدن میں، معاشرت میں، معیشت میں مذہب کا عنصر کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ساری چیزیں قابل توجہ ہیں، اس دور میں اگر توجہ کی جائے، جبکہ ہر چیز ایک نئے سانچہ میں ڈھل رہی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی تشکیل میں کچھ حصہ اہل دین کا بھی شامل ہو جائے گا، لیکن جب ہر چیز ڈھل ڈھلا کر ایک خاص صورت قبول کر چکے گی اور ایک مخصوص ہیئت پر وہ پختہ ہو جائے گی تو اس وقت آپ کا متوجہ ہونا بالکل بعد از وقت ہوگا۔ آج تو یہ ممکن ہے کہ ایک بات ہمدردانہ مشورہ دینے ہی سے درست ہو جائے، لیکن کل جب کہ وہ پختہ ہو جائے گی تو سر دے کر بھی شاید آپ اس کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ 

اس مقصد کے لیے وسائل و ذرائع کا بھی سوال ہے اور ساتھ ہی اشخاص و رجال کا بھی۔ اس میں شبہ نہیں کہ پیش نظر کام کے لیے نہ تو موزوں آدمی ہی نظر آتے ہیں اور نہ ضرورت کے مطابق سرمایہ ہی حاصل ہونے کی موجودہ حالت میں کوئی امید بندھتی ہے۔ اس مشکل کے حل ہونے کی صرف ایک ہی تدبیر ہے وہ یہ کہ جو لوگ اس مقصد کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں، وہ باہم مل کر یکجہتی کے ساتھ کوئی جامع پروگرام بنائیں اور اپنی طاقتیں، اپنے وسائل، الگ الگ نشانوں پر ضائع کرنے کے بجائے ایک ہی نشانہ اور ایک ہی مرکز پر صرف کریں۔ اس ملک میں ایسے اصحاب وسائل ہیں جو اس مقصد کے لیے روپیہ صرف کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح ایسے اشخاص بھی ہیں جو اس نصب العین کے لیے اپنی قابلیتیں اور صلاحیتیں وقف کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کی راہ میں جو مشکل ہے، وہ یہ ہے کہ یہ سب کے سب اپنے اپنے مقامی بندھنوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس پابندی کے سبب سے ان سب کا باہم دگر جڑنا دشوار ہو رہا ہے اور آپس میں جڑے بغیر ان کا ایسی کوئی موثر طاقت بننا محال ہے جس سے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی مفید اور قابل ذکر خدمت انجام پا سکے۔ 

اگر یہی صورت حال قائم رہے تو یہ اسلام کے جتنے بھی درد مند ہیں، سب اپنے اخلاص اور اپنی درد مندی کے باوجود اپنی اپنی جگہوں پر یا تو ٹھنڈی آہیں بھرتے رہیں گے یا اپنے مال اور اپنی صلاحیتیں نہایت ہی حقیر کاموں پر ضائع کرتے رہیں گے جس سے اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔ اگر یہ حضرات فی الواقع اس دور غربت میں اسلام کی کوئی مفید خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو اس کی صرف ایک ہی راہ ہے، وہ یہ کہ سب لوگ اپنے مقامی علائق سے اپنے اپنے ذہنوں کو آزاد کر کے اس بات پر آمادہ ہو جائیں کہ باہمی مشورہ سے اسلام کی خدمت کے لیے اس وقت جو کام جس جگہ کرنا طے پا جائے گا، اپنے اپنے وسائل اور اپنی اپنی صلاحیتیں للہ و فی اللہ سب اس کی نذر کر دیں گے۔ اگر یہ شکل بن جائے تو ہم توقع رکھتے ہیں کہ معاشرہ کی اخلاقی و مذہبی اصلاح کا ایک نظام بھی قائم ہو سکتا ہے۔ وسیع پیمانہ پر ذی صلاحیت نوجوانوں کی تربیت کا ادارہ بھی قائم ہو سکتا ہے اور فکری اصلاح کے لیے تحقیقات اور ریسرچ کے کام بھی انجام دیے جا سکتے ہیں۔

سیرت و تاریخ

(نومبر ۲۰۱۳ء)

نومبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۱

الشریعہ اور ہائیڈ پارک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار
مولانا امین احسن اصلاحیؒ

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء
مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی

اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)
عرفان احمد

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Flag Counter