اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک

قاضی محمد رویس خان ایوبی

ترجمہ: قاضی محمد رویس خان ایوبی


۱۹۹۹ء میں Center For Study Of Islam And Democracy  مسلم اور غیر مسلم دانشوروں کے باہمی اشتراک سے قائم کیا گیا ۔ اس کا بنیادی مقصد اسلام او ر جمہوریت کے بارے میں تحقیقاتی مباحث تیار کرنا اور مسلمان ملکوں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے جدوجہد کرنا ہے اور یہ کہ دور جدید کی اسلامی جمہوری ریاست کا قیام کس طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اس ادارہ کے زیر اہتمام مختلف اوقات میں تربیتی ، تحقیقاتی ، پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں جن کا موضوع اسلام اور حقوق انسانی اور امن عالم ہوتا ہے۔ یہ ادارہ ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف ہے کہ عالم اسلام اور امریکہ دنیا میں قیام امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ راقم الحروف کو اس ادارے کے زیر اہتمام ۱۸؍جون ۲۰۰۲ء کو منعقد ہونے والے سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کی رپورٹ کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔ (مترجم)


جمہوریت اور اسلام 

تمہید : عموماً لوگوں میں یہ خیال عا م طو ر پر پایا جاتا ہے کہ جمہوریت ایک مغربی اصطلاح ہے۔ اسے مذہبی اعتبار سے سیاسی اعتبا ر سے بھی مغرب ہی کے مفکرین نے پروان چڑھایا اوریہی وجہ ہے کہ جمہوریت اسلام کی تعلیمات اور اس کے بنیادی عقائد سے قطعی طور پر ایک مختلف نظام حکومت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربیت کے اس لیبل کی وجہ سے جمہوریت کو دنیا میں پچپن (۵۵) اسلامی ممالک کے کروڑوں باشندوں میں مقبولیت حاصل نہ ہوسکی اور اکثر اسلامی ممالک جبرواستبداد اور آمریت کے خوفناک شکنجے میں کسے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی گئی ہے کہ تم جمہوریت چاہتے ہو یا سلام؟ گویا جمہوریت اوراسلام دو متضاد نظام ہیں جو اکٹھے نہیں چل سکتے ۔ علامہ رضوان معموری نے اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام اور جمہوریت میں کوئی تضاد نہیں ۔ اسلام کے سیاسی ضوابط اور جمہوریت میں تضاد ہے۔ بلکہ اس کے متعدد عوامل ہیں، تاریخی، اقتصادی، سیاسی ، ثقافتی عوامل نے ہی اسلامی ممالک کو جمہوریت کی راہ پر نہیں چلنے دیا۔ دین اسلام جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم مذکورہ بالاعوامل کی باریکیوں پر بحث کرتے رہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وہ ذرائع اور اسلوب اختیار کریں جن کے ذریعے ہم موجودہ صورتحال سے نکل سکیں۔ امریکی شہری ہونے کے ناطے اور امریکن مسلمان ہونے کے ناطے وہ کون سے وسائل ہیں جنہیں اختیار کرکے ہم اسلامی ممالک میں جمہوری عمل کو فروغ د ے سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ ان تمام مسلمان اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دے گی جو امریکی مفادات کو اپنے ملکوں میں تحفظ فراہم کریں گے۔ قطع نظر اس بات کے کہ ان کی انسانی حقوق اور جمہوری اداروں او ر سیاسی امور کی پالیسیاں کس ڈگر پر چل رہی ہیں؟ 

معموری نے اپنے مقالہ میں استفسار کیا ہے کہ’’ ہم نے اس بات پر سمجھوتہ کر لیا ہے کہ ہم اس وقت تک عالم اسلام کے ان جابر حکمرانوں کی پشت پناہی کرتے رہیں گے۔ جب تک وہ امریکی مفادات کے لیے کام کرتے رہیں گے اور ہمارے بندہ بے دام بن کر ہماری ہاں میں ملاتے رہیں گے۔ لیکن اس سیاست کے اسلامی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟کیا یہ ممکن نہیں کہ اس طرح کی سودے بازی امریکہ کے خلاف مزید نفرتوں اور دشمنیوں اور دہشت گردی کو فروغ دے گی؟ اور اگر ہم اس طرز عمل کو بد ل ڈالیں اور اسلامی دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کریں تو کیا اس صورت میںیہ ممکن ہے کہ جمہوری عمل کا قیا م پر امن طریقے سے عمل میں لایا جائے اور اسلامی دنیا میں اس تبدیلی سے مقامی وملکی حالات میں کوئی گڑبڑ اور فساد نہ ہو؟ اور زمام حکومت انتہاء پسندوں کے ہاتھ چلی جائے۔ کیا استحکام اور جمہوریت میں سے ہم کسے اختیار کریں تاکہ ہمارے مقاصد پورے ہو سکیں یا کوئی اور ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کسی فتنہ وفساد کے بغیر جمہوریت کو فروغ دیا جا سکے۔ 

مسلم دنیا میں جمہوریت کے لیے مشکلات 

لیث lath cobbaنے اپنی تقریر میں واضح کیا ہے کہ اسلامی ممالک میں جمہوریت کی بحالی ایک مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ کسی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور ترقی پسند اداروں کا قیام اور نچلی سطح سے تبدیلی کا آغاز نہایت سست رفتاری سے اور نہایت محدود طریقے سے ہوتا ہے۔ جمہوری اقدار تاہنوز ظلم وجبر او رروایتی کلچر کو اسلامی ممالک سے ختم نہیں کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں فوجی ٹولہ، چند سرمایہ دار، قبائلی سردار اور رجعت پسند لیڈر ہی کرسی اقتدار پر ہمہ وقت براجمان رہتے ہیں۔ اس کے برعکس مغربی ممالک میں سیاسی تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سرکاری مناصب کا غلط استعمال بہت کم ہوتا ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثر اسلامی ممالک بالکل جمود کی حالت میں ہیں جو ممالک بددیانت بیوروکریسی اور ظالم ڈکٹیٹر شپ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ وہاں کسی قسم کی اصلاح اور تبدیلی ناممکن ہے جس کا نتیجہ جوابی تشدد اور انتہاپسندی ہے۔ اس طرح اسلام کے نام پر لادین عناصر سیاست کا کاروبار کر رہے ہیں، جبکہ معتدل اسلا می جماعتیں جوکہ لوگوں کوقابل قبول ہیں۔ وہ مذکورہ بالافوجی سرداروں اور نسلی اقتدار پرستوں کے ظلم وجبر کا شکار ہیں۔ 

لیث کبہ نے زور دے کر کہا کہ ’’ بیشتر اسلامی ممالک اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے لوگ پوری قوت سے جدید تہذیب، ترقی اور منتشر وسائل کو مجتمع کر نے کی جدوجہد کر ر ہے ہیں اور مقامی اقوام کی خواہشات کو شاندار مستقبل سے وابستہ کرکے ایک مرکزی حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ جہاں اصلاحات کا آغاز اوپر سے فرسودہ نظام سے نچلی سطح تک لاکر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ بہت سارے سیاسی مفکرین کا خیال ہے کہ یہی وہ بہترین طریقہ ہے جس سے ہم جمہوری انداز میں تعمیر وترقی کے زینے پر چڑھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کام کے لیے پیچیدہ اورمشکل آغاز سے راہ فرار اختیار کرنا ناممکن نہ ہوگا۔ اس کام کے لیے ایک ایسا نظام متعارف کروانا ہوگا جہاں متعدد تنظیمیں سرگرم عمل ہوں اور پبلک کا عام آدمی بھی بھر پور شرکت کرسکے ۔ نیز اس کے لیے فرد کی مکمل آزادی اور لبرل ازم کو فروغ دینا ہوگا۔ 

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لادین قوتوں نے معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے میں قطعی طور پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۷۹ء میں ایرانی انقلاب نے لوگوں کی توجہ اسلام پسند قوتوں کی طرف مبذول کردی۔ اس وقت سے اسلام جو کہ ہر معاشرے میں جذب ہونے اور معاشرتی اقدار کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر اپوزیشن اور برسراقتدار گروہ کے ہاتھ لگ گیا، تجدد پسند گروہ ہوںیا قدامت پرست، دونوں نے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بایاں بازو اور دایاں بازو، دونوں اسے ایک سیاسی نظام سمجھنے لگے۔ علاوہ ازیں تمام اسلامی تحریکیں ایک لادینی نظام کے بجائے اسلامی سیاسی نظام کے لیے کوشاں ہو گئیں۔ تاہم ان کے افکار وجمہوریت اور آمریت کے بارے میں مختلف ہیں۔ گزشتہ دو عشروں میں تعلیم یافتہ مسلمان جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں مصروف ہیں، کیونکہ اشتراکیت کا بوریا بستر گول ہوگیا ہے اوراب میدان خالی ہے۔ لادین نظام حکومت اور اسلامی ادارے اقتصادی، اجتماعی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہے۔ یہ جدید طرز فکر صرف تعمیر وترقی کی طرف گامزن کرنے کے لیے نہیں بلکہ اصل جدوجہد اسلامی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ 

کبہ کے خیال میں اسلامی دنیا میں جمہوریت کے معدوم ہونے کے اسباب صرف مسلمانوں کے کردار کا مطالعہ سے معلوم نہیں کیے جاسکتے بلکہ ان کی ثقافتی ، تمدنی اور سیاسی ضروریات پر گہرا غور وخوض کرنے کے بعد ہی معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام کو ریاست اور دین معاشرت سب کے لیے یکساں طور پر بغیرکسی نظم وضبط اور ترتیب کے شافی علاج قرار دینااس کی صورت کی مسخ کر دینے کے مترادف ہے۔ اگرچہ مذکورہ مشکلات کے حل کے لیے ہمیں کسی حد تک اسلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور اس کے مختلف مسلک کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ تاہم مسلمانوں کے اہم اور بڑے بڑے مسائل کاتعلق اسلام سے نہیں بلکہ خود مسلم کمیونٹی سے ہے۔ ان مسائل کومذہب کے ساتھ نتھی کرنے سے ہی دراصل مشکلات پیداہوتی ہیں اور یہ مسائل جدید تمدنی انقلاب نے پیدا کیے ہیں۔ اسلام صرف ایک عنصر ہے ان مجموعی عناصر میں سے جن سے اسلام کی اورمسلمانوں کی تاریخ اور تمدن اور ثقافت وجود میں آئی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس وقت ۵۵ اسلامی ممالک ہیں۔ ان میں اکثر کا تمدن وثقافت زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے جو کہ جغرافیائی اعتبار سے دنیاکے مختلف خطوں میں واقع ہیں، لیکن اس کے باوجود ان ممالک کے باشندے اسلامی تعلیمات کی تاثیر رکھتے ہیں۔ ثقافتی اعتبار سے یہ ایک دوسرے سے اسی طرح مختلف ہیں جس طرح عیسائی مذہب والے لوگ لاطینی امریکہ سے لے کر فلپائن تک مختلف ثقافتی اقدار کے مالک ہیں۔ اگرچہ اسلامی ممالک کی مجموعی صورتحال حوصلہ افزا نہیں تاہم مسٹر کبہ کے خیال میں تعلیمی معیار بلند کرنے سے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا کے ذریعے اسلامی معاشرے میں تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں جو کہ مختلف ثقافتی اقدار کو اسلامی معاشرے میں منتقل کر رہا ہے، جب کہ اسلامی ریاستیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوں اور اصحاب اقتدار اور رعیت کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ 

کب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ہم مستقبل سے مایوس نہیں ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ اگر اس طرح کے مذاکرات اور سیمینار جاری رہے تو اسلامی دنیا کو اسلامی تمدن کے باقی رکھتے ہوئے جدید خطوط پر استوار کیاجا سکتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے مذاکرات سے ہم اسلامی دنیا میں جمہوریت کے قیام اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے کام کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مقامی حالات کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔ 

اسلام اور جمہوریت میں مطابقت 

مسٹر مقتدر خان نے اپنے خطاب میں اس نظریے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا کہ اسلامی دنیا میں جمہوریت سرے سے نہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ ۷۵فی صد مسلمان بنگلہ دیش ، ہندوستان، انڈونیشیا ، یورپ، شمالی امریکہ، اسرائیل، ایران وغیرہ میں جمہوری اداروں کے تحت ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر مزید اضافہ کر لیجیے کہ اسلامی تاریخ میں ہمیں علماء دین کو کشمکش اقتدار میں شریک ہوتے نہیں دیکھا، سوائے ایران کے انقلاب کے، جبکہ گزشتہ پندرہ سو سال سے ظہور اسلام سے لے کر آج تک اسلامی ممالک میں اقتدار سیکولر منتخب لوگوں کے ہاتھوں میں رہا۔ 

اسلام اور جمہوریت کے درمیان عدم مطابقت کا دعوی بالکل دو متضاد فکر رکھنے والے گروپوں کے درمیان تنازعہ ہے۔ بعض مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ اسلامی بنیادی طورپر جمہوری نظام کے خلاف ہے اور یہ مذہب دراصل استبدادی نظام پر استوار ہے جس سے دراصل یہ ثابت کرنا مقصو د ہے کہ اسلام کی اصل تصویر کو مسخ کردیاجائے اور بتایاجائے کہ مغربی لبرل ازم کے مقابلے میں اسلام کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ اسلام جدید تمدن اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس فکر کے حاملین دراصل اسرائیل کے گماشتے ہیں جو یہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں صرف اسرائیل ہی جمہوریت کاعلم بردار ہے۔ دوسری طرف بہت سارے جدید فکر کے حامل مسلمان لادین حکومت اور اقتدار کو غلط معانی پہنا لیتے ہیں تاکہ جمہوریت کی نفی کی جاسکے تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایاجا سکے کہ عوام کی حکومت دراصل حاکمیت الٰہیہ کے مقابلہ میں گھڑی گئی ہے جوکہ سراسر شرک ہے جبکہ ان کا یہ خیال قطعی طور پر غلط ہے کہ لادین حکومت اور جمہوریت دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ جب کہ سیدھی سی بات ہے کہ جمہوریت اورسیکولرازم لازم وملزوم نہیں اور ضروری نہیں کہ ایک جمہوری حکومت لادین حکومت ہو۔ عین ممکن ہے کہ دین جمہوری حکومت میں اہم کردار ادا کرے جیساکہ اہم امریکہ میں دیکھتے ہیں۔ 

مسٹر خان نے اپنے خطبہ میں یاد دلایا کہ مسلم مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ شورائی نظام اسلام کی اساس ہے۔ تاہم نظام شورائیت اور جمہوریت میں بعض اختلافات موجود ہیں۔ مثلاً ’’شوریٰ‘‘ کانظام یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے سے قبل باہمی مشاورت کرنا ہے اور ایساکرنا واجب ہے۔ کیوں کہ قرآن کریم میں ارشاد ’’وشاورہم فی الامر‘‘ امروجوب کے لیے ہے، لہٰذا شوریٰ کے ’’ مشورہ‘‘ کے بغیرکوئی فیصلہ قابل عمل نہ ہوگا اور شوری کے فیصلوں پر عمل کرنا واجب ہوگا۔ جب کہ دوسرا گروہ قرآن کی دوسری آیت سے استدلال کرتا ہے کہ ’’امرہم شوری بینہم‘‘۔ مشورہ کرنا چاہیے، لیکن مجلس شوریٰ کے فیصلے پرعمل درآمد ضروری نہیں ۔ لہٰذا اساسی طور رپر شوریٰ نظام حکومت کاحصہ توہے لیکن بعض کے نزدیک اس کی حیثیت صرف مشاورت کی ہے۔ نفاذ کااختیار شوریٰ کونہیں اور بعض کے نزدیک شوریٰ کا فیصلہ بہرطور نافذ ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی قسم کے سرکاری فیصلوں کے لیے شوری کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن کیا حکومت شوریٰ کے فیصلوں کی پابند ہے اور کیا شوریٰ کے فیصلوں سے انحراف کرنے والی حکومت غیر قانونی حکومت کہلائے گی؟ سر دست ان سوالوں کا جواب کافی مشکل ہے۔ 

بہت سے مفکرین یہ کہتے ہیں کہ شوریٰ نظام سے بہتر نظام ہے، لیکن فقہاے اسلام کا موقف اس سلسلہ میں واضح نہیں ۔ ان میں بہت سے فقہا غیر شورائی نظام کو درست سمجھتے ہیں تاکہ انہیں روزگار کی سہولتیں حاصل رہیں اور آمرانہ حکومتوں نے ان کو جو سہولتیں دے رکھی ہیں وہ برقرار رہیں۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ شورائی نظام جمہوری نظام کی تائید کرتا ہے تاہم یہ کہنامشکل ہوگاکہ شورائی نظام اور جمہوری نظام ایک ہیں۔ 

مسٹر خان کا خیال ہے کہ ہمیں اس میدان میں مسلسل فکری کاوشوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم شورائی نظام کے مزاج اور اس کے جمہوری نظام سے تعلق کی حد بندی کر سکیں اور یہ معلوم کرسکیں کہ اس کااسلام کے اساسی نظام سے کیا تعلق ہے۔ مسٹر خان نے زور دے کر کہاکہ اب میدان سیاست میں بے شمار تحریکیں کود پڑی ہیں جن کی نظر میں اسلامی اقتدار بنیادی نقطہ ہے اور ان کے خیال میں جمہوری نظام کاقیام اور اسلامی نظام کا قیام دو متضاد نظریے ہیں۔ قرآن کریم میں اقتدار کا مفہوم کسی خاص جغرافیائی حدبندی کا متقاضی نہیں، بلکہ وہ بشری توسط سے ایک با لاتر چیز ہے۔ یہ ایک ایسا کامل نظام ہے جس کو تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ یہ ایک انسانی نظام بھی ہے جسے انسانیت سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کا مفہوم کلی یہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور قانون سازی کا حق بھی صرف اللہ ہی کو ہے۔ ریاست اور خلیفہ صرف اس کے نفاذ کے وسائل ہیں جنہیں جزوی طور پر نفاذ قانون کی ذمہ داریاں پورا کرنا ہیں ۔ فکری اعتبار سے جدت پسندی اور اسلامی حاکمیت کے تصور میں کوئی فرق نہیں، تاہم عملی اعتبار سے اس میں خاصا اضطراب ہے۔

اسلامی ممالک کی نوجوان نسل کا خیال ہے کہ جمہوریت اس نظام حکومت کا نام ہے جس میں قوانین کا نفاذ اور ان کا صدور انسانی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے جب کہ اسلامی مبادیات اور اس کی اساس قوانین الٰہیہ پر مشتمل ہے جس چیز کو یہ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ جمہوریت دراصل حکومت کے جبرواستبداد کے روکنے کا راستہ ہے۔ اس کا تعلق صرف قانون سازی سے نہیں۔ فکری اعتبارسے اقتدار اور حکومت کس کاکام ہے۔ قطع نظر اس بات کے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عملاً ملک کے اندر حکومت ہی تمام تبدیلیاں لاتی ہے۔ مثلاً افغانستان میں طالبان نے حکومت الٰہیہ کاقیام کا اعلان کیا، لیکن عملی طور پر تو خود طالبان ہی تمام نظام کو کنٹرول کر رہے تھے اور وہاں کی حاکمیت ملا عمر کی تھی۔ خدا خود تو حکومت نہیں چلا رہا تھا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ حکومت چلانا بندوں کا کام ہے چاہے وہ جمہوری نظام ہو یا اسلامی نظام۔ پس سوال یہ نہیں کہ انسان کو حکومت کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی حکومت کو ہم کس طرح قوانین کاپابند کر سکتے ہیں کیوں کہ اسلامی نظام حکومت ہو یا جمہوری ، بہرحال دونوں نظاموں میں فیصلہ صادر کرنے کا اختیار بندوں کے پاس ہوتا ہے۔ 

جمہوریت ایک ایسانظام ہے جس کی غرض وغایت حکومت کے اختیارات کو محدود کرنا، ریاستی ذمہ داریوں کابوجھ اٹھانا اور اختیار واقتدار میں توازن برقرار رکھنا عدلیہ کوانتظامیہ سے الگ کرنا ؍رکھنا اور صاف ستھرے فیصلہ صادر کرنا اور ناجائز اختیارات کوپوری قوت سے استعمال کرناہے۔ اسلامی دنیا کے مطلق العنان انسانی حکمرانوں اور فوجی طالع آزماؤں او ر ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کور اہ راست پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی آمریت کونہ صرف محدود کیا جائے بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ 

ڈاکٹر خان نے کہا کہ اسلامی نظام میں انسان خداکانمائندہ ہے جو اس کے دیے ہوئے قوانین کو نافذ کرنے کا پابند ہے۔ وہ خود شارع نہیں کہ اپنی مرضی سے تشریع (قانون سازی) کرتا پھرے۔ اسلامی نظام کا اصل ہدف یہ ہے کہ نوع انسانی کی بھلائی کے لیے خدا کی طرف سے دی گئی امانت اقتدار کوکس طرح استعمال کیا جائے کہ انسانیت کا مستقبل اور حال روشن ہو۔ ہماری اس دنیا میں حقیقی حکومت تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ انسان تو صرف اس کی حاکمیت کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے اس کا نمائندہ ہے۔ حکومت انیبیہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آمراور بادشاہ ایسے جبرواستبداد کو فروغ دیں جس سے نوع انسانی بلبلا اٹھے اور یہ ظالم محض اللہ کے نام پر استحصال کرتے رہیں اور کسی کے سامنے بھی جواب دہ نہ ہوں۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کہ اسلامی جمہوری نظام کاایک مکمل نمونہ نظر آتی ہے جیساکہ آپ میثاق مدینہ کے احکامات میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ۶۲۲ ء میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد نقشہ عالم میں پہلی مرتبہ اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی آپ ہی اس ریاست کے سربراہ تھے۔ آپ ہی امت اسلامیہ کے قائد اور رہنماتھے۔ آپ ہی سیاسی لیڈرتھے۔ مسلسل دس سال تک مدینہ کے تین سیاسی اور مذہبی عناصر کوساتھ لے کر چلتے رہے ۔ مہاجرین ، انصار، یہود اگر چہ میثاق مدینہ کو دورحاضر کے نقطہ نظر سے ریاستی دستور کانام نہیں دیا جاسکتا، تاہم یہ میثاق دور حاضر میں ایک شاندار گائیڈ کا کام دے سکتا ہے۔ 

میثاق مدینہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آسمانی ہدایت اور زمینی دستور میں کس طرح توازن رکھاجا سکتا ہے۔ یہ بات ممکن تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کوحکم دیتے کہ جو کچھ بذریعہ وحی نازل ہوگا اس کا تسلیم کرناسب پر واجب ہوگا اور ہر غیر مسلم وحی آسمانی پر پابند ہوگا، لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمہوری روح پیدا کرنے کے لیے میثاق مدینہ ، اصحابؓ کے مشورہ سے تحریر فرمایا جس پر یہود کے دستخط بھی تھے اور مسلمان زعما کے دستخط بھی۔ یہ طرز فکر آج کل مسلمانوں میں مفقود ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرریاست مدینہ کے لیے وحی آسمانی کو دستور قرار دیا تو عین اسی وقت مدینہ میں رہنے والے تمام انسانوں کوبھی میثاق مدینہ کے ذریعے اس ریاست کے معزز شہری کی حیثیت دی، قطع نظر اس کے کسی کامذہب کیا ہے۔ اس میثاق سے ایک سوشل ویلفیئر ریاست وجود میں آئی جس میں ؟؟ نے بلا لحاظ مذہب اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح اپنا حاکم تسلیم کیا، جس طرح مسلمانوں نے۔ کاش کہ آج بھی مسلمان حکمران اسی طرز عمل کو اپناتے تو انہیں ذلت اور خواری اور عوام دشمنی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ 

میثاق مدینہ عوام کی مرضی اور حکومت اور عوام مسلم دونوں کومساوی حقوق حاصل تھے۔ تمام مذاہب کو اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اعمال کرنے کی اجازت تھی۔ مساوات ، عوامی رائے کا احترام، مختلف النوع افراد او ر قبائل کا باہمی اتفاق واتحاد میثاق مدینہ کی روح تھی۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بلند ترین اخلاقی اقدار کی حامل تھی۔ درگزر، معافی، رحمت اور شفقت کا اعلی ترین نمونہ تھی جبکہ موجودہ میں بعض لوگ قرآن کی تشریح کرتے ہوئے ان اعلیٰ اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے محض جبروتشدد ہی کو اسلام سمجھنے لگے ہیں۔ یہ غلط اور محض غلط الزام تراشی ہے جیسے طالبان نے افغانستان میں کیا۔ 

اسلام اور انسانی حقوق

انسانی حقوق کے اعتبار سے ہم مسلم مفکرین کوتین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ 

پہلی قسم وہ لوگ ہیں جواسلام کی ان اقدار پر سختی سے کاربند رہناچاہتے ہیں جوانہیں اسلام کے ابتدائی یا درمیانی د ور میں ملتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرہ افراد کے مجموعے کانام ہے ۔ اگر فرد درست نہ ہوں گے تو معاشرہ درست نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک عورت کاحجاب اور اس کابے باک نگاہوں سے مردوں کے سامنے آنا بھی معاشرہ میں فساد کا سبب ہے۔ یہ لوگ دعوت دین کے معاملے میں بھی لگی بندھی روایتی رسومات کے پابند ہیں ۔ ایسے لوگوں کاکہناہے کہ مغربی دنیا اسلامی حقوق کے نام پر اسلامی دنیا پر قبضہ کے خواب دیکھتی ہے۔ اس کو انسانی حقوق سے زیادہ اسلامی دنیا کے مادی وسائل پر قبضہ سے دلچسپی ہے تاکہ اسلامی معاشرے کوانسانی حقوق کی خوبصورت چھتری مہیا کر کے اسے دینی بندھنوں سے آزاد کرکے آوارہ ،جنس پرست بنا کر ان کے وسائل ہتھیالیے جائیں۔ یہ گروہ اس اعلان کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جس کی دفعہ ۱۶، ۱۸ میں میاں بیوی کو برابر کے حقوق دیے گئے ہیں، جن میں کہا گیاہے کہ میاں بیوی دونوں کوحقوق حاصل ہے کہ وہ جو دین بھی اختیار کریں، ان پر کوئی پابندی نہیں۔ بالخصوص عورتوں کے سلسلہ میں بنائے گئے بین الاقوامی قوانین جن میں مردو زن کی کلی مساوات کا ذکرہے، اسے یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ خاص طور پر ان کے نزدیک کسی عورت کو کسی غیرمسلم سے شادی کاحق نہیں۔ ان کے نزدیک جو شخص اسلام کو ترک کر کے کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے، واجب القتل ہے۔ اس گروہ کے لوگ اس امر کو نہیں مانتے کہ ’’عقل‘‘ اخلاقی اقدار کا مصدر رہے بلکہ ان کے نزدیک قدیم ورثہ مذہب ہی اصل ہے اور ہمیں اپنی وراثت قدیمہ کوترک نہیں کرنا چاہیے ۔اس گروہ کے دورحاضر کے سرخیل حسب ذیل حضرات ہیں: ابوالاعلیٰ مودودی (م۱۹۷۹ء)، حسن البناء، سید قطب (۱۹۶۶ء)، امام خمینی (م ۱۹۸۹ء) ۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور جدید افکار ونظریات کے ذریعے اصلاحات کا عمل دورحاضر کے مطابق جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ غیر اسلامی اوراسلامی افکار میں تفریق کے قائل نہیں۔ ان کے خیال میں ترقی کے لیے اسلامی حدود میں رہ کر ہر طرح کے وسائل اختیار کرنا درست ہے۔ یہ لوگ اسلامی مبادیات کے تحفظ کی بات بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کا خیال بھی ہے کہ اسلامی روایات تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہیں جدید معاشرے کے مطابق ڈھالنے کے لیے تبدیلی ضروری ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کو وقتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے ۔اس اختلاف کاتجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اصلاح پسندوں کے خیال میں قدامت پسند طبقہ جن قوانین کو قانون الٰہی کا درجہ دیتا ہے، یہ اصل میں مختلف اسلامی مفکرین کی تعبیرات ہیں جنہیں اسلامی قانون کا درجہ دے دیا گیا ہے جب کہ علم الٰہی کے ماہرین کی تعداد بہت کم تھی جنہوں نے بہت عرصہ قبل ان تشریحات کو مدون کر دیا تھا۔ سروش نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ دین کی نصوص کی تشریح کے سلسلے میں کسی ایک فرقہ کی اجارہ داری یا کسی جماعت، گروہ، فرد کی اجارہ داری کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ،بلکہ اس سلسلہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء دین اور دیگر مفکرین اور دانش وروں کے درمیان کھلے عام کھلے ذہن کے ساتھ بحث وتمحیص ہو۔ سروش کے خیال میں انسانی حقوق کے مسائل کا فقہی معاملات سے رسمی سا تعلق ہے۔ انسانی حقوق کا تعلق تو فلسفہ، علم کلام، یعنی عقل ، آزادی فکر اور اسلامی جمہوریت سے ہے۔ (عبدالکریم سروش کے مضامین، جامعہ آکسفورڈ نمبر ۱۲۸ )۔

سروش اپنے مضامین میں باربار اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ بعض معاملات ایسے ہیں جنہیں مذہب سے اخذ نہیں کیا جا سکتا ۔ انہی معاملات میں سے انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔ اس دین کی زبان اور قانون دین کی زبان فرائض وواجبات، Dutiesکی زبان ہے۔ اس میں حقوق کا کوئی تذکرہ نہیں، جب کہ شیخ راشد غنوشی جو کہ تونس میں اسلامی انقلاب کے قائد ہیں، ان کا خیال ہے کہ ہمیں ایسی جمہوریت ایسی آزادی فکر کی ضرورت ہے جوکہ امت اسلامیہ کوپستی اور غیر ترقی یافتہ اقوام کی صف سے نکال کر ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا کرسکے، لیکن یہ آزادی فکری اور یہ جمہوریت اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ فرد کے ساتھ معاشرہ مجموعی طور پر وہ اصلی زمینی حقیقت ہے جس کے بغیر کسی قسم کے تصورات کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ۔ جمہوریت، آزادی، دو ایسے وسیلے ہیں جنہیں اختیار کر کے امت مسلمہ اپنی خودمختاری اور اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔ ( اسلام اور جمہوریت سیکولرازم کا چیلنج جلد ۷ ، شمارہ ۲۰، ص ۶، ۱۹۹۶ء ) 

تیسری قسم ان مسلمانوں کی ہے جو کہ مسلمان تو ہیں مگر سیکولرازم کے قائل ہیں جن کے خیال میں مغربی سیکولرازم کو اپناکر مسلم قوم کو ترقی سے ہم کنار کیا جا سکتا ہے ۔ یہ گروہ دنیا میں ہونے والی عملی تبدیلیوں اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کرنے کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں شرعی قوانین کو انسانی قوانین کی جگہ نافذ کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ان کے خیال میں اسلام کے سیاسی نظام شوریٰ اور بیعت خلافت نے فرد کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کیا اور نہ اس نظام میں ایساکرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس نظام میں لوگوں کوحکومت کامحاسبہ کرنے کاحق حاصل ہے۔ یہی وہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام میں لادین قوتیں ہی بر سراقتدار ہیں۔ 

ایران ۱۹۷۹ء سے، سوڈان ۱۹۸۹ء اور طالبان حکومت ۱۹۹۵ء سے (جو کہ اب ختم ہو چکی ہے) صرف یہی حکومتیں مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔ باقی سارا عالم دین لادین عناصرکے زیر تسلط ہے۔ (یہ کہنا غلط ہے اس لیے کہ برائے نام ہی سہی، پاکستان ؍ آزاد کشمیر ، یمن، سعودی عرب، میں بھی کسی حد تک اسلامی نظام قائم ہے اوران ملکوں میں اسلام کو نہ صرف سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے بلکہ بہت سارے اسلامی قوانین بھی نافذ ہیں۔ مترجم)

اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ نوجوان طبقہ قدامت پسندوں اور تجدد پسندوں اور لادین عناصر کے درمیان پس رہا ہے اور اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ وہ کدھر جائے جبکہ اس کا سیاسی نظام افرا تفری کا شکار ہے۔ لہٰذا انسانی حقوق کا مسئلہ اسلامی دنیا میں دینی مسئلہ نہیں اور نہ یہ فلسفیانہ علم کلام سے حل ہوگا۔ یہ خالص سیاسی مسئلہ ہے۔ 

مسلمان جن خطرات سے دو چارہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں: 

سیاسی ، ثقافتی ، اقتصادی اور تعلیمی ترقی کاایک مربوط نظام ان کے ہاں مفقود ہے۔ جب کہ دنیا انگڑائی لے کر اٹھ چکی ہے اور نئے افق دنیا کے سامنے روشن ہیں، جبکہ مسلمان دنیا اس کے صرف خواب دیکھ رہی ہے۔ نوجوان، خواتین کی تنظیمیں، صحافتی حلقے، تعلیم یافتہ طبقہ اور اصلاح پسند علماء دورحاضر کو ترقی وتمدن کا دور سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہمیں بین الاقوامی دھارے میں شامل ہو کر ہی ترقی کی منازل نصیب ہو سکتی ہیں۔ 

باوجود اس کے اسلامی دنیا میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، تاہم کچھ خواتین تنظیمیں اپنے نسوانی حقوق کے حوالے سے علم بغاوت بلند کر چکی ہیں اور فرسودہ نظام سے چھٹکارے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ نوجوانوں کی کچھ تنظیمیں بھی حکومتوں کے ظلم واستبداد کے خلاف آواز بلند کرتی نظر آئی ہیں ۔ا ن تحریکوں سے یہ امر سامنے آجاتا ہے کہ انسانی حقوق کے حصول کے لیے یہ تحریکیں نہایت موثر کردار ادا کریں گی۔ 

منشی پوری ( ایک محقق تجدد پسند عالم) کہتا ہے کہ مسلمان دانشوروں کو چاہیے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو دور حاضر کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اسلامی نظام اور عقائد اقوام متحدہ کے منظور شدہ چارٹر کے مطابق دیے گئے انسانی حقوق سے متصادم نہیں۔ مغربی دنیا کافرض ہے کہ وہ ایسے مسلم دانشوروں کی سرپرستی کرے اور اصلاح پسندوں کی ہر طرح امداد کرے اور حقوق انسانی کے حوالے سے ایسی تحریکوں کو بین الاقوامی دھارے میں شامل کرے ۔ منشی پوری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اسلامی دنیامیں انسانی حقوق کی پامالی میں اسلام کا کوئی کردار نہیں۔ یہ تو مسلم دنیا کے اقتصادی اور معاشی مسائل کے سبب پیدا ہوئی ہے۔ نیز انسانی حقوق کے حصول میں ناکامی یا کامیابی کا تعلق مقامی حالات سے ہے۔ امت مسلمہ کے صاحبان اقتدار کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی طرف توجہ کواولیت دیں۔ 

یہ نکتہ بھی قابل اعتراض ہے کہ جن ملکوں میں جبر واستبداد ریاستی سرپرستی میں ہوتا ہے اور جہاں عدالتی نظام غریب کو انصاف مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ دہشت گردی کی تحریکیں ایسی ہی سرزمین سے جنم لیتی ہیں۔ اس لیے مغربی دنیا اگرسنجیدگی سے دہشت گردی کوختم کرنا چاہتی ہے تو اسے اور ان ملکوں کے عدالتی نظام کی تبدیلی کی کوشش کرنا ہوگی، ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہوگا،۔ ایسی تنظیموں اور جماعتوں کی مدد کرناہوگی جوریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں ۔ مغربی دنیاکو ایسے ممالک کی اقتصادی امداد بند کرناہوگی جہاں ظلم واستبداد اورریاستی دہشت گردی عوام کا مقدر بنی ہوئی ہے تاکہ ایسی حکومتیں اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لائیں۔ 

ا مریکہ کو کیا کردار کرناچاہیے؟

مسٹر ہیکس نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف اور جمہوری طرزعمل کے حق میں امریکہ سرکاری طور پر اپنے حلیف ملکوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے ، لیکن ان تمام مساعی کے باوجود امریکی انتظامی عرب دنیا کے ان جابر حکمرانوں کی حمایت پر مجبور ہے جوامریکہ کے حلیف بھی ہیں اور اپنے عوام کے حقوق بھی غصب کر رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ اس صورت حال کو صرف اس لیے قابل قبول سمجھتی ہے کہ موجود ہ حکمران اپنے عوام کے لیے بے شک ظالم اور جابر ہیں مگر وہ امریکی بغل بچے ہیں اور وہ پوری دنیا میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔ لہٰذا اگر امریکہ ان ملکوں میں جمہوری طریقے سے تبدیلی لائے تو ممکن ہے۔ عوامی رائے سے آنے والے لوگ امریکی مفادات کے لیے آلہ کار نہ بن سکیں۔یہ جابر حکمران اور مطلق العنان ڈکٹیٹر انتظامیہ کوہمیشہ یہ باور کراتے آئے ہیں کہ صرف وہی امریکی مفادات کے محافظ ہیں۔ اگر انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو خطے میں ا مریکی مفادات کوخطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اس طرح یہ حکمران امریکی حکومت کے لیے بھی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ دراصل یہ لوگ اسلامی شدت پسندوں کے خطرے کا ہوا کھڑا کر کے امریکہ کو ڈراتے ہیں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو اسلامی انتہا پسند اقتدار میں آجائیں گے، لہٰذا ہماری غلط پالیسیوں کی بھی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ 

امریکہ نے ان جابر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے صرف اس لیے گھٹنے ٹیک دیے ہیں کہ انہوں نے اسلامی شدت پسندی ، کوایک خطرناک ہتھیار کے طو ر پر متعارف کروایا ہے۔ انہوں نے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ ہم نہ ہوں گے تو اسلامی شدت پسند، بر سرا قتدارآکر امریکی مفادات او رمغربی تہذیب وتمدن کو مٹا ڈالیں گے ۔ حکمرانوں کو اس ہولناک اور ہمہ گیر پروپیگنڈے سے متاثرہو کر امریکہ نے طے کر لیاہے کہ اسلامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے ہر طریقہ اختیار کی جانا چاہیے، تاکہ مغربی مفادات کاعموماً اور امریکی مفادات کاخصوصاً تحفظ کیا جا سکے۔ ہیکس نے اپنے بیان میں کہاکہ تونس میں تمام بنیادی حقوق ختم کر دیے گئے ہیں اور اسلامی انتہا پسندی کوکچلنے کے بہانے عوام کی آزادیاں سلب کرلی گئی ہیں ۔ یہی صورت حال مصراور دوسرے عرب ممالک کی ہے، یہی طرزعمل ملائیشیا ،الجزائر اور ترکی میں اختیار کیا گیا ہے (اور یہی مشرف حکومت نے پاکستان میں اختیار کررکھاہے اور اسی طرزعمل کی دہائی دے کر بے نظیر امریکہ سے اقتدار کی بھیگ مانگ رہی ہے۔ مترجم)

اس طرزعمل نے درگزر، سیاسی فکراور آزادی رائے کو معدوم کردیا جو کہ جمہوری طرزعمل کی اساس ہے۔ اس طرزعمل نے آزادی انصاف کو مجروح کردیا ۔سیاسی جماعتوں کی تشکیل، سول رائٹس اور انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدہ علیحدہ شناخت کوختم کر دیا۔ اس کا نتیجہ برآمد ہواکہ زیرزمین سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ، لوگ اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کے لیے دہشت گردی کی راہ اختیار کی ۔ اسلام نے جس حریت فکر کی بنیاد ڈالی تھی، اسے اسلام ہی کے نام پر ختم کردیا ، کیوں کہ خیر سے یہ سارے کارنامے مسلم حکمران انجام دیتے ہیں۔ اس طرح اسلام خود مسلمان ملکوں میں حزب مخالف کے طور پر ابھرا، حکمرانوں کاطرزعمل اور ہوگیا اور مسلمانوں کا طرزعمل اور ہوگیا ۔ مسلم علماء کو بدنام کیاگیا اور متوازن فکروالے لوگ حکمرانوں کے طرزعمل سے بد دل ہو گئے اور الگ تھلگ ہوگئے۔ 

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دوستوں نے جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکائے ان پر مغربی ملکوں نے تنقید کی ۔ ادھر امریکہ جن ملکوں کا مخالف ہے، ان پر وہ بھی جمہوریت ہی کے مقدس نام سے نہ صرف تنقید کر رہا ہے بلکہ ان حکومتوں کو الٹنے کے درپے ہے جوامریکی خوشنودی کے لیے کام کرنے کے لیے تیار نہیں چنانچہ ایسے لوگوں کے بجائے ظلم اور دشمن ممالک کو پسند ہیں جوامریکہ کے لیے کام کریں اور جمہوریت کے نام پر اپنے عوام کا استحصال کریں اور وہ لوگ امریکہ کی نظر میں ناقابل قبول ہیں جواگرچہ جمہوری اقدار کے حامل ہیں مگر امریکہ آشیر باد اوراس کی پشت پناہی کے بغیر اقتدار میں آگئے، چاہے وہ عوام کے ووٹوں سے ہی کیوں نہ منتخب ہوئے ہوں، جیسے ایران سے خمینی، ازم جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جیسے سوڈان کی اسلامک نیشنل فرنٹ اسی طرح امریکہ نے انسانی حقوق کانام ونہاد پرچم بلندکر کے اب صدام کو بھی برائی کامحور قراردے دیاہے۔ ( اس وقت صدام برسراقتدار تھے اور امریکہ حملہ کے لیے تیارتھا) 

مسٹر ہیکس کہتے ہیں:

امریکہ کی اس دوغلی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اب دنیاکا اعتماد امریکہ سے اٹھ گیا ہے۔ امریکہ کو ایران اور افغانستان میں خواتین کے حقوق پامال ہوتے نظر آتے ہیں مگر اسے سعودی عرب کی خواتین کی مشکلات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر امریکہ کو عراقی عوام سے اتنی محبت ہے کہ عوام کے آزادانہ ووٹ کے لیے صدام کے خلاف خوفناک جنگ کا آغاز کررہا ہے تو امریکہ یہی جنگ مصرا ورتیونس کے خلاف کیوں نہیں کرتا جہاں ظلم وجبر پرقائم نظام عوام کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے؟ (اور اس سے بدترین نظام آمریت سعودی عرب، مراکش، لیبیا، پاکستان اور الجزائر میں ہے مگر امریکہ کو وہاں جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ۔مترجم)

اسی طرح افغانستان میں جب افغانیوں نے روس کے خلاف مزاحمت شروع کی تو امریکہ نے افغانستان میں کسی قسم کی جمہوریت نہ ہونے کے باوجود مجاہدین کی بھرپور مدد کی اور جب طالبان گورنمنٹ قائم ہوئی تو امریکہ نے دہشت گردی کی آڑ میں اسی افغانستان کومٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جو کہ روس کی تباہی کا سبب بناتھا۔ گویا امریکہ نے اپنے ہی دوستوں کو صرف اس لیے کچل ڈالا کہ وہ امریکہ کے سامنے سجدہ ریزی کے لیے تیار نہ تھے۔ 

کتنا تضاد ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کا چمپئن بنا ہوا ہے اور وہ پوری دنیا میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، لیکن جہاں جمہوریت کونیست ونابود کرنے والی قوتیں امریکہ کی حلیف بن جاتی ہیں، وہاں امریکہ کو جمہوری اقدار کی پامالی نظر نہیں آتی، جیسے پاکستان میں فوجی حکومت کی حمایت، سعودی عرب میں بادشاہت کی حمایت، الجزائر میں فوجی حکومت کی حمایت، اسرائیلی مظالم کی تائید اور مصر کے ظالمانہ نظام کی حمایت جب کہ اسرائیل اور مصر دونوں انسانی حقوق کی رو سے بین الاقوامی مجرم ہیں۔ ( یہ حال امریکہ کی پالیسی کاہندوستان کے بارے میں ہے جہاں مسلمانوں کو ذبح کیا جارہا ہے۔ گجرات کشمیر کے مظالم امریکہ کونظر نہیں آتے۔ وہ ہندوستان کو ایشیا میں اپنے مفادات کا نگران کہتا ہے۔ مترجم)

اس کے بر عکس امریکہ سوڈان، لیبیا اورعراق پر پابندیاں لگا کر معصوم بچوں کی خوراک اور دوائیوں سے محروم کررہا ہے ۔ مسٹر ہیکس نے اپنے خطاب میں بش ، کلنٹن انتظامیہ کے اس کردار پر تبصرہ کیا جووہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے کردار کر رہے ہیں۔ امریکہ کی تمام تر مساعی کے باوجود مشرق وسطی میں جمہوری عمل اس لیے فروغ نہیں پا رہاکہ اسرائیل جمہوری اقدا ر اور انسانی حقوق کی پامالی میں بین الاقوامی معاہدات کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ اوسلوا دور اور میڈرڈ کے تمام معاہدے ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے امریکی ساکھ دنیا میں گر گئی ہے ۔ اسرائیلی مظالم پر امریکی خاموشی بلکہ امریکی تائید نے امریکہ کو پوری دنیا میں تنہا کردیا ہے۔ دوسری طرف عرب ممالک جوکہ امریکہ کی آنکھ کاتارا ہیں اور جنہوں نے امریکہ کواپنی گود میں بٹھایا ہوا ہے، وہ اپنی رعایا پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑرہے ہیں اوران کی پالیسیاں انسانی حقوق کے لیے زہر قاتل ہیں۔ مگر امریکہ اپنے دوستوں کو اس ظلم سے باز رکھنے کے لیے ادنیٰ سی کوشش بھی بروے کار نہیں لارہا۔

لہٰذا عالمی رائے عامہ کاامریکہ کے خلاف ہونا فطرتی عمل ہے۔ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں ، امریکہ کے دوہرے معیارنے اسے دنیا میں مکمل طو رپر تنہاکردیا، اسی لیے اسلامی دنیا میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ جمہوریت انسانی حقوق کے نعرے سراب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ کیوں کہ امریکہ ان قوتوں کاسرپرست ہے جوجمہوریت کی دشمن اور انسانی حقوق کے نام پر صرف اس لیے آواز نہیں ا ٹھ رہی کہ یہ نعرے امریکہ کے ایجاد کردہ ہیں جس کی عملی طور پر امریکہ نفی کررہاہے، لہٰذا عام طور پر اسلامی دنیا میں اب ان نعروں سے نفرت کرنے لگی ہے۔ اس ضمن میں مسٹر ہیکس نے حسب ذیل تجاویز پیش کی ہیں:

امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسلامی دنیا میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ان اداروں کی زیادہ سے زیادہ مالی مدد کرے جو جمہوریت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن اس امداد کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ لاکھوں ڈالرلوگوں کی جیب کی نذر نہ ہو جائیں۔ نیز حکومتیں ان رقوم کو مخالفین کے کچلنے کے لیے استعمال نہ کریں۔( ملاحظہ فرمایا آپ نے مالی امداد دے کر مسلم دنیا کے حکمرانوں کے کان کھینچنے کا طریقہ بھی سکھایا جا رہا ہے۔ مترجم)

۲۔ ایسے پریشر گروپ تشکیل دیے جائیں جو مسلم ممالک میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی کریں اور اپنے ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے بھی کام کریں، اس لیے ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ ایسے اسلامی ملکوں کو سختی سے حسب ذیل امور پر عمل درآمد کی پابند کرے: 

مساوات مردوزن ، حریت فکر ، آزادی صحافت ،عدلیہ کی مکمل آزادی ،سیاسی تنظیم سازی کی آزادی، سیاسی جماعتوں کے معاملات میں حکومت کی عدم مداخلت۔ 

اس کام کے لیے صرف مالی امداد پر ہی اکتفا کرنا مناسب نہ ہوگا بلکہ مسلم ممالک کو ثقافتی، تجارتی، تعلیمی میدان میں بھی مغرب کوعموماً اور امریکہ کوخصوصاً شریک کرناہوگا تاکہ مسلم ممالک مغرب کے وسیع تر تہذیبی ، ثقافتی، تجارتی ،سیاسی دھارے میں شامل ہوکر اندرون ملک اور بیرون ملک تبدیلیوں سے مستفید ہوسکیں۔ اس کی بہترین مثال ترکی ہے جو اسلامی ملک ہونے کے باوجود یورپی یونین میں شامل ہوکر عالمی منڈی میں رسائی حاصل کرچکا ہے اوریہی وجہ ہے کہ ترکی اپنے ملک میں مغربی افکار کوعملاً نافذ کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ (اندازہ فرمائیے کس طرح جمہوریت کے نام پر لیکچر جھاڑنے والے مسلم دنیاکو جمہوریت کی افیون کھلاکر پورے ملک کومغربی تہذیب کی گودمیں ڈالنا چاہتے ہیں اور بین الاقوامی دھارے کے خوبصورت الفاظ میں مسلم دنیا کااسلا می تشخص ختم کرنے کے لیے کیسی کیسی خوبصورت ترکیبیں بتائی جارہی ہیں۔ شاید انھی تجاویز پر عمل ہورہاہے کہ پاکستان اور عرب دنیا میں اسی نام نہاد دھارے میں شامل ہو کر اپنا تشخص کھو چکے ہیں اور وہ کسی بھی ایسے مظلوم ملک کی مدد کرنے سے قاصرہیں جو کہ امریکہ کے خوفناک ہتھیاروں کانشانہ ہیں۔ مترجم) 

۳۔ اسلامی ممالک سے ان بین الاقوامی معاملات پر عمل در آمد کروایا جائے جن پر مسلم ممالک نے یو این او کے تحت دستخط کر رکھے ہیں اور جن میں تمام ممالک پر زور دیاگیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق، آزادی نسواں کو یقینی بنائیں، لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے جب کہ امریکہ مسلم دنیا سے مسلمانوں کومطمئن کرے تاکہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف نفرت ختم ہو سکے ۔ مسلمان ممالک کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کیاجائے اور مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت ہی نہیں بلکہ سرپرستی بھی کرے۔ 

امریکہ کو چاہیے کہ وہ حلیف ممالک میں اس امر کا جائزہ لے کہ :

الف۔ کیا ان ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی تونہیں ہورہی۔

ب۔ سیاسی مخالفین کوانتقامی کارروائیوں کا نشانہ تو نہیں بنایاجا رہا۔

ج۔ سیاسی مخالفین کوجیلوں میں تونہیں ڈالا جاتا، ان کی املاک کو توضبط نہیں کیا جاتا۔ 

اس کام کے لیے امریکہ کو بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافیوں، دانشوروں ، تجزیہ نگاروں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔ انہیں معقول معاوضہ د ے کر تحقیقاتی رپورٹس تیار کروائی جاسکتی ہیں۔ 

نظام احتساب

بیشتر اسلامی ممالک میں حکمرانوں کے احتساب کا کوئی واضح نظام نہیں جس کی وجہ سے حکمران طبقہ اپنی من مانی کر کے عوام کے حقوق غصب کر رہا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسلامی عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کے خلاف احتساب جاری کرے تاکہ مطلق العنا ن آمریت کا خاتمہ ہو سکے۔ اس ضمن میں عرب لیگ اور اوآئی سی کواستعمال کیاجاسکتا ہے۔ ترکی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جہاں جمہوریت قائم ہے اور ترکی نے اپنے تمام شہریوں کو یورپی یونین کی عدالت میں شکایت کا حق دے رکھا ہے اور ترکی نے اس معاہدے پر دستخط کر ا رکھے ہیں جس کی روسے یورپی یونین کے عدالتی فیصلوں کی پابندی ترکی کے لیے ضروری ہے۔


(ترکی کو باربار اس لیے نمونہ پیش کیا جار ہا ہے کہ ترکی نے مغربی تہذیب کو جبراً اپنے ملک میں نافذ کرکے اسے یورپ کے مادر پدر آزاد معاشرے میں ضم کردیاہے۔ اسلامی اقدارکی پابندی کرنا ترکی میں قابل دست اندازی پولیس جرم ہے، حجاب پر پابندی ہے ،نماز پڑھنے والے او ر باریش افسروں کو فوج سے باہر نکال دیا گیا ہے، سکارف پر پابندی لگاکر پردے کی دھجیاں مغربی تہذیب کی دہلیز پر بکھیر دی گئی ہیں۔ گویا مغربی مفکرین کے نزدیک مغربی تہذیب وقوانین کو ڈنڈے کے زور پر نافذ کرنا عین جمہوریت ہے اور اس مقصد کے لیے انسانی حقوق، آزادی ضمیر کو تہس نہس کرنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے جیسا کہ ترکی میں ہورہا ہے۔ وہاں اسلام پر عمل کرنا جرم ہے مگرا سے مذہبی آزاد ی کے منافی اس لیے نہیں سمجھا جاتا کہ مغربی مفکرین کا اصل ہدف ہی اسلام اور اسلامی تہذیب ہے۔ جہاں مسلمانوں نے نظام اسلام کے نفاذ کی بات کی، وہیں مغرب کے پیٹ میں جمہوریت، آزادی، عدلیہ کامروڑ اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور جن ملکوں میں علما کو پابند سلاسل کیا جائے، پردہ نشیں خواتین کو ہراساں کیا جائے، دینی مدارس پر قدغن لگائی جائے، مذہبی عناصر کا جینا محال کر دیاجائے، وہاں مغربی ممالک مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں اورایسے ملکوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں جہاں نام نہاد مسلم حکمران مسلمان کا گلا گھونٹنے اوراہل علم کو کچلنے میں مشغول ہیں۔ گویا مذہبی لوگ نہ تو انسا نی حقوق کے حق دار ہیں نہ انہیں آزادی رائے کا حق دیا جا سکتا ہے۔ یہ ہے وہ فکر جو مغرب برآمد کرکے اسلامی دنیا کوذلت وخواری کے عمیق گڑھے میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ فتدبروا ۔ مترجم) 

اخبار و آثار

نومبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۱

الشریعہ اور ہائیڈ پارک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوت دین اور انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق کار
مولانا امین احسن اصلاحیؒ

فقہ شافعی اور ندوۃ العلماء
مولانا عبد السلام خطیب بھٹکلی ندوی

اسلام، جمہوریت اور مسلم ممالک
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)
عرفان احمد

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Flag Counter