الشریعہ اکادمی کا دورۂ تفسیر ۔ مشاہدات و تاثرات

محمد بلال فاروقی

قرآن مجید اللہ کا آخری پیغام اور کتاب ہدایت ہے۔ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ یہ نسل انسانی کے تمام طبقات سے خطاب کرتا ہے۔ ایک طرف اس کے معانی و مطالب اتنے وسیع اور گہرے ہیں کہ ذکی تر ین آدمی ان میں عواصی کرکے احکام و مسائل اور حقائق کے لعل و جوہر نکالتا ہے۔ دوسری طرف قرآن کا دعوتی و تذکیری پہلو ایک عام انسان کی بھی بڑے دل نواز انداز میں راہنمائی کرتا ہے۔بنیادی عقائد (تو حید، رسالت، آخرت) کو ایسے سادہ پیرایے میں بیان کرتا ہے کہ ہر انسان اس کے موثر اسلوب سے اپنے ظرف کے بقدر استفادہ کر سکتا ہے۔ قرآن کریم کے حقائق و معانی اور احکام و مسائل کا استنباط و استخراج تو وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے علوم اسلامیہ کی تحصیل و تکمیل کی ہو اور قرآن کے فہم و مطالعہ میں عمر کا ایک معتدبہ حصہ گزارا ہو، البتہ اس کے دعوتی و تذکیری پہلو سے ہر آدمی استفادہ کرتا ہے۔

خاندان ولی اللہی کی خدمات قرآنیہ

بارہویں صدی ہجری میں مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی حالات انتہائی دگر گوں تھے۔ سیادت و حکومت نا اہل اور عیاش لوگوں کے ہاتھ میں تھی تو مذہبی تعلیم میں قرآن و حدیث کے بجائے علوم عقلیہ مہارت کا معیار تھے۔ قرآن و حدیث کی طرف علماء کی توجہ بہت کم تھی ۔ حفاظ اگرچہ ہوتے تھے، لیکن قرآن مجید کے ترجمہ سے مناسبت صرف علماء کو ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں امام شاہ ولی اللہ ؒ نے مسلمانوں کی دینی تعمیر و ترقی کے لیے ایک اصلاحی تحریک شروع فرمائی۔ ایک ہمہ گیراصلاحی تحریک کے لیے ضروری تھا کہ اس کی بنیاد وحی الٰہی کتاب اللہ کو قرار دیا جائے، اس لیے شاہ صاحب نے لوگوں کا تعلق قرآن مجید سے جوڑنے کے لیے کوششیں شروع فرمائیں۔ تمام تر مخالفت کے باوجود شاہ ولی اللہؒ نے قرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ شاہ صاحب نے اپنے مدرسے کے نصاب میں ترمیم کی اور درس قرآن کو تعلیم کا لازمی جزو بنایا۔ 

اس سلسلے کو بعد میں شاہ صاحب کے صاحبزادوں نے جاری رکھا۔ حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے حضرت شاہ عبدالعزیز نے تفسیر عزیزی لکھی ۔ جب فارسی کا دائرہ محدود ہونے لگا اور عوام میں اردو زبان ترویج پانے لگی تو شاہ صاحب کے دو صاحبزادوں نے اردو میں قرآنی خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین ؒ نے قرآن مجید کا لفظی ترجمہ کیا اور حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے موضح قرآن کے نام سے ترجمہ ومختصر حواشی لکھے۔ یہ ترجمہ و تفسیر علامہ شاہ ولی اللہ کی اصلاحی تحریک کے بڑے کارناموں میں سے ہے۔ ان تراجم کے بارے میں شیخ الہندؒ فرماتے ہیں :

’’مولانا شاہ ولی اللہ، مولانا رفیع الدینؒ اور مولانا شاہ عبدالقادر ؒ کے تراجم کو جب غور سے دیکھا تو یہ امر بلا تامل معلوم ہو گیا کہ اگر متقدمین اکابر قرآن مجید کی اس خدمت کو انجام نہ دیتے تو اس شدت ضرورت کے وقت ترجمہ کرنا بہت دشوار ہوتا۔ علماء کو صحیح ترجمہ اور معتبر ترجمہ کرنے کے لیے متعدد تفاسیر کا مطالعہ کرنا پڑتا اور بہت سی فکر کرنا ہوتی۔ ان وقتوں کے بعد بھی شاید ایسا ترجمہ نہ کرسکتے۔‘‘ (مقدمہ ترجمہ قرآن)

حضرت شیخ الہند کی خدمات قرآنیہ

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد انگریز مسلم دشمنی میں حد سے گزر گئے۔ مسلمانو ں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے گئے۔ مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنے اور انھیں قرآن سے دور کرنے کے لیے انگریزی تعلیمی اداروں اور مشنریوں کا جال بچھا دیا گیا۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے شاہ ولی اللہ کی تحریک کے اس وقت کے امام، قاسم العلوم و الخیرات مولانا محمد قاسم نانو توی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی جس نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جس کی اس خطے میں کوئی مثال نہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد حضرت شیخ الہند نے اس تحریک کو بام عروج تک پہنچایا اور جگہ جگہ مکاتب قرآنیہ قائم فرمائے ۔ دیوبند کے فضلاء کی ایک باقاعدہ تنظیم جمعیت الانصار اس مقصد کے لیے قائم فرمائی جبکہ دہلی میں ادارہ نظارۃ معارف قرآنیہ قائم فرمایا۔ حضرت مدنی فرماتے ہیں کہ نظارہ معارف قرآنیہ کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی تعلیم سے نو جوانان اسلام کے خیالات و عقائد پرجو بے دینی اور الحاد کا زہریلا اثر شروع ہے، اس کو زائل کیا جائے اور قرآن کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ ان کے شکوک و شبہات دین اسلام سے دور ہو جائیں اور وہ سچے اور پکے مسلمان بن جائیں۔ (نقش حیات، صفحہ نمبر ۵۵۵) 

حضرت شیخ الہند ؒ نے خدمات قرآنیہ کے حوالے سے دو بڑے کارنامے انجام دیے ۔ ایک آپ کا ترجمہ قرآن ہے جو بعد میں ہونے والے تقریباً تمام اردو تراجم کے لیے بنیاد بنا اور دوسرا آپ نے اپنے شاگردوں کے اندر قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کا جذبہ پیدا فرمایا۔ مالٹا سے واپسی پر مسلمانوں کے اسباب زوال میں سے قرآن سے دوری کو بڑا سبب قرار دے کر اپنے شاگردوں کو قرآنی تعلیمات عام کرنے کا حکم دیا۔ آپ کے شاگرد جہاں بھی گئے، وہاں محفل قرآن سجادی۔ حضرت سندھی دہلی گئے تو نظارہ معارف قرآنیہ وجود میں آیا۔ حضرت مدنی نے جیل میں حلقہ درس لگا دیا۔ حضرت تھانوی نے تھانہ بھون میں محفل جمائی۔

قیام پاکستان کے بعد اس اصلاحی تحریک کے کارکنوں نے مسلمانان پاکستان میں تعلیمات قرآنیہ عام کرنے کے لیے دورۂ تفسیر کا آغاز فرمایا۔ حضرت لاہوری ؒ نے ( جو خود نظارہ معارف قرآنیہ کے فاضل تھے) نے لاہور میں، حضرت درخواستی نے خانپور میں، مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے گوجرانوالہ میں، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے لاہور میں، ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے صوبہ سرحد میں اور دوسرے بہت سے حضرات نے مختلف مقامات پر پر دورۂ تفسیر کا اجرا فرمایا۔

امام اہل سنت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام شاہ ولی اللہؒ کے دو سلسلوں (بواسطہ شیخ الہند اور بواسطہ حضرت مولانا حسین علی) کے جامع، اما م اہل سنت شیخ الحدیث والتفسیر مولانا سرفراز خان صفدر ؒ دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد گکھڑ میں آئے اور قرآن کریم کی ایسی خدمت کی جو شاید ہی کسی دوسرے کے حصے میںآئی ہو۔ ۱۹۴۳ء سے ۲۰۰۱ء تک یعنی پورے ۵۸ برس اپنی مسجد میں درس قرآن دیا، جبکہ ۱۹۴۳ء سے ۲۰۰۱ء تک گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ گکھڑ میں درس قرآن دیتے رہے جس میں اسکول و کالج کے اساتذہ و پروفیسر حضرات شریک درس ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ ۱۹۷۶ء سے ۱۹۹۶ء تک جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شعبان ورمضان کی سالانہ تعطیلات میں دورۂ تفسیر بھی پڑھاتے رہے۔ درس قرآن کے حوالے سے حضرت شیخ کا تجدیدی کارنامہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجر انوالہ میں ترجمہ و تفسیر کا مستقل سبق شروع کرنا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ صبح سب سے پہلا سبق ترجمہ و تفسیر کا ہوتا تھا جس میں درجہ ثالثہ سے دورۂ حدیث تک کے تمام طلبہ شریک ہوتے۔ ۴۵ منٹ کا پیریڈ ہوتا اور ایک سال میں پندرہ پارے مکمل فرماتے۔ چونکہ اس سبق میں روزانہ رکوع سوا رکوع کا درس ہوتا تھا، اس لیے حضرت تفصیل سے تفسیری نکات بیان فرماتے تھے۔ باوجود ضعف و علالت کے یہ سلسلہ ۲۰۰۱ء تک چلتا رہا۔

حلقہ ہائے درس میں آپ مخاطبین کی ذہنی سطح کا لحاظ رکھتے تھے ۔ اگر سامعین عوام ہیں تو انداز بیان سادہ اور ناصحانہ ہوتا۔ اگر مجمع طلبہ و علماء کا ہوتا تو محققانہ ابحاث ارشاد فرماتے ۔ ہر بات با حوالہ بیان کرتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سامع کسی بڑی لائبریری میں بیٹھا ہے۔ باوجود پٹھان ہونے کے آپ عوام کے لیے پنجابی میں درس ارشاد فرماتے تھے اور عقائد کی تصحیح اور بدعات و رسوم کی اصلاح پر آپ کی خاص توجہ ہوتی تھی۔ 

جب آپ آئے توگکھڑ شرک و بدعت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، لیکن آپ کی محنت سے توحید کی شمع روشن ہوئی۔ اس جدوجہد میں آپ پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا، لیکن آپ پامردی سے اپنا فریضہ ادا کرتے رہے ۔ ہمیشہ داعیانہ و ناصحانہ انداز اختیار فرماتے تھے، کبھی مناظرانہ اسلوب اختیار نہیں فرمایا ۔ عبادات کے بعد آپ معاملات و معاشرت کی اصلاح پر خصوصی توجہ دیتے۔ حقوق العباد کی اہمیت سمجھانے کے لیے آپ اکثر ایک واقعہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے حوالے سے سنایا کرتے تھے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی فوت ہو گیا۔ خواب میں اسے کسی نے دیکھا تو پوچھا، بھئی کیا معاملہ ہوا؟ اس نے جواباً کہا کہ سزا تو نہیں ملی، لیکن جنت کا دروازہ ابھی تک بند ہے ۔ پوچھا گیا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہا کہ میں نے کپڑے سینے کے لیے اپنے ہمسایے سے ایک سوئی لی تھی جو واپس نہیں کی۔ جب تک میرے ورثا واپس نہیں کریں گے، تب تک میں جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔

علماء و طلبہ کے حلقہ میںآپ ہرموضوع پر محققانہ بحث فرماتے۔لغات قرآن کے حل کے لیے قاموس، تاج العروس اور منتہی الارب جیسی کتابوں کے حوالے دیتے۔صرفی ونحوی اشکالات کو سہل انداز میں حل فرماتے۔ شاذ و مردود اقوال کو بیان کر کے ان کے شاذ اور مردود ہونے کی وجہ بھی بیان فرماتے۔ قرآن کریم کے بیان کردہ جغرافیائی مقامات کی وضاحت تاریخ ارض قرآن (سید سلیمان ندویؒ ) یا قصص القرآن(مولانا حفظ الرحمن سیو ہارویؒ ) سے فرماتے۔ اس کے علاوہ یہ دروس بے شمار خصوصیات کے حامل ہوتے جن سے ہر کوئی اپنے ظرف کے بقدر فیض پاتا رہا۔ (ملخص از ’’حضرت شیخ الحدیث کا تفسیری ذوق اور خدمات‘‘‘ از مولانا محمد یوسف صاحب، ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘، امام اہل سنت نمبر) 

مفسر اعظم حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ؒ

آپ کے برادر صغیرمولانا عبدالحمید سواتی شارح علوم ولی اللہی بھی اپنے بڑے بھائی سے پیچھے نہ رہے۔ دیوبند سے فراغت کے بعد امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی سے تقابل ادیان پڑھا اور طب کی تعلیم طبیہ کالج حیدرآباد دکن سے حاصل کی۔ روحانی و جسمانی بیماریوں کے اس معالج نے ۱۹۵۲ء میں گوجرانوالہ میں مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد رکھی اور قرآنی خدمات میں مشغول ہو گئے۔ مسجد نور میں آپ نے عوام الناس کے لیے درس قرآن کے سلسلے کا آغاز کیا۔ یہ دروس اب ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانوی ؒ کا ان دروس پر تبصرہ یہ ہے کہ ’’جس توسع سے آیات کریمہ کی تشریح کی گئی ہے، اس پر تفسیر عزیزی کا گمان ہوتا ہے ۔‘‘

حضرت سواتی ؒ اپنے دروس میں قرآن کریم کو بطور فلسفہ حیات پیش فرماتے ہیں۔ جملہ نظام ہائے زندگی پر بحث کرتے ہیں۔ معاشیات ہو یا سیاسیات، جمہوریت ہو یا ملوکیت، سرمایہ دارانہ نظام ہو یا جاگیردارانہ، تمام نظاموں کی خرابیوں کو طشت ازبام کرکے قرآن کریم کو بطور نظام زندگی پیش کرتے ہیں اور قرآن کے انقلابی پروگرام سے روگردانی کے بھیانک نتائج سے آگاہ کرتے ہیں۔ امام ولی اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کے انداز میں حکمت و فلسفہ سمجھاتے ہیں۔ انداز بیان سادہ اور پیرایہ دلنشین ہوتا ہے۔ دوران درس اقوام عالم کے عروج و زوال کے اسباب و علل پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور موجودہ سیاسی و سماجی حالات پر جامع تبصرہ فرماتے ہیں۔ ادبی وکلامی مباحث کے بجائے وہ قرآن کے دعوتی و تذکیری پہلو پر توجہ دیتے نظر آئے ہیں۔ متنازعہ افکار و اقوال سے گریز کرتے ہوئے فقہی مسائل و احکام میں برداشت و تحمل کی دعوت دیتے ہیں۔ (ملخص از مقالہ ایم فل مولانا وقار احمد صاحب)

مفکر اسلام حضرت مولانا زاہد الراشدی

مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کے صاحبزادے اورمولانا سواتی ؒ کے بھتیجے مولانا زاہد الراشدی ان دونوں شخصیات کے حقیقی جانشیں ہیں۔ تحریک، تحریراور تدریس کے شاہ سوار ہیں۔ عصر حاضر کے موضوعات ومباحث کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں اور اس حوالے سے اخبارات وجرائد میں ہزاروں صفحات سپرد قلم کر چکے ہیں۔ ۲۰۰۱ء کے بعدسے آپ جامعہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ کے تین بڑے مناصب (شیخ الحدیث، ناظم تعلیمات، صدر مدرس) کے عہدہ پر فائز ہیں اور بخاری شریف، طحاوی شریف اور حجۃ اللہ البالغہ کے اسباق پڑھاتے ہیں ۔ 

الشریعہ اکادمی کا دورۂ تفسیر

شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر نے جامعہ نصرۃ العلوم میں ترجمہ و تفسیرکا جو سبق طلبہ کے لیے شروع کیا تھا، ۲۰۰۱ء کے بعد سے وہ مولانا زاہد الراشدی کے ذمے ہے۔ گزشتہ دو سال سے علامہ زاہد الراشدی نے ۱۹۹۶ء سے ٹوٹے ہوئے سالانہ دورۂ تفسیر کے سلسلے کو دوبارہ جوڑا ہے اور اپنے ادارے الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر کا آغاز فرمایا ہے جو کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ اپنے ذوق کے مطابق حضرت نے دورہ کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اس میں کئی نئے اور مفید پہلو شامل کیے ہیں۔ راقم الحروف کو بھی اکادمی کے دورۂ تفسیر میں شرکت کا موقع ملا ۔ ذیل میں، اپنے مشاہدات کی روشنی میں ترجمہ وتفسیر کے اساتذہ اور ان کے ذوق تفسیر کا اجمالی تعارف اور محاضرات قرآنیہ کا مختصر تذکرہ کیا جائے گا۔

عام طور پر دورۂ ہائے تفسیر میں ایک ہی بزرگ عالم دین پورے قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر پڑھاتے ہیں جس میں صرف ایک ہی طرز کے منہج تفسیر اورذوق کا پتہ چلتا ہے۔ الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر میں چار پانچ اساتذہ تدریس کرتے ہیں جس کی وجہ سے مختلف مناہج سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اورمختلف اذواق کا پتہ چلتا ہے۔ اکادمی کے دورۂ تفسیر میں محاضرات علوم قرآنیہ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے ۔ صبح ترجمہ و تفسیر کا سبق ہوتا ہے جبکہ ظہر کے بعد علوم قرآنیہ میں سے کسی موضوع پر محاضرہ ہوتا ہے جس میں علوم قرآنیہ کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ 

مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی قرآن کریم کا عمومی ترجمہ و تفسیر اپنے والد محترم کے طرز پر سمجھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کریم پر مستشرقین کے اعتراضات اور اہل مغرب کے فکری مغالطوں کا مدلل جواب ارشادفرماتے ہیں۔ احکام القرآن اور عالمی قوانین کا موازنہ کرتے ہیں۔ عالمی قوانین کی کمزوریوں کو افشا کرتے اور قرآن کے احکام کو دلائل سے قابل عمل ثابت کرتے ہیں۔ مغربی انسانی حقوق کے بالمقابل اسلامی انسانی حقوق کا تصور پیش کرتے ہیں۔ حقوق النساء کے حوالے سے پیداکی جانے والی گمراہیوں کا مدلل انداز محاکمہ کرتے ہیں۔ احکام القرآن کے ضمن میں پاکستان اور پوری دنیا میں کی جانے والی علماء کی جدوجہد کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔

مولانا ظفر فیاض صاحب گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ درس نظامی کی تکمیل جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے کی اور یہیں دینی علوم کی تدریس بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے تفسیر مولانا سرفراز خان صفدر ؒ سے اور ولی اللہی علوم حضرت سواتی سے پڑھے ہیں۔ قدیم و جدید موضوعات کا یکساں مطالعہ رکھتے ہیں۔ دوران درس ترجمہ سمجھانے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور سلیس اور عام فہم ترجمہ اور مختصر لیکن جامع تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام اہل سنت کی طرز پر آیات اور سورتوں کا ربط بیان فرماتے ہیں۔

مولانا فضل الہادی صاحب بٹگرام سے تعلق رکھتے ہیں اور مانسہرہ میں ہی تدریس کرتے ہیں ۔ تعلیم کا اکثر عرصہ مدرسہ نصرۃالعلوم میں گزارا اور سند فراغت جامعہ دارالعلوم کراچی سے حاصل کی۔ تفسیر اجمالاً (سالانہ دورۂ تفسیر میں) و تفصیلاً (دوران سال میں ترجمہ و تفسیر) امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر سے پڑھی ہے۔ عربی زبان و ادب میں مہارت رکھتے ہیں۔ فی البدیہہ عربی نظمیں اور قصائد کہتے ہیں اور علم میراث توان کی جیب کی گھڑی ہے۔ پیچیدہ ترین مسائل منٹوں میں حل فرما دیتے ہیں۔ سبق ایسے پڑھاتے ہیں کہ کلاس میں ہی طلبہ کو یاد ہوجاتا ہے ۔ حضرت نے ہمیں پہلے دس پارے پڑھائے ۔ پہلے حافظ الحدیث حضرت درخواستی ؒ کے طرز پر مضامین قرآنیہ کی تقسیم فرماتے ہیں۔ مثلاً سورۃ بقرۃکے مضامین کی تقسیم یوں فرمائی: ایک مقدمہ، تین مقاصد اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ پھر مقاصد کو آگے ابواب میں تقسیم کرکے پوری سورت کا خلاصہ بیان فرما دیتے ہیں۔ اس کے بعد عمومی تفسیر و ترجمہ حضرت امام اہل سنت کے طرز پر سمجھاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ کے علوم خمسہ (علم الاحکام، علم مجادلہ، تذکیر بآلأاللہ، تذکیر باایام اللہ، تذکیر بذکر الآخرۃ) کے مطابق ہرآیت کا عنوان بتاتے ہیں۔ ما قبل سے ربط حضرت مولانا سرفراز صفدر ؒ اور حضرت تھانوی ؒ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں۔ ہم نے استا ذ مکرم کی علم میراث پر مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نماز مغرب کے بعد سراجی بھی پڑھ لی ۔ 

مولانا محمد عمار خان ناصر، مولانا سرفراز خان صفدر کے پوتے اور علامہ زاہد الراشدی کے بیٹے ہیں۔ انتہائی قابل،وسیع المطالعہ اور ذی فہم مدرس ہیں۔ حدیث و تفسیر، فقہ و کلام، منطق و فلسفہ قدیم و جدید پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔ دس سال سے زائد عرصہ تک جامعہ نصرۃ العلوم میں تدریس کی ۔آج کل گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں ایم فل کے طلبہ کو تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف میں مشغول ہیں۔ اس کے علاوہ ماہنامہ الشریعہ جیسے علمی و تحقیقی مجلہ کے منصب ادارت پر فائز ہیں۔ مولانا، نظم قرآنی پرمہارت رکھتے ہیں۔ مضامین قرآنی کو ایسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ موتیوں کی لڑی ہو۔ عربی واردو ادب پر دسترس رکھنے کی وجہ سے ترجمہ انتہائی سلیس اور عام فہم کرتے ہیں۔ بلاغت قرآنی کو بڑے سہل انداز میں سمجھاتے ہیں ۔ آیات کی تفسیر متقدمین مفسرین کے منہج کے مطابق بیان فرماتے ہیں ۔ ان کے درس کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ دوران سبق میں تدبر قرآنی کی عملی تربیت بھی دیتے ہیں۔ 

مولانا محمد یوسف صاحب، شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر سے فیض یافتہ اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں۔ ترجمہ و تفسیر میں امام اہل سنت کا طرز اختیار فرماتے ہیں۔ ربط بھی حضرت کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت کا خصوصی ذوق تفسیر بالحدیث ہے۔ تقریباً ہرآیت کی تفسیر میں حدیث ذکر کرتے ہیں اور اس میں اکثر تفسیر ابن کثیر کا حوالہ ارشاد فرماتے ہیں۔

محاضرات قرآنیہ

الشریعہ اکادمی کے دورۂ تفسیر کی دوسری خصوصیت محاضرات علوم قرآنیہ ہیں۔ نماز ظہر کے بعد ہر ہفتے میں دو یا تین محاضرات ہوتے ہیں۔ دورہ تفسیر کے پہلے سال قرآ ن کا دعوتی و تذکیری پہلو، مناہج تفسیر ، قرآن کریم پر مستشرقین کے اعتراضات، ختم نبوت، انسانی حقوق کا عالمی چارٹر، شیخ الہند اور ان کے رفقاء کی خدمات قرآنیہ، ناسخ و منسوخ اور اصول فقہ کے موضوعات پر محاضرات کا اہتمام کیا گیا۔

’’قرآن کریم کا دعوتی و تذکیری پہلو‘‘ کے عنوان پر محاضرہ میں مولانا عمار خان ناصر نے یہ نکتہ واضح فرمایا کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے شخص کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ قرآن کریم بنیادی طور پر ایک کتاب تذکیر ہے اور اس سے تذکیر حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے متن پر توجہ مرکوز رکھیں اور زائد تفصیلات میں الجھنے سے حتی الامکان گریز کریں۔ مولانا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی مثال دی کہ اگر اس کو قصہ و کہانی کے انداز میں دیکھا جائے تو کئی پہلو تشنہ رہ جاتے ہیں، لیکن قرآن کریم صرف ان پہلوؤں کو ذکر کرتا ہے جو تذکیر کے پہلے سے مقصود ہیں ۔ اسی طرح حضرت یوسف ؑ کا واقعہ اگرچہ تفصیلی ہے، لیکن وہی امور مذکور ہیں جن سے انسان کی تربیت مقصود ہے۔

ڈاکٹر اکرم ورک صاحب نے ’’قرآن کریم پر مستشرقین کے اعتراضات ‘‘ کے عنوان پر لیکچر دیا۔ ڈاکٹر اکرم ورک صاحب الشریعہ اکادمی کے قدیم رفقاء میں سے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور مستشرقین کے نظریات ان کے مطالعہ وتحقیق کا خاص موضوع ہے۔ ان کا وقیع مقالہ ’’متون حدیث پر جدید ذہن کے اشکالا ت‘‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں چھپ چکا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے پہلے استشراق کی تاریخ کو بیان کیا۔ اس کے بعد چند مغربی مستشرقین اور ان کی کتب کا تعارف کروایا اور طلبہ میں اس موضوع پر مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کی ۔

مولانا سید متین شاہ صاحب، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے فاضل اور ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد سے وابستہ ہیں ۔نہایت وسیع المطالعہ نوجوان عالم دین ہیں۔ مولانا نے تقریباً دس مناہج تفسیر مثلاً (اصلاحی، کلامی، بلاغی وغیرہ) کا تعارف کرایا اورپھر ان مناہج پر لکھی جانے والی کم از کم تین تین تفاسیر کا ذکر کیا۔ ڈیڑھ پونے دو گھنٹے کا یہ محاضرہ اتنا مدلل اور پر مغز اور انداز بیان اتنا خوبصورت تھا کہ وقت گزرنے کا احساس اس وقت ہو ا جب عصر کی اذان شروع ہوئی اور مولانا کو محاضرہ ختم کرنا پڑا۔

مولانا مشتاق احمد چنیوٹی صاحب نے ’’ختم نبوت‘‘ کے موضوع پر دو محاضرے ارشاد فرمائے۔ مولانا، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کے ادارہ مرکزیہ دعوۃ و الارشاد میں تخصص فی رد القادنیۃ کے نگران ہیں اور اس موضوع پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے مرزا کی شخصیت، اس کے دعاوی، حیات عیسیٰ اور مرزا قادیانی کے قرآن سے استدلالات کے حوالے سے مفصل گفتگو فرمائی۔

استاذ مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ’’انسانی حقوق کا عالمی چارٹر‘‘ کے موضوع پہ بیان فرمایا۔ استاذ محترم اس موضوع پر اتھارٹی ہیں۔ اس موضوع پر آپ درجنوں محاضرات اور تفصیلی مضامین لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے چارٹر کی ان شقوں کو اپنا موضوع بنایا جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ ان کی کمزوری کو بیان کیا اور پھر اسلامی نظریہ کو دلائل سے قابل عمل اور راجح ثابت کیا۔

حافظ نصیر احمد احرار صاحب جامعہ اشرفیہ کے فاضل ہیں اور جمعیت طلبہ اسلام کے مرکزی صدر رہ چکے ہیں ۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر وسعت مطالعہ کے حامل ہیں۔ انھوں جماعت شیخ الہند کی خدمات قرآنیہ کو تفصیلاً بیان فرمایا۔ محاضرہ کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں دو قومی نظریہ کے حوالے سے دلچسپ مباحثہ ہوا۔

مولانا وقار احمد صاحب مدرسہ نصرۃالعلوم کے فاضل ہیں اور اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے مولانا عبدالحمید سواتی ؒ کی تفسیری خدمات پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ مولانا، الشریعہ اکادمی کے دورۂ تفسیر کے ناظم بھی ہیں۔ مولانا نے نسخ کی تعریف، مقصد اور فلسفہ بیان کرنے کے بعد متعلقہ آیات کے حوالے سے متاخرین علماء میں سے امام شاہ ولی اللہ کی بیان کردہ توجیہات کو سمجھایا۔

مولانا حافظ محمد رشید صاحب اکادمی کے پرانے رفقاء میں سے ہیں۔ دارالعلوم کراچی کے فاضل ہیں اور گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ سے علوم اسلامیہ میں ایم فل کر چکے ہیں۔ مولانا نے ’’حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں اصول فقہ کی مباحث‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھا ہے ۔ اپنے مقالہ کی روشنی میں اصول فقہ کی مبادیات کا ذکر کرنے کے بعد مولانا سرفراز خان صفدر کی تصانیف میں سے متعلقہ مباحث کی تلخیص بیان فرمائی ہے۔

جامعہ ابو ہریرہ، نوشہرہ کے مہتمم اور معروف مصنف ومحقق حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب کا ایک محاضرہ طے تھا، لیکن وہ کسی عذر کی بنا پر تشریف نہ لاسکے، البتہ انہوں نے اپنی کتابوں کا سیٹ طلبہ کے لیے بھجوایا۔

دورۂ تفسیر کے ضمن میں ایک سعادت یہ بھی حاصل ہوئی کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ نے احادیث مسلسلات کی اجازت ہمیں عنایت فرمائی۔ 

اکادمی کی انتظامیہ نے طلبہ کے لیے اہل علم سے ملاقاتوں کا اہتمام بھی کیا۔ ایک موقع پر طلبہ، حضرت مولانا مفتی محمدعیسیٰ صاحب گورمانی (دامت برکاتہم العالیہ )کے پاس حاضر ہوئے۔ باوجود ضعف و علالت کے حضرت نے عصر سے مغرب تک ہمارے ساتھ گفتگو فرمائی اور کئی نصائح ارشاد فرمائے۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا سرفراز خان صفدر ؒ اور مولانا سواتی ؒ کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں بھی بیان فرمائیں۔ آخر میں دعاؤں کے ساتھ رخصت فرمایا۔ اس کے بعد شرکاء دورۂ تفسیر کو جامعہ نصرۃ العلوم لے جایا گیا جہاں حضرت مولانا عبدالقدوس قارن صاحب سے ملاقات ہوئی۔ حضرت بڑے تپاک سے ملے۔ ان دنوں حضرت کی طبیعت ناساز تھی۔ ہمیں بھی دعاؤں کے لیے کہا اور خود ہمارے لیے بھی دعائیں کیں۔ مولانا قارن سے اجازت لے کر ہم جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا فیاض خان سواتی صاحب کے پاس حاضر ہوئے ۔حضرت نے کمال شفقت سے سب کا تعارف پوچھا اور حال احوال دریافت کیا ۔ آخر میں اپنے تحریر کردہ دو رسائل ہمیں عطا فرمائے۔ 

اکادمی کی انتظامیہ کا رویہ طلبہ کے ساتھ انتہائی مشفقانہ اور دوستانہ تھا۔ مولانا وقار احمد صاحب (ناظم دورہ تفسیر) اور مولانا محمد رشید صاحب طلبہ کی حوصلہ افزائی فرماتے،مطالعہ کا شوق ابھارتے اور طلبہ کے آرام کا مکمل خیال رکھتے ہیں، یہاں تک کہ کھانے کا مینو بھی طلبہ کے مشورہ سے مقرر کیا جاتا ہے۔

دورۂ تفسیر کے اختتام پر ایک سادہ اور پر وقار تقریب منعقد ہوئی جس میں استاد مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بیان فرمایا اور طلبہ کو اکا دمی کی مطبوعات کا ایک ایک سیٹ عنایت فرمایا۔ اکادمی کی یہ کوشش انتہائی قابل قدر اور مبارک ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جاری و ساری رکھے اور اس کے فیض کو پھیلاتا رہے۔ (آمین)

الشریعہ اکادمی