مئی ۲۰۱۳ء

قومی نصاب تعلیم میں اصلاح و ترمیم کا مسئلہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۲ اپریل ۲۰۱۳ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا موضوع قومی نصاب تعلیم میں اسلامیات کے مضامین اور مواد کو کم کرنے اور نصابِ تعلیم کو مبینہ طور پر سیکولر نصابِ تعلیم کی شکل دینے کے بارے میں بعض اخباری رپورٹوں کا جائزہ لینا تھا۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے سیمینار کی صدارت کی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا محمد قاسم، مولانا غلام نبی، مولانا محمد عثمان، حافظ محمد عمار خان ناصر، مولانا...

عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’محترمی ومکرمی ومخدومی وحبی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد! کچھ عرصہ سے اخبارات اور جرائد میں حضرت والا کے فرزند ارجمند کے نظریات ورجحانات پر کچھ علماء واہل قلم اپنے اپنے انداز میں تحفظات بلکہ واضح انداز میں تنقید واعتراضات رقم کر رہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان محررین کی آپ کے صاحبزادے سے ملاقات اور آمنے سامنے گفتگو بھی ہوئی یا نہیں، کیونکہ حق تو یہ ہے کہ صاحب کلام سے اس کے کلام کی توضیح پوچھی جائے، لیکن یہ بات بھی مسلم ہے کہ ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ اور صریح بات میں نیت نہیں پوچھی جاتی۔ ممکن ہے کہ ناقدین وجارحین نے صاحبزادہ کے کلام...

امام شافعیؒ اور ان کا تجدیدی کارنامہ

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

اللہ تعالیٰ نے دنیاکے لیے جس دین کوپسندکیااوربندوں کوجس کا مکلف بنایاہے، وہ ابدی حقائق پر مشتمل ہے۔ اس کے عقائدومسلمات کو خلودعطاکیاگیاہے، مگرساتھ ہی وہ بھی زندگی سے بھرااورحرکت ونشاط سے معمورہے۔’’یہ دین چونکہ آخری اورعالمگیردین ہے اوریہ امت آخری اورعالمگیرامت ہے، اس لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیاکے مختلف انسانوں اورمختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا ۔۔۔اس امت کوجوزمانہ دیاگیاہے وہ سب سے زیادہ پرا زتغیرات اورپراز انقلابات ہے ‘‘۔(۱ ) مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی کے بقول زمان ومکان کی تبدیلیوں سے عہدۂ برآ ہونے کے لیے اللہ...

مسلم نشاۃ ثانیہ: اصلاحِ مفاہیم

― احمد جاوید

۱۔ اس بات کا شعور بہت ضروری ہے کہ نشاۃ الثانیہ کی اصطلاح مسلمانوں کے لیے وہ معانی نہیں رکھتی جو یورپ کی تحریک نشاۃ الثانیہ کی بنیاد بنا تھا۔ مغرب میں نشاۃ الثانیہ کے تمام نتائج دین کے مخالف رخ پر نکلے اور اس تحریک میں ایک رَو اسلام دشمنی کی بھی تھی۔ ایک تہذیبی تناظر میں یورپ نشاۃ الثانیہ میں اسلام دشمنی کے کسی عنصر کی موجودگی ہمارے لیے کوئی بڑا انتباہ نہیں ہے، بشرطیکہ وہ تحریک عیسائیت کے کسی مذہبی تصور کے دفاع اور اس کی تشکیل و تجدید کے لیے اٹھتی، لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس تحریک نے عیسائیت کے مذہبی جوہر کو منہا کر کے یونانی انداز تعقل کو نئے...

امیر عبد القادر الجزائریؒ کون تھے؟

― ادارہ

(امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور جدوجہد سے متعلق ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی، ماہنامہ ’’القاسم‘‘ نوشہرہ کے مدیر مولانا عبد القیوم حقانی اور راقم الحروف کی درج ذیل تحریریں اس سے پہلے ’الشریعہ‘ کے مارچ ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہیں جنھیں اس موضوع پر حالیہ مباحثے کے تناظر میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)۔ لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ’’دار الکتاب‘‘ نے اپنی تازہ ترین مطبوعات میں امریکی مصنف جان ڈبلیو کائزر کی کتاب کا اردو ترجمہ ’’امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان‘‘ کے عنوان سے پیش کیا...

جعلی مجاہد کی اصلی داستان

― مفتی ابو لبابہ شاہ منصور

قارئین کرام! آپ کو علم ہوگا کہ ضرب مومن میں کتابوں پر تبصرے شائع نہیں کیے جاتے یا بہت ہی کم شائع کیے جاتے ہیں۔ نیز یہ بھی علم ہوگا (راقم الحروف پہلے بھی لکھ چکا ہے) کہ احقر کتابوں کا تعارف یا تقریظ لکھنے سے حتی الامکان کتراتا ہے۔ اپنی کتابوں پر بھی اپنے بڑوں کو تقریظ لکھنے کی زحمت دینا اچھا نہیں سمجھتا۔ مروجہ تقاریظ، کتاب، مصنف اور صاحب تقریظ سب کی ساکھ گرانے کا باعث لگتی ہیں۔ کتاب چاولوں کی دیگ نہیں کہ چند چاول دیکھ کر ساری دیگ کو دم لگ جانے کی خوشخبری سنا دی جائے، لیکن آج ا س اصول کو توڑتے ہوئے ہم اپنے آپ کو ایک انوکھی مجرمانہ کتاب کا تعارف...

الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات

― محمد عمار خان ناصر

کوئی دو سال قبل مجھے امریکی مصنف جان کائزر کی ایک کتاب کے توسط سے انیسویں صدی میں فرانس کی استعماری طاقت کے خلاف الجزائر میں جذبہ حریت بیدا ر کرنے اور کم وبیش دو دہائیوں تک میدان کارزار میں عملاً داد شجاعت دینے والی عظیم شخصیت، امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت سے تفصیلی تعارف کا موقع ملا تو فطری طور پر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کی داستان حیات اور خاص طو رپر ان کے تصور جہاد سے پاکستان کی نئی نسل کو بھی آگاہی پہنچانی چاہیے تاکہ ہمارے ہاں شرعی جہاد کا مسخ شدہ اور شرعی اصولوں کے بجائے ہمارے اخلاقی، تہذیبی اور نفسیاتی زوال کی عکاسی کرنے والا جو...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) ۱۹ اپریل ۲۰۱۳ء۔ مکرمی ومحترمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزشتہ مہینے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں میرے دفتر میں تشریف لائے اور مجھے ملاقات کی سعادت نصیب فرمائی۔ اس کے لیے میں آپ کا تہ دل سے ممنون ہوں۔ میرے لیے وہ دن یقیناًبے حد خوشی کا دن تھا۔ آپ سے ملاقات کے دو تین بعد آپ کی عنایت سے آپ کے چند کالم، ’’الشریعہ‘‘ اور ’’نصرۃ العلوم‘‘ کے تازہ شمارے بھی ملے جن کے لیے میں آپ کا بے حد مشکور ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں آپ اور عزیزم محمد عمار خان ناصر کی تحریروں کا ایک مدت سے مداح ہوں۔ خصوصاً اس وجہ...

الشریعہ اکادمی کا دورۂ تفسیر ۔ مشاہدات و تاثرات

― محمد بلال فاروقی

محمد بلال فاروقی۔ قرآن مجید اللہ کا آخری پیغام اور کتاب ہدایت ہے۔ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ یہ نسل انسانی کے تمام طبقات سے خطاب کرتا ہے۔ ایک طرف اس کے معانی و مطالب اتنے وسیع اور گہرے ہیں کہ ذکی تر ین آدمی ان میں عواصی کرکے احکام و مسائل اور حقائق کے لعل و جوہر نکالتا ہے۔ دوسری طرف قرآن کا دعوتی و تذکیری پہلو ایک عام انسان کی بھی بڑے دل نواز انداز میں راہنمائی کرتا ہے۔بنیادی عقائد (تو حید، رسالت، آخرت) کو ایسے سادہ پیرایے میں بیان کرتا ہے کہ ہر انسان اس کے موثر اسلوب سے اپنے ظرف کے بقدر استفادہ کر سکتا ہے۔ قرآن کریم کے حقائق و معانی اور احکام و...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’صاحب قرآن‘‘۔ مصنف: ڈاکٹر محمد شکیل اوج۔ ناشر: شعبہ سیرت، جامعہ کراچی۔ آج کی دنیا میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسنت کے ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی بلکہ مسلسل بھٹکتی ہوئی انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات اور فطرت سلیمہ کی طرف واپس لانے کے لیے قرآن کریم اور سنت نبوی کو عصر حاضر کی زبان واسلوب اور نفسیات وضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پورے شعور وادراک کے ساتھ پیش کیا جائے اور لادینی تہذیب وتعلیم نے قرآن وسنت کی تعلیمات کے گرد شکوک وشبہات کا جو وسیع جال پھیلا رکھا ہے، انسانی ذہن کو حکمت وتدبر کے ساتھ اس دام ہم رنگ...

خسرہ کا مجرب علاج

― حکیم محمد عمران مغل

خسرہ ایک متعدی مرض ہے۔ اس کا تعلق ایک مخصوص وائرس سے ہوتا ہے۔ صفراوی مزاج رکھنے والے بچے فوری اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس کے ساتھ بخار بھی لازمی ہوتا ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ پھر چوتھے دن جسم پر خشخاش یا باجرہ نما باریک دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ابکائیاں آنے لگتی ہیں۔ مزاج حد درجہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ تین دن کے یہ دانے ڈھلنے لگتے ہیں۔ دانے ختم ہونے کے بعد باریک بھوسی جسم سے اترنے لگتی ہے۔ بچے کا پیشاب گاڑھا اور سرخ ہو جاتا ہے۔ اس کا...

مئی ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۵