امراض دل اور بلڈ پریشر کا علاج

حکیم محمد عمران مغل

اسلامی کلچر کو جن چیزوں پر فخر ہے، ان میں نظام طب سرفہرست ہے۔ مسلم اطبا نے خصوصاً عباسی دور حکومت میں اس علاج کو نہ صرف بام عروج پر پہنچایا، بلکہ عرب وعجم کے کونے کونے تک پہنچا دیا۔ مغربی اقوام آج درپردہ اس علم کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ ہمارے اطبا اپنی کم علمی کی بنا پر اس میں پیوند کاری کر کے بھی عوام کے سامنے سرخ رو نہ ہو سکے۔ ہمارے اسلاف نے جس علم طب کو بڑی جانفشانی سے ہم تک پہنچایا تھا، وہ مکمل طور پر غیروں کے ہاں جا چکا ہے۔ ہماری علاج گاہوں اور گھروں میں جب تک مشرقی قندیلیں روشن رہیں، امراض ہم سے کوسوں دور رہے۔ جونہی مغربی چراغ جلنے لگے تو صحت کی مشرقی قندیلیں بجھنے لگیں۔

مشرق کی ایک سو کے قریب قندیلیں جنھیں ہم بجھا چکے ہیں، مغربی اقوام نے ان کے نام بدل کر اپنے ہاں سے نہ صرف امراض ختم کر دیے ہیں، بلکہ اربوں روپے کا زر مبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ ان میں درخت ارجن کی مسیحائی قابل ذکر ہے۔ قدرت نے سارے ملک میں ارجن درخت وافر مقدار میں پیدا فرمایا ہے جو بلڈ پریشر اور امراض دل کا حتمی علاج ہے۔اس کے استعمال سے دل کے امراض اور بلڈ پریشر آناً فاناً کافور ہوتے دیکھے گئے۔ سڑکوں کے کنارے ارجن کا موٹا تناور درخت جابجا ملتا ہے۔ باہر سے اس کی چھال سفید اور اندر سے سرخ ہوتی ہے۔ چھال کو خشک کر کے شہد یا گڑ سے اس کی گولیاں بنا لیں۔ صبح شام سادہ پانی سے دو دو کھائیں۔ ایک ہفتے میں دل کا پھیلنا، دھڑکن، دل کا ابتدائی ہلکا سوراخ ختم۔ اطبا کا فرمان ہے کہ کورامین اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ آیور ویدک کا مایہ ناز نسخہ ہے۔ خزائن الادویہ کے مطابق جڑیں، چھال، پتے، پھل سب دوائی خصوصیات کے حامل ہیں۔ اس کا پھل مدھانی کی طرح کا ہوتا ہے۔ خشک ہونے پر سخت ہو جاتا ہے۔ خزائن الادویہ کے مطابق یہ زہروں کا تریاق ہے۔ اس میں پوٹاس، کیلشیم، میگنیشم، چونا، کاربن، گندھک، فاسورس جیسی قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ جوشاندہ بنا کر نوش کرنے کے علاوہ برابر وزن گندم کے آٹے سے حلوہ بھی گڑ ڈال کر کھا سکتے ہیں۔

اس سے پھیپھڑے کا زخم، دق، امراض پیشاب، امراض خون ختم ہو جاتے ہیں۔ جریان احتلام اور بادی بلغمی امراض کو جڑ سے ختم کر کے ٹوٹی ہڈی کو جوڑتا ہے۔ ایک سے تین ماشہ خوراک ہے۔ اس کی چھال کا شربت بھی تیار کرتے ہیں اور اس کی مسواک بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

امراض و علاج

Flag Counter