سالانہ دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی ۲۰۱۳ء

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام حسب سابق امسال بھی شعبان ورمضان کی تعطیلات میں دینی مدارس کے منتہی طلبہ کے لیے سالانہ دورۂ تفسیر ومحاضرات قرآنی کا اہتما م کیا گیا جو ۸ شعبان/۱۷ جون سے شروع ہو کر ۱۱ رمضان/ ۲۱ جولائی تک جاری رہا۔ جید اساتذہ کرام کی ایک جماعت نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق شرکاء کو تفسیر کا درس دیا، جبکہ مختلف علمی اداروں سے تعلق رکھنے والے اہل علم کو علوم قرآنی کے مختلف پہلووں پر محاضرات کے لیے مدعو کیا گیا۔

قرآن مجید کے مختلف حصوں کی تدریس کی ذمہ داری انجام دینے والے اساتذہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:


۱۔ مولانا زاہد الراشدی

شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

سورۃ الفاتحہ تا سورۃ الاعراف۔ الانفال والتوبہ


۲۔ مولانا فضل الہادی

استاذ الحدیث مدرسہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ

سورۃ الاعراف۔ سورۂ یونس تا بنی اسرائیل۔ سورۃ الانبیاء تا النور


۳۔ مولانا ظفر فیاض 

استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

سورۃ الکہف تا الانبیاء ۔ سورۃ الفرقان تا فاطر


۴۔ مولانا محمد یوسف

مہتمم مدرسہ ابو ایوب انصاری، گوجرانوالہ

سورۃ یس تا سورۃ الحجرات


۵۔ مولانا وقار احمد

لیکچرر گورنمنٹ کالج، خان پور، ہری پور

سورۃ ق تا سورۃ القمر


۶۔ مولانا حافظ محمد رشید

لیکچرر گورنمنٹ کالج، ڈسکہ

سورۃ الرحمن تا سورۃ التحریم


۷۔ مولانا عمار خان ناصر

ڈپٹی ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ

سورۃ الملک تا سورۃ الناس


درج ذیل حضرات نے مختلف موضوعات سے متعلق علمی محاضرات پیش کیے:


۱۔ مولانا زاہد الراشدی

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ

احکام القرآن اور جدید وضعی قوانین کا تقابل (۲۰ محاضرات)


۲۔ مولانا مفتی محمد زاہد

جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد

فہم قرآن میں حدیث وسنت سے استفادہ کے مختلف پہلو


۳۔ مولانا عمار خان ناصر

الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ

۱۔ مکی ومدنی سورتوں میں مضامین اور اسلوب کا فرق

۲۔ مختلف تفسیری اقوال میں ترجیح کے اصول مع تدریب (۲ محاضرات)


۴۔ حافظ نصیر احمد احرار

شیخ الہند اکادمی، لاہور

شیخ الہند ؒ اور ترجمہ قرآن


۵۔ ڈاکٹر فیروز شاہ کھگہ

سرگودھا یونیورسٹی، سرگودھا

قرآن کریم سے متعلق مستشرقین کے مختلف اعتراضات کا جائزہ


۶۔ میاں انعام الرحمن

اسلامیہ کالج، گوجرانوالہ

مروجہ سیاسی وحکومتی نظام کا تعارف


۷۔ مولانا وقار احمد

گورنمنٹ کالج، خانپور، ہری پور

مولانا محمد قاسم نانوتوی کا مسلکی اعتدال


۸۔ ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی

المشرق سائنس کالج، گوجرانوالہ

جدید طبقات میں درس قرآن کے اصول


۹۔ مولانا محمد سلیمان اسدی

گورنمنٹ کالج، پسرور

تاریخ تفسیر ومفسرین


۱۰۔ مولانا محمد سرور خان

پیاس یونیورسٹی، اسلام آباد

اصول تحقیق، موضوع تحقیق کا انتخاب 


۱۱۔ مولانا حافظ محمد رشید

گورنمنٹ کالج، ڈسکہ

اصول تحقیق کا تعارف (۳ محاضرات)


۱۲۔ مولانا سید متین احمد شاہ

ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد

۱۔ قرآن کریم کا بلاغی اعجاز

۲۔ قرآن کریم کی سائنسی تفسیر، اصول وارتقا


دورۂ تفسیر میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے تین درجن کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ کامیابی سے دورۂ تفسیر کی تکمیل کے بعد سند حاصل کرنے والے طلبہ کے نام اور پتے حسب ذیل ہیں:


۱۔ ذو الفقار احمد بن محمد ایوب قریشی

جامع مسجد تقویٰ، مانسہرہ


۲۔ حسن علی الحسینی بن محمد شریف

کلورکوٹ، ضلع بھکر


۳۔ فتح اللہ بن سیف اللہ

تحصیل الائی، ضلع بٹگرام


۴۔ عبید اللہ بن محمد امین

مکڑ ہامیانہ، ضلع مانسہرہ


۵۔ محمد اویس بن محمد حسن معاویہ

نیو سول لائن، گوجرانوالہ


۶۔ محمد فاروق بن محمد انور

کامونکی، ضلع گوجرانوالہ


۷۔ محمد عمر بن محمد یونس

شاہدرہ، لاہور


۸۔ شوکت علی بن حاجی حضرت نور

ٹل، ضلع مانسہرہ


۹۔ حمید صادق بن 

بیس بن، ضلع خان پور


۱۰۔ عبد السلام بن عبد الخالق عباسی

دھیر کوٹ، آزاد کشمیر


۱۱۔ محمد عابد بن عبد القیوم

خاکی، ضلع مانسہرہ


۱۲۔ خبیب الرحمن بن مولانا جمیل الرحمن 

باغبان پورہ، لاہور


۱۳۔ محمد شفیق بن محمد رفیق

میرا بالا، ضلع مانسہر


۱۴۔ محمد عامر بن اورنگ زیب

تابوال، ضلع ایبٹ آباد


۱۵۔ عثمان فاروق بن فاروق حسین

گوجر خان، ضلع راول پنڈی


۱۶۔ اورنگ زیب بن شاہ عالم

ٹیکسلا، ضلع راول پنڈی


۱۷۔ محمد طیب بن ینو خان

ڈڈیال، ضلع میر پور


۱۸۔ محمد نواز بن امیر نواز

معروف خیل، ضلع چارسدہ


۱۹۔ عبد الرحمن بن محمد رفیق

کنگنی والا، گوجرانوالہ


۲۰۔ عبد البصیر بن علی حیدر

بیلہ، ضلع ہری پور


۲۱۔ شبیر احمد بن محمد رفیق

تاجل، مانسہر


۲۲۔ امرؤ اللہ بن محمد انور

الائی، ضلع بٹگرام


۲۳۔ محمد اسد بن محمد نواز

جھنگڑ، ضلع مانسہر


۲۴۔ اختر عبد الرحمن بن رحمن بادشاہ

خانپور، ضلع شیخوپورہ


۲۵۔ نقیب اللہ بن علی محمد

کوئٹہ، بلوچستان


۲۶۔ تحمید جان بن عبد الغفار

نیموڑے، ضلع چارسدہ


۲۷۔ شبیر احمد بن منتظر

گانگو، ضلع چارسدہ


۲۸۔ عثمان حیدر بن اشتیاق احمد

کروڑ لعل عیسن، ضلع لیہ


۲۹۔ محمد ایوب بن محمد اسماعیل

خانپور، ضلع رحیم یار خان


۳۰۔ عثمان حیدر بن محمد رؤف عثمانی

کروڑ لعل عیسن، ضلع لیہ


۳۱۔ حنیف سید شیرازی بن نواب سید

کنشائی شیراز آباد، ضلع بٹگرام


۳۲۔ ندیم اقبال بن محمد اقبال

صابوکی دندیاں، ضلع گوجرانوالہ


۳۳۔ خورشید الاسلام بن محمد اسلم

میرا مظفر، ضلع ایبٹ آباد


۳۴۔ محمد بلال فاروقی بن محمد ریاض

کینٹ، لاہور


طلبہ کے مابین علوم قرآنی کے حوالے سے ایک تحریری انعامی مقابلہ بھی منعقد کروایا گیا جس میں شرکت کرتے ہوئے گیارہ طلبہ نے مختلف موضوعات پر مختصر مقالات تحریر کیے۔ دورۂ تفسیر سے متعلق تعلیمی امورکی نگرانی کا فریضہ مولانا وقار احمد نے انجام دیا۔ دیگر انتظامی معاملات کی دیکھ بھال مولانا محمد عثمان (ناظم الشریعہ اکادمی) اور مولانا حافظ محمد رشید (استاذ الشریعہ اکادمی) کے سپرد تھی، جبکہ مولانا نذیر احمد اور قاری شبیر احمد (اساتذہ الشریعہ اکادمی) نے ان کی معاونت کی۔ انتظامی امور کی انجام دہی میں منتظمین کو محمد امجد، محمد مجاہد اور الشریعہ اکادمی کے طلبہ کا تعاون حاصل رہا۔

دورۂ تفسیر کی اختتامی تقریب ۲۱ جولائی ؍ ۱۱ رمضان کو بعد از نماز عصر الشریعہ اکادمی میں مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی (مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ) کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں مولانا داؤد احمد (شیخ الحدیث مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ) اور ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی (المشرق سائنس کالج، گوجرانوالہ) نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ دورۂ تفسیر کے شرکاء میں سے مولانا تحمید جان (فاضل دار العلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک) نے دیگر شرکاء کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مہمانان خصوصی نے دورۂ تفسیر کے شرکاء کو اسناد اور انعامی مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو انعامات تقسیم کیے۔ تقریب میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا جس کے بعد حاضرین نے روزہ افطار کیا۔

الشریعہ اکادمی