علامہ محمد اسدؒ اور ان کی دینی و علمی خدمات

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مغرب کے وہ اسکالر جو مشرف بہ اسلام ہوئے اور انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی بیش بہا خدمات انجام دیں، ان میں محمد اسدؒ کا ایک بڑا نام ہے ۔جنہوں نے اسلامیات میں بڑا درک پیداکیاتھا اور قرآن پاک کاانگریزی ترجمہ (مع تفسیری نوٹس) بھی کیا تھا۔ان کا انگریزی ترجمہ قرآن مستند ماناجاتاہے،اس کے علاوہ اسلامیات اور فکر اسلامی پر بھی ان کی تحریروں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ذیل میں علامہ محمد اسد کے حالات زندگی پر مختصر سی روشنی ڈالی جارہی ہے۔ 

محمد اسد نے پولینڈ کے ایک یہودی گھرانے میں لمبرگ (موجودہ یوکرائن) میں /2جولائی1990ء کو آنکھ کھولی۔ان کا خاندانی نام Leopold Weissرکھاگیا۔ ابھی نوْخیزہی تھے کہ مذہبی صحائف اور عبرانی کی تعلیم کے بعد پہلی جنگ عظیم کا طوفان انہیں آسٹریلیائی فوج میں لے گیا۔ فوجی زندگی کے تجربے نے زیادہ طول نہیں کھینچا اور وہ جلد اپنی تعلیم کی طرف لوٹ آئے اورانہوں نے ویانایونیورسٹی میں فلسفہ، تاریخ، آرٹ، طبیعات اور کیمیا کی تعلیم حاصل کی۔ مشرقی اور ایشیائی مطالعات میں دل چسپی لی اور اسلامیات کا گہرامطالعہ کیاجس نے ان کو اسلام کی حقانیت کا قائل کردیا۔تاہم اسلام انہوں نے بعد میں قبول کیا۔

محمد اسد حصول علم ،فکرکی پختگی،اور علمی تبحر میں تو معروف ہیں ہی، ساتھ ہی ان کو سیر وسیاحت کا بھی بڑا شوق تھا چنانچہ وہ بعد کی زندگی میں وہ ایک بڑے سیاح ثابت ہوئے کہ ایک بار سفر شروع ہوا تو پھر تو انہوں نے رکنے کا نام ہی نہیں لیا۔1922ء میں پہلی بار مشرق وسطی کا سفر کیا اور مصر، اردن، فلسطین، شام اور ترکی کے اسفار کیے۔ 1924ء کے دوسرے سفر میں انہوں نے مصر، عمان، شام ٹریپولی، عراق، ایران، افغانستان، وسط ایشیا کی سیاحت کی۔عرب دنیاکی سیاحت کے دوران وہ عرب کلچراور عرب اخلاقیات سے بے حد متاثر ہوئے جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب ’’دی روڈ ٹو مکہ ‘‘میں کیاہے ۔اپنے طویل تجربے اور مشاہدے اور مسلسل مطالعے کے بعد انہوں نے 1926ء میں برلن میں اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام محمد اسد رکھا۔ 

قبول اسلام کے بعدحج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور قاہرہ میں رشتہ ازدواج منسلک ہوئے۔ وہ عالمی صحافت سے متعلق تھے اور اس حیثیت میں دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھنے کے بعد 1932ء میں ہندوستان آئے۔یہاں ان کا قیام ملک کے مختلف علاقوں اور مشہور شہروں امرت سر، لاہور، سری نگر، دہلی اور حیدرآبا دکن میں رہا۔ اسی دوران محمد اسدعلامہ اقبالؒ سے ملے اور ان سے تبادلہ خیال کیا۔علامہ اقبال نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسلامیہ کالج لاہور میں نسل نو کو اسلامیات کا درس دیں۔سید نذیر نیازی کے نام 1934ء کے متعدد خطوط میں محمد اسد کے حوالے سے علامہ اقبال کا اظہار خیال موجود ہے۔ اسی سال محمد اسدکی کتاب (Islam at the Cross Road) شائع ہوئی، جس کے بارے میں علامہ اقبال نے لکھا:

This work is extremely interesting. I have no doubt that coming as it does' from a highly cultured European convert to Islam will prove an eye-opener to our younger generation
(یہ بہت ہی دلچسپ چیز ہے، مجھے ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ ایک اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ نومسلم یوروپین کے قلم سے منظر عام پر آنے سے ہماری نسل کے لیے چشم کشا ثابت ہوگی۔) 

یہ مختصر سی کتاب نئی اسلامی ادبیات میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے،چنانچہ اس کے ترجمے عربی اور اردو زبانوں میں ہوئے ،عربی ترجمہ الاسلام علی مفترق الطرق کے نام سے چھپا اور عالم عرب میں کافی مقبول ہوامولانا علی میاں ندویؒ اس کتاب کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔انھی کی تحریک پر اس کا اردو ترجمہ’’ اسلام دوراہے پر‘‘کے نام سے ایک ندوی فاضل کے قلم سے نکلااور مجلس صحافت و نشریات اسلام ندوۃالعلماء لکھنؤ سے شایع ہوا ۔

جس وقت محمداسدہندوستان آئے ،اس وقت آزادی کی تحریک جاری تھی ۔دوسری طرف مسلم کی قیادت میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جناح اور لیگ کی جذباتی سیاست کے زیر اثر پاکستان کے حصول کے لیے میدان میں آچکی تھی اور یہ صاف محسوس ہورہاتھا کہ ہند کی دوحصوں میں تقسیم ہوکررہے گی۔ علامہ اقبال سے ملاقات کے بعدمحمد اسدؒ نے برصغیر میں ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین بنا لیا، اس کے بعد وہ اپنی تحریروں میں اسی نصب العین کے حصول کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔انہوں نے پاکستان بننے کے بعداس آزاد مملکت کے لیے اسلامی دستور کے راہ نما اصو ل کی ترتیب میں بھی حصہ لیا۔ ان کی انہی خدمات کے باعث انہیں Intellectual Co-founder of Pakistanبھی کہا گیا ہے۔ قیام پاکستان، محمد اسد کے خوابوں کی تعبیر تھا، اپنے خوابوں کی اس تعبیر کے بارے میں خود انہوں نے بھی ایک جگہ لکھا ہے۔

For which I my self had worked and striven since 1993
(وہ مقصد جس کے لیے میں خود بھی 1939ء سے سرگرم رہا ہوں۔) 

1935 ء میں محمداسد نے حدیث کی سب سے مشہورومستند کتاب صحیح بخاری کے انگریزی ترجمے اور تشریح کی اشاعت کا کام شروع کیا اور اس کے پانچ اجزاء شائع کیے۔ جنوری 1937ء میں حیدرآباد دکن سے نکلنے والے رسالے Islamic Cultureکے مدیر مقرر ہوئے۔ یہ رسالہ اکتوبر 1938ء تک ان کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے (یکم ستمبر 1939ء تا/14اگست 1945ء) میں برطانوی حکومت نے انہیں گرفتار کرلیا۔ طویل عرصہ تک صعوبتیں جھیلنے اور صدمے اٹھانے کے بعد رہا ہوئے اور 1946ء میں ایک ماہانہ رسالے ’’عرفات‘‘ کا اجرا کیا۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے موقع پر ڈلہوزی سے لاہور آگئے اور ماڈل ٹاؤن میں مقیم ہوئے۔

علمی وتحقیقی کارناموں کے ساتھ ہی عالمی صحافت پر گہری نظر اور پختہ سیاسی شعور کے باعث انہوں نے بحیثیت سفارت کا ر بھی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا۔چنانچہ قیام پاکستان کے بعد محمد اسد کو اسلامی تعمیر نو کے ایک نئے محکمے Deparment of Islamic Reconstructionکا ڈائریکٹر بنایا گیا ۔ انہوں نے وزارت خارجہ میں ڈپٹی سیکریٹری اور مڈل ایسٹ ڈویژن کے انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔ 1951ء میں حکومت پاکستان کے نمائندے کے طور پر سعودی عرب گئے۔ اگلے برس انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے Committee on Information from Non-Self Govt. Territoriesکے چےئر مین اور Disamament Commission of the Security Coundilکے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1953 ء میں ان کی مشہور کتاب The Road to Makkahشائع ہوئی۔اس کتاب کا عربی ترجمہ الطریق الی مکۃ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کتاب کی بھی عالم اسلام میں خاصی پذیرائی ہوئی، حتی کہ مولاناعلی میاں ندوی ؒ نے اسی کتاب کے اوپر اپنی ایک مشہور کتاب کانام ہی الطریق الی المدینۃ رکھاہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارت سے مستعفی ہونے کے بعدمحمداسدؒ نے سوئزر لینڈ، بیروت، شارجہ اور لبنان کے اسفار کیے۔ 1961ء میں ان کی کتاب The Principles of State and Govt. in Islamشائع ہوئی۔ 1946ء میں انہوں نے مراکش میں رہائش اختیار کرلی جہاں وہ 1981ء تک مقیم رہے۔ 1980ء میں قرآن کریم کے ترجمے اور تشریحات پر مبنی ان کی کتاب The Message of The Quranشائع ہوئی۔ 1983ء میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے نفاذ اسلام کے سلسلے میں راہ نمائی لینے کے لیے ایک بار پھر انہیں پاکستان بلایا اور انہوں نے انصاری کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس کمیشن کے سربراہ مولانا ظفر احمد انصاری تھے ،جو ملک کی ایک بڑی مقتدر شخصیت تھے ۔محمد اسد کے تعلقات پاکستان کے اکثر مشاہیر سے تھے۔ مولانا مودودی، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہم سے اکثر ان کی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہواکرتا۔

کہاجاتاہے کہ حصول آزادی کے بعد وہ پہلے شخص تھے جنہیں پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا ۔ پہلے پاکستانی پاسپورٹ کے حامل اس آفاقی شخص کا یہ آخری سفر پاکستان ثابت ہوا۔ کیونکہ پاکستان سے /3اگست 1983ء کو لندن چلے گئے تھے جہاں سے انہوں نے پرتگال کا سفر اختیار کیا۔ 1987ء میں وہ ہسپانیہ لوٹے (اسی سال ان کی آخری کتاب The law of Ours and Other Essaysشائع ہوئی) ۔

جیسا کہ سطور ماقبل سے ظاہر ہے، عالمی سطح کے ایک نامور دانشور اور علوم اسلامی کے ایک ماہر کی حیثیت سے پاکستان نے ان کی خدمات سے استفادہ کیا۔ملک کی قدیم ترین اور بزرگ ترین جامعہ، پنجاب یونیورسٹی، نے علامہ اسد کے علم و فضل سے استفادے کی راہیں کشادہ کیں۔ 

علامہ محمد اسد پر اب تک تھوڑا بہت تحقیقی کام سامنے آچکا ہے۔ علامہ محمداسد کی پہلی سوانح (Leopold Weiss alias Muhammad Asad) جرمن زبان میں لکھی گئی ہے جو کہ صرف 1927ء تک کے احوال سے بحث کرتی ہے، اس کے بعد حال ہی میں The Truth Societyکی طرف سے علامہ اسد کے احوال و آثار اور ان کے بارے میں لکھے جانے والے مضامین، دو ضخیم مجلدات کی صورت میں شائع ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد صفحات کے اس مجموعے میں بھی جہاں علامہ اسد کی زندگی کے بیشتر پہلو زیر بحث آگئے ہیں، اقبال اور محمد اسد، محمد اسد اورخیری برادران وغیرہ جیسے باہم مربوط موضوعات پر بھی کلام کیا گیا ہے۔ علامہ محمد اسد کے افکار کے حوالے سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی سطح کا ایک مقالہ بھی تحریر کیا جاچکا ہے۔محمد اسد کی حیات وخدمات پر ایک مختصر کتاب انگریزی میں ہندوستان کے معروف اسلامی پبلشر گڈورڈ نے بھی شایع کی ہے۔جرمن اسلامی اسکالر اور مفکرمراد ہوفمان نے اپنی ڈائری میں ان کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دورمیں مشرق کے علماء و مفکرین کے پہلوبہ پہلو مغرب کے مسلم علماء، اسکالروں اور دانشوروں کی خدمات بھی اسلامیات کے میدان خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان مسلم مغربی علماء میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو عرب علماء واسکالر جو عرب دنیا سے ہجرت کرکے مغرب کو منتقل ہوگئے اور وہیں رہ کر علمی فکری اور دعوتی اور ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان علماء میں معروف فکری ادارہ المعہد العالمی للفکر الاسلامی واشنگٹن کے وابستگان ہیں جن میں اسماعیل راجی الفاروقیؒ شہید،ڈاکٹر طٰہٰ جابر العلوانی اور ان کے رفقائے خاص ہیں۔ دوسرے وہ محققین، داعی اورعلماء ہیں جو برصغیر سے ہجرت کرگئے تھے۔ ان میں سب سے بڑا علمی مقام علامہ ڈاکٹرمحمد حمیداللہ ؒ (آف پیرس) کا ہے۔ تیسرے وہ علما واسکالر ہیں جو مغرب کے ہی باشندے ہیں، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور دین کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ مثال کے طور پر فرانس کے اسکالر رینے گینوں، رجاء جارودی ( یہ پہلے مارکسی تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اسرائیل اور صہیونی تحریک پر کئی معرکۃ الآرا کتابیں لگھیں۔ ان کے بعض خیالات میں شذوذ پایا جاتا ہے ،اس لیے بعض عرب علماء نے ان کے بارے میں بڑی سخت رائے دی ہے،البتہ علامہ یوسف القرضاوی نے معتدل رائے کا اظہار کیا ہے ۔ملاحظہ ہو: القدس قضےۃ کل مسلم) مارٹن لنگز ،محمد اسد اور دوسرے دانشور۔ ضرورت ہے کہ ان مغربی علماء واسکالروں کی علمی وفکری خدمات کا تجزیاتی مطالعہ کیاجائے۔

محمد اسدؒ مفسر،مترجم،مصنف،صحافی اور سفارت کار تو اعلی درجہ کے تھے ہی ،ساتھ ہی درس وتدریس کے میدان میں بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔اس ضمن میں شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی کی صدارت بھی ان کی خدمات میں سرفہرست ہے۔ قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کی اسلامی شناخت کے سلسلے میں جو اقدامات کیے گئے، ان میں ایک، ملک کی قدیم ترین جامعہ، پنجاب یونیورسٹی میں علوم اسلامی کے شعبے کا قیام بھی شامل تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کاقیام 1882ء میں ہوگیا تھا، لیکن ہنوز اس میں علوم اسلامی کا کوئی شعبہ موجود نہیں تھا۔ اس حقیقت اور نئے وطن کے تقاضوں کے پیش نظر پنجاب یونیوسٹی کی سنڈیکیٹ نے اپنے اجلاس /5فروری 1949ء میں یہ فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی میں اسلامیات کا ایک شعبہ قائم کیا جائے۔ جامعات میں جب نئے شعبے قائم کیے جاتے ہیں تو ان میں تدریس اور سربراہی کے لیے اس مضمون کی رسمی سند رکھنے والے اکثرمہیا نہیں ہوپاتے، البتہ ان مقاصد کے لیے ایسے علماء کا انتخاب کرلیاجاتا ہے جو اس شعبہ علم میں درجہ کمال پر فائز ہوں۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں یونیورسٹی نے محمد اسد کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا۔

علامہ محمد اسد 1926ء میں قبول اسلام کے بعد علوم اسلامی سے سنجیدگی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اور انہوں نے اتنا کمال بہم پہنچایا کہ جب پنجاب یونیورسٹی نے علوم اسلامی کا شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی مسند صدارت کے لیے حکام کی نگاہ انتخاب علامہ محمد اسد پر پڑی۔ پنجا ب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے جس اجلاس (/5فروری1949ء) کا ابھی ذکر ہوا۔ اس میں وائس چانسلر نے شعبہ اسلامیات کی صدارت کے لیے علامہ محمد اسد کا نام تجویز کیا۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی نے ایک خط کے ذریعے علامہ محمد اسد کو اس پیش کش سے مطلع کیا۔ یہ اطلاع رجسٹرار کیپٹن محمد بشیر کی طرف سے مراسلہ نمبر /1243جی ایم مورخہ /8فروری1949ء کو دی گئی۔

یہ مراسلہ ملنے پر علامہ محمد اسد نے اس پیش کش کو قبول کیا جس کا اظہار ان کے ایک خط سے ہوا جس میں انہوں نے یونیورسٹی رجسٹرار کے منقولہ خط کی رسید دیتے ہوئے یونیورسٹی کا شکر یہ ادا کیا۔ علامہ محمد اسد 11ماہ تک اس عہدہ پر رہے۔ پھربعض وجوہات کے پیش نظر وہ یورپ چلے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر پاکستان آئے، ملک کی سفارتی خدمات انجام دیں اور بیرون ملک بھی ان کے اسفارہوتے رہے۔ تاہم پنجاب یونیورسٹی پاکستان سے ان کا تعلق کسی نہ کسی حیثیت سے برقرار رہا، بلکہ۱۹۸۰ء کے بعد اس کے ذریعہ منعقدہ عالم اسلامی کلوکلیم کے انعقاد کی ذمہ داری بھی ان کو دی گئی تھی۔ اس کے لیے وہ ایک بار پھر پاکستان آئے۔ البتہ اس علمی مذاکرہ کے انعقاد سے پہلے ہی یونیورسٹی انتظامیہ سے اختلاف کے باعث وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے بعد پھرمحمد اسدکبھی پاکستان نہیں آئے۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ ہسپانیہ چلے گئے تھے جہاں 20فروری 1992ء کو انہوں نے زندگی کی آخر ی سانس لی۔تدفین کے لیے محمد اسد کو فلسطین لایاگیا۔ اب وہ غزہ کے مسلم قبرستان میں آرام فرما ہیں۔

شخصیات