ستمبر ۲۰۱۱ء

دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج میں اپنی ’’قادیانیت نوازی‘‘ کی داستان قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جس کے الزام کا مجھے گزشتہ چار پانچ برسوں سے بعض دوستوں کی طرف سے سامنا ہے اور اب اس الزام کا ہدف ہونے میں عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر بھی میرے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ چند برس پہلے کی بات ہے، پسرور کے ایک سن رسیدہ بزرگ قاضی عطاء اللہ صاحب میرے پاس تشریف لائے۔ وہ ایک سابق قادیانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، مگر نصف صدی قبل مسلمان ہو گئے تھے اور اب بحیثیت مسلمان زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اردو ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے قرآن کریم کے مختلف تراجم کو سامنے رکھ کر ترجمہ...

قومی ہم دردی اور ہم

― مولانا محمد بدر عالم

لکڑی کا بنا ہواخوبصورت دروازہ گھرسے نکلتے وقت آپ کو الوداع کرتاہے اورگھر میں داخل ہوتے وقت آپ کا استقبال کرکے آپ کادل خوش کرتااوراپنی مضبوطی کا احساس دلاتا ہے ۔ایک دن اچانک جیسے ہی آپ دروازے پر ہاتھ رکھتے ہیں کسی ایک پٹ کا کوئی قبضہ اکھڑ جاتاہے ۔چوکھٹ کے کسی ایک بازوسے لکڑی کا چھلکا ادھڑ کر ہاتھ میں آجاتاہے۔ یہ کیا؟آپ ایک لمحے کے لیے سوچتے ہیں اورفوراہی آپ کو معلوم ہوجاتاہے کہ یہ دابۃ الارض(دیمک ) کی کارستانی ہے۔ ایسی چوکھٹ کا کیا فائدہ اسے تو تبدیل کرنا پڑے گا۔ پکانے کے لیے بڑے شوق سے آپ چنے یا سفید لوبیا لے کر آئے۔ دھونے کے لیے برتن میں ڈالا،...

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال

― مولانا محمد وارث مظہری

کچھ دنوں قبل ہندوستان کے ایک مایہ ناز عالم وفقیہ اور متعدداہم کتابوں کے مصنف نے راقم الحروف سے گفتگو کے دوران مدارس میں تصنیف وتالیف اور علمی تحقیق کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے اور وسیع اثرات رکھنے والے مدرسے سے متعلق کہا کہ یہاں سے گزشتہ بیس پچیس سال کی مدت میں حقیقی معنوں میں صرف دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔اور انھوں نے ان کتابوں کا نام بتایا۔غور وفکر کا مقام ہے کہ جب نامی گرامی اور عظیم وراثت کے امین مدرسے کی یہ حالت ہے تو دوسرے مدارس سے ہم کس طرح کوئی بڑی امید قائم کر سکتے ہیں؟اگرچہ مدارس کی سطح پر صورت حال...

عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد

― اویس پاشا قرنی

’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اپنی اصل کے اعتبار سے غلبہ چاہتا ہے‘‘۔ ماجرا کچھ یوں ہے کہ یہ فقرہ آج ایک خاص تصورِ دین کا عکاس ہے۔ اِس عبارت کو سمجھنے کے لیے گزشتہ صدی کے فکری رجحانات اور ان کے اظہار کے لیے وضع کردہ خاص محاورے اور اصطلاحات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ نسل انسانی کے اجتماعی شعور نے جب اپنے گزشتہ مشاہدات و تجربات کی روشنی میں اپنی اجتماعیت کو ایک مربوط نظام کی شکل دینے کی کوشش کی اور اِس کی پشت پر افراط و تفریط پر مبنی خالص مادی نقطۂ نظر سے مختلف فکری استدلال بھی قائم کیے‘ تو بالکل فطری تقاضے کے طور پر مسلمان اہل علم نے دین اسلام...

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

تقسیم ہند سے تقریباً نوے برس قبل ۱۸۵۷ میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کا اصل مقصد، اسلام کا نفاذ نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف، اپنے علاقے سے غیر ملکیوں کو کھدیڑنا تھا۔ اس لیے اس جنگ میں متحدہ ہند کی تمام قوموں نے بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل مقدور بھر حصہ لیا تھا۔ شاید اسی لیے اس واقعہ کی بابت یہ بحث تو ہوتی رہی کہ یہ جنگ ہے یا غدر۔ لیکن، یہ جہاد ہے یا نہیں؟ اس زاویے سے کوئی سنجیدہ بحث ہمارے علم کی حد تک کبھی نہیں چھڑی۔ جن لوگوں نے اسے ’جنگِ آزادی‘ قرار دیا اور جنہوں نے اسے ’غدر‘ گردانا، دونوں ہی اپنے اپنے موقف کے تاریخی اثرات سے پوری طرح آگاہ نہ...

حافظ صفوان محمد کے جواب میں

― طلحہ احمد ثاقب

محب گرامی حافظ محمد صفوان نے ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ کے زیر عنوان مضمون میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا فریضہ بہت خوب صورتی سے سرانجام دیا ہے۔ اچانک چلتے چلتے وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کو چھوڑ کر ہامز لامز بن گئے ہیں۔ انھوں نے ایک ماسٹر صاحب کا تذکرہ فرمایا ہے جو ان کو لے کر ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور لے گئے۔ پھر ان کی گزارش یا مطالبے پر انھیں بادشاہی مسجد لے گئے۔ انھوں نے مزار اقبال پر جانا چاہا تو اقبال کے بارے میں بڑی عجیب وغریب باتیں ان کے کانوں میں انڈیلیں۔ بقول ان کے ماسٹر صاحب...

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں

― پروفیسر خالد شبیر احمد

جناب محمد عمار خان ناصر صاحب کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا نہ ہی ان کے علم وفضل کے خد وخال سے پوری طرح آگاہ ہوں کہ ان کا علم وفضل میں کیا مقام ومرتبہ ہے۔ البتہ ان کے والد محترم کی کئی تقریریں سننے کا اعزاز مجھے حاصل ہے اور میں ان کی علمی عظمت کا بھی قائل ہوں۔ جہاں تک ان کی خاندانی عظمت کا تعلق ہے، اسے تسلیم نہ کرنا بھی کوتاہی وکم نظری کے مترادف خیال کرتا ہوں۔ محمد عمار خان ناصر کے ایک مضمون پر مولانا عبد القیوم حقانی صاحب کا تنقیدی مضمون میری نظر سے گزرا جس میں انھوں نے جناب عمار خان ناصر کی اس تحریر پر گرفت کی ہے جو انھوں نے قادیانیوں کے بارے...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم ومکرم جناب زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیہ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ الشریعۃ بابت جولائی ۲۰۱۱ء میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب کے مضمون بعنوان ’’دعوت اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے‘‘ کی دوسری قسط کا مطالعہ کیا۔ اگرچہ پہلی قسط ابھی تک نظروں سے نہیں گزری، لیکن اسی قسط سے پہلی قسط کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محترم کے اس مضمون کا خلاصہ یہ لگتا ہے کہ یہ اُمت دعوت ہے! یہ بات سو فیصدی سچ ہے، لیکن اس بات کو موجودہ عالمی تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیاہے، اُس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیش کرنے والا نہ صرف جہاد...

ستمبر ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۹

دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قومی ہم دردی اور ہم
مولانا محمد بدر عالم

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال
مولانا محمد وارث مظہری

عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد
اویس پاشا قرنی

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

حافظ صفوان محمد کے جواب میں
طلحہ احمد ثاقب

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں
پروفیسر خالد شبیر احمد

مکاتیب
ادارہ

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter