مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال

مولانا محمد وارث مظہری

کچھ دنوں قبل ہندوستان کے ایک مایہ ناز عالم وفقیہ اور متعدداہم کتابوں کے مصنف نے راقم الحروف سے گفتگو کے دوران مدارس میں تصنیف وتالیف اور علمی تحقیق کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے اور وسیع اثرات رکھنے والے مدرسے سے متعلق کہا کہ یہاں سے گزشتہ بیس پچیس سال کی مدت میں حقیقی معنوں میں صرف دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔اور انھوں نے ان کتابوں کا نام بتایا۔غور وفکر کا مقام ہے کہ جب نامی گرامی اور عظیم وراثت کے امین مدرسے کی یہ حالت ہے تو دوسرے مدارس سے ہم کس طرح کوئی بڑی امید قائم کر سکتے ہیں؟اگرچہ مدارس کی سطح پر صورت حال میں تنوع پایا جاتا ہے ۔چناں چہ کہیں ٹھہراؤ کی کیفیت ہے، بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اور کہیں تحرک اور غور وتجزیے کی بنیاد پر تبدیلیوں کی چاپ سنائی دینے لگی ہے۔تاہم صورت حال پھر بھی بہت مایو س کن ہے۔نصاب سے قطع نظر جس پرعمومی طور پر انجماد کا پہلو غالب رہا ہے،دوسری حیثیتوں میں مدارس کی سر گرمیاں کافی نتیجہ خیز اورمؤثر رہی ہیں۔چناں چہ یہاں سے ایسے علما کی کھیپ کی کھیپ نکلی جس میں مصنفین،ادبا اورعلمی تحقیق کاروں کی بڑی تعداد شامل تھی۔انھوں نے اپنے پیچھے اہم علمی اثاثہ چھوڑا،جو موجودہ و آئندہ نسلوں کے لیے فکر وبصیرت کا سامان ہیں۔زیادہ پیچھے کی طرف نہ لوٹتے ہوئے آزادی کے بعددو تین دہائیوں تک علوم و افکا ر کے میدان میں سامنے آنے والی اور مدارس سے انتساب رکھنے والی شخصیات کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو وہ طویل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی باوزن دکھائی دیتی ہے۔

لیکن آج کی صورت حال نہایت افسوس ناک ہے۔اکثرمدارس پر صرف نصابی سرگرمیاں حاوی ہیں۔غیر نصابی سر گرمیوں کا دائرہ نمایاں طور پر تقریر کی مشق تک محدود ہے۔نتیجے کے طور پر مدارس سے غالب تعداد میںیا تو مدرسین پیدا ہو رہے ہیں یا مقررین یا پھر اسی درس و تقریر کی مشق کرنے کرانے والے شارحین وتقریر نگار۔ان کے علاوہ ایک تعداد مسلکی اور گروہی چپقلش پر خامہ فرسائی کرنے والوں کی ہے۔دوسرے موضوعات کے لیے جو تعداد بچتی ہے وہ نہایت قلیل ہے اور اس میں بھی اقل وہ تعداد ہے جو سنجیدہ ،علمی اسلوب میں علمی تحقیق وتصنیف کا کام کر رہی ہو۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی کئی دہائیوں سے حدیث،تفسیر اور فقہ کی بڑی بڑی کتابیں پڑھانے والی شخصیات، مدارس کی دنیا میں جن کے نام کا سکہ چلتا ہے،وہ بھی ابتدائی درسی کتابوں کی شرح و حاشیہ نگاری کوممتاز علمی وتصنیفی کام تصور کر بیٹھی ہیں۔ان کے ممتاز تلامذہ کا حلقہ انھیں یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ یہ’لاثانی‘اور’لافانی‘ کا م انھی کا خاصہ ہے۔اوریجنیلٹی،تخلیقی فکر اور تازہ کاری جو موجودہ علمی سرمایے میں اضافے کا باعث ہو اور جس سے قافلہ علم کوآگے بڑھنے کے لیے توانائی حاصل ہو،ایسا کام اب مدارس سے نکل کر جدید علمی دانش گاہوں،علمی اکیڈمیوں(اپنی محدودیتوں کے باوجود) میں اچھے اور بڑے پیمانے پر انجام پا رہا ہے۔نہ صرف ہندوستان میں بلکہ واضح طور پربر صغیر کے تینوں ممالک میں۔مثال کے طور پر تمام تر حلقے شاہ ولی اللہ سے اپنی نسبت قائم کر نے پر نازاں ہیں،لیکن مدارس کے حلقوں میں حجۃ اللہ البالغہ کے علاوہ، جو خال خال بعض جگہوں پر پائی جاسکے،بہ مشکل ہی کوئی اور کتاب پڑھی اور شائع کی جاتی ہے۔حالیہ مدت میں شاہ صاحب پر سیمینار علی گڑھ اور دہلی میں ہورہا ہے نہ کہ دیوبند ا ور ندوہ میں۔ اسی طرح مثال کے طور پر دہلی میں مکتبہ اسلامی، آئی او ایس اور اسلامی مرکز سے جس طرح کی علمی ،فکری اور تحقیقی کتابیں چھپ کرآئی ہیں ،مدارس سے وابستہ یا ان کے زیر اثر قائم نشریاتی اداروں کی فہرست میں ایسی کتابیں محض استثنا ہیں۔کتابوں کی اشاعت کے علاوہ یہی صورت حال مدارس سے شائع ہونے والے رسائل و مجلات کا ہے۔اداریہ سے لے کر اختتامیہ تک اکثر رسائل و مجلات محض عوام کے تیسرے اور چوتھے صف کے لوگوں کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔بالکل وہی کام جو مجلسی ملفوظات اور اسٹیج کی تقریروں سے لیا جا سکتا ہے،ان پرچوں سے لیاجاتا ہے۔بہر حال یہ ایک دل چسپ مطالعے کا موضوع ہے،ارشد امان اللہ نے اس موضوع (مدرسی صحافت) کا کسی قدر تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا ہے،جس کے نتائج سرائے ڈاٹ نیٹ کی سائٹ پر موجودہیں۔مدارس کے حلقوں سے جن موضوعات پر کتابیں چھپ رہی ہیں ان کے سرسری جائزے سے جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:

  • درسیات و متعلقات درسیات
    60-65 فیصد
  • دینیات: ( فتاوی و احکام، اصلاح و تبلیغ ، تذکرہ و سیرت)
    15-17 فیصد
  • وعظ و تقریر، ملفوظات و مکتوبات
    10-12 فیصد
  • مسلکی تنازعات ، تعویذات و عملیات
    9-10 فیصد
  • علمی و تحقیقی کتابیں (بہ مشکل)
    1 فیصد
  • متفرقات
    3-4 فیصد

یہ جائزہ مدارس کے حلقوں خصوصاً دیوبند میں چھپنے والی کتابوں کی تمام بڑی اور اہم فہرستوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس میں بعض چھوٹے موضوعات کو بڑے موضوعات جیسے تصوف کو ملفوظات و مکتوبات اور سیرت کو اصلاح و تبلیغ، لغات وغیرہ کو متعلقات درسیات میں شمارکر لیا گیا ہے۔ اس طرح باقی دوسرے موضوعات متفرقات کے ذیل میں ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی ضروری ہے کہ دیوبند دینی کتابوں کا ہندوستان میں سب سے بڑا مرکز ہے اور مدارس کے حلقوں کا نمائندہ ہے۔ ہندوستان کے کونے کونے میں یہاں سے دینی ، درسی کتابیں پہنچتی ہیں۔اگرچہ میرے خیال میں ہندوستان میں پھیلے مدارس کے اہم حلقوں: دارالعلوم ندوۃ العلماء ، مدرسۃ الاصلاح اور جامعۃ الفلاح، بریلوی مکتب فکر، اہل حدیث، اہل تشیع وغیرہ کی نشریات و مطبوعات کابھی جائزہ لیا جانا چاہیے ، تاکہ علمی و فکری سرگرمیوں اور اکیڈمک ارتقا کا زیادہ ہمہ گیری اور صحت کے ساتھ اندازہ ہو سکے۔

میری نظر میں اس صورت حال کے متعدد اسباب ہیں:

  • بنیادی سبب مطمح نظر کی محدودیت ہے۔در اصل مدارس کے ارباب حل وعقد نے مدارس کے مقاصد کو محض چند امور تک محدود کر دیا ہے یعنی:روز مرہ کے مذہبی مسائل میں عوام کی رہنمائی اور روایتی حدود و قیود کے ساتھ اسلامی ثقافت کے مظہر کوسماجی سطح پر محفوظ و برقراررکھنے کی کوشش کرنا۔لیکن سوال یہ کہ اس کے لیے آٹھ سال کے عرصے میں دس سے زائد علوم کی تحصیل کی ضرورت کیا ہے؟ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے روز مرہ کے شرعی مسائل کی ضروری واقفیت کے ساتھ دو تین سال کی دینی تربیت کافی ہے۔علمائے دیوبند میں مولانا تھانوی کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ ان کی نظر میں عالم ومحقق اور دینی مسائل کی واقفیت اور دینی تربیت رکھنے والوں کے مابین پائے جانے والے فرق کی حقیقت واضح تھی۔
  • مدارس اوردوسرے فکری و علمی حلقوں کے درمیان کوئی باضابطہ رشتہ اور تال میل قائم نہ ہو سکا۔اس کے بر عکس دونوں اداروں میں چپقلش کی فضا قائم ہوگئی جس میں دونوں ہی اداروں کی کمزوریاں شامل ہیں۔ البتہ ارباب مدارس کی طرف سے دینی و دنیاوی علوم کے تصور نے اس تفریق اور دوری میں خصوصی کر دار ادا کیا۔
  • مدارس مخصوص خانوادوں میں سمٹ کر رہ گئے یا دوسرے لفظوں میں ان پرمخصوص خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔یہ ام الامراض ہے جس نے مدارس کو مختلف حیثیتوں سے جن میں:مدارس میں جمہوریت کا فقدان،ان کے نظام اور سرگرمیوں پر کار وباریت کی چھاپ،ملازمین کا استحصال وغیرہ، اہم ہیں، کمزور و بے جان کر دیا۔’ اہتمام کی گدی نشینی ‘کر نے والوں نے نشر واشاعت کے حوالے سے اپنی ساری توجہ اپنے آبا واجداد کے کارناموں کواجاگر کرنے پر صرف کر دی۔چناں چہ انھی کی سوانح و تذکرے،خطبات وملفوظات،تصنیفات و تالیفات شائع ہونے لگیں اور انھی پر علمی نشستوں اور سیمیناروں کا انعقاد ہونے لگا۔
  • نصاب کی محدودیت کی وجہ سے ہمارے علما مدارس کی چہار دیواری میں سمٹتے چلے گئے۔اس طرح سماجی تبدیلیوں سے بے خبری کے ساتھ علوم وافکار کے میدانوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے وہ مکمل طور پر نا آشنا رہے۔
  • محنت اور صلاحیت سے متصف لوگوں کے لیے معاشی مسائل ان کے پاؤوں کی زنجیر بن گئے۔بے صلاحیت مقررین اسٹیج کی تقریروں کے ذریعے اعزازیے اور تحائف وصول کرنے لگے تو ان لوگوں نے طلبہ کواپنی تدریس سے زیادہ اپنی مطبوعہ شروحات کی طرف متوجہ کیا اور اس طرح پہلے طبقے کی برابری کی کوشش کی۔اب حقیقی معنوں میں ان درسی کتابوں کی شروحات لکھنے والوں اور کتابوں کے ناشرین میں جیسے ایک دیدہ یا نادیدہ ساز باز کی کیفیت پائی جاتی ہے۔بعض نصابی کتابوں کی خامیاں پوری طرح ارباب حل و عقد کی نگاہوں میں واضح ہو جانے اور نئی کتب کی شکل میں بہتر سے بہتر متبادل آجانے کے باوجود وہ انھیں درس سے اس لیے خارج کر نے سے قاصر ہیں کہ وہ ان دونوں طبقات کے اعتراضات و تنقید کو برداشت نہیں کر سکتے۔مختلف صورتوں میں ان کو اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
  • مدارس میں یا تو سرے سے تصنیف و تحقیق کا کوئی شعبہ نہیں ہے یا اگر ہے تو اسے لائق وفاضل افراد مشکل سے میسر آتے ہیں۔اس کی وجہ مدارس کا وہ بند ماحول ہے جس میں تخلیقی فکر رکھنے والے اہل قلم کے لیے خود کو ایڈ جسٹ کر نا آسان نہیں ہوتا۔
  • اس گراوٹ کی ایک وجہ فضلا ئے مدارس کی اکثریت کا ایک زبان (شمالی ہند کے تناظر میں اردو)پر انحصار اور عالمی مغربی زبانوں اور خود عربی سے عدم واقفیت ہے۔زبان کے تعلق سے عربی پوری طرح موجودہ علمی تقاضوں کے لیے کافی نہیں ہو سکتی تاہم اس سے ایک حد تک اس خلا کو پر کیا جا سکتا ہے جو اردو کے تعلق سے موجود ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عربی موجودہ دور میں اردو سے زیادہ ’جمہوری‘ اور ’سیکولر‘ہے۔ اردو بنیادی طور پرشمالی ہند کے مسلم معاشرے کی روحانی زبان ہو کر رہ گئی ہے۔آپ ایسی باتیں تلخ وترش تنقید برداشت کیے بغیرمشکل سے ہی لکھ سکتے ہیں،جواہل مدارس کے مزاج اور انداز کے مطابق نہ ہوں۔ 
  • علمی تحقیق و تصنیف کابڑا اور وسیع کام صرف افراد کے ذاتی شوق و جذبے کی بنیاد پر ہی انجام نہیں دیا جا سکتا۔ زیادہ بہتر طورپروہ علمی پروجیکٹوں کی شکل میں انجام دیا جاتا ہے۔ ماضی میں امرا اور شاہوں کی عطیات نے بہت سی چھپی دبی صلاحیتوں کو ضخیم کتابوں کی شکل میں منتقل ہونے کا موقع دیا۔ آج مغربی دنیا میں اس مقصد کے لیے بڑے بڑے ادارے: کارنیگی فاؤنڈیشن ، فورڈ فاؤنڈیشن، فل برائٹ وغیرہ موجود ہیں جو علمی تحقیقی کاموں کو باضابطہ پروجیکٹوں کی شکل میں انجام دیے جانے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر اس قسم کے ادارے تقریباً معدوم ہیں۔ مدارس کی بڑی تعداد کے لیے سالانہ بجٹ کی فراہمی ہی ایک مسئلہ ہوتی ہے۔ تاہم بڑے مدارس جن کا سالانہ بجٹ کروڑوں میں ہے، کم از کم اپنے فاضلین کو علمی پروجیکٹوں میں مصروف کرنے کے لیے بجٹ کا ایک حصہ مختص کر سکتے ہیں۔ 

مدارس کے حلقوں میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق علمی دانشمندی ( اسکالر شپ) کے فروغ اور فاضلین مدارس اور علما میں اکیڈمک ریسرچ کا صحیح شعور بیدار کرنے کے لیے منصوبہ بند اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں سے چند ضروری اور فوری اقدامات یہ ہیں:

  • مدارس کے مجموعی ماحول کو اس طرح ترتیب دینا کہ مدارس کی نئی نسل کا صرف کتاب پڑھنے پڑھانے پر ہی انحصار نہ ہو اور وہ صرف اس کی ہی اہمیت سے واقف نہ ہو۔بلکہ یہ بات اس کے شعور کا حصہ بن سکے کہ مطالعہ کا مقصد محض علم کے دائرے کو وسیع کرنا اور ترقی دینا نہیں بلکہ فکر کے دائرے کو بھی وسیع کرنااور اسے ترقی دینا ہے۔
  • علم کے لیے جس تجسس(Curiosity) اور تازہ کاری کے لیے جس تخلیقی فکر کی ضرورت ہے وہ حقیقت میں مدارس میں رائج نصاب سے حاصل نہیں ہوتی۔ مدارس کے نصاب میں سوشل اسٹڈیز اور زبان کی سطح پر خصوصی تبدیلی و اصلاح کی ضرورت ہے۔ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی سے مدارس کو آسانی کے ساتھ وابستہ کیا جا سکتاہے، جدید تعلیمی پالیسی میں حکومت ہند کی اس طرف خصوصی توجہ ہے۔ اپنے بعض تحفظات کے ساتھ مدارس کو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ تاکہ طالب علم کے مطالعہ و مشاہدے کا دائرہ وسیع ہو۔ زبان کے تعلق سے انگریزی کو باضابطہ نصاب کے اصل دھارے میں شامل کرنے اور ہر ہر طالب علم کے لیے کم و بیش میٹرک کی سطح تک کی انگریزی زبان کی واقفیت کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ آج کی ضروریات اور تقاضوں کو کل کے اکابر و اسلاف سے مقابلہ (Compare)کر کے دیکھا نہیں جاسکتا۔
  • دینی اور دنیاوی علوم کی تفریق کے خاتمے کے ساتھ مدارس کے نصاب میں ’’ قدیم صالح‘‘ اور ’’ جدید نافع‘‘ کے امتزاج و شمولیت سے جب تک مدارس کے نصاب میں توازن پیدا نہیں ہو جاتا، اس صورتحال میں کوئی خوشگوار تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کی فکرکے مطابق ، مدارس کے فضلا کے لیے یونیورسٹیوں میں داخلے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ جنوبی ہند کے بہت سے اہم دینی ادارے اس کی نمایاں مثال ہیں۔ 
  • تمام بڑے مدارس میں تحقیقی اکیڈمیاں اور مراکز قائم کی جائیں۔ بعض مدارس میں ایسے مراکز محض دکھاوے کے لیے ہیں۔ ان سے زیادہ سے زیادہ ادارے کے بانیان و اکابر کی یا ان سے متعلق ،اور دوسری صورت میں گروہی چپقلش پر مبنی مواد شائع کیے جاتے ہیں۔ اس طرح علم کی یہ آواز یا تو اپنی ہی چہار دیواری میں گونج کر رہ جاتی ہے یا پھر وہ اتنی بھونڈی ہوتی ہے کہ اس چہار دیواری سے باہر اس کو سننے والا اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتا ہے۔
  • اس مقصد کے حصول کے لیے غیر نصابی سرگرمیوں میں مختلف چیزوں پر توجہ اور ارتکازکی ضرورت ہے۔ جیسے: ماہرین اصحاب علم کے ذریعہ ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہانہ محاضرے کا پروگرام، تقریری مجالس کی طرح تحریری مقابلوں کا پروگرام، مختلف موضوعات پر اوپن ڈسکشن کا اہتمام و انتظام، ملک اور ملک سے باہر مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اہم رسائل و مجلات کی کٹیلاگ سازی اور طلبہ کو ان کی فراہمی، مرکزی لائبریری میں ضروری بنیادی کتابوں کے ساتھ نئی شائع ہو کر منظر عام پر آنے والی کتابوں کا ذخیرہ جن سے طلبہ بہ آسانی اور بر وقت استفادہ کر سکیں۔ اس طرح طلبہ میں تحریری ذوق کو ابھارنے کے لیے سالانہ سطح پر طلبہ کی تحریری کوششوں پر انعامات دینے کے علاوہ ان پر بھی نمبرات دیے جانے چاہئیں اور انہیں سالانہ مارک شیٹ میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
  • طلبہ کی تحریری و صحافتی تربیت کے لیے مدارس میں باضابطہ اس کے شعبے اور تربیتی مراکز (Training Centers) کھولنے کی ضرورت ہے۔
  • دیواری رسائل کے علاوہ طلبہ کے لیے مختص با ضابطہ طبع ہونے والے رسائل بھی ہونے چاہئیں، جن میں ان کی تخلیقات شائع ہوں، پھر ان کی منتخب تحریروں کو کتابی شکل میں شائع کیا جانا چاہئے۔
  • اخیر کے دو سالوں میں بالترتیب ہر سال میں کم از کم 50اور 100صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ (dissertation) طلبہ سے لکھوایا جانا چاہیے اور ان پر حاصل ہونے والے نمبرات کو سالانہ امتحان کے مجموعی نمبرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
  • تمام بڑے مدارس میں کم از کم سال میں ایک مرتبہ کسی اہم اجتماعی دلچسپی کے حامل موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ اس میں اہم علما اور دانشوروں کے علاوہ قدیم با صلاحیت فضلا کو مدعو کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کی نئی نسل ان سے سیکھ سکے اور ان کے نقش راہ کو اپنانے کی کوشش کر سکے۔
  • ہمارے بڑے مدارس کا خاص طورپر عالم اسلام کی بڑی جامعات کے ساتھ باضابطہ ربط اور معادلہ ہونا چاہیے جس کے تحت یہاں کے طلبہ وہاں اور وہاں کے طلبہ یہاں آکر دونوں جگہوں کے تعلیمی نظام و نصاب سے اپنی ضرورت کے مطابق استفادہ کر سکیں۔ اس کے لیے ’’ عالم اسلام‘‘ کی قید بھی بے جا ہے۔ ہمیں با صلاحیت، منتخب ، پختہ اسلامی فکر رکھنے والے طلبہ کے لیے یہ رسک لینا چاہیے کہ انہیں ضروری تربیت کے بعد مغرب کی اعلیٰ دانش گاہوں کے مذہبی مطالعات کے شعبوں میں داخل کرایا جائے۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ادارہ مستقل طورپر ان کے ساتھ ربط اور ان پر نگاہ رکھے اور انہیں ضروری تعاون فراہم کرے۔ اس بھٹی میں تپنے کے بعد وہ موجودہ عالمی تقاضوں کے مطابق زیادہ کار آمد ہو سکیں گے۔ جامعہ ازہر کا پیٹرن یہی ہے ازہر کی طرف سے بھیجے گئے ایسے اسلامی علم و ثقافت کے سفرا مغربی ممالک کی تاریک فضا میں اسلامی علم و ثقافت کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔ پچھلے دنوں ازہر کے ایسے کئی نمائندوں پر مغربی ملکوں میں حملے ہوئے لیکن اس کے جواب میں ازہر نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ اپنے نمائندوں کو اسی طرح وہاں بھیجتی رہے گی۔ بلا شبہ یہ زیادہ بڑا اقدامی کام ہے جس کے لیے بہت زیادہ تیاری اور ہمت جٹانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ صورتحال تو یہ ہے کہ ہمارے بعض مرکزی ادارے مکہ و مدینہ کی علمی درسگاہوں سے بھی اس لیے معادلے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہاں جا کر فضلا کی حنفیت اور گروہی مسلکیت کی بند ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ اس ذہنیت کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔

یہ اور اس طرح کے اقدامات اور کوششوں کے ذریعہ مدارس کے اندر اسلامی اسکالر شپ کے گرتے ہوئے معیار کا علاج ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ مدارس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کی خود اطمینانی (self-sufficiency) کی یہ ذہنیت ہے کہ مدارس میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی نہیں اعلیٰ معیار کے مطابق ہے۔ اس لیے ان سے اس سے اوپر کی توقع کرنا غلط اور بے جاہے۔ یہ ذہنیت علم میں اضافے اور فکر میں نمو کے لیے تجسس و اضطراب کی اسپرٹ کو ختم کر دیتی ہے۔

بہر حال مدارس میں علم و تحقیق کے معیار کی گراوٹ (slow down) وقتی نہیں ہے کہ اس کے علاج کے لیے کوئی فوری 'bail out' پروگرام یا پیکیج تیار کر لیا جائے۔ اس کے لیے مدارس کے پورے نصاب و نظام کے حقیقت پسندانہ اور معروضی جائزے کے ساتھ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ تبھی یہ مدارس عام درسگاہوں کی طرح محض پیشہ ورانہ انداز میں پڑھنے پڑھانے والے ادارے کی حیثیت سے اوپر اٹھ کرحقیقی معنوں میں علم و فضیلت (scholar ship)اور فکر و تحقیق کے اعلیٰ اور اساسی اداروں کی حیثیت سے موجودہ دور کی نمائندگی اور مسلم و غیر مسلم سماج پر اپنے اثرات قائم کر سکنے کے لائق ہو سکتے ہیں۔ ورنہ دوسری صورت میں بہر حال اقبال کی یہ شکایت اسی طرح باقی رہے گی کہ:

نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

ستمبر ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۹

دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قومی ہم دردی اور ہم
مولانا محمد بدر عالم

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال
مولانا محمد وارث مظہری

عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد
اویس پاشا قرنی

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

حافظ صفوان محمد کے جواب میں
طلحہ احمد ثاقب

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں
پروفیسر خالد شبیر احمد

مکاتیب
ادارہ