بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۳)

مولانا مفتی محمد زاہد

اسلامی یا غیر اسلامی ہونے میں اصل اہمیت دلیلِ شرعی کی ہے

اسلامی بینکاری کے موضوع پر بحث کرنے والے علما ( مجوّزین اور ناقدین ) کا اصل میدان معاشی علوم نہیں ، اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی معاشی پہلو کی طرف ان کی توجہ مبذول نہ ہوئی ہو اوروہ پہلو ایسا ہو جس سے مسئلے کا حکم تبدیل ہوجاتاہو ، ایسی صورت میں اگر کوئی ماہرِ معاشیات اس پہلو کی طرف توجہ دلاتے اور کسی معاشی حقیقت کے فہم میں غلطی کی نشان دہی کرتے ہیں تو اسے علمی دنیا پر احسان سمجھنا چاہئے ، اور علما کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے ، جس سے انہوں نے کبھی انکار بھی نہیں کیا ، لیکن ایسا انداز جس سے بظاہر کسی خاص شخصیت کی تجہیل کی ہوس ٹپک رہی ہو، اور اس طرح سے کھینچ تان کر کسی کی طرف خاص نظریہ منسوب کیا جارہا ہو یہ انداز علمی مباحثے کے مزاج سے میل نہیں کھاتا ، بہر حال اگر کوئی نیا ایسا پہلو سامنے آبھی جائے جس کی طرف اب تک اہلِ علم کی توجہ مبذول نہ ہوئی ہو تب بھی یہ فیصلہ کہ اس سے حکمِ شرعی پر کیا اثر مرتب ہوگا دلیلِ شرعی ہی کی بنیاد پر ہوگا ، جناب مغل صاحب کے مضمون کی تمہید دیکھ کر قاری یہ توقع قائم کرتا ہے کہ آگے چل کر اسلامیت یا غیر اسلامیت کی بحث میں مسئلے پر بہت اوپر کی سطح سے روشنی ڈالی جائے گی ، اب تک ہمیں درمختار اور ہدایہ وغیرہ کی سطح کی بحثیں دیکھنے کو ملتی تھیں ، اب شاہ ولی اللہ، شاطبی اور ابن القیم کی سطح کی بحث سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا ، اور علم کے نئے باب وا ہوں گے، لیکن مضمون کے آخر میں جاکر جب اصل موضوع یعنی اسلامیت یا غیر اسلامیت کی بحث آتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دلیلِ شرعی کے حوالے سے زید بن ثابتؓ کے ایک اثر اور ایک آیتِ کریمہ جس سے کوئی ادنی عالم بھی ناواقف نہیں ہوسکتا کے علاوہ کوئی اور دلیل پیش کرنے کی بجائے اسلامیت یا غیر اسلامیت کا فیصلہ بھی اپنی معیشت دانی کے زور پرکرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے استدلال کے لیے کسی حدیث کی کتاب سے جو اکلوتی روایت پیش کی ہے اس کا کیا حشر انہوں نے کیا ہے یہ دیکھتے چلیں۔

ان کی پیش کردہ روایت کا پس منظر یہ ہے کہ فقہِ اسلامی کے مطابق جب کوئی شخص کسی چیز کو خرید کر آگے بیچنا چاہتاہے تو ضروری ہے کہ پہلے اس پر قبضہ کرے ،قبضہ کیے بغیر خریدی ہوئی چیز کو آگے بیچنا جائز نہیں ہے ، اتنی بات پر فی الجملہ فقہا کے ہاں اتفاق پایا جاتاہے ، تاہم یہ اصول کن اشیا پر لاگو ہوتاہے اس میں کچھ اختلاف ہے ،خوردنی اشیا ( طعام ) کے بارے میں تقریبا تمام فقہا متفق ہیں کہ قبضہ کیے بغیر ان کی بیع جائز نہیں ہے ، البتہ طعام میں بھی ایک صورت میں اختلاف ہے ، وہ یہ کہ ایک شخص نے اس بیچے جانے والے طعام کو نہ توخریدا ہے اور نہ ہی کسی عقدِ معاوضہ کے ذریعے وہ اسے حاصل ہوا ہے ، بلکہ اسے وہ غذائی جنس عطیہ وغیرہ کے طور پر حاصل ہوئی ہے، آیا اسے آگے بیچنے کے لیے بھی قبضہ ضروری ہے یا نہیں ، اس میں امام مالک ؒ کے دو قول منقول ہیں ( حنفیہ کے نزدیک تمام منقولہ اشیا میں ہر حال میں قبضہ ضروری ہے ) ایک یہ کہ ایسے طعام کی بیع سے پہلے بھی قبضہ ضروری ہے ، دوسرا یہ کہ اس میں بیع کے جواز کے لیے قبضہ ضروری نہیں ہے ، موطا سے بظاہر پہلا قول معلوم ہوتاہے ، اس سلسلے میں امام مالک ؒ نے زید بن ثابتؓ کا ایک اثر پیش کیاہے۔

اس اثر کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہؓ کے دور میں جب مروان مدینہ منورہ کا والی تھا اس زمانے میں جن جن لوگوں کو بیت المال سے غذائی اشیا کی متعین مقدار ملنی ہوتی تھی ان کے نام ایک رسید لکھ دی جاتی تھی ، ’الجار‘ نامی ایک بندرگاہ پر یہ اجناس جمع ہوتی تھیں ، وہاں سے لوگ یہ رسیدیں دکھا کر اپنا اپنا حق یا عطیہ وصول کرلیا کرتے تھے ، اس لیے ان رسیدوں کو ’ صکوک الجار ‘ کہاجاتا تھا ، بعض لوگ ایسا بھی کرتے کہ ان رسیدوں کی پشت پر جو طعام ہوتا تھاا عملاً ان پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی ان کی خرید وفروخت شروع کردیتے ، ( جو امام مالک کے ایک قول کے مطابق جائز اور ایک کے مطابق ناجائز ہے)اسی طرح کا عمل ایک دفعہ مروان کی گورنری کے زمانے میں حضرت زید بن ثابتؓ نے ہوتے ہوئے دیکھا کہ لوگ اس طعام کی خرید وفروخت کررہے ہیں، زید بن ثابت اور ایک اور صحابی نے اس بارے میں مروان سے بات کی ، اس نے ان تمام بیوع کو واپس کرنے کا حکم جاری کیا ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو موطا امام مالک مع شرح اوجز المسالک از شیخ الحدث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ۱۱/ ۲۰۲ ) یہ پس منظر ذہن میں رکھنے کے بعد موطا کی اصل عبارت اور جناب زاہد صدیق مغل صاحب نے اسے جس انداز سے پیش کیا ہے اسے ذرا ملاحظہ فرمائیں :

عن مالک أنہ بلغہ أن صکوکا خرجت للناس فی زمان مروان بن الحکم من طعام الجار، فتَبایَع الناسُ تلک الصکوکَ بینہم قبل أن یستوفوہا ، فدخل زید بن ثابت ورجل من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی مروان بن الحکم ، فقالا : أتحل بیع الربا یا مروان؟ فقال : أعوذ باللہ وما ذاک؟ فقالا : ہذہ الصکوک تبایَعَہا الناسُ ، ثم باعوہا قبل أن یستوفوہا ، فبعث مروان الحرس یبغونہا من أیدی الناس ویردونہا إلی أھلہا 

اب ذرا دیکھئے جناب مغل صاحب اس واقعے کو کیسے نقل کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’مروان بن حکم کے دور میں جب مرکز سے رقم ( درہم ودینار ) پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو صوبے کے گورنر نے لوگوں کو بازار کی اشیا خریدنے کے لیے رسیدیں جاری کردیں جنہیں لوگوں نے خریدنا اور بیچنا شروع کردیا۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے مروان سے کہا کہ کیا تم سود کو حلال کررہے ہو ؟ مروان نے کہا کہ میں اس چیز سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر یہ رسیدیں کیا ہیں جنہیں لوگ خرید اور بیچ رہے ہیں؟ اس کے بعد مروان نے وہ رسیدیں لوگوں سے واپس لے لیں۔‘‘ (الشریعہ مارچ ۲۰۱۰ء ص ۳۲ ) 

اس میں خاص طور پر خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں اور ان کا اصل عربی عبارت کے تقابل فرمائیں ، یہ بات کہ مرکز سے رقم ( درہم و دینار )آنے میں تاخیر ہوگئی تھی نہ معلوم کہاں سے اخذ کرلی ، جبکہ روایت میں صراحتاً طعام کا ذکر ہے ، اور سیاق وسباق میں بھی وہی روایات ہیں جن میں طعام کی قبضے سے پہلے بیع کے احکام مذکور ہیں ،گویا بات مبیع کی رسید کی ہورہی ہے اور اسے منطبق کردیا گیا ہے ثمن کی رسید پر ، حالانکہ مبیع کا عقد کے وقت قبضے میں ہونا تو شرط ہے ثمن کا پاس ہونا کسی فقیہ کے نزدیک بھی شرط نہیں ہے ، نیز یہ بات کہ صوبے کے گورنر نے بازار سے اشیا خریدنے کے لیے رسیدیں جاری کردیں نہ معلوم کن الفاظ سے اخذ کی گئی ہے ، خط کشیدہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے جیسے روایت کو کھینچ تان کر بلکہ الٹ معنی پہنا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہو کہ گورنر نے آج کی طرح کا کوئی کاغذی زر جاری کیا تھا، حیرت کی بات یہ ہے کہ پورے مضمون میں ہرہر بات کا باقاعدہ حوالہ دینے کا اہتما کیا گیا ہے لیکن اس روایت کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ یہ موطا میں کہاں ہے ، اس کے باوجود ہم کسی کی نیت کے بارے میں بدگمانی کرنے میں جلد بازی نہیں کرسکتے ، اس لیے کہ روایتی فقہ سے بالا تر ہوکر ’ اجتہاد‘ کا شوق رکھنے والے علومِ اسلامیہ سے غیر وابستہ حضرات کے اس طرح کے لطیفے کوئی نئی بات نہیں ہے ، اور عموماً یہ حضرات تراث فہمی کی صلاحیت کی اس کمی کو اپنے لیے عیب بھی نہیں سمجھتے ، ان کے نزدیک ان کے حقِ اجتہاد کے لیے یا اسلامیت وغیر اسلامیت پر بحث کے لیے اتنی بات ہی کافی ہوتی ہے کہ وہ کسی جدید علم کے ماہر اور ڈگری یافتہ ہیں ، کوئی بعید نہیں کہ جن صاحب نے بھی یہ ترجمہ کیا ہو انہوں نے ’صکوک‘ کے معنی کسی جدید عربی ڈکشنری میں دیکھ لیے ہوں اور اس میں مزید ’اجتہاد ‘ کرکے اسے مذکور ہ روایت پر منطبق کردیا ہو۔

غلطی کی وجہ جو بھی ہو، بحیثیت مجموعی مضمون کے شرعی پہلو کو دیکھ کر یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ فاضل مضمون نگار بینکنگ کے معاشیاتی پہلو پر اپنا تجزیہ پیش کرکے اہلِ علم کے سامنے یہ سوال رکھ دیتے کہ اس پر غور کیا جائے کہ ان امور کا جن کی یہاں نشان دہی کی گئی ہے حکمِ شرعی پر اثر مرتب ہوتا ہے یا نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو ان کے مضمون کی وقعت موجودہ حالت سے کہیں زیادہ ہوتی جس میں انہوں نے اسلامیت یا غیر اسلامیت کے بارے میں بھی اپنی رائے کو حتمیت کے ساتھ پیش کرنا اور تمام علما ( مجوّزین وناقدین ) کی منہجی غلطی کی نشاندہی کو ضروری سمجھا ہے۔ آخر میں انہوں نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ دَین کی بیع کے بارے میں احکام علما کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ بات ٹھیک ہے، علما کیا‘ قدوری اور ہدایہ بھی سمجھ کر پڑھا ہوا طالب علم جانتا ہے کہ دیون کے بارے میں تصرفات کے مستقل احکام ہیں، جیسے بیع الدین ، بیع بالدین ، حوالۃ الدین مقاصہ وغیرہ۔ افسوس ہے کہ مضمون نگار صاحب نے ان سب کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ اگر وہ دَین کے انہی احکام کی بات کررہے ہیں جو علما کے لیے اجنبی نہیں ہیں تو پھر گھوم پھر کر بات وہیں آگئی کہ جواز عدمِ جواز کا فیصلہ عقود کی فقہی نوعیت کی بنیاد پر ہوگا۔ ایسی صورت میں مسئلہ بہت آسان ہوجاتا ہے اور اتنی لمبی تمہیدکی بجائے وہ بآسانی کسی ایسے کام کی نشان دہی کرسکتے تھے جو مروجہ اسلامی بینکنگ میں ہوتاہے اور وہ دَین کے ان احکام کے خلاف ہے جو فقہِ اسلامی میں معروف ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دَین میں تصرف کے خاص احکام ہیں جو فقہِ اسلامی میں تفصیل سے مذکور ہیں، لیکن اسلامی بینکاری میں ان کی خلاف ورزی کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے اور نہ ہی غالباً اس بینکاری پر فقہی حوالے سے تنقید کرنے والوں نے کوئی ایسا مسئلہ ابھی تک اٹھایاہے۔

اگر ان کی مراد یہ ہے کہ کرنسی نوٹ بذاتِ خود قرض کی جعلی رسید ہے، اس لیے اس کے ذریعے معاملات کرنا ناجائز ہے ۔ جیسا کہ حضرت زید بن ثابتؓ کے اثر کی اپنی تشریح سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ تو یہ ایک ایسی بات ہے جو تمام علماکی رائے کے خلاف ہے، اس لیے کہ اوّل تو دنیا بھر کے علما کی بہت واضح اکثریت فقہی تکییف میں کرنسی نوٹوں کو یا تو ثمن عرفی قرار دیتی ہے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر انہیں بعینہ سونا چاندی کے قائم مقام قرار دیتی اور وہی احکام ان پر جاری کرتی ہے۔ اوآئی سی کی مجمع الفقہ الاسلامی، رابطۃ العالم الاسلامی کی المجلس الفقہی الاسلامی اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سمیت تقریباً تمام قابلِ ذکرفقہی فورمز کا یہی فیصلہ ہے۔ برّ صغیر کے ذراقدیم علما میں مولانا عبد الحی لکھنوی ، ان کے شاگرد مولانا فتح محمد اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی بھی یہی رائے تھی۔ اگرچہ برّ صغیر کے بعض کبارِ علما کی رائے یہ بھی رہی ہے کہ کرنسی نوٹ پر سونے چاندی کی رسید کے احکام جاری ہوں گے، لیکن ایک تو اب وقت گزرنے اور عرف اور امرِ واقعہ میں نمایاں تبدیلی آنے کے ساتھ ساتھ یہ بہت ہی اقلیتی نقطۂ نظر بنتا جارہا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خاں کی سرپرستی اور دار الافتا جامعہ فاروقیہ کراچی کی نگرانی میں تیار ہونے والی فتاویٰ محمودیہ کی تعلیقات میں ہے: ’’دورِ حاضر کے اکثر علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ اب یہ نوٹ قرض کی دستاویز کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ اس پر مروّجہ سکّوں کے احکام جاری ہوں گے‘‘ ( فتاوی محمودیہ ۹/۳۸۶ مطبوعہ جامعہ فاروقیہ کراچی) 

دوسرے یہ کہ جن علما نے اسے رسید کے حکم میں شمار بھی کیا ہے، انہوں نے بھی ان نوٹوں کے ساتھ لین دین سے منع نہیں کیا۔ اس صورت میں مطلب یہ بنتا ہے کہ جناب مضمون نگار نہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ علما سے بینکاری کو معاشی پہلو سے سمجھنے میں غلطی لگی ہے بلکہ دیون کے شرعی احکام سمجھنے میں بھی غلطی لگی ہے، بلکہ اس بارے میں پوری کی پوری فقہ اسلامی غلط پوزیشن پر کھڑی ہے۔ اگر وہ واقعی یہی کہنا چاہتے ہیں تویہ بات انہیں کھل کر کہنی چاہیے اور اس پر مضبوط دلیلِ شرعی بھی پیش کرنی چاہیے، اس لیے کہ کرنسی نوٹ یا بینکوں کے چیک وغیرہ کے ذریعے معاملاتِ مالیہ میں ادائیگی کو کسی نے بھی ناجائز قرار نہیں دیا۔ زیادہ سے ان کے ذریعے ادائیگی پر مرتب ہونے والے بعض احکام میں بحث ہوسکتی ہے ، مثلاً یہ کہ بینک چیک پر قبضہ ثمن پر قبضہ تصوّر ہوگا یا نہیں۔ اور اگر وہ تمام علما اور پوری کی فقہِ اسلامی سے ہٹ کر کوئی رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس پر واضح دلیل تو دینی چاہیے۔ یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ موطا امام مالک کے مذکورہ اثر کی غلط تشریح کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ زر کا بہتر سے بہتر نظام (monetary system)کیا ہونا چاہیے، نیز یہ کہ موجودہ نظامِ زر میں کیا کیا خامیاں ہیں۔ اس سلسلے میں مسلمان معاشی مفکرین اور مسلمان فقہا کی ایک جماعت یہ رائے رکھتی ہے کہ ہمیں طلائی معیار کی طرف دوبارہ لوٹنا پڑے گا۔ ( جدید معاشی مفکرین میں سے نمساوی مکتبِ فکر Austrian school of economists کا نقطۂ نظر بھی اس سے ملتا جلتا ہے ، تاہم معاشی اور اسلامی دونوں پہلوؤں سے بحث کی کافی گنجائش ہے)، لیکن اس بحث کے باوجود یہ الگ مسئلہ ہے کہ موجودہ کرنسی کے ساتھ لین دین کرنے اور اسے بطور زر استعمال کرنے کا حکم کیا ہے۔ اس کے ذریعے لین دین کرنے کے جواز پر تمام علما متفق ہیں اور اسے بذاتِ خود ثمن عرفی ، ثمن اصطلاحی یا ثمن قانونی قرار دینا علما کی واضح اکثریت کی رائے ہے، چنانچہ مجمع الفقہ الاسلامی کے جس اجلاس میں کرنسی نوٹ کے خود ثمن ہونے کی متفقہ قرار داد پاس ہوئی۔ اس کی کارروائی اگر دیکھیں تو اس میں موجودہ نظامِ زر پر تنقید اورسوفیصدطلائی معیار کی طرف واپس لوٹنے کی ضرورت کی صدائے باز گشت بھی سنائی دیتی ہے، لیکن اس پر قرار داد اس لیے پیش نہیں ہوتی کہ یہ بحث موضوع سے خارج ہے۔ ( ملاحظہ ہو : مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی ، العدد الثالث ) بہرحال اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ نظامِ زر کی خامیوں سے آگاہی کے باوجود یہ علما فقہی تکییف میں کرنسی کو خود ثمن قرار دیتے ہیں، اصلی یا جعلی قرض کی رسید نہیں اور یہ کہ یہ رائے صرف مولانا محمد تقی عثمانی کی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے علما کی بہت بڑی اکثریت کی ہے۔ ان کی اس رائے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ سارے کے سارے جلیل القدر علما موجودہ نظامِ زر کو ہر قسم کی خامیوں سے پاک سمجھتے ہیں۔ بہرحال موجودہ نظامِ زر میں کون سی باتیں قابلِ اصلاح ہیں، یہ الگ بحث ہے اور موجودہ کرنسی کی فقہی تکییف کیا ہے اور اس کے لین دین کا حکم کیا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے۔

حاصل یہ کہ جناب مغل صاحب نے بینکنگ کے اسلامی ہونے کے امکان کو دو بنیادوں پرمسترد کیا ہے۔ ایک یہ کہ قرض کی جعلی رسید کا لین دین درست نہیں، دوسرے یہ کہ قرض کی حقیقی رسید کے ساتھ لین دین کرنا درست نہیں ۔ اسلامی غیر اسلامی ہونے کے حوالے سے ان کے پورے مضمون کا لبّ لباب یہی دو مقدمات ہیں۔ اس پر سوال یہ ہے کہ رسید سے مراد اگر خود کرنسی نوٹ ہیں تو اوّل تو علما کی بہت بڑی اکثریت شرعی احکام میں انہیں رسید ہی نہیں مانتی، خود ثمن قرار دیتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ لین دین کو کوئی بھی عالم ممنوع قرار نہیں دیتا۔ اور اگر اس سے مراد بینکوں کی دیگر دستاویزات ہیں جیسے بینک چیک تو اول تو ان کے ذریعے ادائیگی کو بھی فقہ اسلامی میں علی الاطلاق ناجائز قرار نہیں دیا جاتا اور نہ ہی کسی عالم کی یہ رائے ہے۔ دوسرے یہ کہ اس صورت میں انہیں اسلامی بینکوں کے کسی ایسے معاملے کی نشان دہی کرنی چاہیے تھی جس میں قرض کی رسید کے مسلمہ اسلامی احکام کی مخالفت ہورہی ہو ۔

آلۂ مبادلہ اور ذریعۂ ادائیگی میں فرق 

در اصل جناب مضمون نگار صاحب کو یہاں دو بڑے مغالطے لگ گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ان سے دو چیزیں خلط ملط ہو گئی ہیں، ایک ہے کسی چیز کا آلۂ مبادلہ ( medium of exchange ) ہونا اور وسرا ہے ذریعۂ ادائیگی ( means of payment ) ہونا۔ پہلے پر شرعاً نقود والے احکام جاری ہوں گے اور دوسرے پر حوالہ، توکیل بالقبض وغیرہ مختلف حالات میں مختلف احکام جاری ہوں گے۔ انگریزی اصطلاحات ذکر کرتے ہوئے تو جناب مضمون نگار نے دونوں کو الگ الگ مواقع میں ذکر کیا ہے، لیکن اردو ترجمے میں دونوں کا ترجمہ ’آلۂ مبادلہ ‘ سے کردیا ،حالانکہ مؤخر الذکر اصطلاح کا ترجمہ ’ذریعۂ مبادلہ ‘ کی بجائے ’ذریعہ ادائیگی ‘ ہونا چاہیے۔ پھر غالباً خود ہی اپنے کیے ہوئے ترجمے سے انہیں اشتباہ بھی ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آلۂ مبادلہ صحیح معنی میں صرف کرنسی ہی ہوتاہے، اس لیے کہ عام معاملات میں اسی کا حوالہ دے کر اور اسی کی متعین مقدار ذکر کرکے معاملہ طے کیا جاتا ہے، مثلاً سو پاکستانی روپے یااتنے سعودی ریال میں مَیں یہ چیز بیچ یا خرید رہاہوں۔ یہ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ حبیب بنک کے سو چیک کے بدلے میں بیع ہورہی ہو ۔ نقود کے بارے میں فقہا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ان کی متعین مقدار اور نوعیت کا حوالہ دینا ہی کافی ہوتاہے، ان کا اس وقت عقد کرنے ولے کے پاس یا اس کی ملکیت میں ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ عقد اس کے بغیر ہی صحیح ہوجائے گا اور مذکورہ نقود مذکورہ مقدار میں اس عاقد ( مثلاً خریدار) کے ذمے واجب الادا ہو جائیں گے جسے فقہا کی اصطلاح میں واجب فی الذمۃ اور دَین کہا جاتا ہے۔ 

اب اگلا مسئلہ آتا ہے کہ اس دین کو ادا کیسے کرنا اور اس ذمہ داری سے سبک دوش کیسے ہوناہے؟ پہلا مسئلہ کسی چیز کو ثمن بنانے یا آلۂ مبادلہ کے طور پر استعمال کرنے کا تھا، دوسرا مسئلہ فراغِ ذمہ(settlement) اور ذریعۂ ادائیگی کا ہے۔ اس میں بھی فقہِ اسلامی کی رو سے کئی صورتیں جائز ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ جن نقود کی جتنی مقدار کاحوالہ دیا گیا تھا، انہی نقود کی اتنی مقدار دے دی جائے ، مثلاً پاکستانی روپے یا سعودی ریال کے نوٹ پکڑا دیے جائیں۔ ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ اس کے متبادل کوئی ایک چیز دینا باہمی رضامندی سے طے کرلیں، مثلاً اتنے ریال کی بجائے اتنے پاکستانی روپے لیے اور دیے جائیں گے یا اتنے ریال کی بجائے اتنے کلو کھجوریں دی جائیں گی۔ جب عملًا اتنی کھجوریں دے دی گئیں تو فراغِ ذمہ متحقق ہوگیا۔ یہ ادائیگی یا فراغِ ذمہ( settlement ) کا ایک طریقہ ہے جس کے لیے فقہِ اسلامی میں مستقل احکام ہیں، کیونکہ اس صورت میں مبادلہ کی شکل بھی بن رہی ہے، اس لیے بیع الدین یا بیع بالدین کے احکام لاگو ہوں گے۔ ایک صورت یہ ہے کہ جس کے ذمے اتنے سعودی ریال واجب الاداہیں، وہ دوسر ے فریق سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے لینے کی بجائے فلاں شخص سے لے لو۔ اسے فقہا کے ہاں حوالہ کہا جاتاہے۔ اس کے مستقل احکام فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔

جناب فاضل مضمون نگار صاحب نے جو بینک کی رسیدوں کے ساتھ تعامل کی بات کی ہے، وہ عموماً یا تو حوالہ میں آتی ہیں یا بعض علما اسے وکالہ میں بھی داخل کرتے ہیں۔ ان کے بھی مستقل احکام ہیں۔ اگر ان احکام کی خلاف ورزی ہوگی تو اسے ہر کوئی ناجائزکہے گا، خواہ روایتی بینک کی رسید ( مثلاً چیک ) ہو یا اسلامی بینک کی یا بینکوں کے علاوہ کسی فرد یا ادارے کی۔ اور اگر اس میں شرعی شرائط پور ی ہورہی ہیں تو کسی بھی بینک کی رسید ہو، اس کے ذریعے ادائیگی کو سب جائز کہیں گے۔ بہر حال یہ مسئلہ فراغِ ذمہ کے طریقے اور ذریعۂ ادائیگی کا ہے،آلۂ مبادلہ کا نہیں۔ ذریعۂ ادائیگی( means of payment or settlement ) میں کسی رسید کا استعمال جائز طریقے سے بھی ممکن ہے اور اس کے ناجائز طریقے بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے یہ دعویٰ کہ بینکاری کی اسلامیت اس لیے ناممکن ہے کہ قرض کی حقیقی رسید بھی ہو، تب بھی اس کے means of payment کے طور پر استعمال کی کوئی جائز صورت نہیں ہوسکتی، ایسے دعوے پراسلامی علوم کا ایک طالب علم حیرت ہی کا اظہار کرسکتا ہے۔ 

کیا تخلیقِ زر والے معاملات ہر حال میں ناپسندیدہ ہیں ؟

یہاں ضمناً اس طرف بھی اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اوپر ذکر کردہ نقود کے واجب فی الذمہ ہونے اور ادائیگی کے طریقے کی جو مثال دی گئی ہے اس میں بعض صورتوں میں عقد اور عملاً نقود کی ادائیگی کے درمیان کچھ مدت کا فاصلہ بھی ہوتاہے ، یعنی عقد آج طے ہورہا ہے ، ایک فریق کو چیز یا خدمت بھی ابھی مل گئی ہے ، لیکن معاوضے میں جن نقود کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے بارے میں طے کرلیا گیا ہے کہ ان کی اتنی مدت بعد ادائیگی ہوگی ، ایسا ایسے کئی عقود میں ہوتاہے جن کا جواز یا تو منصوص ہے یا امت میں ان کا جواز مسلمہ چلا آرہا ہے ، جیسے بیع مؤجل وغیرہ ، ( بحث کی آسانی کے لیے یہاں ہم وہ بیع مؤجل فرض کرلیتے ہیں جس میں طے پانے والی قیمت مارکیٹ ریٹ کے برابر ہواور ادھار کی وجہ سے قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو) خود نبی کریم صلی اللہ علیلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری میں ایام میں کچھ خوردنی اشیا (طعام ) ادھار خریدی تھیں جن کے ثمن کی ادائیگی ابھی آپ نے نہیں فرمائی تھی کہ آپ کا انتقال ہوگیا اور اسی ادھار کے عوض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زرہ بھی رہن رکھی ہوئی تھی۔ ایسی حالت میں گویا ایک شخص نقود ( uints of currency ) یا آلۂ مبادلہ والا کام تو چلا رہا ہے لیکن عملاً اس کے پاس وہ نقود، آلۂ مبادلہ یا قوّتِ خرید کی نمائندگی کرنے والی چیز موجود نہیں ہیں ،بلکہ اس کی طرف سے اسے بعد میں ادا کرنے کاوعدہ ہے ، یہ واجب فی الذمہ نقود بعض شرعی حدود وقیود کے اندر ایک ذمہ سے دوسرے ذمہ کی طرف منتقل بھی ہوسکتے ہیں۔

اگلی بات کو مزید آسانی کے ساتھ سمجھنے کے لیے یہ بھی کہہ لیجئے کہ ایسے دیون کی رسیدیں بھی بن سکتی ہیں اور انتقالِ ذمہ کے عمل میں انہیں استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ، ایک ایسا معاشرہ جس میں بینکوں کا سرے سے وجود ہی نہ ہو اور اس میں کاغذی نوٹ کی بجائے خود دھاتی سکے چل رہے ہوں ، مثلا وہاں زر کے طور پر صرف سونے کے دینار ہی استعمال ہوتے ہوں ، وہاں پر بھی مؤجل ادائیگیوں والے ان عقود کی وجہ سے یہ بات ممکن ہے کہ معاشرے میں اصل زر جتنا ہے عملاً اس سے زیادہ کا حوالہ دے کر عقود کیے جارہے ہوں ، یا یوں کہہ لیجئے کہ اصل مقدار سے زیادہ زر استعمال ہورہاہو ، اور یوں یہ عقود تخلیقِ زر کا باعث بن رہے ہوں اور یوں تخلیقِ زر کے عمل کو مکمل طور پر جدید بینکاری کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا، مثال کے طور پر کئی صدیاں پیچھے جاکر ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک بستی ہے جس میں کل گیارہ آدمی رہتے ہیں ، اور اس میں بطور کرنسی صرف دینار استعمال ہوتے ہیں ، فرض کریں بستی میں موجود دیناروں کی مقدار کل ۱۰۰ ہے ، جن میں نو کے پاس دس دس دس دینار اور دو کے پاس پانچ پانچ دینار موجود ہیں ، ان پانچ دینار والوں میں سے ایک شخص آٹھ دینار والی اونٹنی ایک سال کے ادھار پر خرید لیتا ہے ، اس لیے کہ اسے توقع ہے کہ وہ سال بھر میں اتنا غلہ اگالے گا جس میں سے وہ اپنی ضرورت سے زائدغلہ کم از کم تین دینار میں بیچ کراس کے پاس پہلے سے موجود پانچ دینار ملاکر آٹھ دینار کی ادائیگی کردے گا۔

فرض کریں کہ باقی سارے لوگ بھی اپنے اپنے پاس موجود زر کوکسی نہ عقد میں استعمال کررہے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس معاشرے میں عملاً جو زر استعمال ہورہاہے وہ ایک سو تین دینار ہے ،جبکہ حسی طور پر اس کی مقدار کل سو(۱۰۰) دینارہے ، اسی طرح باقی سب لوگ بھی کئی ادھار معاملات کررہے ہوں تو عملاً جتنے دیناروں کا حوالہ دے کر معاملات کیے جارہے ہیں وہ اس معاشرے میں بالفعل موجود دیناروں کی مقدار سے کہیں زیادہ ہوں گے ، اس طرح سے ادھار کے یہ سارے معاملات ایک معنی میں تخلیقِ زر کا باعث بن رہے ہیں ، اور اسے فقہا کا یہ مسلمہ اصول جواز مہیا کررہاہے کوئی عقدِ معاوضہ کرتے وقت نقود کا قبضے یا ملکیت میں ہونا ضروری نہیں ہے ،اس لیے کہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ زید نے بعد میں جو دینار دینے ہیں اس وقت اس کے پاس نہیں ہیں انہی دیناروں کواسی وقت کسی اور عقد میں بھی استعمال کیا جارہاہوگا ، اورفقہا کے اس اصول کو نصوص اور تعاملِ امت کی تایید بھی حاصل ہے ، یہ بھی ذہن میں رہے کہ تخلیقِ زر کی اصطلاح حقیقت پر پورے طور پر دلالت نہیں کرتی ، اگر فقہا کی اصطلاح استعمال کریں تو ہم تخلیق زر کی بجائے تخلیقِ دَین کہہ سکتے ہیں اور اگر جدید اصطلاح استعمال کریں تو بینکوں کے عمل کے لیے مروّجہ اصطلاح (creation of credit ) ہے اس کے لیے آج کل عربی میں خلق الاعتبار یا خلق الائتمان کا لفظ استعمال ہوتاہے ، یعنی کریڈٹ وجود میں لانا، اگر یہ اصول تسلیم کرلیا جائے کہ کریڈٹ تخلیق کرنے کا عمل بذاتِ خود بہت بڑی معاشی برائی ( جسے اسلام کے مطابق بنائے جانے کا سرے سے امکان ہی نہیں ہے )، استحصالی حربہ اور سرمایہ دارانہ مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے تو یہ بات امت کی پوری کی پوری معاشی تاریخ کو گالی دینے کے مترادف ہوگی ، اس لیے کہ یہ بات تو ادھار کے تقریبا ہر معاملے میں ہوگی ، ادھار کے ہر معاملے میں creation of credit کے ذریعے کسی نہ کسی درجے میں زر کی رسد میں اضافہ ہوگا ، اور موجودہ زر کی ویلیو میں کمی واقع ہوگی۔

اس کو آسانی کے ساتھ یوں سمجھئے کہ اوپر ذکر کردہ مثال میں پانچ دینار کا مالک جب آٹھ دینار والی اونٹنی خریدنے کا ارادہ کرے گا تو اسے اگراونٹنی ادھار دستیاب نہ ہو تو اسے تین دینارکہیں نہ کہیں سے حاصل کرنا ہوں گے خواہ اپنی کوئی چیز مثلاً بکری اونے پونے داموں بیچ کر ہو ، اس طرح سے دینار کی طرف رغبت یا اس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا ، اس طرح سے اشیا کی رسد اور اس کے بالمقابل دینار کی طلب میں اضافہ ہوگا ، لیکن اگر اسی شخص کو اونٹنی ادھار دستیاب ہوجاتی ہے تو وقتی طور پر ان دیناروں کی طرف رغبت میں اور ادھار نہ ملنے کی صورت میں جو اشیا اس نے بیچنی تھیں ان کی رسد میں کمی واقع ہوگئی ، اس کے نتیجے میں اشیا کی قیمت میں اضافہ اور زر کی قیمت میں کمی واقع ہوگی ، اور زر کے انہی یونٹس کی قوّتِ خرید میں کمی واقع ہوجائے گی ، یا یوں کہہ لیجئے کہ افراطِ زر کی کیفیت پیدا ہوجائے گی ، یہ سب کچھ ادھار کے معاملے کی وجہ سے ہوا ہے ، اس طرح کے معاملات کو کم تو کیا جاسکتاہے ، ختم نہیں ، اسے اگر کم کرنا ہو تو کیسے اور کتناکرنا ہے یہ شرعی سے زیادہ تدبیری مسئلہ ہے جو کافی حد تک انتم أعلم بأمور دنیاکم میں داخل ہے ، شریعت نے اسے تدبیری مسئلہ اس لیے بھی رکھا ہے کہ ضروری نہیں کہ زر کی رسد میں اضافہ ہر حال میں مضرہی ہو بلکہ بعض حالات میں اس میں اضافہ مفید ہوتا ہے اور بعض میں کمی ( عملاً ہر ملک میں مرکزی بینک تخلیق زر کے عمل کو کنٹرول کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرتاہے ) ۔

جناب مغل صاحب کا بظاہر رجحان اس طرف معلوم ہوتاہے کہ زر (money) کو (exogenous) کی بجائے (endogenous) ہونا چاہیے۔ یہ بات ا پنی جگہ اہم اور درست معلوم ہوتی ہے ، خاص طور پر بعض جدید معاشی مفکرین کی یہ بات خاص توجہ کی مستحق ہے کہ زر میں ریاست کا کردار کم سے کم ہونا چاہئے ، فقہا نے بھی کسی چیز کے ثمن ہونے میں عرف اور لوگوں کے قبولِ عام کو خاص اہمیت دی ہے ، گویا فقہاکا نظریۂ زر عوامیت کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے ، اگرچہ وہ ریاست کے کردار کی بالکل نفی نہیں کرتے اور نہ ہی کی جاسکتی ہے ، کریڈٹ کی تخلیق کے ذریعے زر کی رسد بڑھانے کو اگرچہ بعض اوقات بہت بڑی معاشی برائی کے طور پر لیا جاتاہے ، جناب مغل صاحب نے بھی یہی انداز اختیار کیا ہے ، لیکن یہ پہلو بھی خاصی توجہ کا مستحق ہے کہ اس طرح کے عقود کو جائز قرار دینے سے زر کی رسد کا معاملہ مکمل طور پر ریاست کے ہاتھ میں نہیں رہتا بلکہ کافی حد تک عوامی بن جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ عقود عام لوگوں نے کرنے ہوتے ہیں ، لہذا ان عقود کے ذریعے عوام خود فیصلہ کرتے ہیں کہ زر کی رسدکو بڑھانا ہے یا گھٹانا ، اس لیے اسلام نے اس طرح کے عقود پر شرعی مسئلے کے طور پر پابندی نہیں لگائی ، اسلامی تعلمیات کا نقطۂ ترکیز کریڈٹ یا دَین کی تخلیق نہیں ہے ، بلکہ اس عمل کے ذریعے نفع کمانے کا طریقہ ہے ، نفع کمانے کو بھی شریعت اسلامیہ میں بالکلیہ ناجائز نہیں کہا گیا بلکہ اس کا انحصار اس کے طریقِ کار پر رکھا گیا ہے ، اگر وہ معاملہ زر بمقابلہ اشیا یا خدمات ہے تواس میں نفع جائز ہے ، اور اگر زر بمقابلہ زر ہے تو ناجائز ہے ، اسی کو قرآن نے أحل اللہ البیع وحرّم الربوا سے تعبیر کیا ہے ( یہ نکتہ مزید وضاحت طلب ہے ، اس پر تفصیل سے بات اس موقع پر ہوگی جب ہم تخلیقِ زر کے مسئلے پر بات کریں گے ، یہاں محض اشارہ مقصود ہے ) ، ہاں البتہ عصرِ حاضر کے وہ علما جن کا غیر سودی بینکاری سے واسطہ رہاہے انہوں نے بطور معاشی پالیسی کے اس بات کو قابلِ ترجیح قرار دیاہے کہ تمویلی عمل میں زیادہ انحصار مداینات کی بجائے مشارکات پر ہو ، اس طرح کی بات سابقہ فقہا کے ہاں شایدصراحت کے ساتھ ہمیں نہ ملے ، ان علما نے غیر سودی بینکاری سے زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج کے حصول اور انہیں مقاصدِ شریعت کے زیادہ قریب کرنے کے لیے بطور ایسی عمومی پالیسی کے کہی ہے جس کی طرف بڑھنے کو اپنا ہدف قرار دیا جانا چاہیے۔ ( اس کے باوجود ان علما کو مقاصدِ شریعت کو نظر انداز کرنے اور سرمایہ دارانہ مقاصد کی پشت پناہی کا طعنہ دیا جاتاہے ) ۔

حقیقی رسید اور ’جعلی‘ رسید 

دوسرا بڑا اشتباہ یہاں یہ ہوگیا ہے کہ بینکوں کی رسیدیں بھی دو طرح کی ہیں ، ایک وہ جن کے پیچھے واقعی بینک کی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے وہ کسی فرضی کاروائی کا نتیجہ نہیں ہوتیں ، مثلاً زید ایک بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس میں دس ہزار روپے جمع کرادیتاہے ، اب وہ خالد کو ہزار روپے کی ادائیگی کرنا چاہتا ہے تو اپنے اکاونٹ پر خالد کے نام ہزار روپے کا چیک کاٹ دیتاہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ زید اپنے بینک سے یہ کہہ رہاہے کہ میرے لیے تمہارے ذمے جو دس ہزار روپے واجب الادا ہیں ان میں سے ہزار روپے خالد کو دیدئیے جائیں ، اب اگر خالد بالفعل یہ ہزار روپے وصول نہیں کرتا بلکہ اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتاہے تب بھی یہ فرضی کاروائی نہیں ہے ، اس لیے کہ اس صورت میں بہت مختصرسے عرصے کے اندر زید اور اس کے بینک سے یہ قوّتِ خرید خالد اور اس کے بینک کی طرف منتقل ہوجائے گی ، پہلے یہ ہزار روپے زید کا اثاثہ اور اس کے بینک کی ذمہ داری تھی اب خالد کا اثاثہ اور اس کے بینک کی ذمہ داری بن گیا ہے ، اب خالد اپنے اکاونٹ پر ناصر کے نام اگر ہزار روپے کا چیک کاٹتاہے تو یہ بھی فرضی رسید نہیں ہے ، اس لیے کہ اس کی پشت پر ایک حقیقی ذمہ داری موجودہے، دوسری صورت ان رسیدوں کی وہ ہے جو کسی بینک کی طرف سے قرضہ جاری کرنے کی حالت میں ہوتی ہے، مثلا عبد الحمید ایک بینک سے دس ہزار روپے قرض لینے کی درخواست دیتاہے ، اس کی درخواست منظور ہوجاتی ہے ، اب جیساکہ عموماً ہوتا ہے بینک کی طرف سے قرض دینے کی صورت یہ اختیار کی جاتی ہے کہ وہ عبد الحمید کے نام کا اکاؤنٹ کھول کراس کے نام دس ہزار روپے لکھ دیتاہے ، جو عبد الحمید کے اثاثوں ( assets) میں شمار ہوں گے اور بینک کی ذمہ داریوں (liabilities) میں ، اب عبد الحمید دس آدمیوں سے مختلف اشیا خریدکر انہیں ادائیگی کرنے کے لیے اپنے اس اکاؤنٹ پر ان کے نام ہزار ہزار روپے کے چیک کاٹ کر انہیں دے دیتاہے ، مذکورہ مضمون میں جن جعلی رسیدوں کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بظاہر یہی صورت ہوسکتی ہیں ، اس لیے کہ پہلی قسم کی رسیدیں تو کسی طرح بھی جعلی نہیں ہیں ، ان کے پیچھے تو سچ مچ کی ایک ذمہ دار ی یا دَین ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دوسری قسم کی رسیدوں کو بالکل جعلی مان بھی لیا جائے توبھی اسلامی بینکوں کے عام تمویلی آپریشنز میں اس طرح کی رسیدیں سرے سے وجود میں ہی نہیں آتیں ، کیونکہ یہ رسیدیں قرض دینے کی ایک شکل ہیں ، اور اسلامی بنک نفع بخش تمویل کے طور پر قرض دیتا ہی نہیں ہے ، وہ یا تو کسی کاروبار میں شریک ہوتاہے یا اشیا یا خدمات فراہم کرتاہے ۔

مثال کے طور پر مرابحہ کو لے لیجیے۔ عبد الحمید دس آدمیوں سے دس چیزیں خریدنا چاہتاہے ، لیکن اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ، عبد الحمید ایسے ہی موقع پر ( پچھلی مثال میں ) جب روایتی بنک کے پاس گیا تھا تو اس نے دس ہزار روپے قرض کی منظوری دے کر دس ہزارروپے کا اکاؤنٹ کھول کر اسے چیک بک دے دی تھی ، جس سے اس نے دس آدمیوں کے نام ہزار ہزار روپے کے چیک کاٹے تھے( جبکہ بنک عبد الحمید سے واپس مثلا گیارہ ہزار لے گا ) ، اسلامی بنک ایسا نہیں کرے گا ، وہ یہ چیزیں خود ان دس آدمیوں سے ہزار ہزار روپے میں خرید کر عبد الحمید کو گیارہ گیارہ سو میں ادھار بیچ دے گا ، جس کے نتیجے میں اس کے ذمے گیارہ ہزار واجب الاداء ہوگئے ، اب اسلامی بنک اپنے کلائنٹ یعنی عبد الحمید کو توپیسے دے ہی نہیں رہا ، اسے تو اشیا دے رہا ہے ، لہذا اس طرف سے تو کسی رسید کے جاری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ بنک ان دس آدمیوں کو جو دس دس ہزار کی ادائیگی کررہاہے وہ بظاہر چیک کے ذریعے ہوگی ، یہ چیک جعلی قرض کی رسید نہیں ہے ، بلکہ ان حقیقی اشیا کا معاوضہ ہے جو انہوں نے بنک کو بیچی ہیں ، اسی طرح سے یہ دس کے دس آدمی ان چیکوں کے ذریعے رقوم نکلوانے کی بجائے انہیں اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتے اور ان رقوم کے عوض خریداری کے لیے آگے مزید چیک کاٹتے ہیں ، تو یہ بھی اوپر ذکر کردہ دو صورتوں میں سے پہلی قسم میں داخل ہے ،جس میں خالد ، زید سے چیک لے کر اسے کیش کروانے کی بجائے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرادیتاہے ، اسے کسی بھی طرح جعلی قرض کی رسید نہیں کہا جاسکتا ، اس کے پیچھے حقیقی واجبات ہیں، لہذا یہ دعوی کہ اسلامی بینکنگ میں بھی جعلی رسیدوں کا لین دین ہوتاہے ناقابلِ فہم ہے ، ہاں یہ بات اپنی جگہ مسلّمہ ہے کہ مرابحہ مؤجلہ والی یہ کا روائی بعض امور میں قرض والی تمویل کے مشابہ ہے ، اس بات کو تو قرآن نے بھی ایک حدتک تسلیم کیاہے کہ کفار کے اس اعتراض کہ إنما البیع مثل الربا کے جواب میں یہ تو فرمایا وأحل اللہ البیع وحرم الربوا ، لیکن کفار کے اس دعوئ مثلیت کو بالکلیہ رد نہیں کیا۔

عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ فرق بہت معمولی ہے ، مثلاً مذکورہ مضمون میں کہا گیا ہے کہ جو کام عام بنک ایک اندراج میں کرتے ہیں ، وہی کام مرابحہ کی شکل میں دو اندراجوں میں کیا جارہاہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ یہ فرق چھوٹا ہے یا بڑا ، ظاہر ہے کہ اگر بحث یہ ہو کہ اس فرق سے اسلامی غیر اسلامی یا دوسرے لفظوں میں جائز یا ناجائز ہونے پر اثر پڑتاہے یا نہیں تو اس میں فیصلہ کن حیثیت دلیلِ شرعی کو حاصل ہوگی ، اسلامی یا غیر اسلامی ہونا تو خود اسلام ہی بتائے گا ، نہ کہ ہماری پسند یا ناپسند ، یا ہمارا دو چیزوں کو ایک جیسا سمجھنا یا الگ الگ ، اس بحث میں تو اسلامی نقطۂ نگاہ سے مناط الحکم کو دیکھنا ہوگا کہ اس کے اعتبار سے دو چیزیں الگ الگ ہیں تو یہ فرق اہم ہوگا اگرچہ باقی پہلوؤں سے یہ فرق معمولی نظر آرہاہو ، مناط الحکم جو مغل صاحب نے آخر میں نکالاہے وہ ہے جعلی قرضوں کی رسید کا لین دین ، اگر اس چیز کو ہی مناطِ حکم مان لیا جائے تو یہ ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے کہ مرابحہ کے عمل میں بھی جعلی قرضوں کی کوئی رسید ہوتی ہے جس کا لین دین ہوتاہے ، اگر روایتی بنکوں میں ایسا ہوتابھی ہے تو اس کا حکم اسلامی بینکوں پر تو جاری نہیں ہوسکتا ، جس چیز کو وہ محض دو اندراج یا ایک اندراج ہونے کا فرق کہہ رہے ہیں وہ فرق تو ایسا ہے کہ ایک اندارج والی صورت (قرض پر مبنی تمویل )میں مغل صاحب کے بقول جعلی قرضوں کی رسیدیں وجود میں آرہی ہیں ، اور دو اندراج والی صورت ( مرابحہ والی تمویل )میں جو رسید وجود میں آتی ہے ان کو کسی بھی طرح جعلی رسید نہیں کہا جاسکتا ، وہ حقیقی مالی ذمہ داری کی نمائندگی کرتی ہے ، اس رسید کے پیچھے محض وعدہ نہیں ہے بلکہ وہ چیز ہے جو سچ مچ واجب الادا ہوچکی ہے ، کیا جعلی ہونا یا نہ ہونا معمولی فرق ہے!

قلم اٹھانے کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس بات کاجائزہ لیا جائے کہ اسلامی بینکاری کو اگر مقاصدِ شریعت کے پیمانے سے دیکھنا ہوتو اس کا منہجِ بحث کیا ہوسکتاہے ، اسی کے ساتھ زر کے بارے میں کچھ امور پر بات کرنے کا اردہ تھا، خیال تھا کہ مذکورہ مضمون کے بارے میں کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں عرض کرنے کے بعد اصل موضوع پر بات ہو جائے گی ، لیکن ان ابتدائی باتوں پر ہی گفتگو لمبی ہوگئی ، ایک ہی مضمون میں اس سے زیادہ بات کرنا قارئین پر بوجھ کا باعث ہوگا ، اس لیے انہی باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے باقی بات کو آئندہ کسی مستقل مضمون پر چھوڑتے ہیں ،تاہم منہجِ بحث کے بارے میں اس نکتے کی طرف دوبارہ توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتاہے کہ جب مقاصدِ شریعت کی رو سے کسی چیز کو دیکھنا ہوتو ایک تو یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو دیکھا جارہا ہے اسی سے متعلق مقاصد پر ترکیز (focus) ہو ، نماز کے مقاصد کا اطلاق زکوٰۃ پر اور زکوٰۃ کے مقاصد کا اطلاق نماز پر درست نہیں ہوگا ، زیرِ بحث مسئلے میں ایک تو عمومی معاشی مقاصدِ شریعت دیکھنے ہوں گے ، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ حرمتِ ربا میں کون سے مقاصد پنہاں ہیں یہ دیکھنا ہوگا ، اس لیے کہ بینکاری کے یہ ادارے سود کے متبادل کے طورپر سامنے آئے ہیں ، دوسری بات یہ ہے کہ مقاصدِ شریعت کا تعین بھی خود شرعی دلیل سے ہی ہوگا ، اس میں استخراجی انداز بھی اپنانا ہوگا جس میں نصوص کو دیکھنا پڑے گا ، اور استقرائی بھی ، یعنی یہ دیکھنا ہوگا کہ جن چیزوں کے خاتمے کو ہم مقاصدِ شریعت میں شمار کررہے ہیں کہیں شریعت کے بعض دیگر ثابت شدہ احکام سے وہی اثرات مرتب تو نہیں ہورہے ، اگر ایسا ہے تو جس چیز کے خاتمے کو ہم مقاصدِ شریعت سمجھ رہے تھے ہمیں اپنی اس بات پر ہی نظرِ ثانی کرنا ہوگی ، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی چیز کو ہم بہت بڑی معاشی برائی اور استحصالی ہتھکنڈا اور نہ معلوم کیا کچھ کہتے رہیں اور ہماری اس بات کی زد خلافتِ راشدہ بلکہ عہدِ رسالت پر جاکر پڑے ۔ 

آخر میں اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ جناب مغل صاحب نے جو اس طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ اسلامی بینک بھی زر کی رسد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں یہ بات بذاتِ خود اہم ہے ، اس لیے کہ جس طرح سے عام طور پر روایتی بینکوں کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ زر کی رسد میں اضافہ کرتے ہیں اس سے اس غلط فہمی کے جنم لینے کا امکان ہے کہ اسلامی بینک ایسا نہیں کرتے ، یہ بات بھی اہم ہے کہ زر کے اس اضافے میں دخل اس بات کو بھی ہے کہ ڈیپازیٹر اپنے زر کے استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہوتا ، اگرچہ روایتی اور اسلامی بینکوں کے ڈیپازٹس کی نوعیت میں کافی فرق ہوتاہے تاہم یہ بات اکثر ڈیپازٹس میں قدرِ مشترک ہے ، لیکن ان دونوں کے بذاتِ خود برائی ہونے یا ان کے غیر اسلامی ہونے پر کوئی واضح دلیلِ شرعی موجود نہیں ہے ، البتہ بعض حالات میں ان کے نامناسب معاشی اثرات ہوسکتے ہیں ، اس لیے ان دونوں چیزوں کو ایک حد میں رکھنے کے لیے کچھ طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں ، لیکن یہ مسئلہ بھی اپنی اہمیت کے باوجود بنیادی طور پر شرعی سے زیادہ تدبیری ہے ، دوسرے مسئلے کے حل کے لیے مثلا یہ کہا جاسکتاہے کہ عام سیونگ اکاؤنٹ کی بجائے فکسڈ ڈیپازٹس کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے ، اس لیے کہ ان میں کھاتہ دار ایک محدود مدت تک اپنی لگائی گئی رقم کے استعمال سے مکمل طور پر دستبردار ہوجاتاہے ، بہر حال اس طرح کے تدبیری مسائل کے لیے جناب مغل صاحب سمیت معیشت دانوں کو آگے آنا چاہئے اور ان بینکوں کی راہ نمائی کرنی چاہئے کہ یہ بینک خود اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے کیا کر سکتے ہیں ، ان کے شریعہ بورڈز اور شریعہ ایڈوائزرز کیا کرسکتے ہیں اور مرکزی بینک کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔ 

آراء و افکار