سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی۔ ایک مطالعہ (۲)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

آدم اور ڈاروینی ارتقائیت

تمام الہامی کتابوں کے مطابق آدم علیہ السلام وہ پہلے انسان اور پیغمبر ہیں جنہیں خدانے اپنے دستِ قدرت سے الگ اور مستقل مخلوق کے طور پر تخلیق فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے سارے انسان انہیں سے پیدا ہوئے، لیکن مغرب میں نیچریت اور مادیت پر مبنی تصورِ ارتقاء کے پیش نظر مذکورہ مذہبی تصور کو غلط ٹھراتے ہوئے انسان کے ارتقائی ظہور کا نظریہ پیش کردیا گیا۔انسانی ارتقاء کا نظریہ زیادہ منظم اور مدلل انداز میں چارلس ڈارون کی ۱۸۵۹ء میں شائع ہونے والی شہرہ آفاق کتاب ’اصل الانواع‘ (Origin of Species) میں سامنے آیا ۔اس نظریہ کی رو سے انسان کسی فوق الطبیعی قوت یا صانع و حکیم کی الگ طور سے تخلیق کردہ مخلوق نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں برس پہلے کیڑے کی شکل میں رینگتی ہوئی زندگی سے انتخابِ طبیعی (Natural Selection) اوربقائے اصلح (Survival of the Fittest) کے اصولوں کے تحت مرحلہ وار ترقی کرتا ہوا موجودہ شکل میں نمودار ہوا ہے۔ ابتدائے حیات، تسلسلِ حیات، تدریج و ارتقا اور کاروبارِ کائنات کے لیے کسی خدا کی ضرورت نہیں بلکہ یہ سب کچھ خود بخود میکانکی انداز میں ہوتا جاتا ہے۔ نظریۂ ارتقا اگرچہ سائنسی دلائل کے لحاظ سے انتہائی کمزور تھا ۴۲؂ تاہم اسے اس کی مذہب بیزاری کی بنا پر قبولیتِ عامہ حاصل ہو گئی اور پروفیسر ایم اے قاضی کے بقول کمیونسٹ اور غیر مذہبی رجحانات کے حامل افراد اورروایتی دینی تصورات سے بر سرِجنگ سائنسدانوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ۴۳؂

سر سید احمد خاں نے مغربی اہلِ فکر سے اپنے غیر ضروری تاثر کی بنا پر نظریۂ ارتقا کو بھی من وعن قبول کر لیا اور اپنی تفسیر میں تخلیق و ہبوطِ آدم سے متعلق آیات کو ڈاروینی ارتقائیت سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں ۔سورہ البقرہ کی آیت ۳۱ کی تفسیر میں اسی کوشش میں آدم کے شخصی وجود سے انکار کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’آدم کے لفظ سے وہ ذاتِ خاص مراد نہیں جس کو عوام الناس اور مسجد کے ملا باوا آدم کہتے ہیں، بلکہ اس سے نوعِ انسانی مراد ہے۔‘‘ ۴۴؂ سر سید نے یہ ثابت کرنے کوشش کی ہے کہ قصہ آدم کوئی واقعی قصہ نہیں بلکہ فطرت انسانی کا زبانِ حال سے بیان ہے۔ جنت میں رہنا اس کی فطرت کے اس حال کا بیان ہے جب وہ امر و نہی کا مکلف نہیں تھا، شجرِ ممنوعہ کے پاس جانا اور اس کا پھل کھانا اس حالت کا بیان ہے جب وہ مکلف ہوا اور ہبوط سے اس کی فطرت کی اس حالت کا تبدل مراد ہے جبکہ وہ غیر مکلف سے مکلف ہوا۔ وہ قرآنِ پاک کی مختلف آیات کا حوالہ دینے کے بعد انسان کو متعدد اشیا کی ترکیبِ کیمیاوی کے نتیجہ کے طور پر سامنے آنے والی مخلوق قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: 

’’ترکیبِ کیمیاوی یہ ہے کہ دو چیزیں آپس میں اس طرح ملیں کہ از خود جدا نہ ہو سکیں بلکہ وہ دونوں مل کر ایک تیسری چیز بن جاوے ۔پس تراب اور طین اور صلصال اور حماءِ مسنون اور ماء کی ترکیبِ کیمیاوی سے جو چیز پیدا ہوئی ہے اس سے انسان پیدا ہوتا ہے ۔وہ چیز غالباً وہ ہوتی ہے جو سطح آب پر جمع ہو جاتی ہے اور نہ مٹی ہوتی ہے اور نہ ریت گارا نہ کیچڑ ،بلکہ ان سب کی ترکیبِ کیمیاوی سے ایک اور ہی چیز بن جاتی ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ اسی سے تمام جاندار ، انسان وحیوان مخلوق ہوتے ہیں اور یہی بات قرآن سے پائی جاتی ہے۔‘‘۴۵؂

ڈاروینی ارتقائیت پر دلائل لاتے ہوئے سرسید نے مزید لکھا ہے کہ قرآن کی رو سے قانونِ ارتقا مخلوقات کی ایک نوع کے دوسری نوع سے تعلق وارتباط میں کار فرما نظر آتا ہے۔ ’فی‘ یا ’تخم‘کا خیالی کنایہ ،جسے حیات کے مرکزہ سے تعبیر کرتے ہیں،حیات کی ابتدائی حرکت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو داخلی مادہ سے برآمد ہوتا ہے ۔قرآن پاک اور عہد نامہ عتیق میں اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے باب میں جو لفظی حوالہ دیا ہے، وہ بغرضِ دلیل عام عقیدہ کے لحاظ سے دیا گیا ہے۔ الہامی کتاب کو چونکہ عام لوگو ں سے قریب ہونا اور ان سے تخاطب کرنا اشد ضروری ہوتا ہے، اس لیے وہ ان کے ذخیرۂ علم،ان کے فہم،ان کی لوک حکایات اور ایک ایسے دائرۂ اظہار کی صورت میں کلام کرتی ہے جو ان کے لیے قابلِ فہم ہو۔ چنانچہ ہبوطِ آدم کی حکایت استعاراتی اور آدم فطرتِ انسانی کا مظہر ہے ۔۴۶؂ 

اسلامی سزائیں

اسلام نے اپنی تعلیمات میں انسانی سوسائٹی کی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے جرم وسزا کا ایک واضح فلسفہ اور مختلف جرائم کی نوعیت اور مضرت رسانی کی ٹھیک ٹھیک تعین کے بعد انتہائی موزوں اور مناسب حال سزاؤں کا تصور پیش کیا ہے ،لیکن مستشرقین نے اسلامی سزاؤں کو بے جا طور پر ہدفِ تنقید بناتے ہوئے انہیں ناقابلِ برداشت حد تک سخت ظاہر کرنے کی سعی کی۔۴۷؂ انہوں نے مسلمانوں کو شکوک وشبہات میں ڈالنے اور اپنے اس مقصود کی طرف راغب کرنے کے لیے کہ مسلمان اسلامی سزاؤں کو ان کی خواہشات کے مطابق ڈھال کر اپنے دین کا حلیہ بگاڑنے کے مرتکب ہوں ،یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ قرآن میں مذکور اسلامی سزائیں تو بلا شبہ ناقابلِ برداشت حد تک سخت ہیں، تاہم فقہائے اسلام نے(نعوذباللہ)قرآن کے تصورِ سزا کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے، اس کی بیان کردہ سخت سزاؤں کومختلف طریقوں سے نرم کرنے کی کوششیں کیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے جرائم کے ثبوت اور تنفیذِ عقوبات سے متعلق اسلامی قانون کی تصریحات کو فقہاء کی ذاتی ترمیمات و تحدیدات سے تعبیر کیا ہے۔۴۸؂ 

سر سید کی تفسیری نگارشات میں اسلامی سزاؤں کے حوالے سے بھی استشراقی ومغربی ذہنیت سے مرعوبیت کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں ۔تفسیرالقرآن میں سورہ المائدہ کی آیت ۳۳ کی تفسیر میں یہ مرعوبیت یوں نمایاں ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ان آیات میں جو ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا حکم ہے، نیز اس آیت میں جس میں چور کا صرف ہاتھ کاٹنے کاحکم ہے، یہ ضروری نہیں ہے ،اور جن لوگوں نے اسے ضروری سمجھا ہے انہوں نے استنباطِ مسائل میں غلطی کی ہے۔ قرآن قید کرنے اور ہاتھ پاؤں کاٹنے میں سے حسبِ رضائے حاکم سزاتجویز کرنے کااختیار دیتا ہے۔ فقہا کی طرف سے ہاتھ کاٹنے کے سلسلہ میں چوری شدہ مال کی مقدارکے تعین کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک بھی چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنا ضروری نہیں۔ عہدِ صحابہؓ میں بھی ایسے نظائر ملتے ہیں کہ چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا بلکہ صرف قید کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس دور میں ڈاکو یہی سمجھتے تھے کہ پکڑے گئے تو قید کر دیے جائیں گے، ہاتھ کٹ جانے کا تو کسی کو خیال تک نہ تھا۔ ۴۹ ؂سر سید کا کہنا ہے کہ ا سلام نے بجز زنا کے کوئی بدنی سزا نہیں رکھی۔قرآن میں زنا کے علاوہ جن بدنی سزاؤں کا ذکر ملتا ہے، ان کی نوعیت قطعاًاضطراری ہے، اور وہ زمانہ کی اس حالت سے متعلق ہیں جب ملک میں قید خانوں کا نظام موجود نہ ہو اور نہ ہی ایسے جزائر پر دسترس حاصل ہو جہاں مجرم جلا وطن کیے جا سکیں۔جب ملک میں تسلط حاصل ہواور قید خانوں کا انتظام موجود ہو تو قرآن کی رو سے بدنی سزا دینا کسی طرح جائز نہیں ۔ ۵۰؂

تنقیدِ حدیث 

اسلام میں حدیث کی حجیت واہمیت مسلمہ اور ناقابلِ انکار ہے، لیکن مستشرقینِ یورپ اسلامی قانون کے اس ماخذِ ثانی کو مشکوک ومشتبہ بنانے کے لیے اس پرنہایت زور وشور سے حملہ آور ہوئے ہیں ۔حدیثِ نبوی پر اعتراضات کے حوالے سے مستشرقین کا سرِ خیل مشہور یہودی مستشرق گولڈ زیہر ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ احادیث اسلام کے عہدِ طفولیت کی تاریخ کے لیے قابل اعتبار ماخذ نہیں ہیں ۔یہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں اسلام کے دینی، تاریخی اور اجتماعی ارتقا کا نتیجہ ہیں۔۵۱؂ گولڈزیہر نے اموی حکمرانوں اور علمائے صالحین ، جن میں حدیث کے عظیم امام زہری خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، پر اپنے مقاصد کے لیے حدیثیں وضع کرنے کا الزام عائد کیا۔ ۵۲؂اس کے نزدیک اولین راویانِ حدیث بھی حدیث کے سلسلہ میں غیر دیانتدارانہ اور خود غرضانہ محرکات سے آزاد نہ تھے، اور اپنی ذاتی اغراض کو بلا جھجک بطورِ حدیث پیش کر دیا کرتے تھے۔۵۳؂ گولڈ زیہر کے بعد حدیث کے حوالے سے سامنے آنے والے استشراقی خیالات، بقول ڈاکٹر ٖفواد سیزگین، گولڈ زیہر ہی کے افکار کی صدائے باز گشت ہیں۔۵۴؂ اے گیوم نے اپنی کتاب(The Traditions of islam) میں جگہ جگہ گولڈ زیہر کے خیالات کو دہرایا ہے۔۵۵؂ جوزف شاخت۵۶؂، چارلس آدم ۵۷؂ اور آرتھر جیفری ۵۸؂ وغیرہ نے بھی گولڈ زیہر کی فراہم کردہ بنیادوں پر حدیث پر اپنے اعتراضات کی عمارات کھڑی کی ہیں۔ 

حدیث کے ضمن میں سر سید پر استشراقی اثرات کا واضح اظہار حدیث سے متعلق ان کے ان شکوک و شبہات سے ہوتاہے جو انہوں نے اپنی تفسیری کاوشوں کے دوران جگہ جگہ ظاہر کیے ہیں۔تفسیرِ قرآن کے دوران جہاں کہیں کوئی حدیث ان کی من پسند تعبیر میں آڑے آتی ہے،وہ اسے بلا جھجک مسترد کر دیتے ہیں ۔سورہ الکہف کی تفسیر میں قصۂ خضر و موسیٰ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعہ سے متعلق بخاری کی احادیث پر تفصیلی بحث کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں باہم اس قدر تضاد و تناقص ہے کہ انہیں کسی طرح قابلِ اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ۵۹؂ وہ قصص سے متعلق احادیث کو پرانے بزرگوں کے روایتی قصے کہانیوں کے ساتھ ملاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے کے پارسا ل افرادمیں یہ عام رواج تھا کہ لوگوں کے دلوں میں خدا کا ڈر بٹھانے اور اس کی شانِ قدرت جتانے کے لیے ایسے قصے بنا لیے کرتے تھے جن میں اصل پر بہت کچھ اضافہ کر دیا جاتا تھا ۔ لا طینی زبان میں قدیم زمانے کے اس طرح کے بہت سے قصے موجود ہیں۔حکایاتِ لقمان اور مثنوئ مولانا روم بھی ایسے ہی قصوں سے مملو کتابیں ہیں ۔اسی طرح یہودیوں کے علما اور واعظوں نے حضرت موسی کے شہر سے نکلنے اور مدین تک پہنچنے کے سفر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں بہت سی عجیب وغریب باتیں ملا دیں۔ انہی باتوں میں موسیٰ سے ایک فرضی شخص خضر کا ملنا بھی شامل ہے۔ صحابہ وتابعین نے یہ قصہ بطورِ قصۂ یہود بیان کیا ہوگا اور بعد کے راویوں نے یہ سمجھ کر کے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے سنا ہوگا، اسے بطورِ حدیث نقل کر دیا۔۶۰؂ سرسید کا کہنا ہے بہت سے راوی اسناد کو اندازاً حضور تک پہنچا دیا کرتے تھے۔ احادیث میں بکثرت ایسی روایات منقول ہیں جن کا قرآن سے کچھ تعلق نہیں۔ ۶۱؂ 

مشہور محقق پروفیسر عزیز احمد نے لکھا ہے کہ حدیث کے چھ کلاسیکی مجموعہ ہائے حدیث سے متعلق سر سید کے شکوک وشبہات مغربی مستشرقین مثلاً گولڈ زیہر اور شاخت کے اخذ کردہ نتائج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔ان کا نظریۂ تنقیدِ حدیث جسے بعد میں چراغ علی نے زیادہ دیدہ ریزی سے تکمیل کو پہنچایا،یہ تھا کہ کلاسیکی احادیث کا بیشتر حصہ جو عقلِ انسانی کے لیے ناقابلِ قبول ہو ،یک قلم مسترد کر دیا جائے۔ ہر ایسی حدیث کو بھی مسترد کر دینا چاہیے جو پیغمبرانہ شان کے متضاد ہو۔ مستند احادیث صرف تین قسموں کی ہو سکتی ہیں۔ وہ جوقرآن کے مطابق ہوں اور اس کے احکامات کی تکرار پر مشتمل ہوں؛وہ جو احکاماتِ قرآنی کی تشریح یا وضاحت کرتی ہوں؛یاپھر وہ احادیث جو ان بنیادی قانونی ضابطوں سے متعلق ہوں جن کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔جو حدیث کسی قرآنی حکم کی تنقیص کرتی ہو ،وہ یقیناًموضوع ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ احادیث جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات صحیحہ کی واضح عکاس کے طور پر مسلمہ ہیں ،ان میں بھی یہ امتیاز کرنا پڑے گا کہ ان میں سے کون سی حدیثیں آپ نے بطورِ پیغمبرِ خدا ارشاد فرمائیں اور کون سی ایسی ہیں جو آپؐ کے ذاتی خیالات یا پسند و ناپسند کی مظہر ہیں ۔عظیم کلاسیکی مجموعہ ہائے احادیث میں شامل اکثر احادیث کی بنیاد قانون کے قطعی اصول پر قائم نہیں ۔ یہ احادیث مسلمانوں کی چند ابتدائی نسلوں کے خیالات و رجحانات کا تاریخی عکس ہیں جن میں بہت کچھ من گھڑت ،ما فوق الفطرت واقعات اور خوش اعتقادی سے عبارت ہے ۔ ۶۲؂ 

ناسخ و منسوخ،اعجاز القرآن اور قصصِ قرآنی

جمہور اہلِ اسلام اور محقق علما کے ہاں قرآن میں نسخ کاوقوع ،قرآن کا باعتبارِ فصاحت وبلاغت معجزہ ہونااور تاریخی واقعات سے متعلق قصصِ قرآنی کی مسلمہ حیثیت ، ایسے امور ہیں جو تسلیم شدہ اور ناقابلِ انکارعلمی حقائق کا درجہ رکھتے ہیں، لیکن مستشرقینِ یورپ نے اپنے اسلام مخالف مقاصد کے پیشِ نظر ان امور سے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ناسخ ومنسوخ کے تصور سے مستشرقین نے قرآن میں تضاد بیانی ثابت کرنے کی جسارت کی۔ مثلاً انہوں نے لکھا کہ ناسخ ومنسوخ مسلم علماء کا وضع کردہ وہ طریق ہے جس کے ذریعے وہ قرآنی آیات میں موجود تضاد کو رفع کرنے کی سعی کرتے ہیں۔۶۳؂ انہوں نے ناسخ ومنسوخ کو اسلام کی کمزوری باور کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خدا کے استقلالِ فیصلہ میں نقص لازم آتا ہے اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا کا ذہن تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ وہ ایک حکم دیتا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ پہلا حکم مناسب نہیں تھا لہٰذا دوسرا حکم نافذ کر دیا جاتا ہے۔۶۴؂ اعجازالقرآن کے ضمن میں عیسائی اہلِ قلم اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں کہ قرآن فصاحت وبلاغت کے ایسے انتہائی معیار پر پہنچا ہوا ہے جو انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قرآن کو انتہائی فصیح و بلیغ کلام مان بھی لیا جائے تو بھی اسے معجزہ اور کلامِ الٰہی کیونکر کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہو تو لاطینی و یونانی زبانوں کی فصیح و بلیغ کتابیں بھی معجزہ اور کلامِ الٰہی ماننی پڑیں گی۔ ۶۵؂ قصصِ قرآنی سے متعلق مستشرقین نے ہرزہ سرائی کی کہ یہ عہد نامہ قدیم و جدید بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان غیر مستند انجیلوں اور روایات سے ماخوذ ہیں جو عہدِ نزولِ قرآن کے یہودیوں اور عیسائیوں میں مروج تھیں ۔۶۶؂

زیرِ نظرامورکے حوالے استشراقی اثر ات کے زیرِ اثر سر سید نے نسخ اور قرآن کے بلحاظ فصاحت وبلاغت معجزہ ہونے کا انکار کیا ہے اورقصصِ قرآنی سے متعلق دورازکار تاویلات سے کام لیا ہے۔نسخ کے ضمن میں سورہ البقرہ کی آیت ۱۰۶ کی تفسیر میں جمہور علماء کے موقف کو سختی سے رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں ہمارے مفسرین نے بے انتہا کج بحثیاں کی ہیں اور اسلام بلکہ خدا کو بدنام کیا ہے اور قرآن کو ایک شاعر کی بیاض بنادیا ہے۔ ان لوگوں نے نہایت غلط طور پرلفظ آیت کو قرآنی آیت پر محمول کرتے ہوئے جھوٹی اور مصنوعی روایات کے زور پرقرآن میں نسخ کے حولے سے اپنی تفسیروں کے ورق کے ورق سیاہ کر ڈالے ہیں، حالانکہ یہ بات نہ صرف خداکی شان کے خلاف ہے بلکہ قرآن کے ادب کے بھی خلاف ہے ۔یہ بات تو مانی جا سکتی ہے کہ کچھ احکام شرائع سابقہ میں مامور بہ تھے مگر شرائع ما بعد میں نہیں رہے، لیکن یہ بات کوئی ذی عقل کسی طور نہیں مان سکتا کہ شریعتِ محمدی میں پہلے ایک حکم دیا گیااور بعد میں کسی دوسرے وقت میں منسوخ کر دیا گیا۔ ۶۷؂ اعجازالقرآن کے حوالے سے سورہ البقرہ کی آیت۲۳ کی تفسیر کے سلسلہ میں قرآن کے بلحاظِ فصاحت و بلاغت معجزہ ہونے کا انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ کہنا کہ قرآن کی مثل کلام کوئی شخص پیش نہیں کر سکتا، قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔کسی کلام کی نظیر نہ ہونا اس بات کی تو دلیل ہو سکتا ہے کہ اس جیسا کوئی دوسرا کلام نہیں ،مگر اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے ۔انسانوں کے بہت سے ایسے کلام دنیا میں موجود ہیں کہ فصاحت و بلاغت میں کوئی دوسرا کلام ان کی مثل نہیں،مگر وہ من جانب اللہ تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اعجازالقرآن سے متعلق جو آیات پیش کی جاتی ہیں ،ان میں کہیں اس بات کی طرف اشارہ موجود نہیں کہ فصاحت وبلاغت میں قرآن کی مثل کوئی کلام نہیں ہو سکتا ۔ ہاں یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ قرآن جس طرح کی ہدایت دیتا ہے ،کوئی دو سر ی کتاب اس طرح کی ہدایت فراہم نہیں کر سکتی۔ ۶۸؂ 

(جاری)

حوالہ جات و حواشی

۴۱۔وہی مصنف،تفسیرالقرآن مع اصول تفسیر،ص۶۱۳۔۶۲۴،وہی مصنف ،تفسیر الجن ولجان،آگرہ،۱۸۹۲ء ، ص۲۔

۴۲۔سائنسی اعتبار سے اس نظریہ کی کمزوری اس حقیقت سے بھی عیاں ہے کہ اس کے پر جوش متبعین اپنی جاں گسل کاوشوں کے باوصف اسے آج تک حتماًثابت نہیں کر سکے۔معروف ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر ہلوک نور باقی نے حیاتیات کے معروف ماہر اور نظریۂ ارتقاء کے پر جوش حامی آر۔ بی۔گولڈ شمڈٹ(R. B. Gold Shemidt )کے حوالے سے لکھا ہے کہ نظریۂ ارتقاء کے ثبوت میں آج تک ایک بھی شک و شبہ سے بالا تر سائنسی شہادت میسر نہیں آ سکی ۔ڈاکٹرصاحب کے مطابق جدید سائنس دان دواں گش (Duan Gish )کے نزدیک ا نسان کا جانور سے ارتقاء پذیر ہونا محض ایک فلسفیانہ تخیل ہے جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔ڈاکٹر باقی نے پر زور سائنسی دلائل کی بنا پر ڈارونزم کی زبردست تردید کی ہے ۔آپ نے اپنی تصنیف میں نظریۂ ارتقاء کے خلاف معتبر سائنسی شہادتوں کا انبار لگادیا ہے۔

تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو:ہلوک نور باقی ،ڈاکٹر ،قرآنی آیات اور سائنسی حقائق (مترجم ،سید محمد فیروز شاہ گیلانی)، کراچی، انڈس پبلشنگ کارپوریشن،۱۹۹۴ء،ص۱۸۵۔۱۹۵۔

۴۳۔

Kazi, M.A,Quranic Concepts and Scientific Theories,Jordan, Amman,Islamic Academy of Sciences,1999,pp.28-29

۴۴۔سر سید احمد خاں ،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۲۴۔ 

۴۵۔ایضاً،ص۱۳۰۔

۴۶۔ایضاً،۱۳۲۔۱۳۸،۷۷۹۔۷۸۱۔

۴۷۔

See for example; Coulson, N.J, Conflicts and tentions in Islamic Jurisprudence, London, The University of Chicago press, N.D.p.78, Encyclopedia of Crime and Justice, The free press, New York, 1983, Vol. 1, p. 194

۴۸۔

See for detail: The Encyclopedia of Religion,Op.Cit,Vol.7, pp.310-311, Encyclopedia of Crime and Justice, Op. Cit,p195.

۴۹۔ سر سید احمد خاں ،تفسیر القرآن مع اصولِ تفسیر،ص۵۱۸۔۵۱۹۔ 

۵۰۔ایضاً،ص۵۲۰۔۵۲۵۔ 

۵۱۔

Goldziher, Ignaz, Muslim Studies, translated by C.R.Barber $ S. M. Stern. Chicago, IL! Aldine Publishing, 1973, Vol. II.p.18. 

۵۲۔

Ibid.p.44. 

۵۳۔

Ibid.p.56. 

۵۴۔فواد سیزگین ،ڈاکٹر،مقدمہ تاریخِ تدوینِ حدیث،(مترجم،سعید احمد)،اسلام آباد،ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ،۱۹۸۵، ص۱۸ ۔

۵۵۔

See for example; Guillume, Alfred, The Traditions of Islam, Beirut, Khayats, 1966, pp.15, 47-50,60,78. 

۵۶۔

 Shacht,.J,The Origins of Muhammadan Jurisprudence, Oxford,1950,p.149,Idem, Introduction to Islamic law, Oxford,1964,p,34.

۵۷۔

The Encyciopedia Americana, Grolier incorporated, 1984,Vol. 

۵۸۔

Jeffery, Arthur,Islam Muhammad and his Religion,Indiana polus, 1979, p.12.

۵۹۔سرسید احمد خاں ،تفسیرالقرآن، حصہ ہفتم، لاہور، دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۶ء ،ص۶۴۔۷۳۔

۶۰۔ایضاً،ص۷۱۔ 

۶۱۔ایضاً،ص۷۱۔۷۲۔

۶۲۔عزیز احمد، پروفیسر، برِ صغیر میں اسلامی جدیدیت ،(مترجم، ڈاکٹر جمیل جالبی)،لاہور، ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،۱۹۸۹ء،ص۸۰،۸۱۔

۶۳۔

 Sale,George, The Quran, New York, 1890, p.52.

۶۴۔

Palmer, E, The Quran with an Introduction by R.Nicholson, first published 1880,Oxford University press, 1928, p.53.

۶۵۔رحمت اللہ کیرانوی، مولانا،بائبل سے قرآن تک،(مترجم،اکبر علی)،کراچی،مکتبہ دارلعلوم،۱۳۸۹ھ،جلد دوم ،ص۳۶۵۔ 

۶۶۔

Sale, George, The Quran, p.49. 

۶۷۔سر سید احمد خاں،تفسیر القرآن مع اصول تفسیر،ص۲۳۶۔۲۴۵۔

شخصیات