فتاویٰ کے اجرا میں احتیاط کی ضرورت

حکیم ظل الرحمن

۱۱ مئی ۲۰۱۰ء، وقت ساڑھے آٹھ تا ساڑھے نوبجے شب۔ شرکا: (۱) نمائندہ این ڈی ٹی وی (۲) جناب پروفیسر اختر الواسع ۳) قاضی شہر لکھنؤ فرنگی محلی (۴) سعدیہ دہلوی صاحبہ (۵) جناب جاوید اختر۔

یہ پورا پروگرام دار العلوم دیوبند کے اس فتوے پر کہ ’’مردوں کے ساتھ عورتوں کا کام کرنا غیر اسلامی ہے‘‘ ایک تبادلہ خیال کا پروگرام تھا۔ قاضی شہر کلیتاً محدود تعبیر مسئلہ پر گفتگو فرما رہے تھے اور صرف فتوے کی حیثیت سے آگے ان کی گفتگو نہیں بڑھ رہی تھی۔ پروفیسر اختر الواسع کلیتاً اسلامی نمائندہ تھے۔ سعدیہ دہلوی ایک معتدل مزاج مسلمان کی نمائندگی فرما رہی تھیں۔ جناب جاوید اختر کلیتاً دانش وران ملت کے، جو مذہب کو ماڈرن شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں، نمائندہ تھے۔ میں یہاں بحث کی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے مسئلے کی قرآن اور حدیث کی روشنی میں تصویر اور اس کی وسعتوں پر کچھ ]گزارشات[ پیش کرنا چاہوں گا۔ 

فتوے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ’’کیا عورتوں کا مردوں کے ساتھ کام کرنا غیر اسلامی ہے؟‘‘ اس تصویر کے درج ذیل رخ ہیں اور ہر ایک رخ کی اسلامی حیثیت علیحدہ علیحدہ ہے۔

(۱) مخلوط تعلیم گاہوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی ایک ساتھ تعلیم جہاں ان میں آپسی اختلاط کے بہت پہلو ہوتے ہیں اور جنسی آزادی کی فضا بھی موجود ہوتی ہے۔

(۲) دفاتر میں مردوں کا عورتوں کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنا۔

(۳) کسی عورت کا کسی ادارے، سرکار، حکومتی شعبہ یا خود اپنے ہی کاروبار کی سربراہی کرنا۔

اب اس ضمن میں قرآن اور حدیث کی ہدایت ملاحظہ فرمائیں۔ ان ہدایات کا بنیادی مقصود ناجائز اختلاط پر روک لگانا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے نکاح کے لیے محرم اور غیر محرم کی قید لگائی ہے۔ پس اگر کسی مجبورئ حالات کے تحت ضرورت یا مجبوری ہے، اس میں بھی تحفظ عصمت کے امکانا ت موجود ہیں تو پھر یہ ایک قابل معافی گناہ شمار ہو سکتا ہے۔

(۱) عورتوں پر مردوں کو نگران بنایا گیا ہے۔ جو لوگ ’’قوامون‘‘ کا ترجمہ حاکمیت سے کرتے ہیں، وہ درست نہیں ہیں۔ نگران کی حیثیت ایک اچھے مشیر کی ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی اسے خانگی معاملات میں کچھ ایمرجنسی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اعتدال کی زندگی میں ان اختیارات کا استعمال شاذ ونادر ہی ہوتا ہے۔

(۲) عورتوں کے لیے بہتر جگہ ان کے گھر ہیں، البتہ مجبوریوں کے تحت ان کو گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت ہے۔

(۳) عورتوں کا پردہ ایسا لباس ہے جس میں جسم کے حصے نمایاں نہ ہوں۔ چہرہ، ہاتھ اور پیر کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔ موجودہ برقع اسلامی پردہ نہیں بلکہ ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اور اس میں بھی بالعموم چہرہ اور پیر کھلے رہتے ہیں۔

(۴) عورت کی زیب وزینت صرف اپنے شوہر کے لیے وقف ہے۔ باہر نکلنے کی صورت میں اس کو ایسی زیب وزینت کی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی طلبیدہ نگاہیں اس کا تعاقب کریں۔

(۵) مالیات کے حصول کی تمام تر ذمہ داری اسلام مرد پر عائد کرتا ہے، البتہ حالات کی مجبوری کے تحت عورت بھی اس مد میں مرد کو اپنا تعاون دے سکتی ہے۔ وہ لڑکیوں کے اسکولوں میں استاد بن سکتی ہے۔ اسے ہر وہ کام کرنے کی اجازت ہے جس میں اس کی عصمت کا تحفظ ممکن ہو اور یہ تحفظ اسے خود ہی کرنا ہوتا ہے۔

آئیے مندرجہ بالا صورتوں پر علیحدہ علیحدہ غور کریں:

(۱) حدیث میں آتا ہے کہ آج اسلام کا دسواں حصہ چھوڑنے پر اس امر کا امکان ہوتا ہے کہ وہ آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے، لیکن قرب قیامت میں گناہ کی کثرت، معاشرے کی بد حالی، دولت کی فراوانی اور اس کے نتیجے میں منکرات کا عام ہو جانا، زنا کی کثرت کے دور میں اگر کوئی مسلمان اسلام کے دسویں حصے کا بھی پابند ہوگا تو وہ مسلمان شمار ہوگا۔ آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔

(۲) مخلوط تعلیم گاہوں میں عورت او رمرد کا اختلاط، ا س کا انحصار تعلیم گاہ کے اندرو نی نظم ونسق اور اختلاط کے ماحول پر ہے جو بلاشبہ بالعموم آج موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ کبھی تعلیم گاہ میں جا کر اپنے بچوں کی تعلیم کی خبر نہیں لیتے۔ ابتدائی گھریلو زندگی میں رشتوں کا احترام کرنا ہم اپنے بچوں کو نہیں سکھاتے۔ اچھے گھرانوں میں بچوں کو نوکروں کا بھی ادب کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم گاہ کو تربیت گاہ بھی ہونا چاہیے جو آج نہیں ہے۔

میں نے بی اے میرٹھ کالج سے ۱۹۵۵ء میں پاس کیا جہاں مخلوط تعلیم تھی،لیکن اخلاقی ڈسپلن کا حال یہ تھا کہ :

(الف) لڑکیوں کا کامن روم علیحدہ تھا، وہاں بالعموم لڑکوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔

(ب) پروکٹوریل سسٹم دو حصوں پر مشتمل تھا۔ کالج کی حدود میں پروکٹر، معاون پروکٹر، اساتذہ اور ہر کلاس میں ایک سینئر طالب علم مانیٹر اخلاقی ڈسپلن کا ذمہ دار ہوتا تھا۔

(ج) شہر میرٹھ کے ہر محلے میں رہنے والے اساتذہ اور طلبا کی تقسیم براے نگرانی کردار اور ان کے والدین سے رابطہ ہوتی تھی۔

۱۹۵۳ء سے ۱۹۵۵ء تک کالج میں رہا، مگر پورے دو سال میں ایک بھی شکایت کسی لڑکی کی طرف سے کسی لڑکے کے خلاف کسی بدتمیزی کی انتظامیہ کو نہیں ملی۔ ہم لوگوں کو اساتذہ یہ اخلاقی تعلیم دیتے تھے کہ یہ سب تمھاری بہنیں ہیں۔ خود اساتذہ کا کردار بھی بہت پاکیزہ ہوتا تھا۔

لہٰذا اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ لڑکیوں کو مخلوط تعلیم گاہوں میں پڑھنے کے لیے نہ بھیجا جائے، بلکہ جس حد تک ممکن ہو، ان کو طالبات کی تعلیم گاہوں میں داخل کرائیں۔ اگر وہاں گنجائش نہ ہو تو مخلوط تعلیم گاہوں میں داخل کرائیں۔ اسلام نے ہر مسلمان کے لیے حصول تعلیم کو فرض قرار دیا ہے۔ اس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں۔ اس کے لیے ضروری یہ بھی ہے کہ والدین تعلیم گاہ کے ذمہ دار اساتذہ کے مسلسل رابطے میں رہیں۔

(۲) اب دوسرا مسئلہ آتا ہے۔ دفاتر میں مرد اور عورتوں کا ایک جگہ رہ کر کام کرنا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کو ایسی جگہ ملازمت کرنا مناسب نہیں ہے جہاں جوان لڑکے بھی ملازم ہوں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ نوجوان کی عمر کچی ہوتی ہے اور اس میں جنسی بے راہ روی کا امکان خصوصاً آج کے دور میں جہاں جنسی اختلاط کے لیے ہر طرح کی سہولیات حاصل ہوں اور لڑکے ان پر دولت لٹانے کے لیے تیار ہوں، بہت زیادہ ہوتا ہے۔ شادی شدہ عورتیں بالعموم جنسی طور پر تسکین شدہ ہوتی ہیں اور اپنی عصمت اور آبرو بچانے پر قادر ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ جنسی اختلاط کے لیے دو طرفہ طلب کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارے معاشرے کی خرابی یہ ہے کہ ہم نے خود کو نمائش اور ترغیب کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے۔ استقبالیہ پر بالعموم خوب صورت لڑکیوں کو فیشن ایبل لباس کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔ یہ قطعاً نامناسب ہے۔ بلاشبہ عورت اپنی اقتصادی مجبوری کے تحت کسی بھی جگہ ملازمت کر سکتی ہے جہاں اس کی عزت وعصمت محفوظ رہے۔ اس کا انحصار خود عورت کے اپنے اعمال اور کردار پر بھی ہوتا ہے۔ باحیا عورت پر بری نظر ڈالنے کی ہمت آسانی سے نہیں ہوتی۔ اداروں کو بھی چاہیے کہ مردوں اور عورتوں کے کام کی نشستیں اس طرح رکھیں کہ اختلاط کم سے کم ہو۔ خود ذمہ داران ادارہ بھی اپنے ماحول میں سرپرستی کی اخلاقی ذمہ داری کو قبول کریں۔ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی بچیوں اور بچوں کو مذہبی اخلاقیات سے بہرہ ور کرائیں۔ ان شاء اللہ باوجود اختلاط کے عورتوں کی عصمت بے داغ رہے گی۔ تعلیم میں اخلاقیات کی تعلیم کا رواج قائم کیا جائے جس کی قانونی اجازت ہے۔

(۳) اب تیسری چیز عورت کی سربراہی ہے، وہ کسی ادارہ کی ہو یا ریاست کی۔ یہاں ہمیں عورت کی تین حیثیتوں پر علیحدہ علیحدہ غور کرنا ہوگا: ماں، بہن، بیٹی۔ ماں خود اپنے گھر کی سربراہ ہوتی ہے اور داخلی امور کی خود مختار بھی۔ بہن بڑی ہونے کی صورت میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح مشیر اور چھوٹی بہن کی صورت میں وہ زیر تربیت اولاد کے مماثل ہوتی ہے۔ بیٹی اپنی تربیت کی وجہ سے ایک زیر تربیت طالب علم کا درجہ اپنے ہی گھر میں رکھتی ہے۔

اب کسی ادارے کی سربراہی ہو یا کسی ریاست کی سربراہی، آج اس کا کلیتاً حاکمانہ تصور جاتا رہا ہے۔ اب ہر سربراہ کو اپنے مشیروں کی صلاح پر سربراہی کرنی ہوتی ہے یہاں تک کہ صدر جمہوریہ بھی کیبنٹ کا پابند ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کسی سربراہی کی ممانعت نہیں کرتا۔ صرف عصمت اور ناموس کا تحفظ چاہتا ہے۔ بھوپال میں نواب شاہ جہاں بیگم سربراہ ریاست تھیں، لیکن ان کے تمام احکام کی تعمیل نواب محسن الملک کیا کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے ان سے شادی بھی کر لی تھی۔ آپ اگر مسز اندرا گاندھی کی مثال دینا چاہیں تو یہ نامناسب ہے کیونکہ ہندوستان کوئی اسلامی مملکت نہیں ہے اور نہ وہ مسلمان تھیں۔ الرجال قوامون کی غلط تعبیر پر فتوے دینا کوئی اچھا عمل نہیں ہے۔ آخر مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے نواب شاہ جہاں بیگم کی سربراہی کے حق میں فتویٰ دیا تھا۔

ہماری ایک خرابی یہ ہے کہ ہم ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک میں اسلامی مملکت کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں اور ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم قرب قیامت کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ دور رسول اکرم میں اگر کوئی دس فیصد حصہ اسلام کو ترک کر دے تو اس سے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا تھا، لیکن قرب قیامت کے دور میں جس میں گناہوں کی کثرت، برائیوں کے انبار اور معاشرے میں زنا کی کوئی بری حیثیت عدم تسلیم ہو رہی ہو، معاشیات اور کاروبار سود پر ترقی پذیر ہو تو اس دور میں اگر کوئی شخص صحیح اعتقادات اور دس فیصد شریعت پر بھی عمل پیرا ہو تو صحیح مسلمان شمار ہوگا۔......

ہماری اسلامی تشریحات کی ایک کمی یہ ہے کہ ہم صرف مسلک حنفیہ کی تشریحات پر زور دیتے ہیں اور دوسرے ائمہ کے فتوے کے لیے اس قدر قید لگاتے ہیں کہ ان پر فتوے کا امکان ہی نہیں ہوتا، حالانکہ ائمہ اربعہ کو برحق مانتے ہیں اور اس کے لیے کتاب موسوعہ موجود ہے جس کی ۴۲ جلدوں کا ترجمہ اسلامی فقہ اکیڈمی دہلی کر چکی ہے اور پہلی جلد طبع ہو چکی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ شافعی مسلک اور بعض مسائل میں مالکی مسلک دوسرے مسالک کے اعتبار سے زیادہ معتدل ہیں۔ 

Relaxation کی ایک مثال بیان کر دوں۔ یہ جناب مفتی محمد شفیع صاحب کا فتویٰ ہے۔ ایک انگریز عیسائی جوڑے نے جس کو اسلام قبول کیے ہوئے دس بارہ سال ہی ہوئے تھے، اپنی بیوی کو تین طلاقیں بہ یک وقت دے دیں۔ تمام علما نے حلالہ کا فتویٰ دیا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اجلاس میں مفتی محمد شفیع صاحب آئے ہوئے ہیں، ان سے رجوع کرو۔ وہ مفتی صاحب کے پاس گیا۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ صبح کو اپنے تمام واقعات کو لکھ کر لے آؤ۔ وہ صبح آئے۔ مفتی صاحب نے دوسرے مفتی صاحبان کو جو تشریف رکھتے تھے، وہ کاغذ دکھایا۔ سب نے حلالہ کا فتویٰ دیا۔ جناب مفتی صاحب نے اس پر فتویٰ تحریر کیا:

’’مسلمانوں کے ایک مسلک موسومہ بہ اہل حدیث کے نزدیک ایک ہی طلاق ہوئی، رجوع کر لیا جائے۔‘‘

وہ چلے گئے اور رجوع کر لیا۔ جب وہ چلے گئے تو مفتی صاحب نے فرمایا: ’’اگر اس وقت میں یہ فتویٰ نہ دیتا تو یہ جوڑا پھر عیسائی ہو جاتا کہ جس اسلام میں میری ایک ذرا سی غلطی کی تلافی ممکن نہیں ہے، وہ مذہب صحیح نہیں ہو سکتا۔‘‘ مفتی کفایت اللہ صاحب کی کفایت المفتی میں فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص اہل حدیث سے فتویٰ لے کر رجوع کر لے تو اسے مطعون کرنا جائز نہیں ہے۔ خود مفتی صاحب نے بہت سے فتاویٰ مالکی مسلک پر دیے ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ ہمارے اکابر میں تو اس قدر وسعت فکر تھی اور ہم ہیں کہ ذرا ذرا سی باتوں پر فتوے دے رہے ہیں۔ ]مثلاً[ ٹیلی وژن گھر میں رکھنا حرام ہے۔

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ جب میں نے مسلمان ہونے کے لیے اسلام کا مطالعہ کیا تو میں کسی فیصلے پر پہنچ ہی نہیں سکا کہ اسلام کیا ہے۔ دیوبندی اسلام، بریلوی اسلام، شافعی اسلام، مالکی اسلام، حنبلی اسلام، اہل حدیث اسلام، شیعہ اسلام، قادیانی اسلام وغیرہ وغیرہ۔ آج لوگ نماز ہی نہیں پڑھنے کے لیے تیار ہیں اور ہم اعلان کر رہے ہیں کہ ایسے نماز پڑھی ہوگی تو نماز قبول نہیں۔ دعا ہاتھ پھیلا کر مانگو، جوڑ کر مت مانگو۔ آج ملت تعلیم کی محتاج ہے جس کے بغیر اسے دنیا میں اعزاز نہیں مل سکتا اور وہ بعض جگہ مخلوط تعلیم کے ذریعے ملتی ہے تو بجائے اس کے کہ ہم ان طالبات کے لیے اپنے غیر مخلوط تعلیم کے ادارے قائم کریں یا ان ہی اداروں میں اخلاقی رہنمائی اور دینیات کی تعلیم کا مزید انتظام کریں، خواہ مراسلاتی کورسوں کے ذریعے ہی ہو، ہم ان کو تعلیم گاہوں سے روکنے کی تبلیغ کرتے ہیں۔ جہاں تک روزگار کا تعلق ہے، مسلمان کاروباری ادارے مسلمان عورتوں کو اس انداز سے ملازمت دیں کہ ان کی عصمت محفوظ رہے۔

تیسرا عنوان سربراہی کا ہے۔ آج کی سربراہی محتاج مشاورت ہے۔ آج صدر جمہوریہ بھی دوسروں کے مشورہ کا محتاج ہوتا ہے تو عورت اگر کسی ادارے یا خود اپنے کاروبار کی سربراہ ہے تو یہ غیر اسلامی نہیں کہا جا سکتا، بشرطیکہ وہ خود اپنے اسلامی اقدار واخلاقیات کا تحفظ رکھے ہوئے ہو۔

ہمارا مزاج کچھ عجیب بن گیا ہے۔ ملت کے جو اصل مسائل ہیں، ان پر تو کسی جماعت کی توجہ نہیں ہے۔ اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لانے کی ہدایت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حجۃ الوداع میں دی ہے، کسی کو ان فرائض کی کوئی فکر نہیں ہے، مگر ہم ثانیہ کے لباس پر مراسلہ بازی کرتے ہیں۔ کسی بھی آدمی کو اپنے فرائض کی کوئی فکر نہیں، دوسروں کے فرائض اسے سب یاد ہیں۔ فتویٰ دینے کو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فتویٰ کو کون اور کس مقصد کے لیے مانگ رہا ہے۔ بیشتر حضرات انتشار کی خاطر فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ الفتنۃ اشد من القتل۔ مفتیان کرام جیسے صاحب نسبت روحانی حضرات نہ پہچانیں گے تو اور کون پہچانے گا؟ اس کی ایک مثال دے دینا چاہوں گا۔

اس وقت تک ٹی وی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ آل انڈیا ریڈیو کی بارہ حضرات کی ایک ٹیم فیملی پلاننگ پر مولانا قاری محمد طیب صاحب کے پاس انٹرویو لینے پہنچی۔ قاری صاحب نے شرافت نفسی کی بنا پر ان کو ڈھائی گھنٹے انٹرویو دیا۔ ا س ٹیم نے ریڈیو پر دس منٹ کا حصہ نشر کر دیا کہ قاری طیب صاحب نے فیملی پلاننگ کو جائز قرار دے دیا۔ قاری صاحب کے سلسلے میں مسلمانوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔ بارہ حضرات کی یہی ٹیم مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندویؒ کے پاس پہنچی۔ وہاں سیاسی شعور تھا۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ کسی نیک نیتی سے نہیں آئے ہیں۔ انھوں نے جواباً کہا: میرے پاس تمھارے لیے صرف دو جملے ہیں۔ کھڑے کھڑے نوٹ کرنا چاہو تو کھڑے کھڑے نوٹ کر لو۔ بیٹھنا چاہو تو بیٹھ کرنوٹ کر لو۔ ’’فیملی پلاننگ اسلام میں حرام ہے۔‘‘ یہ ٹیم اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئی۔

اس وقت کے علما فتویٰ مانگنے والوں کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ حالات حاضرہ کے شعور کی روشنی میں قرآن وحدیث، ائمہ اربعہ ودیگر فقہا کی آرا پر ممکنہ وسعتوں کے ساتھ مفصل فتاویٰ دیے جائیں۔ فتویٰ دینے والوں کی سب سے بڑی ضرورت غیر درسی کتب کا مسلسل اور کثرت سے مطالعہ ہے تاکہ اسلام کی یہ تصویر کہ وہ آسانیوں کا مذہب ہے، دنیا کے سامنے لائی جا سکے اور جس حد تک بھی کسی مسئلے میں شرعی حدود میں وسعت ممکن ہو، فتاویٰ میں وسعت دینی چاہیے۔

(بشکریہ ہفت روزہ دعوت، نئی دہلی)

آراء و افکار

Flag Counter