ستمبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد اور شریعت و حکمت کے تقاضے

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے تنازع کا جب آغاز ہوا تو راقم الحروف نے اس کے مختلف پہلووں پر اسی وقت سے اپنے تاثرات واحساسات کو قلم بند کرنا شروع کر دیا تھا جو مختلف کالموں اور مضامین کی صورت میں ماہنامہ الشریعہ، روزنامہ اسلام اور روزنامہ پاکستان میں شائع ہوتے رہے اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے مضامین اور کالموں میں متعلقہ مسئلہ کی معروضی صورت حال کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں دینی نقطہ نظر کو بھی متوازن انداز میں پیش کر دیا جائے تاکہ قارئین کو کسی فیصلے تک پہنچنے میں آسانی رہے۔ دینی نقطہ نظر...

کفارہ کا عقیدہ اور عمل کی اہمیت

― مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم بائیبل، کتاب مقدس اور انجیل مقدس کے حوالے سے یہ ثابت کر دیں کہ ہر ایک کو عمل کرنا پڑے گا اور تب جا کر کہیں نجات نصیب ہو سکتی ہے۔ جب ہر ایک کے لیے عمل ضروری ٹھہرا تو پھر کفارے کا سوال کہاں سے؟ اور اس نامنصفانہ عقیدہ اور نظریہ کو بھلا سنتا بھی کون ہے؟ استثنا باب ۲۷ آیت ۲۶ میں ہے: ’’لعنت اس پر جو شریعت کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے ان پر قائم نہ رہے اور سب لوگ کہیں: آمین۔‘‘ اگر شریعت کی باتوں کو ترک کر کے محض کفارہ ہی کا عقیدہ موجب نجات ہے تو پھر یہ لعنت کیسی اور کیوں؟ انجیل لوقا باب ۶ آیت ۴۶ تا ۴۹ میں ہے: ’’جب تم میرے کہنے...

نماز تراویح سنت موکدہ ہے

― مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

نماز تراویح سنت موکدہ ہے۔ (ہدایہ ۱/۹۹۔ شرح نقایہ ۱/۱۰۴۔ کبیری، ۴۰۰) تراویح کے سنت ہونے کا انکار سوائے روافض کے کسی اسلامی فرقے نے نہیں کیا۔ اس کے سنت موکدہ ہونے کے بارے میں بہت سے اہل علم کے اقوال موجود ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’وسننت لکم قیامہ‘ (نسائی ۱/۳۰۸۔ ابن ماجہ، ۹۴۔ مسند احمد ۱/۱۹۱) ’’اور میں نے اس میں قیام (تراویح) کو سنت قرار دیا ہے۔‘‘ امام ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ تراویح سنت ہیں، ان کا ترک کرنا جائز نہیں۔ (شرح نقایہ ۱/۱۰۴۔ کبیری، ۴۰۰) امام نوویؒ شارح مسلم لکھتے ہیں: خوب جان لو کہ صلاۃ تراویح کے سنت ہونے پر علما...

دنیا کی محبت اور علمائے اسلام کی ذمہ داری

― مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

اس وقت غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن نے تمام دنیا کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کو ممالکِ اسلامیہ بھی اپنائے جا رہے ہیں، لیکن اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ زندگی کی کشتی کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے اور وہ اس کو جس طرف لے جانا چاہے، لے جانے دیا جائے، کیونکہ اسلام ہر زمانہ میں اپنے غالب رہنے کے اصول دیتا ہے اور ایسی تدبیریں بتلاتا ہے جن کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں اصلاح کی جا سکتی ہے اور انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد ہے: ’’اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کر دے تمام دینوں پر اور کافی ہے اللہ گواہی کے لیے۔‘‘...

اسلام، جمہوریت اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

حاکم خان کیس میں اکثریتی نقطہ نظر یہ ہے کہ قرار داد مقاصد دستور کے دیباچے میں تھی تو اس کی کوئی موثر حیثیت نہیں تھی، دیباچے سے اٹھا کر اس کے متن میں موثر (substantive) طور پر شامل کر دی گئی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ( ۱) یہ پہلے بھی فضائل ومواعظ کی طرح تھی اور اب بھی اس کی حیثیت نمائشی سے زیادہ نہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جنرل ضیا ء الحق کا دستور میں ترمیمی حکم اور پھر قومی اسمبلی کی جانب سے آٹھواں آئینی ترمیمی حکم ۱۹۸۵ء محض بیکار مشق ہے۔ ایک باقاعدہ دستوری ترمیم کے بارے میں اس طرح کا فیصلہ صادر فرماناکتنا تعجب خیز ہے، لیکن ہمارے ہاں سپریم کورٹ بیچاری فوجی بوٹوں،...

مثالی حکمران کے اوصاف اسوۂ فاروقی کی روشنی میں

― مولانا مشتاق احمد

آزادئ فکر، آزادئ اظہار، قانون کی بالادستی، خود احتسابی، عدل وانصاف، قومی خزانہ کی حفاظت، خوشامدیوں سے دوری، ہدیہ قبول کرنے سے انکار، سادگی، خوف خدا، اچھے رفقا کی عہدوں پر تقرری، اصول مساوات، عوام کی تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ایک اچھے مسلمان حکمران کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اسلامی تاریخ کے نامور حکمران خلیفہ راشد حضرت سیدنا عمربن خطابؓ ان تمام مذکورہ اوصاف سے متصف تھے۔ ذیل میں ان کے زمانہ خلافت کی چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ واقعات سید عمر تلسانی کی کتاب’’عمر بن الخطاب‘‘ کے اردو ترجمہ اور علامہ شبلی نعمانی کی ’’الفاروق‘‘...

فکر اسلامی کو درپیش عصری چیلنج ۔ تجمد اور تجدد کے درمیان راہ توسط کی تلاش

― ڈاکٹر محمد امین

شارع مشفق ومہربان نے ختم نبوت کااعلان کرتے ہوئے دین حق کو تاقیامت قابل عمل رکھنے کے لیے جس حکمت عملی کااعلان فرمایا، اس کے اہم اجزا یہ تھے:سارے عالم کوہمیشہ کے لیے امت دعوت قراردینا، نصوص قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود لینا، مسلمانوں کو کار دعوت کی ذمہ داری سونپنا اور انہیں اجتہاد کی اجازت دینا۔ عقیدے سے قطع نظر عقل ومنطق کی رو سے بھی یہ انتظامات اس امر کی قطعی بنیاد مہیا کر دیتے ہیں کہ فکر اسلامی دنیا کے ہرخطے میں اور ہر عہد میں قابل عمل رہ سکتی ہے، لیکن ان اصولوں سے فائدہ اٹھانے اور ان پرعمل کرنے کا انحصار بہرحال انسانی کاوشوں پر ہے۔ اگر مسلم...

غامدی صاحب کا تصور فطرت چند توضیحات

― سید منظور الحسن

’’قرآن اکیڈمی‘‘ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ محمد زبیر صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی کی تصنیف ’’اصول و مبادی‘‘ کے بعض اصولی تصورات پر تنقیدی مضامین تحریر کیے تھے ۔ یہ مضامین پہلے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوئے اور بعد ازاں ’’فکر غامدی، ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں طبع ہوئے۔یہ کل تین مضامین تھے جن میں سے پہلے کا عنوان ’’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت‘‘ تھا اور اس میں خیر و شر کے فطری الہام کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر تنقید کی گئی تھی۔اس مضمون کے جواب میں ہم نے ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا جس میں...

دارالعلوم کراچی کا فتویٰ

― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

لندن، ۱۶ اگست ۲۰۰۷ء۔ حضرت مولانا! اگست کے شمارے میں اپنا استفتاء اور اس کا جواب دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔ اور ایسا لگا جیسے ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘۔ آپ برطانوی مسلمانوں کے موجودہ حالات و گھمبیر مسائل سے بالکل ہم لوگوں ہی کی طرح واقف ہیں۔پھر بھی کیاآپ نے یہ چاہا ہے کہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کا وہ جواب جو صرف مجھ تک اور آپ ہی تک تھا ،ایک معنیٰ میں آپ کی توثیق کے ساتھ، اسلامیانِ برطانیہ تک عام ہو، اور ان کے حالات کی نزاکت جلد سے جلد اپنے بقیہ مراحل ،خد ا نہ کردہ،طے کر لے! آپ نے یقیناً یہ نہیں چاہا ہوگا۔ لیکن ذرا غور تو فرمائیے۔جب...

الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

― ادارہ

االشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی، فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ڈپٹی ڈائریکٹر اور مولانا حافظ...