الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی، فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ڈپٹی ڈائریکٹر اور مولانا حافظ محمد یوسف (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ناظم کے طور پر ان کی معاونت کرتے ہیں۔ 

اکادمی کی سال رواں کی رپورٹ احباب ومعاونین کی خدمت میں پیش ہے:

اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز 

  • ۱۹۹۹ سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین پر اکادمی کی تین منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جو اس وقت اکادمی کی بیشتر تعلیمی اور علمی وفکری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس سال مسجد کے ہال کا تعمیری کام جزوی طور پر مکمل کیا گیا ہے جس پر ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے جبکہ مسجد کے بقیہ تعمیری کام کی تکمیل کے لیے سات لاکھ روپے کی لاگت کا اندازہ ہے۔
  • کینال ویو واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کوروٹانہ کے مقام پر کھیالی کے مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے الشریعہ اکادمی کے لیے ایک ایکڑ (آٹھ کنال) زمین وقف کی ہے جہاں تقریباً دس لاکھ روپے کی لاگت سے، چار دیواری کی بنیادیں بھرنے کے علاوہ مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن کا ایک بلاک بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔ اس مرکز میں پرائمری پاس طلبہ کے لیے حفظ قرآن کریم مع مڈل کی کلاس جاری ہے۔
  •  کھوکھرکی گوجرانوالہ کے مخیر بزرگ حاجی مہر عبد العزیز صاحب نے جہانگیر کالونی میں ایک کنال رقبہ پر دو منزلہ جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ تعمیر کر کے اس کا انتظام الشریعہ اکادمی کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس کا انتظام اکادمی چلا رہی ہے۔ مولانا مجاہد اختر (فاضل درس نظامی) کو مسجد ابوذرؓ کا خطیب اور امام مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خطابت وامامت کے ساتھ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور علاقہ کے نوجوانوں کے لیے فہم دین کورس بھی جاری ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں 

  • عوام الناس کی دینی واخلاقی تربیت کے حوالے سے ’’فہم دین کورس‘‘ کے عنوان سے اکادمی نے جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس کے فوائد وثمرات کے پیش نظر اس سلسلے کو وسیع تر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور رمضان المبارک ۱۴۲۷ھ کے دوران میں شہر کی مختلف مساجد کے ائمہ اور خطبا کے ساتھ مشاورت کی روشنی میں اور ان کے تعاون سے ۲۳ مساجد میں ’’فہم دین کورس‘‘ کی کلاسز کا انعقاد کیا گیا۔ 
  • جولائی ؍ اگست ۲۰۷ میں چالیس روز کے دورانیے پر مشتمل فہم دین کورس کی تین کلاسز منعقد کی گئیں جن سے ۱۰۰ کے قریب نوجوان اور بزرگ طلبہ اور خواتین نے استفادہ کیا۔ ان کورسز کی تکمیل پر اکادمی میں نوجوان طلبہ اور خواتین میں تقسیم اسناد وانعامات کی الگ الگ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں عوام الناس اور خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس کے علاوہ الشریعہ اکادمی کے تعاون سے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران میں شہر کی مختلف مساجد ومدارس میں ’’فہم دین کورس‘‘ کی پچاس سے زائد کلاسز منعقد کی گئیں۔
  • موسم گرما کی تعطیلات میں میٹرک پاس طلبہ کو درس نظامی کے درجہ اولیٰ کے مضامین پر مشتمل کورس مکمل کروایا گیا۔ اس سے قبل اس نوعیت کی پانچ کلاسز مکمل ہو چکی ہیں۔
  • اسکول وکالج کے طلبہ اور طالبات کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن مجید کی کلاسز کا سلسلہ بحمد اللہ گزشتہ چھ سال سے جاری ہے۔ اب تک طلبہ کی چار کلاسز ترجمہ قرآن مجید مکمل کر چکی ہیں جبکہ طالبات کی دوسری کلاس اس وقت چھبیس پاروں کا ترجمہ پڑھ چکی ہے۔
  • مئی ؍جون ۲۰۰۷ میں اکادمی کے زیر اہتمام شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں چالیس روزہ انگلش لینگویج کورس کا جبکہ جون؍ جولائی ۲۰۰۷ میں مرکزی جامع مسجد ہی میں عربی بول چال کورس کا انعقاد کیا گیا۔ ان کلاسز کے لیے روزانہ نماز عصر کے بعد کا وقت مقرر کیا گیا اور اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کو انگریزی زبان اور عربی بول چال کی تعلیم دی۔ کورس میں مجموعی طور پر چالیس سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ دونوں کورسز میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں تقسیم اسناد وانعامات کے لیے ۲۱؍ جولائی ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں طلبہ نے انگریزی اور عربی میں اظہار خیال کے علاوہ ان کورسز کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے۔ مہمان خصوصی کے طور پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث مولانا داؤد احمد شریک ہوئے۔ 

دعوت وابلاغ 

  • علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
  • اردو زبان میں اسلامی ویب سائٹ www.alsharia.org کام کر رہی ہے جس پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • حالات حاضرہ کے حوالے سے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے معلوماتی اور فکر انگیز ہفتہ وار کالم روزنامہ اسلام کراچی میں ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔ 
  •  اکادمی کے شعبہ نشر واشاعت کے زیر اہتمام اس سال حسب ذیل کتابیں اور کتابچے شائع کیے گئے:
    • ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ (ابو عمار زاہدالراشدی/ معز امجد/ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ خورشید ندیم/ ڈاکٹر فاروق خان)
      صفحات : ۲۰۰  
    • ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل ‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
      صفحات: ۱۵۲
    • ’’دینی مدارس کا نصاب ونظام نقد ونظر کے آئینے میں‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
      صفحات: ۴۱۶
    • ’’دینی مدارس اور عصر حاضر ‘‘ (الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تعلیم کے موضوع پر فکری نشستوں اور تربیتی ورکشاپس کی روداد) 
      صفحات: ۲۳۶
    • ’’جامعہ حفصہ کا سانحہ :حالات وواقعات اور اثرات ونتائج‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
      صفحات: ۸۰
    • ’’ہمارے دینی مدارس: چند اہم سوالات کا جائزہ ‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
      صفحات: ۸۸
    • ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل : پس منظر اور پیش منظر‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
      صفحات: ۲۴
    •  ’’مغرب کی فکری وتہذیبی یلغار اور علما کی ذمہ داریاں‘‘ (ڈاکٹر محمود احمد غازی)
      صفحات: ۳۶

تربیتی ورکشاپس 

  • ۱۴؍نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا جس میں مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور منتظمین نے شرکت کی۔ ورکشاپ سے مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا مشتاق احمد، پروفیسر حافظ منیر احمد، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر انعام الرحمن اور دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے گزشتہ سال کی رپورٹ اور آئندہ سال کے پروگرام کی تفصیل پیش کی۔ تیسری نشست دینی مدارس کے اساتذہ کے درمیان باہمی مشاورت کے لیے مخصوص تھی جس میں اساتذہ نے ورکشاپ میں مختلف حضرات کی طرف سے کی جانے والی گفتگو کی روشنی میں تبادلہ خیالات کیا اور متعدد سفارشات پیش کیں۔
  • ۱۱؍ جون ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے علما اور ائمہ وخطبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی جبکہ مولانا داؤد احمد، مولانا حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالواحد رسول نگری نے عوام الناس میں دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے ائمہ وخطبا کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس نشست کا اہتمام گزشتہ سال الشریعہ اکادمی کے تعاون سے شہر کی دو درجن سے زائد مساجد میں ۳۰ روزہ فہم دین کورس کے کامیاب سلسلے کے تناظر میں کیا گیا۔ تقریب میں شریک ہونے والے ائمہ وخطبا نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس کار خیر کو پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں اب تک شہر کی تقریباً ۶۰ مساجد میں، جن میں خواتین کی تعلیم وتربیت کے ۱۵ مراکز بھی شامل ہیں، اس نوعیت کی کلاسز شروع ہو چکی ہیں۔ 

علمی وفکری نشستیں 

  • گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی عالم اسلام کی موجودہ صورت حال، اسلامائزیشن اور دیگر علمی وفکری مسائل پر مولانا زاہد الراشدی کے ہفتہ وار خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت مولانا راشدی نے مختلف موضوعات پر لیکچر دیے جن میں سے نمایاں عنوانات یہ ہیں: حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل کا پس منظر، انسانی حقوق کا مغربی تصور اور اسلام، جدید جمہوری تصورات اور اسلامی احکام وتعلیمات، پاکستان میں اسلامائزیشن کے مختلف مراحل، لال مسجد کا سانحہ اور اس کے اسباب وعوامل۔ 
  • میرپور، ڈھاکہ کے ’دار الرشاد‘ کے مہتمم مولانا سلمان ندوی ۲۴؍ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور ایک خصوصی نشست میں علما اور اساتذہ کے ساتھ تعلیمی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ احباب نے ان سے بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے نصاب ونظام اور طریق کار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ 
  • ۳، ۴، ۵ فروری ۲۰۰۷  کو جامعہ سید احمد شہید لکھنو (انڈیا) میں برصغیر کے دینی نصاب ونظام کے حوالے سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (پاکستان) میں اس سمینار کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست ممتا زماہر تعلیم پروفیسر غلام رسول عدیم کی زیر صدارت ۳؍ فروری ۲۰۰۷ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی جس میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف، جامعہ عربیہ گوجرانوالہ کے ناظم مولانا ضیاء الرحمن، گورنمنٹ کالج قلعہ دیدار سنگھ کے پروفیسر محمد اکرم ورک، گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ، پروفیسر محمد زمان چیمہ اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
  • مارچ ۲۰۰۷  میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے الشریعہ اکادمی میں ’’سنت نبوی کی دستوری اور آئینی حیثیت‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا جس میں دینی مدارس اور اسکول وکالجز کے اساتذہ نے شرکت کی۔ لیکچر کے بعد سوال وجواب کی نشست میں فاضل مقرر نے حاضرین کے مختلف سوالا ت کے جواب بھی دیے۔
  • ۳۱؍ مارچ ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہد الراشدی کے مضامین کے دو مجموعوں کی اشاعت کے موقع پر ان کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔ مضامین کے یہ دو مجموعے ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ اور ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں۔ تقریب رونمائی سے پروفیسر غلام رسول عدیم، مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر محمد شریف چودھری، پروفیسر محمد اکرم ورک اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کے علاوہ جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانش ور جناب نادر عقیل انصاری نے بھی خطاب کیا جبکہ علماے کرام، اساتذہ، پروفیسر صاحبان اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
  • حفظ قرآن کریم کے بزرگ استاذ حضرت قاری محمد انور صاحب، جو ایک عرصہ تک گکھڑ میں حفظ قرآن کریم کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور گزشتہ اٹھائیس برس سے مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں، ۲؍ مئی ۲۰۰۷ بروز بدھ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے جہاں ان کے شاگرد اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی طرف سے ان کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا راشدی نے ۱۹۶۰ء میں گکھڑ میں حضرت قاری محمد انور صاحب سے قرآن کریم حفظ مکمل کیا تھا۔ تقریب میں شہر بھر سے قاری محمد انور صاحب کے تلامذہ کے علاوہ علما اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 
  • مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن جولائی ۲۰۰۷ میں اکادمی میں تشریف لائے اور فہم دین کورس میں شریک خواتین سے ’’خواتین کی دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انھوں نے مجلس مشاورت برائے تعلیمی وتربیتی کورسز کے زیر اہتمام شہر کی تقریباً ۶۰ مساجد میں خواتین وحضرات کے لیے فہم دین کورس کی کلاسز کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔

رفاہ عامہ 

  • الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہاشمی کالونی میں فری ڈسپنسری روزانہ عصر تا عشا کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً ۶۰ تا ۸۰ مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

الشریعہ اکادمی