مکتوب بنام صدر وفاق المدارس

قاضی محمد رویس خان ایوبی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب مولانا سلیم اللہ خان صاحب ،مدظلہ العالی (صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان )

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

یکم جولائی سے شروع ہوکر ۱۰؍ جولائی کی صبح پانچ بجے تک کربلائے اسلام آباد میں آتش وآہن کی بارش برساکر قوم کی معصوم، عفت مآب بیٹیوں، حفاظ قرآ ن اور غازی عبدالرشید شہید کے خاندا ن کے ۱۹؍ افراد سمیت سیکڑوں طلبہ وطالبات کو جس بے دردی اور سفاکی سے شہید کیاگیا، اس کی نظیر چنگیز، ہلاکو، ہٹلر اور بوسنیا ہرز گوینا اور چیچنیا، عراق، ویت نام، کشمیر، فلسطین میں بھی نہیں ملتی۔ ظلم واستبداد کی اس داستان کو رقم کرنے میں جہاں موجودہ حکومت کا کردار اظہرمن الشمس ہے، وہاں اس ظلم کوروکنے کے لیے جمعیت علماے اسلام کی قیادت، خطباے اسلام آباد اور دینی طبقات کی مجموعی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔

جناب صدر وفاق! فقیر کے آپ کی خدمت عالیہ میں بصد ادب واحترام چند سوالات پیش خدمت ہیں۔ ان پرغور کر لیجیے۔ مجنو ں کی بڑسمجھ لیجیے، مگر شایدکوئی ایک کام کی بات بزرجمہرانِ جمعیت اور وفاق کے پلے پڑ جائے:

۱۔ غازی برادران نے فحاشی کے خلاف جس جرات کا مظاہر ہ کیا اور غاصب حکمران کی بے دین پالیسیوں کے خلاف جس طرح انہوں نے حق کا بول بولا کرنے کی خاطراستقامت کا مظاہر ہ کیا، کیا یہ ایسے جرائم تھے کہ ان کی پاداش میں جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کا وفاق سے الحاق ختم کر دیا جاتا؟

۲۔ وفاق کے ضوابط کار کی کون سی دفعہ کی خلاف ورزی کی گئی تھی جس کی یہ سزا دی گئی؟

۳۔ کیا سب سے پہلا وار وفاق نے نہیں کیا کہ دونوں مدرسوں کو اچھوت بنا کر حکومت کو اشارہ دے دیا گیا کہ ہمارا ان کے مطالبات اور اعمال سے کوئی تعلق نہیں؟

۴۔ وفاق کے بقراطوں کے پاس سوائے اخراج کے کوئی ہتھیار نہ تھا، ورنہ شایدوفاق المدارس خود وہی کردار ادا کرتا جو حکومت نے کیا۔

۵۔ ایک بجے تک وفاق نے اس ٹیم سے کیوں مذاکرات کیے جس کے پاس کوئی اختیار نہ تھا؟ کیامفتی رفیع عثمانی صاحب، عبدالرزاق اسکندر صاحب، زاہدالراشدی صاحب، فضل الرحمن خلیل صاحب اور دیگر حضرات نے اس امر کی کوئی یقین دہانی حکومت سے حاصل کی تھی کہ جو شرائط مصالحتی مذاکراتی ٹیم طے کرے گی، وہ حکومتی ٹیم صدر کے بغیر خود منظور کرے گی اور اس پر عمل درآمد کرائے گی؟ جناب رفیع عثمانی صاحب نے خود ٹی وی پر یہ بیان دیا کہ سی این سی ہاؤس سے مسودہ تبدیل کر دیا گیا اور حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اس مسودے میں کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرنے سے معذوری ظاہر کر دی، تب ہم اٹھ کرچلے آئے ۔

۶۔ علامہ زاہد الراشدی صاحب نے خود اپنے تحریرکردہ مقالات میں فرمایاکہ ہم نے فون بند کر دیے اور سو گئے۔ کیا آگ اور خون کے اس طوفان میں سونے والے مخلص کہلا سکتے ہیں؟

۷۔ حادثہ کے اختتام سے آج تک وفاق کے علما کاکوئی وفد فقط تعزیت کی غرض سے بھی مولانا عبد العزیز سے ملاقات کے لیے نہیں گیا۔ کیایہ سنگ دلی کی ا نتہا نہیں؟ کیا یہ اس بات کا بین ثبوت نہیں کہ مذاکراتی ٹیم کے علماے کرام، جمعیت علماے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب سمیت دیگر علما نے مولانا سے تعزیت نہ کر کے اور ان کی بے گناہ معصوم خواتین کے ساتھ عملاً اظہار ہمدردی نہ کرکے اس ظالمانہ آپریشن کو سند توثیق عطا فرما دی؟

۸۔ کیا اس طرح علماے دیوبند کی روایتی جرات اور جذبہ حق پرستی کی نفی نہیں کی گئی؟ آج تک قائد حز ب اختلاف اور ذمہ دارانِ وفاق صدر سے ملاقات کرکے مقدمات کی واپسی، مولانا کی بحالی، جامعہ حفصہ کی تعمیر نو کے حوالے سے گفتگو کرتے۔ کیا ان کی ملاقات پر پابندی تھی؟

۹۔ لاپتہ طالبات اور طلبہ کے بارے میں وفاق اور قائد جمعیت نے کیا کردار ادا کیا؟

۱۰۔ ۱۸؍اگست کو راقم الحروف پندرہ علما کے ساتھ مولانا عبدالعزیز سے وزیرداخلہ کے توسط سے سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس میں ملا۔ مولانا عبدالعزیز کا یہ کہنا تھا کہ اخراج کے باوجود ہم وفاق کے علما کااحترام کرتے ہیں اور میں صرف یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جس مقصد کے لیے دینی ادارے قائم کیے گئے ہیں، ان مقاصد کو بروئے کار لایا جائے اور منکرات کے سدباب کے لیے علما اٹھ کھڑے ہوں۔

۱۱۔ میں آپ پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حافظ حسین احمد آف مردان اور زاہد قاسمی صاحب نے جب وزیر داخلہ کے سامنے وفاق کے ذمہ داران کے کردار کا ذکر کیا تو فقیر نے فوری مداخلت کی اور وزیر داخلہ سے مندرجہ ذیل گفتگوکی:

جناب وزیر داخلہ! وفاق ہمارا گھر ہے، ہم اپنے شکوے اپنوں سے اپنے گھر میں بیٹھ کر کریں گے، نہ ہم آپ کوقائد سمجھتے ہیں نہ تھانیدار۔ ہم صرف اس لیے آئے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں حکومت اور فوج جیسے عظیم اور ملک کے دفاعی ادارے کے خلاف عوام الناس، علما اور طلبا کے دلوں میں نفرت کا جو طوفان ہے، اسے کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟ آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ آپ ہی بتائیے۔ میں نے عرض کیا کہ اس عظیم حادثے کاواحد مرہم یہ ہے کہ :

۱۔ صدر مملکت مولانا عبدالعزیز، ان کے اہل خانہ اور شہید طلبا وطالبات کو اہل خانہ سمیت سی این سی ہاؤس میں بلائیں، اظہار افسوس کریں، تعزیت کریں، ان کے سر پر دست شفقت رکھیں۔

۲۔ مولانا کو مسجد کی خطابت پر بحال کریں، جامعہ حفصہ کی تعمیر نو کریں۔

۳۔ دینی مدارس کی خدمات کے حوالے سے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کریں۔

۴۔ اس آپریشن میں شہید ہونے والوں کے لیے تعزیت کریں اور فاتحہ خوانی کریں۔

۵۔ ملک سے بے حیائی اور مغربی کلچر کے خاتمے اور اسلامی طرز حیات کے لیے دستور پاکستان میں موجود دفعات پر عمل درآمد کرائیں۔

۶۔ علما کی تذلیل وتحقیر اور مدارس کے خلاف خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کو بند کریں۔

۷۔ علماے کرام کا کنونشن بلائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ آئندہ مدارس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوگی۔

۸۔ شہید مساجد کو تعمیر کریں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو فوج، حکومت، عوام اور مذہبی طبقات کے تصادم کا ایسا سلسلہ چل نکلے گا جسے نہ فوج روک سکتی ہے نہ سیاست دان۔

اس گفتگو کے بعد ہمیں سرکاری گاڑی میں مولانا کی ملاقات کے لیے سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس لے جایا گیا جہاں مولانا تمام علما سے گلے ملے، شہدا کے لیے دعا مانگی گئی۔ مولانا کے ساتھ حافظ حسین احمد صاحب نے وفاق کے گلے شکوے شروع کیے جس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ سب ہمارے بزرگ ہیں، بس آپ سب لوگ میری بحالی، جامعہ حفصہ کی تعمیر نو اور اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کریں، یہی ہماری قربانیوں کا صلہ ہے۔ انہوں نے آئی جی، کمشنر اور کمانڈوز کے سامنے علما سے فرمایا کہ یہ پہلا وفد ہے جو مجھ سے ملنے آیا ہے۔ وفاق نے یا قائد جمعیت نے اور علماے اسلام آباد نے حادثے کے بعد ہمیں اچھوت سمجھ کر ملاقات تک نہیں کی۔ ان حضرات نے اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اظہارتعزیت کے لیے آجاتے۔ اب توآپریشن نہیں ہو رہا۔

جناب صدر وفا ق! کیا وفاق، چیف جسٹس کی حمایت میں اٹھنے والے وکلا کی جدوجہد کے دسویں حصے جتنی جدوجہد کے قابل بھی نہ تھا؟ کسی کو حکومتی ایجنٹ کہنے سے وفاق اپنی کاہلی اور نااہلی پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ اگراس طرح کے طعنے اپنوں کو دیے جانے لگے تو پھر وہ تحریر اخبارات کی زینت بن سکتی ہے جو وزارت داخلہ میں آپ کے، مولانا حنیف جالندھری، حسن جان صاحب، قاضی عبد الرشید صاحب اور انوارالحق صاحب کے دستخطوں کے ساتھ موجود ہے، جس میں لکھ کر دیا گیا ہے کہ ہمارا ان دونوں بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں اور ہم ان کے اعمال کی مذمت کرتے ہیں۔

جناب شیخ! راقم نہ پہلے کسی ایکشن کمیٹی کا ممبر تھا، نہ اب ہے۔ نہ کبھی حکومت کی ایجنٹی کی ہے، نہ ایسا سوچ سکتا ہے، لیکن آپ تک اپنے اور اپنے عوام کے جذبات پہنچانا میرا اخلاقی، مذہبی، منصبی فریضہ ہے۔

حضرت الشیخ! ’ربما صرع الاسود الثعلب‘، کبھی لومڑیاں شیروں کو شکست دے دیتی ہیں۔ حیا اور اخلاق اگرہمارے علما کے دلوں سے رخصت نہیں ہو گیا تومولاناکی رہائی، مقدمات کے اخراجات، ا ن کی رہائش، گمشدہ طالبات کی بازیابی، ان کی والدہ کی لاش کی سپردگی جیسے معاملات پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تلخ نوائی معاف۔

خاک پائے اکابر

قاضی محمد رویس خان ایوبی 

سابق ضلع مفتی میرپور 

خطیب مسجد اقصیٰ میر پور، آزادکشمیر

مکاتیب