مکاتیب

ادارہ

(۱)

واجب الاحترام جناب مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

دین کا ایک طالب علم ہونے کے ناتے آپ کا عمدہ اور معیاری رسالہ زیر مطالعہ رہتا ہے۔ اس وقت میں فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں شائع ہونے والے حافظ محمد زبیر صاحب کے مضمون: ’’غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ ان پر غور فرمائیں گے۔ 

میری پہلی شکایت تو آپ سے ہے کہ آپ نے اپنے رسالے میں مذکورہ مضمون کو کیسے جگہ دے دی جبکہ مذکورہ مضمون،کم از کم میری ناقص رائے میں، نہ آپ کے رسالے کے معیار پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی تنقید کے علمی، اخلاقی اور دینی تقاضے پورا کرتا ہے۔ ایسا مضمون آخر کیوں آپ کے رسالے میں جگہ پاگیا جس میں واشگاف الفاظ میں دوسروں کی نیتوں پر حملہ کیا گیا ہے، جبکہ آپ بھی یہ تسلیم کریں گے کہ نیتوں کا علم تو صرف اور صرف رب کائنات ہی کو ہو سکتا ہے؟ ذرا اس جملے کو دوبارہ پڑھیے جس پر صاحب مضمون نے اپنے مضمون کا اختتام کیا ہے:

’’تعجب ہے اس انداز فکر پر! جب چاہتے ہیں اپنے مزعومہ افکار کی تائید کے لیے اصول وضع کر لیتے ہیں اور اپنی خواہش نفس کی تکمیل کے لیے جب چاہتے ہیں، اپنے ہی وضع کر دہ اصولوں کی بھی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔‘‘ (ص۴۳)

مجھے دوسری شکایت خود صاحب مضمون سے ہے۔ غامدی صاحب پرحافظ صاحب ایک چھوڑ، دس تنقیدیں کریں، لیکن تنقید میں علمی، اخلاقی اور دینی اصولوں کو پیش نظر رکھنا ان کا دینی فریضہ بنتا ہے۔ ان کے مضمون میں دینی اصولوں کو پیش نظر نہ رکھنے کی مثال میں اوپر دے چکا ہوں، جبکہ علمی و تحقیقی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی مثالیں پیش خدمت ہیں:

حافظ صاحب نے غامدی صاحب کے مآخذ دین کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’غامدی صاحب کے مآخذ دین، علی الترتیب، درج ذیل ہیں:
۱۔ دین فطرت کے بنیادی حقائق
۲۔ سنت ابراہیمی
۳۔نبیوں کے صحائف
۴۔ قرآن مجید‘‘ (ص۳۳)

یہ بات بغیر کسی حوالے کے درج کر دی گئی ہے اور اس میں دو بنیادی علمی غلطیاں پائی جاتی ہیں:

صاحب مضمون نے پہلی غلطی تو غامدی صاحب کے مآخذ دین شمار کرنے میں کی ہے۔ محترم غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’اصول و مبادی‘‘ کے ابتدائی تین صفحات (۹ تا ۱۱) میں اپنے مآخذ دین خود بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے مآخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا ہے اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے:
۱۔ قرآن مجید
۲۔ سنت‘‘ (ص ۹)

ان کی دوسری غلطی ’’ترتیب‘‘ کی غلط بیانی ہے۔ غامدی صاحب کے ہاں تو قرآن مجید پہلے نمبر پر ہے اور اسے پہلے نمبر پر ہی ہونا چاہیے، جبکہ حافظ صاحب کی ترتیب میں بے چارہ قرآن چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ محض ترتیب کی گڑ بڑ سے غلطی ہائے مضامین کا ایک پہاڑ کھڑا ہو سکتا ہے۔

حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’غامدی صاحب کے اصل اصول یہی چار ہیں، جبکہ ان چار کے علاوہ بھی غامدی صاحب کے کچھ اصول ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر غامدی صاحب استدلال کرتے ہیں، لیکن ان کو مستقل ماخذ دین نہیں سمجھتے۔ یہ اصول درج ذیل ہیں:
۵۔ حدیث
۶۔ اجماع
۷۔ امین احسن اصلاحی جنھیں وہ امام کہتے ہیں۔‘‘ (ص ۳۳)

غامدی صاحب کے حوالے سے حافظ صاحب کے اس فہم پر صرف ’’انا للہ‘‘ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ ’اصول و مبادی‘ کا جو حوالہ میں نے اوپر نقل کیا ہے، اس سے یہ بات ایک عام قاری بھی اخذ کر سکتا ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین صرف اور صرف دو ہیں، چار یا سات نہیں، جبکہ اجماع ان کے ہاں دین کی منتقلی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی طرح حدیث کے حوالے سے بھی غامدی صاحب کا موقف واشگاف الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے، نہ اسے دین قرار دیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارِ آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ 
اس دائرے کے اندر، البتہ اس کی حجت ہر اس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس سے انحراف پھر اس کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اس میں بیان کیا گیا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ۔‘‘ (ص۱۱)

کیا غامدی صاحب کے مذکورہ بیان سے وہ نتیجہ نکلتا ہے یا کھینچ تان کر نکالا جا سکتا ہے جو حافظ صاحب نے بیان کیا ہے کہ ’’ان چار کے علاوہ بھی غامدی صاحب کے کچھ اصول ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر غامدی صاحب استدلال کرتے ہیں‘‘ اور ان میں ایک ’بے چاری ‘ حدیث بھی ہے؟ حافظ صاحب، خدارا! کچھ تو خوفِ خدا کیجیے اور خدا کی بارگاہ میں جواب دہی کا کچھ تو احساس کیجیے۔ کسی کی واشگاف الفاظ میں لکھی ہوئی رائے کو اپنے الفاظ میں سموتے ہوئے آپ کو ذرا خیال نہ آیا؟ ان کی رائے آپ کے نزدیک درست ہے یا غلط، اس پر بحث کرتے رہیے، لیکن خدارا ! پہلے ان کی بات کو تو باحوالہ اور درست نقل کیجیے اور پھر اس پر جتنی چاہے، تنقید کیجیے۔ 

حافظ صاحب کی ایک بڑی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ایسی آرا کی نسبت بھی بلاتحقیق غامدی صاحب کی طرف کر رہے ہیں جو انھوں نے خود بیا ن نہیں کیں۔ مثلاً ص ۳۷ پر انھوں نے بعض آرا کا ذمہ دار اس بنیاد پر غامدی صاحب کو ٹھہرایا ہے کہ یہ المورد کی سرکاری ویب سائٹ (www.urdu.understanding-islam.org) پر جاری کی گئی ہیں، جبکہ صحیح صورتحال یہ ہے کہ مذکورہ ویب سائٹ جناب معز امجد صاحب کی نگرانی میں کام کر رہی ہے اور اس میں درج آرا کے ذمہ دار بھی معز امجد صاحب ہیں۔ المورد سے وابستہ اہل علم نہ غامدی صاحب کی تمام آرا کے پابند ہیں اور نہ ان کی بیان کردہ آرا لازماً غامدی صاحب کے نقطہ نظر کی ترجمان ہوتی ہیں۔

مجھے قوی امید ہے کہ حافظ صاحب اپنی آئندہ تنقیدات میں محتاط رویہ اپنائیں گے۔

حافظ محمد ابراہیم شیخ

A3 -۱۷۳، PGECHS، لاہور

(۲)

مکرم ومحترم مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بلا استحقاق چند ماہ سے ’الشریعہ‘ باصرہ نواز ہو رہا ہے۔ عزیزم مولوی محمد عمار خان ناصر کی محنت دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ ہمارے مذہبی حلقے میں غالباً آپ پہلے فرد ہیں جنھیں علمی وفکری مسائل پر بحث ومکالمہ کا ایک آزاد فورم قائم کرنے کی توفیق ہوئی ہے۔ بے شمار احباب کے تحفظات بلکہ اعتراضات کے باوجود ناچیز محسوس کرتا ہے کہ اس قسم کے فورم کی بہرحال ضرورت تھی۔ مخالفانہ نقطہ نظر کو یکسر رد کر دینا اور اپنے مبلغ علم ہی کو قطعیت کا درجہ دینا ان اہل نظر کو زیب نہیں دیتا جو فکر ولی اللٰہی کے وارث ہیں۔ دلیل کا جواب دلیل ہی سے دینا چاہیے، لٹھ ماری سے نہیں۔ آپ کو لکھنے والے بھی خوب میسر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولوی ناصر صاحب کے شباب اور آپ کی شیخوخت کو نظر بد سے بچائے اور امت کو خوب مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

(مولانا) محمد اسلم شیخوپوری

جامع مسجد توابین، سیکٹر ۶

گلشن معمار، کراچی

(۳)

مکرمی مدیر ’الشریعہ‘ 

السلام علیکم

تازہ ترین پرچہ کل ۲ فروری کی دوپہر موصول ہوا اور دو نشاط بخش نشستوں میں حرف حرف دیکھنے کی سعادت میسر آئی۔ ساری تحریریں ہی پربہار اور عطر بیز ہیں۔

دامانِ نگہ تنگ وگل حسن تو بسیار
گل چینِ بہار تو ز داماں گلہ دارد

مگر فکری غذا ’’روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں جوہری فرق‘‘ ، ’’سید حسین احمد مدنی اور تجدد پسندی‘‘ اور ’’غامدی صاحب کے تصور فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ نے بہم پہنچائی۔ تنقیدی جائزہ پڑھ کر بے ساختہ کہہ اٹھی:

خامۂ آزادگاں جو کچھ لکھے، آزاد ہے
ملک ناپرساں میں کوئی پوچھنے والا نہیں

اخویم حافظ محمد زبیر صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی ناقدانہ نگارشات گاہے بگاہے ’الشریعہ‘ کے اوراق میں باصرہ نواز ہوتی رہتی ہیں۔ آں محترم سے نیازمندانہ گزارش ہے کہ بلاغ مبین کے لیے تکمیل وتصحیح کے بعد ان ابحاث کو جلد از جلد نذر ناظرین کرنا چاہیے۔ مع ہذا ’المورد‘ کے کاتبین کرام سے بھی عاجزانہ عرض ہے کہ اتنے سنگین الزامات کے بعد ’’جواب ناقداں باشد خموشی‘‘ پر عمل مناسب نہیں۔ رہے سیدنا حسین احمد قرشی مدنی رحمہ اللہ اور علم دار حسین، شاہ انعام الرحمن لدھیانوی سلمہ کے افادات طیبات تو ’الشریعہ‘ کے ناشر ومدیر اور مجلس ادارت کے اعیان روشن ضمیر، سب کے لیے ایسا پرکار ومایہ دار تجزیہ پیش کرنے پر اعماق قلب سے دعاگو ہوں۔

بر آناں رب ما رحمت فشاند
شمیم از قعر وعمق دل بخواند

ایک ہندو زادہ سائیں حافظ محب رسول محدث کروڑی علیہ الرحمۃ والرضوان (فاضل دیوبند) کی تیسری پشت میں اس ’خدا کی بندی‘ کا وجود بھی ہندو مسلم میل جول کے حاصلات پر شاہد عدل ہے۔ یوم یک جہتئ کشمیر مناتے ہوئے یاد رکھیے، اس وقت قضیہ کشمیر کا پرامن تصفیہ برصغیر میں ’احیاے دعوت‘ کی شاہ کلید ہے۔

کلمہ حق میں مولانا حافظ محمد عبد المتین خان زاہد مدظلہم رقم طراز ہیں: ’’دوسری صورت نکاح موقت کی تھی جس میں کوئی مرد اور عورت مناسب معاوضے پر ایک مقررہ وقت کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے تھے اور مدت گزر جانے کے بعد ان کا یہ نکاح متعہ ختم ہو جایا کرتا تھا۔ اسے اسلام نے ناجائز قرار دے دیا اور اب اس کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

اگر یہ بات صحیح ہے اور یقیناًصحیح ہے تو ورلڈ اسلامک فورم، تنظیم اسلامی، مجلس تحفظ حدود اللہ اور متحدہ مجلس عمل کے ایجنڈے پر سرزمین پاک میں ’متعہ اجازت ناموں‘ کی منسوخی سرفہرست ہونی چاہیے۔ گر یہ نہیں تو بابا ’باقی‘ کہانیاں ہیں۔

شمیم فاطمہ تبسم

الزہرا۔ چاہ عمر۔ کروڑ لعل عیسن

(۴)

محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید، خواہش اور دعا ہے کہ ایمان وصحت کی بہترین حالت میں ہوں۔

روایتی مدارس کے حاملین کے ہاتھوں جب ’الشریعہ‘ جیسا آزادئ فکر کا حامل اور تعصب سے پاک رسالہ نکلتے دیکھتا ہوں تو بے حد تعجب ہوتا ہے۔ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو حق کو صرف اپنے مسلک، جماعت یا مدرسے میں منحصر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کی بات یا دلیل کو ماننا تو دور، سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، اور دوسری طرف آپ جو اپنے رسالے میں بلا تبصرہ چھاپنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

میاں انعام الرحمن صاحب کے مضمون ’’قدامت پسندوں کا تصور اجتہاد‘‘ پر مثبت طور پر غور کرنا چاہیے۔ انداز اگرچہ جارحانہ ہے لیکن فکری جمود کو توڑنے کے لیے شاید جارحیت کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ محترم زاہد الراشدی کا جوابی مضمون ان کی دلیل توڑنے کے لیے کافی نہیں۔ سیکڑوں سال پرانی باتوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بہتر تھا کہ آج کے تجدد پسندوں پر علمی انداز میں حملہ کیا جاتا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب بھی اکبر کے دور کا تجدد چاہتے ہیں تو حوالہ دے کر ثابت کیا جاتا۔ اس میں شک نہیں کہ آج کے دور کے متجددین، دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس بہانے سے اجتہاد کا جائز دروازہ بھی بند نہ کرنا چاہیے، نہ ایسی کڑی شرائط لگانی چاہییں کہ اجتہاد کے دروازے کو تو کھلا سمجھا جائے، لیکن عملاً کسی کو مجتہد ماننے سے انکار کیا جائے۔

میرے خیال میں رئیس التحریر کے کالم کا نام ’’کلمہ حق‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ کلمہ حق سے تو کسی مسلمان کو اختلاف نہ ہونا چاہیے۔ ہر محقق اپنے خیال میں حق ہی لکھتا ہے، لیکن اس کو ایسا دعویٰ نہ کرنا چاہیے، کیونکہ یقینی طور پر حق تو صرف اللہ اور رسول کے اقوال ہیں۔ انسان تو غلطی بھی کر سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کو استقامت نصیب فرمائے اور دیگر دینی اداروں کو بھی آپ کی تقلید کی توفیق عطا فرمائے تاکہ سب لوگ جو دین کی کسی بھی نوعیت کی خدمت سے وابستہ ہوں، ایک دوسرے کی مخالفت کے بجائے ایک دوسرے کی قدر کریں اور تعاون کریں۔ نیکی میں تعاون ہی دین داروں کا شیوہ ہے۔ مخالفت تو زرپرست دکاندار ایک دوسرے کی کرتے ہیں کیونکہ وہاں ایک کا منافع دوسرے کا نقصان شمار ہوتا ہے۔

نصیر خان

طالب علم پی ایچ ڈی

کلیہ معارف اسلامیہ، جامعہ کراچی

مکاتیب