اسلام کے نام پر انتہا پسندی کا افسوس ناک رجحان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کم وبیش ایک ماہ قبل اسلام آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے مسجد امیر حمزہؓ نامی ایک چھوٹی سی مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر شہید کر دیا اور ایک دوسری مسجد کی شہادت کی کارروائی بھی شروع کی جبکہ بعض دیگر مساجد کو مسمار کرنے کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ اس پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماے کرام نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ مسجد گرائے جانے کے دوسرے روز سیکڑوں علماے کرام مسجد امیر حمزہؓ کے ملبہ پرجمع ہو گئے، وہاں ملبے پر نماز باجماعت ادا کی اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے آپس میں چندہ کر کے اس کی تعمیر نو کا اعلان کر دیا۔ ان علماے کرام کا موقف یہ تھا کہ مسجد قدیم دور سے چلی آ رہی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے بارے میں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا موقف درست نہیں ہے، اس لیے شرعاً اس مسجد کی اسی جگہ دوبارہ تعمیر ضروری ہے، چنانچہ انھوں نے سی ڈی اے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔ 

اس پر سی ڈی اے اور علماے کرام کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، مگر اس دوران میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے قائم کردہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے ساتھ واقع ایک سرکاری لائبریری پر، جو بچوں کے لیے ایک عرصہ سے قائم ہے، قبضہ کر لیا اور مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے فرزند اور جامعہ حفصہ کے مہتمم مولانا عبد العزیز کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ قبضہ احتجاجی طور پر کیا گیا ہے اور جب تک گرائی جانے والی مسجد دوبارہ تعمیر نہیں کی جاتی اور جن دیگر مساجد کو گرانے کے نوٹس دیے گئے ہیں، وہ نوٹس واپس نہیں لیے جاتے، چلڈرن لائبریری کا قبضہ واگزار نہیں کیا جائے گا۔ نوجوان باپردہ طالبات کی ڈنڈا بردار فورس نے لائبریری کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے آمد ورفت کے لیے بند کر دیا۔ اس پر حکومتی حلقے اور اعلیٰ انتظامی افسران بھی حرکت میں آئے اور بظاہر یہ صورت نظر آنے لگی کہ حکومت بہرحال اس قبضہ کو ختم کرانے کے لیے اقدام کرے گی، جبکہ اس کی مزاحمت طالبات کی طرف سے ہوگی جو ہزاروں کی تعداد میں جامعہ حفصہؓ کے ہاسٹل میں موجود ہیں اور اس طرح تصادم کی ایک افسوس ناک صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ طالبات کی طرف سے اپنے مطالبات میں اسلامی نظام کے مکمل اور فوری نفاذ کو شامل کرنے سے اس تحریک کو ملک گیر شکل مل گئی۔ مولانا عبد العزیز کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں سے دینی مدارس کے طلبہ اور دینی کارکنوں نے مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کا رخ کرنا شروع کیا اور ہزاروں افراد وہاں جمع ہو گئے۔

جہاں تک اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کے بارے میں جامعہ حفصہ کی طالبات کے موقف کا تعلق ہے اور اسلامی نظام کے مطالبہ کی بات ہے، اس سے ملک بھر کے دینی حلقوں نے اصولی طور پر اتفاق کا اظہار کیا، لیکن وفاقی دار الحکومت میں سرکاری فورسز کے ساتھ دینی کارکنوں، طلبہ اور بالخصوص طالبات کے تصادم کے جو امکانات واضح نظر آنے لگے تھے، ان سے ملک بھر میں پریشانی اور اضطراب کا پیدا ہونا بھی ایک فطری امر تھا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماے کرام نے حکومتی حلقوں سے مذاکرات کے ذریعے سے اس مسئلہ کو حل کرانے کی مقدور بھر کوشش کی اور مساجد کی حد تک حکومت سے اپنا موقف منوانے میں وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ اس دوران میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت اسلام آباد آئی اور مولانا سلیم اللہ خان، مولانا حسن جان، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا قاری سعید الرحمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ اور مولانا انوار الحق حقانی سمیت سرکردہ علماے کرام نے اس مسئلہ کو حل کرانے میں سرگرم کردار ادا کیا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسئلہ کے حل میں یہ رکاوٹ موجود رہی جو تا دم تحریر موجود ہے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے دوسرے مطالبات کی منظوری تک، جن میں اسلامی نظام کا مکمل اور فوری نفاذ سرفہرست ہے، سرکاری لائبریری کا قبضہ واگزار کرنے سے انکار کر دیا اور مولانا عبد العزیز اس بات پر مصر چلے آ رہے ہیں کہ ملک میں مکمل شرعی نظام کے نفاذ تک وہ اس ماحول کو ختم نہیں کریں گے جسے سنجیدہ حلقے سرکاری فورسز کے ساتھ دینی کارکنوں اور طالبات کے تصادم کے شدید خطرے کا باعث سمجھ رہے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ باشعور دینی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ 

اسی دوران میں یہ واقعہ بھی رونما ہوا کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر محترمہ ظل ہما عثمان کو قتل کر دیا گیا۔ ان کو قتل کرنے والا شخص پکڑا گیا ہے اور اس نے برملا یہ کہا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اس لیے قتل کیا ہے کہ وہ عورت کی حکمرانی کو جائز نہیں سمجھتا اور اس طرح بے پردہ پھرنے کو پسند نہیں کرتا، اس لیے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس سے اسلام آباد کے حالات سے ذہن میں پیدا ہونے والی تشویش دوچند ہو گئی ہے کہ اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے ملک کے اندر اس طرح تصادم کا ماحول پیدا کرنے اور قوت کے استعمال کا رجحان ہمارے ہاں کیا کیا گل کھلا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس ملک اور قوم کی حفاظت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

یہ شخص اس سے قبل بدکاری کے الزام میں کئی عورتوں کو قتل کر چکا ہے اور اس کا اعلان ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح بے پردہ عورتوں کو قتل کرتا رہے گا۔ اس طرز عمل کو جنون اور نفسیاتی مرض کے سوا کسی اور عنوان سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی طرح بھی اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ کوئی شخص شریعت کے خلاف ہونے والے کسی عمل پر خود فیصلہ کرنے بیٹھ جائے اور ہتھیار اٹھا کر لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو عین بدکاری کی حالت میں دیکھے تو کیا وہ اسے قتل نہیں کرے گا؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور قانون کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔

بہرحال اسلام آباد میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سرکاری فورسز کے ساتھ تصادم کا ماحول ہو یا گوجرانوالہ میں بے پردگی کے عنوان سے خاتون صوبائی وزیر کے قتل کا افسوس ناک سانحہ ہو، اس انتہا پسندی پر افسوس کا اظہار ضروری ہے اور اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب نفاذ اسلام کے تمام دستوری راستے بند کر دیے گئے ہوں اور پیش رفت کے بجائے ’’ریورس گیئر‘‘ کا ماحول قائم کر دیا گیا ہو اور مغربی ثقافت کے فروغ کے لیے تمام ریاستی وسائل استعمال ہو رہے ہوں، وہاں اس قسم کی افسوس ناک انتہا پسندی کو جنم لینے سے آخر روکا بھی کیسے جا سکتا ہے؟

(۲۲ فروری)

حالات و واقعات