مغربی بنگال کے دینی مدارس اور غیر مسلم طلبہ

ادارہ

کلکتہ۔ حالیہ سالوں میں بھارت میں مذہبی مدارس کو عام طور پر شک وشبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ طلبہ کو فرسودہ مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان مذہبی اداروں میں دہشت گردی کے نظریہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کے باوجود مغربی بنگال کے مدارس نہ صرف ترقی کر رہے ہیں بلکہ ان میں تعلیم پانے والے ہندو طلبہ اور طالبات کی تعداد بھی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ 

عالیہ مدارس (جو ہائی اسکول کے مساوی ہیں) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ان میں ہر چوتھا طالب علم غیر مسلم ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً طلبہ کی کل تعداد کا بیس فی صد حصہ غیر مسلموں کا ہے۔ ۲۰۰۷ میں ختم ہونے والے تعلیمی سال میں عالیہ مدارس کے امتحانات میں غیر مسلم طلبہ کا تناسب ۲۸ فی صد تھا۔ ضلع نارتا ناجا پور کے قصبہ موہاسو کے عالیہ مدرسہ میں مسلمان طلبہ اقلیت میں ہیں کیونکہ اس مدرسے کے تقریباً ساٹھ فی صد طلبہ غیر مسلم ہیں۔ 

بورڈ کے امتحانات میں مدارس کے طلبہ کی اچھی کارکردگی اور طب، انجینئرنگ اور ایم بی اے کے داخلہ امتحانات میں ان طلبہ کی کامیابی بھی مدارس کے بارے میں غیر مسلم طلبہ کے بدلتے ہوئے خیالات کا ایک سبب بنی ہے کیونکہ ان مدارس میں اسلامی علوم اور عربی کی بنیادی تعلیم کے علاوہ تمام جدید مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ امتحانات مغربی بنگال مدرسہ بورڈ کے تحت دلوائے جاتے ہیں اور ان مدارس میں دی جانے والی سندیں منظور شدہ ہیں اور مغربی بنگال کے ثانوی بورڈ کی سندوں کے مساوی تسلیم کی جاتی ہیں۔ 

مغربی بنگال کے وزیر مملکت برائے مدرسہ تعلیم عبد الستار کا کہنا ہے کہ ہمارے طلبہ اپنے آپ کو ہر میدان میں کسی بھی مین اسٹریم اسکول کے طلبہ کے برابر ثابت کر رہے ہیں۔ وہ ہر سال نئی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ عبد الستار نے مزید کہا کہ مدارس کا جدید نصاب بڑی تعداد میں غیر مسلم طلبہ کو ان اداروں میں کھینچ کر لانے کا سبب ہے اور برہمن، پس ماندہ طبقات اور دلیت اور مسیحی اور قبائلی طلبہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں تعلیم بالکل مفت ہے۔ مزید برآں دلیت اور قبائلی طلبہ کو مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

مدارس کے ہندو طلبہ کو مسلم طلبہ کے ساتھ قریبی ربط کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے جس سے دونوں کمیونیٹیوں کے مابین خلیج کو پاٹنے میں بہت مدد ملی ہے۔ عزیزہ مدرسہ عالیہ کے سناندا کھویا کا کہنا ہے کہ اس کے ذہن میں اسلام کی سابقہ تصویر یہ تھی کہ یہ ایک جنونی اور شدت پسند مذہب ہے، لیکن ا س مدرسے میں آنے کے بعد اسے معلوم ہوا ہے کہ اسلام کا شدت پسندی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور اسلامی تعلیمات میں تعصب اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں۔ اسی طرح سنجے موہاپترا، جس نے امتیازی حیثیت سے عالیہ مدرسہ کا امتحان پاس کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ’’میری برادری کے کچھ لوگ مجھ پر سخت تنقید اور لعن طعن کرتے رہتے تھے لیکن اس امتحان میں میری کامیابی کے بعد مدارس کے بارے میں ان کے خیالات میں تبدیلی آ گئی ہے۔‘‘ ہندو طالبات جیسے موہانا مکھرجی، مینا کشی منڈل، شیاملی وغیرہ کہتی ہیں کہ انھیں ان مدارس میں کبھی کسی قسم کے تعصب یا امتیازی رویے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مکھرجی کا کہنا ہے کہ مدرسے اور کلاس میں اس کی برادری سے تعلق رکھنے والے تمام ساتھیوں کے خیالات میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں بہت مثبت تبدیلی آئی ہے اور انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

(ملی گزٹ دہلی، ۱۶ تا ۳۰ نومبر ۲۰۰۷)

حالات و واقعات

Flag Counter