جامعہ حفصہ کا سانحہ ۔ کچھ پس پردہ حقائق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس دفعہ ادارتی صفحات میں ہم ایک خاتون کا خط شائع کر رہے ہیں جو حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ کے نام ہے۔ اس میں جامعہ حفصہ کے الم ناک سانحہ کے بارے میں جامعہ کی طالبات ہی کے حوالے سے کچھ پس پردہ حقائق کا انکشاف کیا گیا ہے اور بہت سے توجہ طلب امور کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر علمی ودینی حلقوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

ہماری رائے میں افغانستان سے روسی استعمار کے انخلا کے بعد سے ہی پاکستان کے ان ہزاروں نوجوانوں کی فہرستوں کی تیاری اور ان کی درجہ بندی شروع ہو گئی تھی جنھوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ٹریننگ حاصل کی تھی۔ اسی وقت سے یہ حکمت عملی بھی طے کر لی گئی تھی کہ مرحلہ وار مختلف علاقوں میں ان مجاہدین کو کسی نہ کسی طرح اشتعال دلا کر سامنے لایا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ یہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں اور پھر فوجی آپریشن کے ذریعے ان کی قوت کو ختم کر دیا جائے۔ وزیرستان، اسلام آباد اور سوات کے آپریشن اسی حکمت عملی کاحصہ ہیں اور ملک کے بہت سے دیگر حصوں میں بھی اس قسم کی کارروائیوں کی راہ ہموار کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

غزوۂ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہم کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولید نے ازخود آگے بڑھ کر مسلمان فوج کی کمان سنبھال لی تھی اور بڑی حکمت عملی کے ساتھ اسے دشمن کے نرغے سے بحفاظت نکال کر واپس لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انھیں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر ’’سیف من سیوف اللہ‘‘ کاخطاب دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ مخواہ دشمن سے بھڑ جانے اور اپنی قوت کو ضائع کرتے چلے جانے کی بجائے اپنی قوت کو مشکل وقت میں بچا لینے کی حکمت عملی اختیار کرنا بھی بہادری اورشجاعت کہلاتا ہے۔ اے کاش ہمارے عسکری حلقے اس پہلو پر غور کر سکیں اور جوش وجذبہ کے ساتھ ساتھ حکمت وتدبر کے تقاضوں کا بھی احساس کر لیں۔

بہرحال ایک محترم خاتون کا یہ فکر انگیز خط ملاحظہ فرمائیے اور اس بات کا جائزہ لیجیے کہ ہم اس خط میں اٹھائے گئے نکات کے حوالے سے ہم اپنے اپنے دائرے میں عملی طور پر کیا کر سکتے ہیں۔ 

رئیس التحریر


بسم اللہ الرحمن الرحیم 

بخدمت اقدس گرامی قدر حضرت مفتی صاحب ،دامت برکاتکم العالیہ 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
اس ماہ البلاغ میں جامعہ حفصہ سے متعلق آپ کا مضمون پڑھا ،اس سلسلہ میں چند مزید باتیں آپ کے علم میں لاناچاہتی ہوں۔ یہ باتیں میر اعینی مشاہدہ تونہیں مگرجامعہ حفصہ سے آنی والی طالبات کی بیان کردہ ہیں۔
  • جامعہ حفصہ گزشتہ کئی سال سے انٹرنیشنل شہر میں دینی تہذیب کا داعی تھا اورہزاروں کی تعداد میں باپردہ طالبات کا آناجانا اوراسلام آباد کے ماڈرن گھرانوں کی عورتوں اورلڑکیوں کااس کی طرف میلان ،روشن خیال طبقہ اورامریکہ کو برداشت نہ تھا ۔ اس لیے گزشتہ دوسال سے جامعہ کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی تھی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دین کاکام کرنے کے لیے دینی احکام کوپامال کرنا یامشورہ اورصحیح حکمت عملی ،نیز طویل منصوبہ بندی نہ کرناسخت نقصان کا باعث ہے ۔دینی تاریخ میں اس کی مثالیں موجودہیں ،مگر ہم ان سے سبق حاصل نہیں کرتے اورنہ تاریخ کامضمون اس نقطہ نظر سے درس نظامی میں شامل ہے جس کی وجہ سے اس کی طرف توجہ بہت کم ہوتی ہے۔
    مولانا عبداللہ صاحب کے طالبا ن کے ساتھ براہ راست مراسم تھے اوروہ انقلابی ذہن کے حامل تھے ،ان کی شہادت کے بعد برادران میں شدت آنا فطری عمل تھا ،خصوصاًجب مظلوم کو عدالت سے انصاف نہ ملے اورنہ اس کی بات سنی جائے۔ چنانچہ جامعہ حفصہ کو ختم کرنے کے لیے ان کی سوچ میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے مزید شدت پید اکی گئی تاکہ وہ ایسا اقدام کریں جس سے قانونی گرفت میں آسکیں اورآپریشن کاجواز پیداکیاجاسکے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سات اعلیٰ تعلیم یافتہ جن میں بعض اعلیٰ افسران کی بیویاں بھی تھیں ان کو تربیت دی گئی ،جہاد کی آیات واحادیث ،طاغوتی نظام کے خلاف جان دے دینے کے جذبات پر مشتمل اشعار، تاریخ میں اصحاب عزیمت کے واقعات ،پرجوش تقاریر ،اورذہن سازی کی تربیت دی گئی۔ پھر ان خواتین نے جامعہ حفصہ میں آ ناشروع کیا۔ ام حسان اورغازی برادران سے تعلقات مضبوط کیے۔ جامعہ میں تعلیم لینا شروع کی اورطالبات میں جواعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، ان کی ذہن سازی شروع کی، فحاشی اور عریانی کے خلاف طاقت کا استعمال ،اسلامی نظام کے لیے عملی جہاد کا ذہن بنایا۔ اس محنت کے نتیجے میں۷۰طالبات جن میں لیڈر شپ کی کوالٹی تھی تیارہوگئیں۔ان طالبات میں بھی بعض طالبات کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ خفیہ ایجنسی کی تربیت یافتہ ہیں۔ ان کی پرجوش تقاریر سے ا نقلابی سوچ اورجہادی جذبہ اس قدر عروج پرتھا کہ معاملہ ا ب غازی برادران کے بس میں بھی نہ تھا ،اورخلاف قانون اقدام ہوناشروع ہوئے اورآپریشن لمباکرنے کے حکمتوں میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ آخری لمحات تک یہ نمائندہ خواتین جامعہ میں رہیں تاکہ جذبا ت میں کمی نہ آنے پائے ،چنانچہ آہستہ آہستہ ان خواتین کوبحفاظت باہر لایا گیا اورمنظر سے غائب کردیاگیا۔ ان خواتین کے صحیح ایڈریس شاید اب ام حسان کو بھی معلوم نہ ہوں کیوں کہ اپنے تعارف کے متعلق جومعلومات دیں، وہ سب غلط تھیں۔
  • بعض وزرا جو علماسے دوستی کے رنگ میں منافقت کررہے تھے اورعلما سے ذاتی گہرے مراسم رکھتے تھے وہ بھی غازی برادران کوملاقاتوں میں کہتے تھے کہ تم اپنے مطالبات میں حق پر ہو اپنے مقصد پر ڈٹ جاؤ ،ان کا اصل مقصد بھی آپریشن کاجواز پید اکرناتھا جبکہ میڈیا پر ان کے بیان اورتھے۔
  • مولانا صاحب!ایک ملنے والے اسلام آباد خفیہ سرکاری ایجنسی کے ملازم ہیں۔ ان کے مطا بق یہ منصوبہ بندی ہوچکی ہے کہ بڑے بڑے دینی مدارس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبا وطالبات کوداخل کیاجائے گاجس کا اہم مقصد طلبا اوراساتذہ میں نفرتیں پید اکرکے مقابلہ میں لانا ہوگا تاکہ اساتذہ پر اعتماد کی فضا ختم ہو۔ یہ طلبا دین پر عمل کرنے میں اساتذہ کی نظر میں دوسروں سے ممتاز ہوں گے ۔ اساتذہ کاخصوصی قرب حاصل کریں گے، عربی ،انگریزی دینی علوم میں ممتاز اورقوت بیان کی خصوصی تربیت یافتہ ہوں گے۔
  • طالبات مذکورہ بالامقصد کے علاوہ مزید یہ کام انجام دیں گی کہ مدرسہ سے اچانک غائب ہوں گی ،ان کے سرپرست جامعہ کی انتظامیہ سے رابطہ کریں گے۔ آخر معا ملہ متعلقہ تھا نہ تک جائے گا ،اورمیڈیا کے ذریعہ بنات کے مدارس کو بدنام کیاجائے گا۔
  • یہ طلبا اورطالبات منتظمین کے سرکاری انتظامیہ سے خفیہ تعلقات استوار کرائیں گے اور ڈالروں کے ذریعہ ان کو خرید کر اپنے وفاقوں سے بدگمان کیا جائے گا ،اورمزید دوسرے مقاصد میں استعمال کیاجائے گا۔
  • پبلک مقامات پر تربیت یافتہ لوگ عوام سے مدارس اورعلما کے کردار پر بحث ومباحثہ کریں گے اورعوام میں مدارس اورعلما کی نفرت پیدا کریں گے اورجوچینل مدارس ،علما اوراختلافی مسائل پر زیادہ مذاکرے کرائے گا، اسے مراعات دی جائیں گی۔
  • اسکولوں سے یونیورسٹی کی سطح تک تفریح گاہوں اورپبلک مقامات پر تربیت یافتہ تنخواہ دار مردوخواتین مغربی تہذیب وتمدن پھیلانے کے لیے اپنے لباس اورحرکتوں سے ایسے امور انجام دیں گے کہ آہستہ آہستہ ان کی برائی ختم ہواوریہ ذہن بنے کہ ہر آدمی آزاد ہے، کسی کو روک ٹوک کرناگویا ایک عظیم جرم ہے ۔ یہ نوجوان اس مقصد کے لیے ملازم ہوں گے۔ یومیہ آٹھ گھنٹے مختلف پبلک مقامات پر اپنے لباس اورحرکتوں سے یہ امورانجام دیں گے۔
  • یونیورسٹی اورکالج کی سطح پر مخلوط محافل موسیقی اورناچ ہوگا جس کا خرچ غیر ملکی تنظیمیں برداشت کریں گی ،یونیورسٹی کے طلبا وطالبات کویہ تنظیمیں اپنے خرچ پر پہاڑی مقامات کی سیر کرائیں گی جہاں ان کاقیام وطعام اکٹھا ہوگا،گانااورناچ کے مقابلے ہوں گے اورغیر ملکی سفر کے ٹکٹ دے کر لڑکے اورلڑکی کوباہر بھیجا جائے گا اورباہر بریفنگ کے ذریعے ان کی ذہن سازی کی جائے گی اوراپنا نمائندہ بنایاجائے گا۔
  • بعض فوجی افسران کو درس نظامی کا مختصر نصا ب پڑھا یاجارہاہے۔ وہ علما کے رنگ اپنا کرمدارس کے منتظم بنیں گے اور ان کے کردارپر طویل منصوبہ بندی ہورہی ہے۔
  • تبلیغی مرکز رائے ونڈ میں خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران باقاعدہ مقیم ہیں، جماعتوں میں جاتے ہیں ،بعض ا ب منبر سے ہدایات بھی دیتے ہیں ،مشوروں میں باقاعدہ شامل ہوتے ہیں اوربزرگوں کی صف میں شامل کرمکمل کنٹرول کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
حضرت مفتی صاحب!آپ غور فرمائیں کتنی طویل منصوبہ بندی مذہبی طبقہ کے لیے ہورہی ہے۔ اس کے مقابلے میں کیادینی طبقہ اپنی پوری ذمہ داری کا احساس کررہاہے؟اس سلسلہ میں چند تجاویز ارسا ل خدمت ہیں۔ شاید علما ان پر غور فرمالیں:
  • مدارس میں عرصہ سے تربیت کا نظام نہایت کمزور ہو چکاہے۔ استاداور شاگرد کاتعلق صرف کتاب تک اوردرسگاہ تک محدود ہے جس کی وجہ سے دینی مزاج نہیں بن رہا لہٰذاتربیتی نظام کو مضبوط ترین کرنے کی ضرورت ہے۔
  • حضرت امام احمد ؒ کاقول ہے: علم سے قبل حکمت سیکھو۔ لہٰذاسیرت کامضمون باقاعدہ سبقاًپڑھایاجائے اور واقعات کے نتائج پر خصوصی توجہ دی جائے، خصوصاًوہ واقعات جن میں حالات کے پیش نظر حکمت سے کام لیا گیا، جذبات میں جوش پیداکرنے والے واقعات کے باوجود تحمل وبرداشت سے امور انجام دیے ۔ان واقعات پر خصوصی توجہ دی جائے۔
  • ملکی آئین ودستور اورقوانین کا مختصرتعارف ،جدید معیشت وتجارت ،تاریخ اسلام مکمل ضرور پڑھائے جائیں۔
  • آپ اکثر سفر پر رہتے ہیں۔حکومتی نمائندوں سے مذاکرات کرتے ہیں۔آپ کو تجربہ ہے کہ ان کے موقف کو سمجھنے اوران کے دجل وفریب سے بچنے کے لیے انگریزی کی اعلیٰ مہارت کتنی ضروری ہے جب کہ یہ دوسری قومی زبان کا درجہ حاصل کرچکی ہے اورپہلی جماعت سے سرکاری اسکولوں میں اردو کے علاوہ تمام مضامین کے لیے ضروری قراردی گئی ہے ۔ لہٰذا مدارس دینیہ کے اصل مقصد کو سامنے ر کھتے ہوئے اس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
  • بنات کا نصاب میں پڑھ چکی ہوں۔ اس نصاب سے حضرات کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس کی ترتیب سے میرے اساتذہ بھی مطمئن نہ تھے۔ اس نصا ب پر غور کی ضرورت ہے۔
  • دینی مدارس کا مقصد اخلاقی تربیت کے ساتھ دینی علوم میں اعلیٰ مہارت اوردینی راہنمائی کرنے والے اہل علم تیارکرناہے ،کیا یہ نصاب پڑھ کر فارغ ہونے والے معاشرہ کی دینی ضروریات کوسمجھ کر دینی راہنمائی کافریضہ انجام دے سکیں گے؟ لہٰذا گزارش ہے کہ موجود ہ صدی میں معاشرتی ضرورتوں کومد نظررکھتے ہوئے بنات اوراعدادیہ کے نصاب پر خصوصی توجہ دی جائے اورمرحلہ وار بنین میں ترامیم اس طرح کی جائیں کہ اصل مقصد فوت نہ ہواورمعاشرہ کے بدلتے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پید اہو۔
  • تمام مدارس کے اساتذہ اورفاضلات پردہ کے اہتما م کے ساتھ درس قرآن وحدیث کے ذریعہ عوامی رابطہ مہم شروع کریں۔
  • بنات کے نصاب میں گھرداری ،بچوں کی نگہداشت، سسرالی رشتوں سے نباہ ،عورتیں دین کاکام کیسے کریں جیسے مضامین ضرورپڑھائے جائیں ،دینی کام کرنے کا جو رخ جامعہ حفصہ کی طالبات سے سامنے آیا، اس سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے۔ گھرداری اوربچوں کی نگہداشت کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اختیاری مضامین میں کافی مواد آچکاہے ،اس سے استفادہ کیاجاسکتاہے۔
  • معلمین اورمعلمات نے تدریسی کام کیسے کرناہے؟یہ مستقل سائنس ہے مگر مدارس کے اساتذہ کی تربیت کاکوئی انتظام نہیں حالانکہ تدریسی میدان میں طلبا کی نفسیات اورتعلیم کے قدیم وجدید طریقوں اورمہارتوں کاعلم بہت ضروری ہے۔
  • مساجد کے موذنین اورخدام علاقہ میں دینی ماحول بنانے میں بڑاکردار اداکرسکتے ہیں مگراکثر بنیادی تعلیم سے بھی محرو م ہیں۔ ان کے لیے شارٹ کورسز ،اورتربیت کاکوئی ادارہ نہیں ۔ علما کی ایک جماعت کو اس کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
  • علاقہ کے سنجیدہ علما اپنے شہر کے ارکان اسمبلی اور ناظمین سے دینی معاملات میں باربارملاقاتیں کریں اورکبھی کبھی مدارس کے ماحول میں بلاکرمانوس کریں ،ان کے ذریعہ دینی آواز قانون ساز اداروں تک جائیں گی۔ حضرت مجددالف ثانی ؒ نے امرا اورحکام سے تعلقات استوار کئے ،خط وکتابت کی اس طرزسے کتنے فتنوں سے حفاظت ہوئی۔
  • اہل مدارس جس طرح تدریس کے لیے علما کا انتخا ب کرتے ہیں اسی طرح ہر مدرسہ ایک سنجیدہ واعظ تعینات کرے اوراپنے شہر کواورقریبی دیہات کوتیس (۳۰)یونٹ میں تقسیم کرلیں۔ ہریونٹ میں مہینہ میں ایک مرتبہ مردوں اورعورتوں میں ان کی ضروریات کے اعتبار سے وعظ ہو ،اس طرح ایک ماہ میں ایک دورمکمل ہوگا اوردینی فضا بنے گی اورعلما اور عوام کا رابطہ ہوگا ۔یہ واعظ صاحب درجہ ذیل امورکااہتمام کریں:
    (۱) کسی قسم کا چندہ نہ کریں
    (۲) ہدیہ نہ لیں
    (۳) جن مسائل میں دورائے ہوسکتی ہیں بیان نہ کریں
    (۴) حالات حاضرہ پر تبصرہ نہ کریں
    (۵) ضروریات دین ،اعمال صالحہ اورمعاشرت واخلاق ،اصلاح معاملات پر گفتگوکریں جس کے لیے آپ کے خطبات ،حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے خطبات اصلاحی مجالس ،حضرت قاری محمد طیب صاحب کے خطبات کافی ہیں ۔
حضرت مفتی صاحب! بعض وجوہات کی بناپر مکمل تعارف کرانے سے معذورہوں جس پر معذرت خواہ ہوں ۔ 

فقط والسلام 

آپ کی ایک بیٹی

حالات و واقعات

(دسمبر ۲۰۰۷ء)

Flag Counter